قضاوت کی تعریف
قضاوت کی تعریف:
قضاوت:یعنی دوجھگڑئے ہوؤں کے درمیان جھگڑے کافیصلہ کرنااور مدعی کےدعوی کو ثابت کرنا یا کہناکہ یہ مدعی کا مدعی علیہ کےخلاف حق نہیں ہے۔
قضاوت اور فتوی کے درمیان فرق:
فتوی یعنی کلی احکام کابغیر اُن کو ان کے موارد پرتطبیق دیئےبیان کرنا،اورفتوی صرف اس پر حجت ہوتاہے جس نے اس فتوی دینے والے مفتی کی تقلید کی ہوئی ہوتی ہے اوراس فتوی کی تطبیق اُس شخص کی نظر کے مطابق ہوتی ہے،مفتی کی نظر کے مطابق نہیں،یعنی مفتی کاکام فتوی دینااور مقلد کاکام موضوع کی تشخیص کرناہے۔
قضاوت یعنی شخصی قضیہ پر حکم لگانا جو جھگڑنے کے مورد میں ہوپس قاضی حکم صادر کرتاہےکہ فلاں مال زید کاہےیافلاں عورت فلاں بندے کی بیوی ہےاوراس کی مانند ،اوریہ حکم ہرایک پر نافذ ہوگا ،یہاں تک کہ اگرفریقین میں سےکوئی ایک یا دونوں مجتہد ہی کیوں نہ ہوں۔
ہاں،گاہے مقدمہ دائر کرنے کی وجہ فتوی میں اختلاف ہوتاہے،جیسے وارث زمین کےبارے میں جھگڑا کریں،مرنے والے کی وہ بیوی جو بیٹے کی ماں ہے وہ زمین سے ارث کادعوی کرئےاور باقی وارث کہیں کہ زمین میں اس کا حصہ نہیں ہے تو اس صورت میں قاضی کا حکم فریقین پر نافذ ہوگا اگرچہ اس کافیصلہ اُس کے فتوی کے مخالف ہو جس نے اس کی طرف رجوع کیاہے اور اس کے خلاف فیصلہ ہواہے۔
مسئلہ632:قضاوت اجتماعی واجبات میں سے ہے ،یعنی یہ مجتمع اور معاشرے کے لوگوں پر واجب ہےجیسے بعض افراد کی عائلی کفالت کرنے والااُن افراد کے درمیان قضاوت کرتاہے اور ان کے جھگڑے نپٹاتاہےاوراگر وہ اس پرعمل نہ کریں گےتوسب گناہگار ہوں گے۔
مسئلہ633:قاضی حاکم شرعی کی طرف سےمعین کیاجاتاہے جو حالات عامہ کے کنٹرول کرنےپر متصدی ہے ،وہی مالی مخصصات کے اجراء کا ضامن ہے اور لوگوں کو گزارنے کےلیے اچھی زندگی مہیا کرتاہے،تاکہ کمزور لوگوں سے رشوت کوروکے پس امیرالمؤمنین علیہ السلام کے زمانے میں مالک اشتر اور بیشتر قاضیوں کے ساتھ اچھا ، رویہ اوراُن خرچ کیاگیا ، جس سے وہ لوگوں کے نیازمند نہ رہے اوردرست فیصلے کیے گئے۔
مسئلہ634:قضاوت پر رشوت دینااور لینادونوں حرام ہیں۔
مسئلہ635:قاضی کی دوقسمیں ہیں:حاکم شرعی کی طرف سے مقررکردہ قاضی اور ثالثی قاضی۔
مسئلہ636:ثالثی کےلیےجس قاضی کی طرف فریقین فیصلے کے لیے جاتے ہیں ،اُس کی تعیین فریقین کی رضایت پر موقوف ہے،لیکن اگر حاکم شرع کی طرف سے مقرر قاضی کے پاس مقدمہ لےجائیں تواس کی تعیین مشہورقول کے مطابق مدعی کے ہاتھ میں ہے ،اوراگرقاضی فریقین کےتقلید میں اختلاف کی رعایت کرئےتوکوئی حرج نہیں ہےیا حاکم شرع کی طرف رجوع کرلے۔
یہی حکم ہے جب فریقین دعوی کریں اور قاضی کی بابت اختلاف کریں جس کی طرف مقدمہ لے گئے ہوں۔
مسئلہ637:قاضی کے شرائط:
بلوغ،عقل،مرد،مؤمن،حلال زادہ،عدالت،رشد،مقرر کردہ قاضی مجتہد ہو۔
مسئلہ638:جس طرح حاکم کےلیے جائزہےکہ فریقین کے درمیان گواہ،اقرار اورقسم کے ذریعہ سے فیصلہ کرئے اسی طرح اسے حق حاصل ہےکہ فریقین کے درمیان اپنے علم اور معلومات کے مطابق فیصلہ کرئے،بشرطیکہ اس پر فریقین راضی ہوں تاکہ تہمت اور شک کو روکاجائے۔اس میں کوئی فرق نہیں ہےکہ وہ مقدمہ حقوق اللہ کے بارے میں ہویا حقوق الناس کے بارے میں ہو۔
مسئلہ639:دعوی کے سننے میں شرط ہےکہ اسے جزم کے طور پرسناجائےاوراگر گمان یااحتمال کے طور پرہوتوایسے دعوی کوسناہی نہ جائے۔
مسئلہ640:اگرکوئی شخص کسی کے خلاف مال کادعوی کرئےتو وہ شخص یا تواس مال کا اعتراف کرئےگایااس کا انکار کرئےگایاخاموشی اختیار کرئے گا،خاموشی کا مطلب یہ ہےکہ نہ اعتراف کیاہےاورنہ ہی انکار کیاہے،یہاں تین صورتیں بنتی ہیں:
اول۔اس پر جس چیز کادعوی کیا گیاہے اس کا اعتراف کرلےتوحاکم اس کے مطابق حکم صادر کرئےگااور اس کا مؤاخذہ کرئےگا۔
دوم۔اس پر جس چیز کادعوی کیاگیاہے اس کاانکار کردے تو مدعی سے گواہ طلب کیے جائیں گےاور اگر گواہ گواہی دےدیں تو حاکم ان کی گواہی کے مطابق حکم صادر کرئے گا اور اگر وہ گواہی نہ دلواسکےتو منکر قسم کھائےگا،اگر منکر نے قسم کھادی تودعوی ساقط ہوجائےگا،حاکم کے حکم کے بعد مدعی کوحق حاصل نہیں ہےکہ قسم اٹھانےوالے کے مال سے حصہ مانگے ،ہاں اگرقسم اٹھانے والے اپنے آپ کو جھٹلائیں تومدعی اپنے مال کا اس سے مطالبہ کرسکتاہےاوراس صورت میں اگر دوسرافریق اسے مال نہ دے تو مدعی کے لیے اس مال سے حصہ لیناجائزہے۔
سوم۔اس پر جس چیز کادعوی کیاگیاہے وہ اس کے سامنے خاموش ہوجائےتو مدعی سے گواہ طلب کیے جائیں گے اور اگر وہ گواہ پیش نہ کرسکےتو حاکم کہے گاکہ حلف دو ، بشرطیکہ مدعی اس سے حلف لینے پر راضی ہو ،اب اگر وہ حلف دے دے تو ٹھیک ، ورنہ حاکم مدعی سے حلف مانگے گا۔
لیکن اگرمدعی علیہ دعوی کی بابت کہے کہ مجھے اس کے بارے کچھ پتہ نہیں ہے اور مدعی اسےنہ جھٹلائےتواسے اس سے حلف لینے کاحق نہیں ہے کہ وہ حلف دے کہ مجھے اس کے بارے میں پتہ نہیں ہے۔
مسئلہ641:منکر کے حلف اور حاکم کے حکم کے بعد مدعی کے بینہ کو اس کے دعوی پر سنا نہیں جائے گا ۔
مسئلہ642:اگرمنکر حلف سے انکارکرئےاورمدعی کو حلف کاکہے،اب اگر مدعی حلف دےدےتو اس کامدعا ثابت ہوجائےگااور اگر مدعی حلف سے انکار کردےتو دعوی ساقط ہوجائے گا۔
مسئلہ643:اگر منکر حلف اٹھانے سے انکار کردے اور مدعی کو حلف کا نہ کہے،تو حاکم مدعی کو حلف کاکہے گا،اب اگر مدعی حلف دےدےتو فیصلہ مدعی کے حق میں ہوجائےگا۔
مسئلہ644:حاکم کے لیے جائز نہیں ہے کہ مدعی سے بینہ قائم ہوجانے کے بعد حلف لےمگرجب اس کا دعوی میت کے خلاف ہو ،اس صورت میں حاکم مدعی سے بینہ کے علاؤہ حلف کامطالبہ کرسکتاہےتاکہ اس کاحق اس کے ذمہ میں باقی رہے۔
مسئلہ645:ظاہریہ ہےکہ مذکورہ حکم قرض کے ساتھ مخصوص نہیں ہے،بلکہ ہر مورد میں جاری ہوتاہےجہاں اس کا گمان کیا جاسکتاہو،کیونکہ اس کی علت عبد الرحمن بن ابی عبداللہ کی امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی روایت میں ہے:پس اگر ایساہوتو اس کا حق نہیں ہوگاکیونکہ ہم نہیں جانتے ہوسکتاہے اس نےاسے ایسے بینہ کے ذریعہ پورا کیاہوجس کے مقام کا ہمیں علم نہیں ہے یا موت سے پہلے بغیر بینہ دیئےہوئے ہو۔
مسئلہ646:میت کےخلاف دعوی میں کوئی فرق نہیں ہے کہ مدعی قرض کادعوی اپنے لیےکرئےیا اپنے مؤکل کےلئے کرئےیااس کے لیےکرئے جس پر وہ ولی قرار دیاگیاہے،ان تمام صورتوں میں دعوی کے ثبوت میں قسم اور بینہ کوضم کرنا ضروری ہے ،جیساکہ کوئی فرق نہیں ہےکہ مدعی وارث ہویا وصی ہویاکوئی اور شخص ہو۔
مسئلہ647:اگر میت کاقرض بغیر بینہ کے ثابت ہوجائے،جیسے اس کےورثاء اعتراف کرلیں،یاوہ حاکم کے علم اور معلومات سے ثابت ہوجائے یا سب لوگ جانتے ہوں جس سے علم حاصل ہوجائے ا ور احتمال دیاجائے کہ میت نے اپناقرض چکادیا ہے تو کیااس قسم کے مورد میں حلف کے ضم کرنے کی نیاز ہے یانہیں؟
دووجہیں ہیں :
۱۔حلف کے ضم کرنے کی نیاز ہے۔
۲۔حلف کے ضم کرنے کی نیاز نہیں ہے۔
اقرب پہلی وجہ ہے۔
مسئلہ648:اگر مدعی میت کے خلاف ایک گواہ اور حلف کو قائم کرئےتو معروف ہے کہ اس سے قرض ثابت ہوجائے گا،اب کیا اس میں دوسری قسم اٹھانے کی محتاجی ہوگی یانہیں ؟
اس میں اختلاف ہے ،ایک قول ہےکہ اس کی ضرورت نہیں ہے ، ایک قول ہےکہ یہ لازمی ہے ،لیکن دوسراقول اصح ہے۔
مسئلہ649:اگر بچے یا پاگل یاغائب شخص پر قرض کابینہ قائم ہو،کیا اس بینہ کے ساتھ قسم کی محتاجی ہے یانہیں؟
اس میں تردد اور اختلاف ہے،اور اظہر یہ ہے کہ یہ سابقہ مسئلہ کی طرح ہے کیونکہ علت عام ہے بشرطیکہ وفا کااحتمال وارد ہو۔
مسئلہ650:ایک حاکم کے فیصلے کے بعد دوسرے کے پاس وہی مقدمہ لے جانا جائز نہیں ہے،اور دوسرے حاکم کے لیے جائزنہیں کہ وہ پہلےوالے کے حکم کو کالعدم قراردےدےمگر جب پہلاحاکم واجد شرائط نہ ہویااس کاحکم کتاب وسنت کے قطعی حکم کے مخالف ہو یاایسی ادلہ مل جائیں جن سے پہلے حکم کی خطاء ثابت ہوجائے۔
مسئلہ651:اگرمدعی اپنے حق کامطالبہ کرئےاور مدعی علیہ غائب ہو،اوراسےاس وقت حاضر نہ کیاجاسکتاہوتواس صورت میں ،اگر وہ اپنے مدعاپر گواہ پیش کردے تو حاکم اس کے گواہوں کی روشنی میں اس کے حق میں فیصلہ دے گااوراس کاحق مدعی علیہ کے اموال سے لےکرمدعی کودےدےگااور مدعی سے مال کا ضامن لے گااور جب غائب واپس آجائےگاتووہ اپنی صفائی دے گااگر ثابت کردےکہ مدعی کا مجھ پر کوئی حق نہیں بنتاہے توحاکم مدعی سے مال لے کر مدعی علیہ کو دےدےگا،اور اصل مال کے مفقود ہونے کی صورت میں مدعی اس کابدل دے گا۔
مسئلہ652:اگر مؤکل غائب ہو اور اس کا وکیل مدیون سے مطالبہ کرئے کہ اس پرجوحق اقراریابینہ سے ثابت ہوچکاہے ،اُسے اداکرئےاورمدیون دعوی کرئےکہ میں نے مؤکل کو دےدیاہے یامیں اس سے بری الذمہ ہوچکا ہوں ،اگر اس پر بینہ قائم کردے توٹھیک ہے اور اگر بینہ قائم نہ کرسکے تو اس پرلازم ہے کہ وکیل کودے اورحاکم کوحق نہیں ہےکہ وکیل سے حق کے باقی ہونےپر حلف لے۔
مگر جب مدیون دعوی کرئےکہ وکیل کوپتہ تھاکہ میں نے قرض دےدیاہے یااس سے بری الذمہ ہوگیاہوں۔
مسئلہ653:جب حاکم کسی شخص پر قرض کے ثبوت کاحکم لگائے،اور محکوم علیہ کہےکہ میں قرض نہیں دوں گا ،حاکم اسے قید میں ڈال کر قرض اداکرنےپرمجبورکر سکتاہے۔
ہاں اگر محکوم علیہ تنگدست ہو تواسے قید کرناجائز نہیں ہے،بلکہ حاکم اسے مہلت دے یہاں تک کہ وہ قرض اداکرنے پر قادر ہوجائے۔
قسم کےاحکام
مسئلہ654:حلف صحیح نہیں ہوتا مگرجب لفظ جلالت اللہ کے اور اللہ تعالی دیگر اسماء کے ذریعہ سے ہو،اس کاعربی لفظ کے ذریعہ سے ہونا ضروری نہیں ہے ،بلکہ اس کے اسماء کے ترجمہ سے بھی صحیح ہے۔
مسئلہ655:حاکم اہل کتاب سے ہراس شے کے ذریعہ سے حلف لے سکتاہے جس کاوہ عقیدہ رکھتے ہیں،انہیں اللہ تعالی کے خاص اسماء سے حلف اٹھانے پر مجبور کرنا واجب نہیں ہے۔
مسئلہ656:کیاحلف اٹھانے میں ضروری ہے کہ وہ خود حلف اٹھائےیا کسی دوسرے سے بھی حلف دلواسکتاہے،جس سے اس کی نیابت میں اس کاوکیل حلف دے؟ظاہر ہے کہ اس کے خودکا حلف اٹھانامعتبر ہے۔
مسئلہ657:جب معلوم ہوجائے کہ حلف اٹھانے والے نے حلف میں توریہ اختیار کیاہےاوراس سے قصد کسی دوسری شے کا کیاہےتو ظاہریہ ہے کہ اس کا یہ حلف کافی نہیں ہے۔
مسئلہ658:اگر منکر ، کافر غیرکتابی ہو ، جس کا مال محترم ہو ،جیسے کافرحربی یامشرک یاملحداور اس کی مثل ، پس بعض نے ذکر کیاہےکہ گزشتہ اختلاف کے مطابق ، ان سے اللہ کی قسم طلب کی جائے اور بعض نے ذکر کیا ہے کہ وہ جس شے کا عقیدہ رکھتے ہیں ،ان سے اسی کی قسم طلب کی جائے ، لیکن ظاہر یہ ہے کہ ان سے کسی شے کی قسم طلب نہ کی جائے پس جب مسلمان کا ان پر حق ثابت ہوجائےتو مسلمان کے حق میں حکم جاری کیا جائے گااور اس مدعی علیہ کے انکار کو سنا نہیں جائے گا۔
مسئلہ659:مشہور یہ ہے کہ حاکم کا کسی ایک سے بھی حلف لینا جائز نہیں ہے مگر قضاوت کی مجلس میں حلف لے سکتاہے،لیکن اس پر کوئی دلیل نہیں ہے ،پس اظہر اس کا جائز ہوناہے، لیکن قسم مدمقابل کے سامنے لی جائے یا اس کے نائب کے سامنے لی جائے یا دو عادل گواہوں کے سامنے لی جائےتاکہ شک اور اختلاف پیدا نہ ہو۔
مسئلہ660:اگر کوئی شخص قسم کھائے کہ وہ کبھی قسم نہیں کھائے گا،لیکن ایسے حالات پیداہوجائیں کہ اس کے حق کااثبات حلف پر موقوف ہو تو اس کے لیے قسم اٹھاناجائز ہے، اور قسم ختم نہیں ہوگی پس احتیاط کی بناء پر وہ قسم توڑنے کاکفارہ دے ،ہاں جب نذر کرنےوالا عدم حلف کو اخذ کرئے حتی اس مورد کی مثل میں اور جواس کے تابع ہے جس سے اس کاحق ضایع ہورہاہو تو اس پر واجب ہے کہ اپنے لیے اپنے عزم کو لازم قراردے۔
مسئلہ661:جب کوئی شخص میت کےخلاف مال کادعوی کرئے،اگردعوی کرئے کہ اس بات کا اس کے وارث کوعلم ہے اوراس کاوارث اس بات کاانکار کرئےتو اسے اختیار ہے کہ وارث سے قسم لےکہ اسے اس کا علم نہیں ہے ورنہ حلف وارث کی طرف متوجہ نہیں ہوگا۔
مسئلہ662:جب کوئی شخص میت کے خلاف مال کا دعوی کرئے،اور دعوی کرئے کہ اس کے وارث کو اس کی موت اور ترکے کاعلم ہے، پس اگر وارث اس بات کااعتراف کرلے تو اس کے لیے مدعی کو مال دینا ضروری ہے، اوراگر اس بات کااعتراف نہ کرئےتوحلف دے کہ مجھے اس کی موت کاعلم نہیں ہے یا میت کا ہمارے پاس کوئی مال،ترکہ نہیں ہے۔
مسئلہ663:حدود میں دعوی بینہ یااقرار کے بغیر ثابت نہیں ہوتاہے،اس میں قسم منکر کی طرف متوجہ نہیں ہوگی۔
مسئلہ664:دو حق جو چوری پر مترتب ہوتے ہیں،ان کے اثبات میں کوئی ملازمہ نہیں ہے ، اور وہ دو حق یہ ہیں،حد کی بابت اللہ تعالی کاحق اور قرض کی بابت لوگوں کا حق ، پس جب چوری کے منکرکے پاس گواہ نہ ہو اور وہ حلف اٹھائےتواس کا قرض ساقط ہوجائے گا،اور اگر مدعی گواہ پیش کرئے اور حلف دےتو منکر مدیون ہو جاتا ہے ،لیکن حد بغیر گواہ یااقرارکے ثابت نہیں ہوتی ہے،اور حلف سے ساقط نہیں ہوتی ہے،جب حلف کے بعد گواہ کواہی دیں،تواس پر حد جاری کردی جاتی ہے۔
مسئلہ665:جب میت پر قرض ہو ،اور قرض خواہ دعوی کرئےکہ کسی دوسرے شخص نے میت کاقرض دیناہے اس حیثیت سے کہ میت مدعی کامقروض ہے اور دوسرے شخص کا قرض خواہ ہے ،اگر قرض ترکہ سے زیادہ ہو ،توقرض خواہ مدعی علیہ کی طرف رجوع کرئےگا،اوراس سے قرض کا مطالبہ کرئے،اگروہ اس پر گواہ پیش کردے توٹھیک ہے اور اگر گواہ پیش نہ کرسکے تومدعی علیہ حلف دے گا،اور اگر قرض ترکہ سے زیادہ نہ ہو ،اب اگر ورثاء کےپاس میت کا مال ہوجو اُس مال کے علاؤہ ہو جس کادعوی کیاگیاہےاوروہ کسی اور کے پاس ہو،تو قرض خواہ ورثاء کی طرف رجوع کرئے اوراُن سے اپنے قرض کامطالبہ کرئے۔
پس اگر وہ گواہ پیش کرئےیاورثاء میت کےقرض کااقرارکرلیں تووہ اسے اس کاقرض دےدیں،اوراگر ورثاء میت کے قرض کااقرارنہ کریں تو ورثاء حلف دیں کہ انہیں اس قرض کے بارے میں کچھ پتہ نہیں ہے ۔
اوراگر ورثاء کےپاس میت کامال نہ ہو ،نہ عین مال ہواور نہ ہی اس کابدل ہو جسے وہ ترکہ قراردےکر تصرف کرسکتے ہو تو یہ دوحال سے خالی نہیں ہے:
۱۔ورثاء کہیں کہ ہمیں معلوم نہیں ہے کہ میت کاکوئی مال کسی کے پاس موجود ہے۔
۲۔ورثاء کہیں کہ ہمیں معلوم ہے کہ میت کا مال کسی کے پاس موجود ہے۔
پہلی صورت میں قرض خواہ مدعی علیہ کی طرف رجوع کرئےاگر بینہ قائم کرئے یاورثاء اقرارکرلیں توٹھیک ہے،ورنہ مدعی علیہ حلف دے۔
دوسری صورت میں قرض خواہ ورثاء کی طرف رجوع کرئےاورورثاء مدعی علیہ کی طرف رجوع کریں ،اوراس سے میت کے قرض کامطالبہ کریں،اگر گواہ پیش کردیں یا وہ اقرارکرلیں تو اُن کے حق میں حکم جاری ہوگا،ورنہ مدعی علیہ کا حلف دیناواجب ہے ، ہاں اگر ورثاء اُس کی طرف رجوع کرنے سے امتناع کریں تو قرض خواہ کو اختیار ہے کہ ان کی طرف رجوع کرئے اور قرض کامطالبہ کرئے،جیساکہ آپ جان چکے ہیں۔
مسئلہ666:اموال میں دعوی ایک عادل گواہ اورمدعی کی قسم سے ثابت ہو جاتا ہے
،مشہور ہےکہ اس میں معتبر ہےکہ گواہی پہلے اور قسم بعد میں دی جائے،پس اگر اس کااُلٹ کیا گیاتودعوی ثابت نہیں ہوگا۔
یعنی احوط ہے کہ عادل شخص کی گواہی کے بعد قسم کااعادہ کیاجائے،یہ اس وقت ہے جب دعوی میت کے علاؤہ زندہ لوگوں پر کیاگیاہو ،لیکن اگردعوی میت پر کیاگیاہو تو اس کے بارے میں حکم بیان ہوچکا ہے۔
مسئلہ667:ظاہر ہےکہ مدعا بہ مال مطلق طور پر، ایک عادل گواہ اورمدعی کی قسم سے ثابت ہوتاہے، وہ عین مال ہو یا قرض ہو اوراقرب ہےکہ مال کے علاؤہ دوسرے حقوق ان دونوں کے ساتھ ثابت نہیں ہوتے ہیں۔
مسئلہ668:جب جماعت مال کا اُن کے مورث کے لیے دعوی کریں اورایک گواہ گواہی دے ،اب اگر سارے لوگ حلف اٹھائیں،تو ہرایک کی نسبت سے اُن کے درمیان مال تقسیم کیاجائے گا،اوراگر کچھ لوگ حلف دیں اوردوسرےکچھ امتناع کریں تو حلف اٹھانے والے کاحق ثابت ہوجائےگااور امتناع کرنےوالے کا حق ثابت نہیں ہوگا۔
اگر مدعا بہ مال قرض ہو تو حلف اٹھانے والا اپناحصہ لےگاجس میں دوسراکوئی شریک نہیں ہوگااوراگر مدعا بہ عین مال ہو تواس عین مال میں مدعی علیہ اپنی نسبت کے ساتھ شریک ہوگا،احوط ہےکہ مدعی علیہ دوسرے ورثاء کےساتھ ان کے حصوں کی نسبت مصالحت کرلے،یہی حال ہے مال کی ایک جماعت کی بابت وصیت کا،جب وہ ایک گواہ قائم کریں تو حلف اٹھانے والے کا حق ثابت ہوگااور جو حلف نہیں اٹھائےگا اسے حق نہیں ملےگا۔
مسئلہ669:اگر مدعیوں کی جماعت کے درمیان اُن کے صغیر مورث کے لیے مال ہو ،مشہور ہےکہ اس کے ولی کے لیے اس کے حق کو ثابت کرنے کےلیےحلف نہیں ہے ،بلکہ اُس کا حصہ اس کے بالغ ہونے تک باقی رہے گا،اوراگر بچہ بالغ ہونے سے پہلے مرجائےتواس کاوارث اس کاقائم مقام ہوگا،اگرحلف دے توٹھیک ،نہیں تو اس کاکوئی حق نہیں ہوگا۔
اس مسئلہ کے فرض میں اشکال ہے،کیونکہ اگر اس کاولی اس کے حق کوجانتاہوتویہ گواہ ہے اوردوسرے گواہ کی گواہی سے حق ثابت ہوجائے گا،اگر اس کاولی اس کے حق کو نہ جانتاہو تواس کے لیےحلف اٹھانا جائز نہیں ہے۔
مسئلہ670:جب کچھ وارث دعوی کریں کہ میت نے ان پر اپنے گھر کووقف کیاہوا ہےجو نسل در نسل وقف چلے گا،اور اس کادوسرے وارث انکار کریں،اگر مدعی حضرات بینہ قائم کریں تووقفیت ثابت ہوجائے گی،یہی حکم ہے جب ان کاایک گواہ ہواور سارے حلف اٹھائیں۔
اوراگر سارے لوگ حلف سے امتناع کریں تووقفیت ثابت نہیں ہوگی اور مدعا بہ مال قرض اور وصیت نکالنے کےبعد تقسیم کردیاجائےگا،اگر میت پرقرض ہویااس نے وصیت کی ہوئی ہو،اوراس کےبعد اس کے اقرارپرعمل کرتے ہوئے مدعی وقفیت کے حصہ کی وقفیت کاحکم لگایاجائےگا۔
اگربعض مدعی حلف اٹھائیں،توحلف اٹھانے والے کو اس کاوقف والاحصہ مل جائے گا،پس اگر میت نے وصیت کی ہویااس پر قرض ہوتو وقف کو باقی مال سے نکالاجائے گاپھراسے سارےورثاء میں تقسیم کردیاجائےگا۔
مسئلہ671:جب کوئی وارث حلف سے امتناع کرئےاورپھر حاکم کے حکم سے پہلے مرجائےتواس کاوارث اس کاقائم مقام ہوگا،اگراس نےحلف دیاتو اس کے حصہ میں وقف ثابت ہوگا،اوراگرحلف نہ اٹھائےتو وقف ثابت نہیں ہوگا۔
مسئلہ672:جواعیان مشترکہ ایسی ہوں جن کے اجزاء مساوی ہوتے ہیں ،ان میں تقسیم جاری ہوتی ہے،اور شریک کو حق حاصل ہے کہ اپنے شریک سے عین مال کی تقسیم کامطالبہ کرئے ،اوراسے شریک روکےتواسے تقسیم پر مجبور کیاجائے گا۔
مسئلہ673:ایسی اعیان جن کے اجزاء مساوی نہیں ہوتے ہیں ،اُن میں تقسیم کی تین صورتیں ہیں:
۱۔اس سے سب کونقصان ہوتاہو۔
۲۔اس سے کچھ کو نقصان ہوتاہو۔
۳۔اس سے کسی کو نقصان نہ ہوتاہو۔
پہلی صورت میں:جبرا ً تقسیم کرناجائز نہیں ہےاور یہ سب کی رضایت سے جائزہے۔
دوسری صورت میں:اگرنقصان اٹھانے والاتقسیم پرراضی ہوجائے توٹھیک ہے ، ورنہ اسے اس پر مجبور نہیں کیاجائے گا۔
تیسری صورت میں: تقسیم سے منع کرنے والے کوتقسیم پر مجبور کیاجائےگا۔
مسئلہ674:جب دو میں سے ایک شریک تقسیم کاکہےتو دوسرے پر قبول کرنا ضروری ہے،خواہ تقسیم افرازی ہویاتعدیلی ہو۔
اول۔تقسیم افرازی یعنی جب عین مشترکہ قیمت کے لحاظ سے مساوی اجزاء رکھتی ہو،جیسے دانے،تیل،نقدی اوران کے ہمشکل۔
دوم ۔تقسیم تعدیلی یعنی جب عین مشترکہ قیمت کے لحاظ سے مساوی اجزاء نہ رکھتی ہو جیسے کپڑے،گھر،دوکانیں ،باغات،حیوانات اور ان جیسے،ان میں اولا ً ضروری ہے کہ قیمت کےلحاظ سے حصوں کودرست کیاجائےمثال کےطورپر ایک کپڑا دینار کے مساوی ہواور دوکپڑے ہوں جن میں سے ہرایک کی قیمت نصف دینارہو تو پہلے کپڑے کو سہم اول قراردیاجائےاور دوسرے دوکپڑوں کو سہم دوم قراردیاجائےپھر انہیں دو شریک آپس میں تقسیم کرلیں ۔
لیکن اگر تقسیم سوائے رد کرنے کے ممکن نہ ہوجیسے دولوگوں کے درمیان دو کاریں ہوں،ایک ہزاردینار کی ہواور دوسری ایک ہزارپانچ سودینار کی ہو،اس کی تقسیم سوائے رد کے نہیں ہوگی یعنی ان دونوں میں سے جو مہنگی کار رکھےگاوہ دوسرے کو دوسوپچاس دینار واپس کرئےگا،اگر دونوں اس تقسیم پر راضی ہوں توٹھیک ہے ،اور اگر راضی نہ ہوں ،یعنی ان میں سے ہر مہنگی والی کاررکھناچاہے تو قرعہ کے ذریعہ سے مشکل حل کی جائے گی۔
مسئلہ675:اگردوشخصوں کے درمیان مشترک مال خارج میں تقسیم کےقابل نہ ہو ،اور اُن میں سے ایک تقسیم کا مطالبہ کرئےاوردونوں اس بات پر راضی نہ ہوں کہ ایک مال رکھ لےاوردوسرا قیمت دے دے،انہیں دو کاموں میں سےایک پر مجبور کیاجائے گا:
۱۔قرعہ یعنی قرعہ ڈالاجائےکہ کون مال رکھےاور کون قیمت۔
۲۔مال فروخت کرکے قیمت آپس میں بانٹ لیں۔
مسئلہ676:اگرمال تقسیم افرازی یا تقسیم تعدیلی سے تقسیم کے قابل نہ ہو ، اور دو شریکوں میں سے ایک رد کے ذریعہ سے تقسیم کامطالبہ کرئے اور دوسرا شریک اس کی بات کو ماننے کے لیےتیار نہ ہو تواس دوسرے شریک کو مجبور کیا جائے گاکہ قرعہ ڈالاجائےتاکہ معین ہوجائے کہ عین مال کس نے رکھناہےاور قیمت کس نے لینی ہےاوراگر اس بات پرمجبور نہ کر سکتے ہوں توانہیں فروخت کرنے پر مجبور کیا جائے گا ، اوراس مال کی قیمت ان کے درمیان تقسیم کردی جائے گی،اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو حاکم شرعی یااس کاوکیل اس مال کو فروخت کرکے پیسے دونوں کے درمیان تقسیم کرئے گا۔
مسئلہ677:تقسیم عقد لازم ہے ،پس دو شریکوں میں سے کسی ایک کے لیے اس عقد کافسخ کرنا جائز نہیں ہے ،اگرچہ وہ دعوی کرئےکہ اس میں غلطی اوراشتباہ ہواہے ،اگر یہ بات بینہ سے ثابت کرئےتو ٹھیک ہے ،اور اسے ثابت نہ کرسکے تو اس کے دعوی کو سناہی نہیں جائے گا،ہاں اگر وہ دعوی کرئےکہ اس غلطی کا میرے شریک کو بھی پتہ ہے،تواسے اختیارہے کہ شریک سے حلف لے کہ مجھے اس کاپتہ نہیں تھا۔
مسئلہ678:جب مال کے تقسیم کرنے کے بعد پتہ چلےکہ کچھ مال کسی دوسرے شخص کاہے،اگروہ مال کسی ایک کے حصہ میں ہو تو تقسیم باطل ہوجائےگی ،اوراگر دونوں کے حصہ میں ہو اور مساوی ہو توتقسیم درست ہوگی اور اُن میں سے ہرایک کے پاس جس کا مال ہو وہ اسےواپس دےدے،اور اگراس کامال ان دونوں کےپاس مساوی صورت میں نہ ہو ،جیسے ایک کےحصہ میں دوثلث ہو اور دوسرے کے حصہ میں ایک ثلث ہو توبھی تقسیم باطل ہوجائےگی۔
مسئلہ679:جب وارث میت کے ترکہ کو آپس میں تقسیم کرلیں پھر پتہ چلے کہ میت پر کسی کاقرض ہے،پس اگر ورثاء اس کے خاص اموال سے اس کے قرض کو اداکردیں یااسے قرض خواہ معاف کردےیاکوئی خوشی سے میت کا قرض چکتاکردےتو اُن کی تقسیم درست ہوجائے گی،اوراگرایسانہ ہوتو تقسیم باطل ہوجائےگی۔
پس اولا ً ضروری ہے کہ اس ترکہ سے میت کا قرض ادا کریں،پھر باقی کو تقسیم کریں ، اور وارث ایسا بھی کرسکتے ہیں کہ سابقہ تقسیم کو جائز قراردیں اور حساب کرکے اپنے اپنے حصوں سے میت کا قرض ادا کردیں۔