فصل:عقود کے اختلاف کے بارے میں ہے۔
فصل:عقود کے اختلاف کے بارے میں ہے۔
مسئلہ691:جب شوہر اور بیوی کا عقد کے بارے میں اختلاف ہو ،یعنی شوہر کہے کہ عقد متعہ کاہے اور بیوی کہےکہ عقد دائمی والاہے ،یاشوہر کہے کہ عقد دائمی ہے اور بیوی کہے کہ عقد متعہ کا ہے۔
ظاہرہےکہ یہاں دائمی عقد والے کے دعوا کو قبول کیاجائے گا ،اور جو عقد متعہ کادعویدار ہے اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے مدعاپر گواہ پیش کرئے،اوراگر گواہ پیش نہ کرسکےتو مدعی عقد دائمی سے قسم لےکر عقد دائمی کا حکم جاری کیا جائے گا ،یہی حال ہے جب شوہر اور بیوی کے گھر والوں کے درمیان اختلاف ہوجائے۔
مسئلہ 692:جب مرد اور عورت دونوں کے اعتراف سے زوجیت ثابت ہو جائے ، اور کوئی دوسراشخص دعوی کرئے کہ یہ عورت میری ہے پس اگروہ اپنے دعوی پر بینہ (گواہ )پیش کردے توٹھیک ہے ،اوراگر وہ اپنے دعوی پر بینہ(گواہ) پیش نہ کرئے تو اُسے حق حاصل ہے کہ ان دونوں میں سے جس سے چاہے حلف لے سکتاہے ۔
مسئلہ693:اگرایک مرد دعوی کرئے کہ یہ عورت میری ہے اوروہ عورت اس کی زوجیت کا اعتراف نہ کرئے اورایسا بھی نہ کہے کہ میں صورت حال سے ناواقف ہوں اور دوسراشخص بھی دعوای کرئے کہ یہ میری بیوی ہے اور دونوں شخص اپنے مدعاپر بینہ(گواہ) پیش کریں اور حلف دیں ،جن کے گواہوں کی تعداد زیادہ ہو فیصلہ ان کے حق میں ہوگااور اگردونوں کے گواہوں کی تعداد مساوی ہوتو ان دونوں کے درمیان قرعہ ڈالا گا ،جس کے نام کا قرعہ نکلے وہ حلف دے اوراگروہ حلف نہ دے جس کے گواہوں کی تعداد زیادہ ہے یاجس کے نام کا قرعہ نکلا ہے تواس سے زوجیت ثابت نہیں ہوگی ،کیونکہ دو بینہ آپس میں ٹکرانے سے درجہ اعتبار سے ساقط ہوجاتے ہیں ۔
اور جب زوجہ ہرایک کی زوجیت سے انکار کرئے ،تواگر دونوں میں سےایک بینہ (گواہ) پیش کرئے اور گواہ گواہی دیں کہ یہ اس کی زوجہ ہے تو ٹھیک ہے ،اوراگر ان دونوں میں سے ہر ایک کے پاس بینہ(گواہ) نہ ہوں توعورت کو چاہیے کہ حلف دے جس سے دعوی ختم ہوجائے گا۔
ہاں،اگر حاکم حکم صادر کرئے یہ بینہ یااس کی مانند کے ذریعہ سے اس کی بیوی ہے اوروہ عورت جانتی ہو کہ میں واقعی طور پر اس کی بیوی نہیں ہوں اور بینہ (گواہ)جھوٹے ہوں تواس صورت میں عورت کے لیے زوجیت کےآثار کو مرتب کرنا جائز نہیں ہے۔
مسئلہ694:جب دولوگوں کاعقد میں اختلاف ہو ،اور مال نقل کرنے والا بیع کا مدعی ہو اور جس کی طرف مال منتقل کیا گیاہے وہ ہبہ کا مدعی ہو ،یہاں ہبہ والے کے دعوی کو قبول کیا جائے گا ،بیع کے مدعی پر لازم ہے کہ اسے ثابت کرئےخواہ ہبہ لازمہ ہو جیسے اس میں تصرف واقع ہواہو یایہ قریبی رشتہ دار کے لیے ہو یاہبہ جائزہ ہو ۔لیکن جب معاملہ برعکس ہو ،اورناقل ہبہ کادعوی کرئےاور منقول الیہ بیع کادعوی کرئے تو مدعی بیع کی بات قبول کی جائے گی ،اور مدعی ہبہ پر اپنے دعوی کو ثابت کرنا ضروری ہے۔
مسئلہ695:جب مالک اجارہ کادعوی کرئے اوردوسراعاریہ کا دعوی کرئے ،توعاریہ کے مدعی کے قول کو قبول کیاجائے گا،اوراگر معاملہ برعکس ہو تو مالک کے قول کو قبول کیا جائے گا،اور ان دونوں حکموں میں تردد ہے۔
مسئلہ696:جب دو جوگ اختلاف کریں ،مالک دعوی کرئے کہ جو مال تلف ہواہے وہ قرض تھا،اورقابض دعوی کرئےکہ یہ امانت تھی ،تویہاں مالک کاقول قسم کے ساتھ قبول کیا جائے گا ۔
لیکن ،اگر مال موجود ہو ،اور وہ قیمتی ہو تو ودیعت (امانت)والے کے قول کو قبول کیا جائے گا۔
مسئلہ697:جب دو لوگ اختلاف کریں ،مالک دعوی کرئےکہ یہ مال امانت تھا اور قابض دعوی کرئے کہ یہ مال رہن تھا،پس اگر قرض ثابت ہوتو قابض کے قول کو قسم کے ساتھ قبول کیاجائے گا،اور اگر قرض ثابت نہ ہوتو مالک کے قول کو قبول کیا جائے گا۔
مسئلہ698:جب دو لوگوں کا رہن میں اتفاق ہو ،اور مرتہن کہےکہ ہزار درہم کی رہن ہےاور راہن دعوی کرئے کہ سودرہم کی رہن ہے تو راہن کاقول قسم کے ساتھ قبول کیا جائے گا۔
مسئلہ699:جب دو لوگ عین مال کی بعنوان بیع یااجارہ قبض میں اختلاف کریں ،پس قابض بیع کا دعوی کرئےاورمالک اجارہ کادعوی کرئےتوظاہرہے مدعی اجارہ کاقول قبول کیاجائےگااورمدعی بیع پر لازم ہےکہ اپنے مدعا کوثابت کرئے۔
مسئلہ700:جب بایع اور مشتری قیمت کی زیادتی اور کمی میں اختلاف کریں،اگر مبیع مال تلف ہونے والاہو توقسم کے ساتھ مشتری کے قول کو قبول کیا جائے گا ،اوراگر مبیع مال باقی رہنے والاہو تو بعید نہیں ہے کہ بایع کے قول کو قسم کے ساتھ قبول کیاجائے،جیسا کہ یہ مشہور ہے۔
مسئلہ701:جب مشتری بایع پر شرط کادعوی کرئے ،جیسے قیمت کا جلد اداکرنا یا درک کرنے پر رہن کی شرط کادعوی کرئے یااس کے علاؤہ کوئی اور شرط لگائے تو بایع کے قول کو قسم کے ساتھ قبول کیاجائے گا،یہی حکم ہے جب دولوگ مدت کی مقدار میں اختلاف کریں اور مشتری زیادہ مدت کا دعوی کرئے۔
مسئلہ702:جب دولوگ مال مبیع کی مقدار میں اختلاف اور قیمت کی مقدار میں اتفاق رکھتے ہوں ،پس مشتری دعوی کرئے کہ مال مبیع دوکپڑے ہیں اور بایع کہے کہ ایک کپڑا ہے تو بایع کاقول قسم کے ساتھ قبول کیا جائے گا،اور جب دونوں کا مال مبیع کی جنس میں اختلاف ہو یاقیمت کی جنس میں اختلاف ہو تویہ مورد دعاوی کے موارد میں سے ہوگا پس اگراُن دونوں میں سے ایک کادعوی بینہ(گواہوں) یاحلف سے ثابت نہ ہو تودعوی کے فسخ کا حکم لگایاجائے گا۔
مسئلہ703:جب دو لوگ اجارہ میں اتفاق رکھتے ہوں اور کرایہ کی کمی و بیشی میں اختلاف رکھتے ہوں تومدعی کمی کے قول کو قبول کیا جائے گا ،اور مدعی زیادہ پر لازم ہے کہ اپنے دعوی کو ثابت کرئے،یہی حال ہے جب عین مستاجرہ میں کمی و بیشی کااختلاف ہو اور اجرت میں اتفاق ہو یااختلاف مدت کی کمی و بیشی میں ہو اور عین مال واجرت کی مقدار میں اتفاق ہو۔
مسئلہ704:جب دولوگ ایک معین مال میں اختلاف کریں ،اوراُن میں سے ہرایک دعوی کرئےکہ ہم نے اسے زید سے خرید کیا ہے اور اسے قیمت دی ہے ،پس اگر بایع دومیں سے ایک کے لیے اعتراف کرئے اور دوسرے کےلیے اعتراف نہ کرئےتومال اُس کے لیے ہوگا جس کے لیے اقرار کیاہے،اوردوسرے کےلیےہےکہ بایع سے حلف لے خواہ دونوں میں سے ہرایک اپنے مدعاپر بینہ (گواہ) قائم کرئے یا بینہ قائم نہ کرئے۔
ہاں، جب غیر مقرلہ اپنے مدعاپر بینہ (گواہ )قائم کرئےتو بایع کااعتراف درجہ اعتبار سے گرجائے گا اور اس کے لیے مال کا حکم لگایا جائے گا۔
اس صورت میں بایع پر لازم ہے کہ مقر لہ سے جو شے اپنے اعتراف کے ذریعہ سے قبض کی ہے اُسے واپس کردے اوراگر بایع اصلا ً اعتراف نہ کرئےاوران دونوں میں سے کوئی ایک اپنے مدعاپر بینہ(گواہ) قائم کرئےتو اس کے حق میں حکم ہوگا اوردوسرے کے لیے ہے کہ بایع سے حلف مانگے ،اگر وہ حلف دےدے تواس کا حق ساقط ہوجائےگا،اور اگروہ حلف کو اس کی طرف لوٹا دے اوریہ حلف دینے سے انکار کردےتواس کا بھی حق ساقط ہوجائے گا ،اوراگرحلف دےدےتو اس کاقیمت کے اخذ کرنے میں حق ثابت ہوجائے گا،اوراگران میں سے ہرایک اپنے مدعا پر بینہ(گواہ) پیش کرئے یاکوئی بھی اپنے مدعاپر بینہ(گواہ)پیش نہ کرئے توبایع حلف دےگا،پس اگر وہ حلف دےکہ میں نے ان دونوں میں سے کسی سے بیع نہیں کی توان دونوں کا حق ساقط ہوجائے گا،اوراگرحلف دے کہ میں نے ان دونوں میں سے ایک سے بیع نہیں کی تو خاص کرکے اُسی کاحق ساقط ہوجائے گا اوراگر حلف سے انکار کرئے اورحلف کوان دونوں کی طرف لوٹا دے ،اب اگروہ دونوں حلف دےدیں تومال اُن کے درمیان آدھا آدھاتقسیم ہوگا،اوراگروہ دونوں حلف نہ دیں تواُن دونوں کاحق ساقط ہوگا،اوراگراُن دونوں میں سے ایک حلف دےتومال حلف دینے والے کا ہو گا ، اور اگر بایع ان دونوں میں سے ایک سے بیع کا اعتراف کرئے،لیکن کس سے بیع کی ہے اُسے معین نہ کرئےتواس پر مال کی بابت دو دعووں کا حکم جاری کیا جائے گا،اس پر کسی کاہاتھ نہیں ہوگا ،جیساکہ مسئلہ ۶۸۸ کی صورت چہارم کے احکام میں گزر چکا ہے ۔
مسئلہ705:جب دوشخصوں میں سے ہرایک دوسرے کے ہاتھ میں موجود مال کا دعوی کرئےاور اُن میں سے ہرایک بینہ(گواہ) پیش کرئے کہ دونوں مال اس کے ہیں،دونوں قسم دیں تو جس کے پاس جو مال ہوگا وہ اس کی ملکیت ہوجائے گا۔
مسئلہ706:جب میاں بیوی کسی شے کی ملکیت میں اختلاف کریں جودومیں سے ایک کے مختصات میں سے ہے ،وہ شے اس کی ہوگی،اوردوسرے پر اپنامدعاثابت کرنا لازم ہے،اورجومال ان دونوں کے درمیان مشترک ہے جیسے گھریلو سازوسامان ،اگر علم ہو یابینہ (گواہ)قائم ہوکہ یہ چیزیں عورت اپنے ساتھ لائی ہے ،تووہ عورت کا مال ہوجائے گا ،اورمردپر زیادہ والے اپنے مدعاکو ثابت کرنا لازم ہے ،اگرگواہوں سے ثابت کرئےتووہ مال اُس کا ہوگا اوراگر ایسانہ کرسکے تواسے حق حاصل ہےکہ بیوی سے قسم مانگے۔
اوراگر کسی کو کسی شے کاعلم نہ ہو تومال دونوں کے درمیان تقسیم کیاجائے گا،اوریہی حال ہے جب دونوں میں سے ہرایک کے ورثاء کا دوسرے کے ساتھ اختلاف ہو یادونوں کے وارثوں کے درمیان اختلاف ہو۔
مسئلہ707 :جب عورت مرجائے اوراس کاباپ دعوی کرئے کہ میری بیٹی کےپاس کچھ چیزیں عاریہ کی ہیں اور یہ احتمال وارد ہو تواظہر ہےکہ اس (باپ) کےدعوی کوقبول کیاجائے ،فریق دوم کو حق حاصل ہے کہ بیوی کے باپ سے حلف لے کہ ان چیزوں کی ملکیت اس کی بیٹی کی طرف منتقل نہیں ہوئی تھی۔
لیکن اگر مدعی مرنے والی کاباپ نہ ہو (جیسے عورت کاشوہر یا اس کے شوہر کاباپ دعوی کرئے)تواس پر لازم ہے کہ اپنے دعوی کو گواہوں کی گواہی سے ثابت کرئے ، ورنہ وہ مال عورت کے وارث کااس کی قسم کے ساتھ ہوگا۔
ہاں،جب وارث اعتراف کرئےکہ مال مدعی کےلیےہے اوردعوی کرئےکہ اس نے اپنی مرحومہ بیوی کو ہبہ کردیاہے تواس کادعوی تبدیل ہوجائے گا،وارث پرلازم ہے کہ اپنے دعوی کو بینہ(گواہ) سے یا ہبہ کے منکر سے حلف طلب کرکے ثابت کرئے۔
فصل:میراث کےدعوی کے بارے میں ہے۔
مسئلہ708:جب مسلمان مرجائےاوردو بیٹے چھوڑ جائے جواپنی زندگی کے بعض مراحل میں کافر ہو گئے ہوں ،اورکافر مسلمان سے وراثت نہیں پاتاہے ،اُن دو میں سے ایک باپ کی وفات سے پہلے مسلمان ہواہو اوردوسراباپ کی وفات کے بعد مسلمان ہو ،اب دونوں اختلاف کریں کہ ان میں سے کون پہلے مسلمان ہواہے ،پس پہل کے دعوی والے پر لازم ہےکہ اپنے دعوی کو ثابت کرئے،ورنہ اس کے بھائی کی بات کو قبول کیا جائے گا۔
لیکن جب صورت حال سے جہالت کا دعوی کرئےتو مدعی تقدم حلف لےسکتاہےکہ مجھے باپ کی وفات سے پہلےاس کے مسلمان ہونے کاعلم نہیں ہے،بشرطیکہ وہ دعوی رکھتاہوکہ اسے اس بات کا علم ہے۔
مسئلہ709:اگر میت کاایک بیٹا کافراورایک مسلمان وارث ہو ،اور باپ مرجائے اور بیٹا مسلمان ہوجائے،اور وہ دعوی کرئےکہ میں باپ کی وفات سے پہلے مسلمان ہواہوں اور اس کی اس بات کااس کا مسلمان وارث انکار کرئےتوبیٹے پر واجب ہے کہ ثابت کرئےکہ وہ باپ کی موت سے پہلے مسلمان ہواہے ،اوراگراسے ثابت نہ کرسکے تووارث نہیں ہوگا۔
مسئلہ710:جب کسی شخص کے ہاتھ میں مال ہو ،اوردوسراشخص دعوی کرئےکہ یہ مال اس کے میت مورِث کاہے ،اب اگراس پر بینہ(گواہ) قائم کرئے اور ثابت کرئے کہ میں اس کاوارث ہوں توسارامال اسے دے دیاجائے،اور اگرعلم ہو کہ اس کاایک بھی وارث ہےتواسے اُس کاحصہدیاجائے گا،اور غائب کے حصہ کو محفوظ رکھاجائے گا،اوراسے تلاش کیاجائے گا ،اگر مل گیاتواسے اس کا مال دے دیا جائے اور اگر نہیں ملاتو اس کی بابت مجہول المالک والا معاملہ کیا جائے گا،اگروہ مجہول ہویا ایسامعلوم ہو جس تک مال کا پہچانا ممکن نہیں ہوتاہے ،ورنہ اس کی بابت ایسے مال کا معاملہ کیاجائےگا جس کے مالک کی خبر مفقود ہوتی ہے۔
مسئلہ711:جب کسی عورت کاایک بیٹا ہو اور ماں بیٹے دونوں کے پاس اپنا اپنا مال ہو اور وہ دونوں مرجائیں ،اور عورت کا بھائی دعوی کرئےکہ میرابھانجا ماں سے پہلے مراہے اوراس عورت کاشوہر دعوی کرئےکہ پہلے عورت مری ہے اور پھر بیٹا مراہےتوشوہر کےلیےاپنے حق سے قدر متیقن ہے ،جب فرض یہ ہوکہ بیٹا ماں کی زندگی میں مراہے ،یہ عورت کے بھائی اور اس کے شوہر کے درمیان نزاع اور جھگڑا ہوگا جوعورت کے نصف مال اوربیٹے کے سدس مال میں ہے ۔
البتہ عورت کادوسرانصف مال اور بیٹے کاسدس مال سے پانچواں حصہ دونوں فرض کی بناء پر شوہرکےلیے ہے،اس صورت میں اگردونوں میں سے ہرایک اپنے مدعاپر گواہ پیش کرئے،تودونوں سے حلف لےکر متنازعہ مال ان دونوں کےلیے آدھا آدھا ہوگا۔
یہی حال ہے جب گواہ موجود نہ ہوں اوردونوں فریق حلف دیں ،اوراگر ان میں سے کوئی ایک بینہ(گواہ) پیش کرئےتو مال اس کےلیے ہے،اوراگر دونوں حلف نہ دیں تو اُن کے درمیان قرعہ ڈالاجائے گا۔
مسئلہ712 :تنازع دور اور ختم کرنے کےلیے حاکم کاحکم مؤثر ہوتاہے اورظاہری طور پر اس کے مطابق آثار مرتب کئے جاتے ہیں،لیکن واقعیت میں اس کا اصلا ً کوئی اثر نہیں ہے ،پس اگر مدعی کوعلم ہو کہ وہ مدعی علیہ پر کسی شے کا استحقاق نہیں رکھتاہے اوراس کے باوجود حاکم کے حکم کے مطابق وہ مال لے لیتاہےتواس کے لیے اس میں تصرف کرناجائز نہیں ہے ،بلکہ اس پر واجب ہے کہ مال مالک کو واپس کردے۔
اور یہی حکم ہے جب وارث کوعلم ہو کہ مورِث نے مدعی علیہ سے ناحق مال لیاہے ۔
صحیحہ ہشام بن حکم میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ رسول خداﷺ نے فرمایا:
انما اقضی بینکم بالبینات والایمان وبعضکم الحن بحجتہ من بعض فایما رجلٍ قطعت لہ من مال اخیہ شیئا ً فانما قطعت لہ بہ قطعۃ من النار۔
میں تمہارے درمیان گواہوں اور ایمان کے ذریعہ سے فیصلہ کرتاہوں،اور آپ لوگ اک دوسرے سے اپنی دلیل کی زبان سے فیصلہ کرتے ہو، پس جس شخص نے اس کے بھائی کے مال سے کوئی شے کاٹتاہوں ،سوائے اس کے نہیں ہے کہ اس کے لیے جہنم کے ایک ٹکڑے کو کاٹ دیتاہوں۔