باب قضاوت
باب قضاوت
مسئلہ632:قضاوت بہت بڑا الٰہی وظیفہ ہے،انبیاء و آئمہ طاہرین علیہم السلام کی میراث ہے ،امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:
حکومت سے ڈرو کیونکہ حکومت امام کےلیے ہے جو قضاوت کو جانتاہے،جو مسلمانوں کے درمیان عدل کرتاہے،یہ نبی یا نبی کے وصی کاکام ہے۔
امیرالمؤمنین علیہ السلام نے قاضی شریح سےفرمایا:
اے شریح!تم ایسی جگہ پر بیٹھے ہوجہاں سوائے نبی یا نبی کےوصی یا بدبخت کے کوئی نہیں بیٹھتا ۔
عادل کی قضاوت سے لوگوں کے حقوق کاتحفظ ہوتاہے،لوگوں سے ظلم دور رہتاہے ،لوگوں کے درمیان امن امان پھیلتاہے،رعایا مطمئن رہتی ہےاورسلطنت صحیح چلتی ہے۔
نااہل قضاوت کرنے والوں کو بہت زیادہ ڈرایا گیاہے جو مجتہد جامع الشرائط کی مدد کے بغیر فیصلے کرتے ہیں کیونکہ مجتہد ہی امت کے امور کی سرپرستی کا متصدی ہوتا ہے۔
ہشام بن سالم کی صحیحہ روایت میں امام جعفر صادق علیہ السلام مروی ہے:
جب امیر المؤمنین علیہ السلام نے شریح کو قاضی بنایاتواس پر شرط لگائی کہ وہ فیصلہ کرنے میں جلد بازی نہ کرئےیہاں تک کہ اسے اس پر پیش کرئے۔
سالم بن مکرم جمال سے مروی ہے امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:
ایک دوسرے کامحاکمہ اہل ظلم و جورکی طرف مت لے جاؤ،بلکہ اپنوں میں سے کسی شخص کودیکھو جو ہمارے قول کے مطابق قضاوت جانتاہو،اسے اپنے درمیان قاضی قراردو،پس میں اسے تمہارے لیے قاضی قراردیتاہوں ،اپنا مقدمہ اس کے پاس لے جاؤ۔
امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے :
حکم دو قسم کاہوتاہے:اللہ عزوجل کا حکم ،اور جاہلیت کاحکم ،پس جو اللہ کے حکم میں خطاء کرتاہے وہ جاہلیت والا حکم صادر کرتاہے۔
اس مناسبت سے ہم ہراس شخص کوڈراتے ہیں جو لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کےلیے متصدی بنتاہے،خواہ عدالت میں جج ہو یا پنچائتی فیصلہ کرنے والاہو،یا جو بازار میں تاجروں کے فیصلے کرتاہو۔
ہاں، ان کے فیصلوں کی تصحیح کی جاسکتی ہے،فیصلہ سنانے سے پہلے،ان کےسامنے شرعی دینی جہت کو پیش کیاجائے،جیساکہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کی شریح کےلیے شرط میں بیان ہوچکاہے۔