فصل :دعواؤں کے احکامات کےبارے میں
فصل :دعواؤں کے احکامات کےبارے میں۔
مسئلہ680:مدعی اسے کہتے ہیں، جو کسی دوسرے شخص پر کسی شے کا دعوی کرئے ،اور وہ عقلاء کے نزدیک اس کو ثابت کرنے کے لیے پابند ہو، جیسے کسی کے خلاف مال یاحق یاان دونوں کے علاؤہ کسی اور شے کادعوی کرئےیا قرض کے ادا کرنے یا عین مال کے ادا کرنے کادعوی کرئےجو اس پر واجب ہو ۔
اس میں عقل اور بلوغ معتبر ہے مگر جب بچے کےدعوی پر اثر مترتب ہو جیسے تہمت کو مدعی علیہ کی طرف متوجہ کیاجائے،ایک قول ہے کہ اس میں رُشد بھی معتبر ہے ،لیکن اظہر ہےکہ اس میں رشد معتبر نہیں ہے ۔
مسئلہ681:مدعی کے دعوی کے سننے میں ضروری امور:
۱۔ اس کادعوی اپنے لیے ہو۔
۲۔اس کادعوی ایسے شخص کےلیے ہو جس کے پاس اُس کی طرف سے دعوی کرنے کی ولایت اورسرپرستی ہو ۔
پس جس مال کا دوسرےکے لیے دعوی کیاجائے وہ سنا نہیں جائےگامگر جب وہ دوسرے کاولی ہو یا اس کاوکیل ہویا اس کاوصی ہو ۔
۳۔اس کے دعوی کا تعلق جائزاور مشروع شے کے ساتھ ہو ۔
پس اگر مسلمان دوسرے مسلمان کے خلاف شراب یا سور وغیرہ کا دعوی کرئےتو اسے سنا نہیں جائے گا۔
۴۔ اس کے دعوی کاتعلق ایسی شے کے ساتھ ہو جو شرعی اثر رکھتی ہو پس اگر ہبہ یا وقف کابغیر قبض کے دعوی کیاجائے تواسے سنانہیں جائے گا۔
مسئلہ682:جب کسی کے حق کا کوئی دوسراشخص دعوی کرئےجیسے ولی یاوصی یا وکیل ،اگر گواہوں کے ذریعہ سے مدعاکو ثابت کرنے کی قدرت رکھتاہو توٹھیک ہے،اوراگرایسانہ ہوتو اسے اختیار ہے کہ منکرسے حلف مانگے ،اب اگروہ حلف اٹھادے تو دعوی ساقط ہوجائے گا،اوراگر منکر کہے کہ مدعی حلف دے،مدعی کے حلف دینے سے حق ثابت ہوجائے گا،اوراگر وہ حلف نہ دے تو اس کی طرف سے دعوی ساقط ہوجائے گا تو یہ کافی ہے۔
اب صاحب حق اختیار رکھتاہے کہ اس کے بعد دعوی کی تجدید کرئے۔
مقاصہ کے بارے میں فروع
(مقاصہ یعنی ایک شخص کامال کسی دوسرے شخص نے دینا ہو اور وہ دے نہ رہاہو توصاحب مال اپنے مال کی اس کے مال سے بھرپائی کرئے)
مسئلہ683:جب کسی شخص کامال کسی دوسرے مرد کے پاس ہو تو وہ اس سے اس کی اجازت کے بغیر وصول کر سکتاہے،لیکن اگر اس کے ذمہ میں قرض ہو اور مدعی علیہ اس کا اعتراف کرئےاور دینے کےلیے تیار ہوتواس کی اجازت کےبغیر وصول کرنا جائز نہیں ہے،یہی حکم ہے جب وہ امتناع کرئےاور اس کاامتناع حق کی بابت ہو ، جیسے جب علم نہ ہوکہ اس کامال اس کے ذمہ میں ثابت ہے تواس صورت میں مقدمہ حاکم کےپاس لے جائیں گے ۔
لیکن جب اس کا امتناع از روی ظلم ہو ،خواہ اس کامعترف ہویاانکار کرنے والاہو،جسے تقسیم کاحق ہے وہ اس کے اموال سے اپناحق لےسکتاہے ،ظاہر ہےکہ یہ حاکم شرعی یا اس کے وکیل کے اذن پر موقوف نہیں ہے ،اگرچہ اذن کاحاصل کرنا احوط ہے ، اور اس سے بھی احوط ہےکہ اپناحق لینے کےلیے حاکم کےحضور مقدمہ پیش کیاجائے۔
اگرکسی نے کسی کومال دیاہواہواوروہ اسے دے نہ رہاہوتووہ اپنے شخصی مال کے بدلے میں اس کے اموال سے لےسکتاہے،اگرچہ اس سے لینے پرقدرت نہ رکھتا ہو
مسئلہ684:جو مال کسی کے ذمہ میں ہو اس سے اس مال کے علاؤہ دوسری جنس کا مال وصول کرناجائزہے لیکن اُس کے مال کی اوراِس کے مال کی قیمت مساوی ہو کیونکہ زائد کا وصول کرنا جائز نہیں ہے۔
مسئلہ685:اظہر ہےکہ اپنے مال کی بھرپائی امانت سے کی جاسکتی ہے جب امانت اسی مال کی جنس سے ہو البتہ یہ مکروہ ہے اوراگر امانت اور اس کے مال کی جنس ایک نہ ہو تواحوط ہےکہ اپنے مال کی بھرپائی اس کی امانت سے نہ کرئے۔
مسئلہ686:ضروری نہیں ہے کہ اپنے مال کی بھرپائی خود کرئےبلکہ کسی اور کو اس کام میں وکیل بناسکتے ہیں ،بلکہ یہ ولی کےلیےبھی جائز ہے،پس اگر بچے یا پاگل کامال کسی دوسرے کے پاس ہو اور وہ مال دینے سے انکار کرئےتو ان دونوں کے لیے مال کی بھرپائی کرناجائز ہے،بنابراس کے حاکم شرعی کےلیےجائزہےکہ جولوگ حقوق شرعیہ مانند خمس یا زکات ادا کرنے سے امتناع کریں ،اُن کے اموال سے وصول کر لے ۔
فصل : املاک کے دعوی کے بارے میں۔
مسئلہ687:اگر کوئی شخص ایسے مال کادعوی کرئے جو کسی کے قبضہ میں نہ ہواور وہ اس دعوی کرنے والے کاہوگا،اگرایک گروہ کے پاس بیگ ہو اور اُن میں سے ایک شخص کہے کہ یہ میرا ہے اور دوسرے اس کے بارے میں کچھ نہ کہیں تووہ اسے دے دیاجائے۔
مسئلہ688:ایک مال کی بابت دوشخص جھگڑا کریں تو اس کی چند صورتیں ہوں گی:
اول ۔مال کسی ایک کے ہاتھ میں ہو۔
دوم۔مال دونوں کے قبضے میں ہو۔
سوم۔مال کسی تیسرے شخص کے ہاتھ میں ہو۔
چہارم۔مال کسی کے قبضے میں نہ ہو۔
پہلی صورت: دونوں میں سے ہر ایک کے پاس گواہ ہوں جو گواہی دیں کہ یہ مال اس کا ہے،دوسری بات یہ ہے کہ دونوں میں سے صرف ایک کے پاس گواہ ہوں کہ یہ مال اس کا ہے،تیسری بات یہ ہے کہ دونوں میں سے کسی کےپاس کوئی گواہ نہ ہو۔
پہلی بات کے مطابق،جس کے پاس مال ہو وہ دوسرے کے دعوی کاانکار کرئے،اس صورت میں حکم لگایاجائے گا کہ یہ شخص حلف دے تو مال اس کا ہے،لیکن اگروہ انکار نہ کرئےبلکہ کہے کہ مجھے صورت حال کاعلم نہیں ہے،اور مال اسے دوسرے شخص کی طرف سے ارث وغیرہ کے ذریعہ سے ملاہو،اس صورت میں وہ شخص حلف دے جس کے پاس گواہ زیادہ ہوں ،اگرحلف دےتومال اس کا ہوجائے گا،اوراگر ان کے گواہوں کی تعداد مساوی ہو توان کے درمیان قرعہ ڈالا جائے گا ،جس کے حق مین قرعہ نکلے وہ حلف دے اور مال لےلے۔
ہاں،مدعی جس کے پاس مال ہو وہ تصدیق کرئےکہ دوسرا شخص واقعا ً صورت حال سے ناواقف ہے ،لیکن دعوی کرئےکہ جس شخص کی طرف سے اسے مال ملا ہے ، اُس نے اس مال کو غصب کیاتھا،یااُس کے پاس مال عاریہ کے طور پر تھا، یا اس طرح کی کوئی اور صورت تھی،اس صورت میں اگروہ گواہ پیش کردے تو مال اُس کاہوگا ، اور اگر گواہ پیش نہ کرئےتو مال اُس کا ہوگا جس کے قبضہ میں ہے۔
دوسری بات کے مطابق،اگر گواہ مدعی کے حق میں گواہی دیں تواس کے ذریعہ سے حکم مدعی کے حق میں جاری ہوگا،اوراگر گواہ قبضے والے کے حق میں گواہی دیں تو حلف کے ساتھ حکم اس کے حق میں جاری ہوگا،لیکن بغیر حلف کے اس کے حق میں حکم اشکال رکھتا ہے ،اوراظہر ہے کہ کوئی اشکال نہیں ہے۔
تیسری بات کے مطابق،قبضے والے پر حلف دینا واجب ہے ،اگر حلف دے تو حکم اس کے حق میں جاری ہوگا،اور اگر حلف دینے سے انکار کرئےاور حلف کو مدعی کی طرف لوٹا دے ،اگر مدعی حلف دےدے تو حکم اس کے حق میں ہوگا،اوراگر مدعی حلف نہ دے تو مال قبضے والے کاہوگا۔
دوسری صورت:اس میں بھی تین حالتیں پیدا ہوتی ہیں ،دونوں کے پاس گواہ ہوں ،دونوں میں سے ایک کے پاس گواہ ہوں ،بالکل گواہ نہ ہو۔
پہلی حالت کے مطابق، اگر دونون حلف اٹھائیں یادونوں حلف نہ اٹھائیں تومال دونوں کے درمیان مساوی طور پر تقسیم ہوگا،اوراگر ایک شخص حلف دے اور دوسرا شخص حلف نہ دے تو حلف دینے والے کے حق میں حکم لگایاجائےگا۔
دوسری حالت کے مطابق،جس کے پاس گواہ کے ساتھ قسم ہو مال اُس کا ہوگا۔
صرف گواہ کے ساتھ اکتفاء کے جواز میں اشکال ہے ،اور اظہر ہے کہ اشکال نہیں ہے۔
تیسری حالت کے مطابق،دونوں حلف دیں ،اور اگر دونوں حلف دےدیں تو مال آدھا آدھا لیں گے،یہی حال ہے جب دونوں حلف نہ دیں اوراگر ایک حلف دے تو حکم اس کے حق میں ہوگا۔
تیسری صورت:یہ دعوی کے موضوع کے ،دو میں سے ایک کے ہاتھ میں مال کے نہ ہونے کے لحاظ سے چوتھی صورت کی مانند ہے،اس صورت میں فرق یہ ہےکہ جب وہ شخص کہ جس کے قبضہ میں مال ہے،ان دو میں سے ایک کی تصدیق کرئے یاوہ دونوں کی تصدیق کرئے اور وہ تصدیق کرنے والا عادل ہو تووہ عادل گواہ ہو جائے گا ،جس کی گواہی مؤثر ہوگی،اور جہاں گواہوں کو ملحوظ رکھاجاتاہے ،اُن کی تعداد میں اضافے کاباعث ہوگا،جیسا کہ پہلے گزر چکاہے،اور اگر وہ دونوں کے مال ہونے کااعتراف نہ کرئے،تو اس کا حکم بلافرق چوتھی صورت والا ہوگا۔
چوتھی صورت:اس میں بھی تین حالتین پیدا ہوتی ہیں، دونوں کے پاس گواہ ہوں ،دونوں میں سے ایک کے پاس گواہ ہوں ،بالکل گواہ نہ ہو۔
پہلی حالت کے مطابق ،دونوں حلف دیں یا دونوں حلف سے انکار کریں،تو مال ان کے درمیان آدھا آدھا تقسیم ہوگا ،اگر ایک حلف دے اور دوسرا حلف سے انکار کرئے تو مال حلف والے کاہوگا۔
دوسری حالت کے مطابق،مال اس کاہوگا جس کے پاس گواہ ہوں گے۔
تیسری حالت کے مطابق،اگردو میں سے ایک حلف دے اوردوسرا حلف نہ دے تو مال حلف اٹھانے والے کاہوگا،اور اگر دونوں حلف دیں تو مال آدھا آدھا دونوں کا ہو گا ،اور اگر دونوں حلف نہ دیں تودونوں کے درمیان قرعہ ڈالا جائے گا ۔
اس مسئلہ میں بینہ (گواہ) سے مراد دو عادل گواہ یاایک مرد گواہ اور دوعورتیں گواہ ہیں،لیکن یہاں ایک مرد گواہ کی مدعی کی قسم کے ساتھ گواہی بینہ نہیں ہے ،اگرچہ اس سے بھی حق ثابت ہوجاتاہے،جیساکہ پہلے گزر چکاہے۔
مسئلہ689:جب کوئی شخص ایسے مال کادعوی کرئے جو دوسرے کے پاس ہو ،اور وہ اعتراف کرئے کہ یہ مال کسی اور کاہے تواس سے مخاصمہ (یعنی جھگڑا) برطرف ہوجائے گا ،اس صورت میں اگر مدعی بینہ(گواہ) قائم کرئے کہ یہ مال میراہے تو مال اس کا ہوگا،لیکن دوسرے کی ضمانت میں ہوگا ،جیساکہ پہلے غائب پر دعوی کی بابت گزر چکاہے۔
مسئلہ690:جب کوئی شخص دوسرے کے خلاف مال کا دعوی کرئےاور وہ مال اس وقت اس کے ہاتھ میں ہو ،پس اگر بینہ(گواہ) قائم کرئےکہ یہ مال پہلے سے اس کے قبضہ میں ہے یا یہ مال اس کی ملکیت ہے تواس بینہ کاکوئی اثر نہیں ہے ،اور اس سے ابھی اس کی ملکیت ثابت نہیں ہوگی ،بلکہ قبضہ تقاضا کرتاہےکہ مال اُس کاہے جس کے ہاتھ میں ہے ،ہاں مدعی کو حق حاصل ہے کہ اس سے حلف کا مطالبہ کرئے ، اور اگر بینہ قائم ہوکہ اس مال پر جو ہاتھ ہے یہ اس کےلیے امانت کا ہاتھ ہے ،یااس سے اجارہ کا ہاتھ ہے یا اس سے غصب کاہاتھ ہے تو اس کے ذریعہ سے اس پر حکم جاری ہوگا ،اور ید فعلی(اس موجودہ وقت والا ہاتھ) معتبر نہیں رہے گا،ہاں اگر ہاتھ والا شخص بھی بینہ قائم کرئےکہ اس وقت مال اس کاہے تو قسم کے ساتھ اس کے حق میں حکم جاری ہوگا۔
اور اگر ہاتھ والاشخص اقرارکرئےکہ یہ مال پہلے والے مدعی کاتھا،اور دعوی کرئےکہ یہ مال میں نے خرید کرلیاہے ،اب اگر اپنے مدعی پر بینہ قائم کرئے تو ٹھیک ہے ورنہ قسم کے ساتھ ،ہاتھ والے کاقول قبول کیا جائے گا۔