بھائیوں اور اجداد کا اکٹھا ہونا
بھائیوں اور اجداد کا اکٹھا ہونا
مسئلہ611:جب بھائی یا بہن یا کئی بھائی اور کئی بہنیں ،جد و جدہ یا اجدات اور جدات کےساتھ اکٹھے ہوجائیں تو اس کی میراث کی بابت چند صورتیں ہیں:
اول۔نانا یانانی ،بھائی یا بہن ماں کی طرف سے ہوں اس صورت میں ان کے درمیان مال برابر تقسیم ہوتاہےاگرچہ یہ مذکر اور مؤنث کی حیثیت سے مختلف ہوں۔
دوم۔سب کے سب باپ کی طرف سے ہوں توان کے درمیان مال مرد اور عورت کے مختلف ہونے کی صورت میں یوں تقسیم ہوگاکہ مرد عورت سے دوگناحصہ پائے گا،اوراگر سب مرد یاسب عورتیں ہوں تو ان میں مال برابر تقسیم ہوگا۔
سوم۔دادا یا دادی کےساتھ بھائی یابہن ماں باپ دونوں کی طرف سے ہوں تواس صورت میں وہی حکم ہے جو گزشتہ صورت میں بیان کیاہے،یعنی سگے بہن ،بھائی دادا دادی کے حاجب قرارنہیں پاتے اور اس کے عکس کابھی یہی حکم ہے اور یہ حکم خلاف ہے اُس کے جو پہلے گزر چکاہے یعنی جب میت کافقط پدری بھائی یا بہن ہو تواس کے لیے ارث نہیں ہے جب اس کے ساتھ پدری مادری بھائی یا بہن ہو۔
چہارم۔دادےیادادیاں اور نانے نانیاں ہوں ،خواہ سب مرد ہوں یا سب عورتیں ہوں یامختلف ہوں اور اسی طرح مادری و پدری بھائی اور بہنیں ہوں،اس صورت میں مادری رشتہ دارترکے میں ایک تہائی حصہ پائیں گےجن کےدرمیان مال برابر تقسیم ہوتاہے،خواہ وہ مرداورعورت ہونے کی حیثیت سے مختلف ہوں اور ان میں سے پدری رشتہ داردوتہائی حصہ پائیں گے،جن میں مرد عورت سے دوگناحصہ پاتے ہیں،اوراگر سب کے سب جنس میں مختلف نہ ہوں یعنی سب مرد یاسب عورتیں ہوں توان میں مال برابر تقسیم ہوگا۔
پنجم۔دادا یادادی ماں کی طرف سے بھائی،بہن کے ساتھ جمع ہوں تو اگر بہن یا بھائی ایک ہو تو بھائی یا بہن کو سدس مال حصہ ملےگا اوراگر زیادہ ہوں تو تیسراحصہ ان کے درمیان برابر تقسیم ہوتاہے اورجو باقی بچے وہ دادے یا دادی کا مال ہے،یہ ایک ہو یا متعدد ہوں اوراگر دادا اور دادی دونوں ہوں تودادا دادی کے مقابلے میں دوگنا حصہ پاتاہے،ایسا نہ ہو تو ان کے درمیان مال برابر تقسیم کردیاجائے ۔
ششم۔نانا نانی باپ کی طرف سے بھائی کے ساتھ جمع ہوں تو نانا نانی ایک ہو یا متعدد ہوں ان کا ثلث حصہ ہے ،جو برابر تقسیم ہوگا، اور دوثلث بھائی کاحصہ ہےخواہ وہ ایک ہی ہو،اور اگر زیادہ ہوں توان کے درمیان مال برابر تقسیم ہوتاہے ۔
اور مردوعورت ہونے میں مختلف ہوں تو مرد عورت سے دوگناحصہ پائے گا۔
اوراگراس نانا یا نانی کے ساتھ باپ کی طرف سے بہن ہواور اگر بہنیں دویازیادہ ہوں توان کےلیے دوثلث حصہ ہےاوراگربہن ایک ہی ہوتواس کے لیے نصف ہے اور ہردو صورت میں دادےیادادی کاحصہ ثلث ہی ہےپس آخری صورت میں سب کے حصے دےکرترکے کا سدس حصہ فریضہ سے زائد بچ جائے جس میں احتیاط مصالحت میں ہے۔
ہفتم۔دادے یادایاں ہوں اور کچھ نانے اور نانیاں ہوں اور ان کے ساتھ پدری بھائی یا بہن ہو خواہ وہ ایک ہی ہو یا زیادہ ہوں تواس صورت میں ترکہ یوں تقسیم ہوگا:
نانے یانانی کاحصہ ایک ثلث ہے اوراگر وہ زیادہ ہوں تویہ ان کےدرمیان برابر تقسیم ہوگا خواہ وہ مرد اورعورت کے لحاظ سے مختلف ہی ہوں اور باقی دوثلث دادے یادادی اور پدری بھائی یا بہن کا حصہ ہے اوراگر وہ مرداورعورت کے لحاظ سے مختلف ہوں تو فرق کے ساتھ اوراگر مختلف نہ ہوں تو ان میں برابر تقسیم کیاجائے گا۔
اوراگران دادوں ،نانیوں یا دادیوں ،نانیوں کےساتھ مادری بھائی یا بہن ہوں تو نانا یا نانی کاحصہ مادری بھائی یا بہن کے ساتھ ایک ثلث ہے جوان میں برابر تقسیم ہوتا ہے،اگرچہ وہ مرد وعورت ہونے میں مختلف ہوں اوردادا یا دادی کاحصہ دوتہائی ہے جو ان کے درمیان مرد اور عورت کے اختلاف کی صورت میں فرق کے ساتھ ورنہ برابر تقسیم ہوتاہے۔
ہشتم۔ متفرق بھائی یا بہنوں کے ساتھ دادایادادی ہو تواس صورت میں مادری بھائی یا بہن اگر ایک ہوتواس کے لیے سدس ہے،اوراگر زیادہ ہوں تو ثلث ہے ،اسے ان کے درمیان برابر تقسیم کیاجائے گا۔
اگرپدری بھائی یا بہن ،دادا یادادی کے ساتھ جمع ہوتوباقی مال اس کےلیےہوگاجومرد وعورت کے مختلف ہونے کی صورت میں مرد عورت سے دوگناحصہ پائےگااور اگر سب مرد ہوں یاسب عورتیں ہوں توان میں برابر تقسیم ہوگا،اوراگران کے ساتھ نانا یانانی ہوتو نانا یا نانی کے لیےثلث ہے جو بھائی یابہن کے ساتھ جمع ہو،ان کے درمیان مال برابر تقسیم ہوگا اورباقی پدری بھائی یابہن کےلیےہےان کے درمیاں ایک جیسے ہونے کی صورت میں برابر تقسیم ہوتاہے اور ایک جیسے نہ ہونے کی صورت میں مرد عورت سے دوگناحصہ پائے گا۔
مسئلہ612:بھائی کی اولاد بھائی کے ساتھ کوئی شے ارث نہیں لیتے،پس سگے بھائی کا بیٹابھائی یا بہن کے ساتھ ہوتوارث نہیں پاتاہےاگرچہ وہ باپ کی طرف سے ہو یا فقط ماں کی طرف سے ہو،یہ تزاحم کی صورت میں ہوتاہے اوراگر تزاحم کی صورت نہ ہو جیسے مرنے والانانااورماں کی طرف سے بھائی کا بیٹا اورباپ کی طرف سے بھائی کو چھوڑ جائےتواس صورت میں بھائی کابیٹا ثلث میں نانے کےساتھ شریک ہوگااور بھائی کو دوثلث دیئے جائیں گے۔