وراثت کے مختلف مسائل
وراثت کے مختلف مسائل
مسئلہ623:وہ چیزیں جو مرنےوالے کے بڑے بیٹے کو ترکہ سے مفت دی جاتی ہیں، جن کو حبوہ کہتے ہیں:
۱۔باپ کاقرآن۔
۲۔باپ کی انگشتر۔
۳۔باپ کی تلوار۔
۴۔باپ کےبدن پر زیب تن کیے ہوئے کپڑے۔
لیکن جوکپڑے باپ نے تجارت اورکاروبار کےلیےرکھے ہوتے ہیں ،وہ بڑے بیٹے کےلیےمخصوص نہیں ہیں۔
اگرمرنے والے کے کپڑوں کےعلاؤہ دوسری چیزیں زیادہ ہوں،جیسے دو انگوٹھیاں ہوں توان سب چیزوں کے حبوہ ہونے میں اشکال ہے۔
اسی طرح رحل قرآن،بندوق ،خنجراوراسلحہ وغیرہ کے حبوہ ہونے میں اشکال ہے ، پس دوسرے ورثاء کےمقابلےمیں بڑے بیٹےکی مصالحت کی بابت احتیاط کو ترک نہ کیاجائے۔
مسئلہ624 :اگر میت پر قرضہ ہو،اور اس کاقرض اس کے مال کے برابر یااس سے زیادہ ہو تو جو بڑے بیٹے کامخصوص مال ہے اور جس کاذکر پہلےحبوہ کے عنوان میں کیا گیاہے اس کے قرض کی ادائیگی کےلیے دےدینا، بڑے بیٹے پر واجب ہے۔
اورجب اس کا قرض اس کے مال سے کم ہو،اگر تزاحم کی صورت ہوتوبڑے بیٹے کے لیےضروری ہےکہ اپنے مخصوص مال سے قرضے کی نسبت سے ادائیگی کرئے ، اور اگر تزاحم کی صورت نہ ہوتو بڑے بیٹے کے لیے احتیاط واجب یہ ہے کہ اپنے مخصوص مال سے قرضے کی نسبت ادائیگی کرئے،اوراگر میت کاقرض مجموع ترکہ کے نصف کے مساوی ہو تو اُن مخصوص چیزوں کے نصف کو اس راہ میں صرف کرئے۔
میت کا کفن ،اور تجہیز کا خرچ جسے اصل ترکہ سے نکالاجاتاہے مذکورہ امور میں قرض کے حکم میں ہے۔
مسئلہ625:مرنے والامسلمان ہوتو ارث پانے میں وارث کامسلمان ہونا ضروری ہے،پس کافر مسلمان سے ارث نہیں پاتاہے،اگرچہ مسلمان کافرکاوارث ہوتاہے۔
اگر وارث اپنے مورِث کو جان بوجھ کر از روی ظلم قتل کرئے تو اس کی ارث نہیں پائے گا،اوراگر یہ قتل خطائے محض ہو(جیسے شکاری پرندے کو پتھر مارے اوروہ اس کے مورِث کوجالگےجس سے وہ مرجائے)یا یہ قتل خطائےشبیہ عمد کےہو(جیسے عام مار کوٹ کے ارادے سے اپنے مورث کو پیٹے جس سے وہ قتل ہوجائے)تویہ صورتیں ارث پانے سے مانع اور رکاوٹ نہیں ہیں،ہاں وہ اس کی دیت کاوارث نہیں ہوتاہے۔
مسئلہ626:جب کسی میت کے ہاں بچہ پیداہونے والاہو اگر زندہ پیداہوا تو میراث کاحق دار ہوگا،اس کی پیدایش سے پہلے ترکہ دوسرے وارثوں پر تقسیم کیاجاسکتاہے، لیکن اگر اطمینان نہ ہو کہ پیداہونے والا مولود لڑکی ہے تواحتیاط واجب ہے کہ ایک لڑکے یادولڑکوں بلکہ زیادہ لڑکوں کاحصہ جداکردیں،جب متعدد بچوں کے پیداہونے کا قابل اعتناء و پرواہ احتمال ہو ،پس اگر بچہ پیداہواور جو ترکہ چھوڑا تھاوہ اس کے حصے سے زائد ہوتو جو مال اس سے زائد ہو وہ آپس میں اپنے حصوں کے مطابق تقسیم کر لیں ۔
مسئلہ627:حرام زادہ اور اس کے زانی ماں باپ کے درمیان وراثت نہیں ہے ، اور جو اِن دونوں کے قریبی ہوں ،ان کے درمیان وراثت نہیں ہے،پس یہ ان کا اوروہ اس کے وارث نہیں ہیں۔
البتہ حرام زادہ اور اس کے وہ رشتہ دار جو زناکے رشتہ دار نہ ہو ،ان کے درمیان وراثت ہوتی ہےجیسے اس کی اولاد اور پوتے ،نواسے۔
حرامی اور اس کی بیوی کے درمیان وراثت ہوتی ہےاور اگر بغیروارث کے مرجائےتو اس کی ارث امام علیہ السلام کےلیےہے۔
مسئلہ628:امام علیہ السلام اس کاوارث ہے جس کا نسبی یاسببی وارث نہ ہو ،اس سے ارث پانےکی سبیل خمس والےسہم امام علیہ السلام کی سبیل ہے،اس کا معاملہ امام علیہ السلام کی غیبت کےدور میں حاکم شرعی کے ہاتھ میں ہے،احتیاط لازم یہ ہےکہ اس کی بابت مرجع اعظم کی طرف رجوع کیاجائے جو جہات عامہ پر اطلاع رکھتاہے۔
مسئلہ629:اگر کوئی شخص ایک عرصہ تک غائب ہوجائے اور کسی کواس کی زندگی موت تک کاعلم نہ ہو ،پس اس کے اموال کاحکم یہ ہےکہ چار سال تک اس کاانتظار کیا جائےاور ان سالوں میں اسےحاکم شرعی کے اذن سے تلاش کیاجائے،اور جب اس کے بارے میں کوئی خبر نہ ملے تواس کامال اس کے اُن وارثوں کےدرمیان تقسیم کر دیاجائے،جواس وقت اس سے رواثت پاتے،جب وہ انتظار کی مدت ختم ہونے کے وقت مرتا،اور اس کے ان وارثوں کے درمیان تقسیم نہیں کیاجائے گا جواس وقت اس سے وراثت پاتے ،جب وہ انتظار کی مدت ختم ہونے کے بعد مرتا۔
اگر ایساشخص اپنے مورث کاوارث بنے گاجو انتظار کی مدت کے ختم ہونے سے پہلے مرجائے اور ایساشخص اپنے مورث کاوارث نہیں بنے گاجو انتظار کی مدت کے ختم ہونے کے بعد مر جائے۔
نیز اس کے اموال کو اس کے لاپتہ ہونے سے دس سال بعد تقسیم کیاجاسکتاہے جس کےلیےاسے تلاش کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔
مسئلہ630:جب وارث اور مورث مرجائیں اور دونوں کی موت کے بارے میں پہلے ،بعد میں ،ساتھ ساتھ کااحتمال ہویاپہلے کاعلم ہو اورپہلے والےکی بابت جہل ہوتو دونوں میں سے ہرایک دوسرے کاوارث بنےگا۔
اس کاطریقہ یہ ہے کہ دونوں میں سے ہرایک کو زندہ قراردیاجائےجس وقت دوسرے کی موت واقع ہو اور وہ جس شے کاموت کے وقت مالک ہواسے وراثت سے قراردیاجائے ،اوراسے وراثت سے قرارنہ دیاجائےجسے وہ دوسرے سے وراثت پائے گا۔