باب حدود و تعزیرات
باب حدود و تعزیرات
حد:وہ سزاہے جس کی شریعت نے حدود مقرر کی ہےاوراسے اللہ تعالی نے اس شخص پر فرض قراردیاہے جو معین جرم کاارتکاب کرتاہےجیسے زنا ،شراب پینا،چوری کرنا،مرد کی مرد سے بدفعلی کرنا۔
اس کے مقابلے میں تعزیرہے،یعنی ایسی سزاجس کی شریعت نے حدبندی نہ کی ہو ، اس کی مقدار کا مقرر کرنا حاکم شرع پرچھوڑ دیاگیاہےجو حد کی مقدار تک نہ پہنچےاور اس کا تعلق جرائم اور گناہ کے ساتھ ہوجو اُس سزا کاغیرہے جس کے فاعل پر حد کی سزا دی جاتی ہے۔
شارع مقدس نے حدود جاری کرنے کااہتمام کیاہے اوراس کی بابت سستی کرنے والوں اور انہیں جاری کرنےکی قدرت رکھنے کےباوجود ترک کرنے والے کی مذمت کی ہے ۔
امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے اللہ عزوجل کےفرمان:یحیئ الارض بعد موتھا (سورہ روم آیت ۱۹) کی تفسیر میں روایت کی ہے:وہ زمین کو مردہ ہونے کے بعد زندہ کرتاہے،یہ بارش سے زمین کازندہ کرنانہیں ہے،بلکہ اللہ ایسے مرد بھیجے گاجو عدل و انصاف کو پسند کریں گے،جس کے زندہ کرنے سے زمین زندہ ہوگی اللہ کے لیے حدود کاقائم کرنا چالیس صبح بارشوں سے زیادہ سودمند ہے۔
رسول خداﷺ نے فرمایا:عادل امام سے استفادہ کی ایک گھڑی ،سترسال کی عبادت سے افضل ہے،وہ حد جسے اللہ کے لیےزمین میں قائم کیاجاتاہےچالیس صبح کی بارشوں سے افضل ہے۔
امیرالمؤمنین علیہ السلام سے مروی ہے:اےخدا! آپ نے اپنے نبی ﷺسے فرمایاہے،جس میں اپنے دین کے بارے میں خبر دی ہے،اے محمدﷺ جومیری حدود میں سے کسی حد کو معطل کرتاہے،اس نے مجھ سے دشمنی کی ،اور میری ضد اورشریک کو طلب کیا۔
امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:
اللہ تبارک وتعالیٰ نے کسی شے کو نہیں چھوڑا جس کی امت قیامت تک نیاز رکھتی ہے ، مگراسے اپنی کتاب میں نازل کیاہے اوراپنے نبیﷺ کےلیے بیان کیاہے،اور ہرشےکےلیے حد کوقراردیاہے اوراس پر دلالت کرنے والی دلیل قراردی ہے ، اور حدود خدا سے تجاوز کرنے والوں پرحد کوقراردیاہے۔
شریعت میں حدود و تعزیرات کی سزاؤں کی تشریع کی حکمت اور فلسفہ یہ ہے کہ لوگ سےجرائم اور دشمنیوں کی روک تھام ہو،کیونکہ لوگ قانون کی طاقت سے ڈرتے ہیں ، عدل وانصاف اورلوگوں کے حقوق بچانے ، پُر امن زندگی گزارنے کے قیام کےلیے حدود بنائی ہیں،اللہ تعالی نےفرمایا:اے صاحبان عقل تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے(سورہ بقرہ آیت ۱۷۹)۔
جب یہ حدود وتعزیرات اورسارے اجتماعی احکام،مانند قضاوت اور امورامت کی ولایت ،اس لیےتشریع نہیں ہوئےکہ کاغذ سیاہی سے کالے کیے جانے سے بچائے جائیں اور احکام چھٹی کرجائیں،دلیل یہ ہےکہ مناسب گواہ موجود نہ ہوں ، شارع مقدس نے حدود کے قائم کرنےکےلیے اس اہتمام کو دلیلوں میں سےایک دلیل قراردیاہے،جس سے دینی مجتہدین کےلیے لازم ہے جو معصوم ﷺ کی نیابت میں وظائف شرعیہ کوقائم کرتے ہیں،تاکہ ایسی وضع قائم کریں جو حدود کے اجراء میں مساعد و مددگار ہو،اسلامی حکومت کاقائم کرنا،اگر اس کی کامیابی کے مقومات پورے ہوجائیں،یا قائم حکومتوں کے اندر مؤثر قوت ایجاد کی جائےاوراس کے علاؤہ دوسرے طور طریقے ،اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے لطف سے موفق فرمائے،جیساکہ اس کی بابت مختلف ادوار میں ہمارے علمائے عاملین قیام کیاہے۔
مسئلہ631:حدود وتعزیرات اور تمام اجتماعی احکام کاقائم کرنا جامع الشرائط مجتہد کے وظائف میں سے ہے جو امور عامہ کا متولی ومتصدی ہوتاہے۔
دوسرےکسی کواس کی اجازت اور امر کے بغیر ، ان کے جاری کرنے کاحق نہیں ہے،سوائے خاص موارد کے !