جن چیزوں سے روزہ باطل ہوجاتاہے

| |عدد القراءات : 2
  • Post on Facebook
  • Share on WhatsApp
  • Share on Telegram
  • Twitter
  • Tumblr
  • Share on Pinterest
  • Share on Instagram
  • pdf
  • نسخة للطباعة
  • save

جن چیزوں سے روزہ باطل ہوجاتاہے

 چند چیزوں سے روزہ باطل ہوجاتاہے:

اول ۔  ہرشےکھانا۔

دوم۔ہرشے کاپینا۔

اگرچہ کم ہی کیوں نہ ہو،یاایسی شےہو جو عادۃ ً کھائی،پی  نہ جاتی ہوجیسے مٹی اور کاغذ۔

سوم ۔جماع ،انزال ہویاانزال نہ ہو،قُبل میں ہویادُبر میں ہو ،فاعل ہویا مفعول ہو ،زندہ ہویا مردہ ہو ،یہاں تک کہ بناء بر احتیاط واجب کے اگرچہ چوپاہاہو۔

چہارم۔جھوٹ،اللہ تعالی اور رسول خداﷺ یاآئمہ طاہرین علیہم السلام ،اگرچہ ان میں سے کسی ایک پر جھوٹ باندھے،چہ جائیکہ زیادہ ہستیوں پر جھوٹ بولے ، بلکہ احوط ہےکہ ان حضرات کے ساتھ انبیاء علیہم السلام کو ملحق کیاجائے۔

مسئلہ308:ماہ رمضان  ،قرآن مجید کی بہار ہے،مؤمنین کےلیے سزاوار نہیں ہےکہ وہ اس ماہ میں  قرآن مجید کی تلاوت میں کوتاہی کریں ، اگر اس کی قرائت دقیق قواعد کے مطابق نہ کی جائے ،تو یہ  اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ  پر جھوٹ نہیں ہوگا ، جب تک کہ   قرائت کی یہ  مقدارحُسنِ قرائت سے ہو،اور جان بوجھ کر خطاء کی اللہ تعالی کی طرف نسبت نہ دی جائےاوراس  خطاء سے معنی تبدیل بھی نہ ہو۔

پنجم۔سارے سر کا پانی میں ڈبونا ،اگرچہ گردن کے  بغیر ہو،اس میں فرق نہیں ہے کہ ایک ہی دفعہ ڈبوئے یاتھوڑا تھوڑا کرکے ڈبوئے۔

مسئلہ309:جب روزہ دار جان بوجھ کر غسل کی نیت سے پانی میں غوطہ لگائے ، اگر بھول گیاہوکہ میں روزے سے ہوں تو اس کاروزہ اور غسل دونوں صحیح ہوں گے ، اوراگر اسے یاد ہوکہ میں روزے سے ہوں اور روزے کی حالت میں غوطہ لگانا حرام  ہے ،اگر ایسا ماہ رمضان میں ہوتواس کا روزہ اور غسل دونوں باطل ہوں گے۔

ششم۔جان بوجھ کر غلیظ غبار کا حلق سے  پیٹ کی طرف پہنچانا ،بلکہ احوط ہےکہ جو غبار  غلیظ نہ ہو اور ا س کی پرواہ کی جاتی ہو ، اسے بھی پیٹ کی طرف پہنچایا نہ جائے ، اس میں فرق نہیں ہے وہ خاک ہو یاکوئی اور شے ،جس کے اجزاء سخت ہوں،جیسے آٹے کی چکی کاغبار اور لکڑی کے آرے کاخاکہ۔

مسئلہ310:احتیاط مستحب ہے کہ اس کے ساتھ دُھوئیں اور بخارات کو ملحق کیا جائے،جب وہ کثیف نہ ہو ں،اور جب صورت حال ایسی ہو جیسی حُقہ والوں کی ہوتی ہے تویہ احتیاط واجب ہوجائے گی۔

ہفتم۔      طلوع فجر تک جان بوجھ کے جنابت پر باقی رہنا ،ماہ رمضان  اور اس کی قضاء ۔

مسئلہ311:اگر طلوع فجر تک جان بوجھ کے جنابت پرباقی نہ رہے جیسے سویارہ گیا یابھول گیایا مجبورکیاگیاتو اقوی ہےکہ اس کاروزہ باطل نہیں ہے ،یہ رمضان کاروزہ ہویا کوئی دوسرامعین واجب روزہ ہو ۔

ماہ رمضان کی قضاءمیں،احتیاط مستحب یہ ہے کہ مستحبی روزے اور اس کے غیرکی قضاء کی نیت کی طرف عدول کرئے،  اگر چہ جان بوجھ کر جنب کی حالت میں صبح نہ کرئے۔

مسئلہ312:روزہ  خواہ واجب ہویامستحب معین  ہویاکوئی اورہو،دن میں احتلام ہوجانے کی صورت میں باطل نہیں ہوتاہے،اگر طلوع فجر تک جان بوجھ کر مس میت کے حدث پر باقی رہے تب بھی روزہ باطل نہیں ہوتاہے،دن میں میت کوعمداً  مس کرنے سےبھی  روزہ باطل نہیں ہوتاہے ۔

مسئلہ313:جب کوئی شخص رات میں  ایسے وقت ،جان بوجھ کر مجنب ہو جائے ،جس میں غسل یاتیمم کرکے روزہ نہ رکھ سکتاہو،یعنی وقت وسیع نہ ہو ،تو ایساشخص جان بوجھ کر جنابت پر باقی ہوگا (جس کاحکم پہلے بیان کردیاہے)،ایساشخص تیمم کرکے روزہ رکھ سکتاہوتواُس پر واجب ہے کہ تیمم کرکے روزہ رکھے،اس کاروزہ صحیح ہوگا، اور اگر عمداً تیمم نہ کرئے تواس پر قضاء اور کفارہ واجب ہے۔

مسئلہ314:احوط ہے کہ حیض اور نفاس کاحدث، جنابت کی مانند ہےیعنی جان بوجھ کر ان پر باقی رہناروزے کوباطل کرتاہےاور اگر خون ایسے وقت میں بند ہو جس میں غسل یاتیمم کرکے روزہ نہ رکھ سکتی ہو یااسے خون کے بند ہونے کاعلم طلوع فجر کے بعد ہوتو ان کاروزہ  تجدید نیت کے ساتھ صحیح ہوگا ۔

مسئلہ315:جب رات میں غسل جنابت کرنا بھول جائے،اور ایک دن یاماہ رمضان کے کئی دن گزر جائیں تواُن دنوں کےروزوں کی قضاء کرئے،اس پر کفارہ واجب  نہیں ہوگا۔

مسئلہ316:جب مجنب غسل کرنے پر مرض وغیرہ کی وجہ سے قادر نہ ہو،تواس پر فجر سے پہلے تیمم کرناواجب ہے،اور اگر تیمم نہیں کرئےگاتو اس کاروزہ باطل ہو جائے  گا۔

مسئلہ317:مستحاضہ کثیرہ،کے روزہ کی صحت کےلیےنمازصبح کےلیے غسل کرناشرط ہے،یہی حکم ظہرین کے لیے ہے بلکہ گزشتہ رات کے لیے بھی یہی حکم ہے۔

ہشتم۔دن میں  کسی فعل سے منی کاانزال (نکالنا)یعنی ایساکام کرناجس سے منی نکل آئےیاایساکام کرنا جو عادۃ ً منی کے  خارج ہونے کاسبب ہو،اور ایساکرتے وقت معتدبہ  احتمال ہوکہ اس سے منی خارج ہوجائے گی،بلکہ بناء بر احتیاط کے یہ حکم ہرحال میں جاری ہوگا۔

نہم۔مائع سے شیاف لینا،جامد سے شیاف لیاجاسکتاہے،جیسے بخاریادرد کوکم کرنے   کےلیے کیپسول کی طرح کاشیاف رکھاجاتاہے،ایسی شے کا پیٹ میں داخل کرنا جس پر کھانے پینے کانام صادق نہ آئے،کوئی حرج نہیں ہے۔

مسئلہ318:سوئی سے معدہ میں کھانے اور دوا کاداخل کرنا روزے کوباطل کر دیتاہے،لیکن سوئی سے ہاتھ میں یا چتڑوں میں یاان کی مثل جگہ میں کھانے اور دواکاداخل کرنا،اگر غذا کی قسم سے شمار ہوتو احتیاط مستحب کی بناء پر روزہ باطل ہو جائے  گااور اگر دواکی قسم سے شمار ہوتو اس کاکوئی حرج نہیں ہے ،یہی حکم ہے آنکھ اور کان میں قطروں والی دوا کے ڈالنے کا۔

مسئلہ319:سپرے جو بہنے والاہواوراسے ناک میں کیا جائے اور وہ غذا والی نالی سے معدہ کی طرف منتقل ہوجائے تواس سے روزہ باطل ہوجاتا ہے ،لیکن جب اطمینان  ہوکہ وہ معدہ تک نہیں پہنچے گا توروزہ باطل نہیں ہوگا، علاج کی غرض سے ناک میں ہواوالی نالی میں سپرے کرنے کاکوئی حرج نہیں ہے، البتہ آکسیجن جو سانس لینے میں مدد دیتاہے ،اس میں کوئی اشکال نہیں ہے۔

دہم۔جان بوجھ کر قئی کرنا ،اگرچہ   ضرورت کےتحت  ہویعنی کسی مرض کے  علاج کے لیے ہو اور جان بوجھ کر  قئی  نہ کی جائے تواس کا کوئی حرج نہیں ہے۔

مسئلہ320:جب متلی کے ساتھ کوئی شے معدہ سے خارج ہو اور بلااختیارکے نیچے اتر جائے توروزہ باطل نہیں ہوگا،اورجب منہ کے اندر متلی آئے اوروہ اسے اپنے اختیار سےچاٹ لےتواس کاروزہ باطل ہوجائے گا اور بناء بر احتیاط کے اس پر کفارہ  واجب ہوگا۔

مسئلہ321: روزہ کو باطل کرنے والے مذکورہ امور سے روزہ باطل ہو جاتا ہے جب انہیں جان بوجھ کراپنی مرضی سے انجام دیاجائے۔

مسئلہ322:جوشخص واجب نماز کے وضوکےلیے سنت نبویہ پر عمل کرتے ہوئے کلی کرئے ،اوربغیر قصد کے پانی پیٹ کی طرف چلاجائے تو اس پر کوئی شے نہیں ہے یعنی  اس کاروزہ صحیح ہوگا۔

مسئلہ323:جب روزے دار پر پیاس کاغلبہ ہو اور صبرکرنے کی صورت میں ضرر  کا خوف ہویا کوئی حرج پیداہونے کاڈر ہو تو اس کے لیے بقدر ضرورت پانی کا پیناجائز ہے،اور اس پر واجب ہےکہ دن کےباقی حصہ میں روزے کوباطل کرنے والے امور سے رکےاور روزے کی رجائے مطلوبیت والی نیت کرئے اور اس کے بعد اس روزے کی قضاء کرئے،یہ  حکم ماہ رمضان میں ہے ۔

جب روزہ ماہ رمضان کانہ ہو خواہ واجب موسع  والاہو یا واجب معین والا ہو تو روزے کوباطل کرنے والےامور سے رکناواجب نہیں ہے۔