روزہ کی نیت
روزہ کی نیت:
مسئلہ303:دوسری عبادات کی طرح روزے کی صحت میں قربت کی نیت شرط ہے،یہاں نیت سے مراد روزے کے بجالانے کاقصد ہے،یہاں تک کہ اگر وہ نیت کرنے سے غفلت برتے لیکن جب اُس سے پوچھاجائے کہ کھا،پی کیوں نہیں رہے ہوتووہ کہے کہ میں روزہ میں ہوں،تو یہی کافی ہے،اور صرف روزہ کو باطل کرنے والے امور سے رکنا کافی نہیں ہے ۔
مسئلہ304:وہ روزہ جوواجب ہو اور اس کے بجالانے کاوقت معین ہو جیسے ماہ رمضان کاروزہ یا کسی عارض کی وجہ سے معین دن میں روزہ رکھنا واجب ہو جیسے نذر کاروزہ ،ان کی نیت کاوقت :طلوع فجر صادق ہے۔
اس حیثیت سے کہ روزے کو نیت کے ساتھ رکھے ،البتہ وہ روزہ جو واجب ہو لیکن اسے انجام دینے کاوقت معین نہ ہو ،اس کی نیت کاوقت:اس دن کے زوال تک ہے، یعنی جب صبح بیدارہواتو روزے کی نیت نہیں تھی ،پھر زوال تک کوئی ایساکام انجام نہیں دیاجس سے روزہ باطل ہوجاتاہے ،اب اگر روزے کی نیت کرلیتا ہے تو اس کاروزہ شمار ہوجائےگااور اگر زوال کے بعد روزے کی نیت کرئے تواس کا روزہ شمار نہیں ہوگا۔
سنتی روزہ میں نیت کاوقت بڑھ جاتاہےیہاں تک کہ دن سے اتناوقت باقی رہ جائے جس میں نیت کی تجدید ممکن ہو ۔
مسئلہ305:پورے ماہ رمضان کےلیے ایک نیت ہی کافی ہے،ماہ رمضان کا چاند دیکھنے کے بعد سارے روزوں کی نیت کرئے تویہی کافی ہے،البتہ انسان کےلیے ضروری ہےکہ تمام رمضان میں روزے رکھنے کا عزم رکھتا ہو ،ہاں اگر یہ عزم کی نیت سفریامرض کی وجہ سے ٹوٹ جائےتودوبارہ سے نیت کرئے۔
مسئلہ306:جب کوئی شخص یوم شک (آخر ماہ شعبان )میں شعبان کے مستحبی روزے یاقضاء روزے یانذر کاروزہ یا رجائے مطلوبیت یا ما فی الذمہ کی یاواقع ہونے کےقصدکی نیت سےروزہ رکھے اور ماہ رمضان ظاہر ہوجائے تواس کا ماہ رمضان کاروزہ مجزی ہوجائے گا ،جب اُس کےلیےزوال سے قبل یا زوال کے بعدظاہر ہو کہ آج ماہ رمضان ہے اور اس نے کسی بھی نیت سے روزہ رکھاہواہو،تووہ وجوب کی نیت کی تجدید کرلے،اگر رمضان کی حتمی اور قطعی نیت سے روزہ رکھے اور اُس کے پاس اس کے رمضان سے ہونے کی دلیل موجود نہ ہو تواس کاروزہ باطل ہوگا،اوراگر وہ اس لیے روزہ رکھےکہ اگر شعبان سے ہواتو مستحبی ہوگا اور اگر رمضان سے ہواتو واجبی ہوگا تو ظاہریہ ہے کہ وہ روزہ باطل ہوگا۔(1)
مسئلہ307:جب یوم شک کی صبح میں افطار کی نیت سے ہو،اورروزے کوباطل قراردینے والے امور کو انجام نہ دیاہواورزوال سے قبل معلوم ہوجائےکہ آج رمضان ہے،تو تجدید نیت کرئے ،اس کاروزہ شمار ہوجائے گا ،اگرچہ احوط ہےکہ اس کے ساتھ قضاء کوبھی بجالائے،اور اگر زوال کے بعد معلوم ہو جائے کہ آج رمضان ہے تو اس دن امساک کرئے(امساک یعنی رکنا) اور اس پر اس روزے کی قضاء کرنا لازم ہے،تاکہ مسلمان شبہ میں نہ پڑئےجس سے کہاجائے کہ اس نے یوم الشک روزے کی نیت ہی نہیں کی ہے۔
-------------------
(1)لیکن اگر اس کے برعکس نیت کرئے یعنی واجب روزے کی نیت کرئے اگر رمضان سے ہے اور مستحب روزے کی نیت کرئےاگرشعبان سے ہے تو صحیح ہے کیونکہ دوعنوان کےلیےجامع نیت موجود ہے اور یہ نیت جامع مطلوبیت کی طرف لوٹ جائے گی۔