تیسرے طبقے کی میراث

| |عدد القراءات : 2
  • Post on Facebook
  • Share on WhatsApp
  • Share on Telegram
  • Twitter
  • Tumblr
  • Share on Pinterest
  • Share on Instagram
  • pdf
  • نسخة للطباعة
  • save

تیسرے طبقے کی میراث

یہ طبقہ چند افراد پر مشتمل ہے:

چچا،پھوپھی،ماموں ،خالہ اور ان کی اولاد ،یعنی باپ یا ماں کے چچا اور پھوپھیاں ،اور ان کی خالائیں یاان سے سلسلہ نیچے چلاجائے جیسے چاچاؤں ،پھوپھیوں ماموؤں اور خالاؤں کی اولاد ،اس میں قاعدہ: قریب تر ،دورتر کےسامنے ر کاوٹ بنتاہے،کی رعایت کی جائے،اور اس طبقہ میں کچھ اور بھی خاص قواعد ہیں:

۱۔والدین کے چاچے اور پھوپھیاں ،فقط باپ کی طرف سے چاچے اور پھوپھیوں کے حاجب ہوتے ہیں ،فقط ماں کی طرف سے چاچے اور پھوپھیوں کے حاجب نہیں ہوتے  ہیں۔

۲۔والدین کے چاچے اور پھوپھیاں،اپنے حصوں کو یوں تقسیم کریں کہ مرد عورت سے دوگنا حصہ پائے،جب کہ ماموں، خالہ کی طرف سے برابر حصہ لیتی ہےاور یہ مسائل وضاحت کےلیے تطبیقی ہیں۔

۳۔جب  ماموں ،خالہ اورچچا، پھوپھی کاعنوان جمع ہوجائے توان کے افراد سے چشم پوشی کرتے ہوئے ،ماموں ،خالہ کے لیے ثلث ہےاورچچا، پھوپھی کےلیے دوثلث ہے ،اس کی تفصیل ان شاء اللہ آئے گی۔

مسئلہ613:چچا،پھوپھی کی طرف کی میراث کی صورتیں:

۱۔میت کاوارث ایک چچا یا ایک پھوپھی میں منحصر ہو پس سارا مال چچااور پھوپھی کے لیے ہے خواہ دونوں میت کے باپ کےساتھ باپ اور ماں میں مشترک ہوں (یعنی والدین کی طرف سے چچا اور پھوپھی)یا فقط باپ میں مشترک ہوں(یعنی باپ کی طرف سے چچااور پھوپھی)یا فقط ماں میں مشترک ہوں(یعنی ماں کی طرف سے چچااور پھوپھی)۔

۲۔ایک شخص مرجائے اور چاچے یا پھوپھیاں چھوڑ جائے،اور سب کےسب باپ کی طرف سے چاچے یا پھوپھیاں ہوں،یا ماں کی طرف سے یا ماں باپ دونوں کی طرف سے ہوں تو ان پر مال برابر تقسیم ہوگا۔

۳۔ایک شخص مرجائے اور چچا اور پھوپھی چھوڑ جائے ،جودونوں پدری ہوں یا دونوں  پدری مادری ہوں تو چچا پھوپھی سے دوگناحصہ پائےگا ،اس میں کوئی فرق نہیں ہے کہ چچا یا پھوپھی ایک ہو یاایک سے زیادہ ہوں۔

۴۔ایک شخص مرجائے اور مادری چاچے اور پھوپھیاں چھوڑ جائے،تواس صورت میں بھی دونوں کو مصالحت کی نصیحت کریں گے،تاکہ ان کے درمیان یوں تقسیم ہو کہ  مردعورت سے دوگنا حصہ پائے گا یا برابر تقسیم ہوگی۔ 

۵۔ایک شخص مرجائے اور چاچے ،پھوپھیاں چھوڑجائے،جن میں سے کچھ پدری مادری ہوں اور کچھ پدری ہوں  اور کچھ مادری ہوں تو پدری چاچے اور پھوپھیاں ارث نہیں پائیں گے،باقی ارث پائیں گے،جب میت کا ایک مادری چچا یا ایک پھوپھی  ہو تواسے سدس مال دیاجائے اور باقی پدری مادری چاچے پھوپھیاں ارث لیں گی،ان میں مرد عورت کادوگنا حصہ پائےگ۔

اورجب میت کا مادری چچاہو اور اس کے ساتھ مادری پھوپھی ہو ،تو ان دونوں کے لیے ثلث مال حصہ ہے ،ان کے درمیان تقسیم میں احتیاط کی رعایت کی جائےجس کی ہم نے ابھی نصیحت کی ہے۔

۶۔ایک شخص مرجائے اور چاچے،پھوپھیاں چھوڑ جائے،جن میں سے کچھ پدری ہوں اور کچھ مادری ہوں تو اس صورت میں باپ کا قریبی ماں باپ کے قریبی کا سابقہ  صورت میں قائم مقام ہوگا۔ 

مسئلہ614:تیسرے طبقے سے مامے اور خالائیں (جیساکہ گزرچکاہے)تو  اکیلا ماموں سارامال پائے گا اور دو ماموں اور ان سے زیادہ کےدرمیان  ترکہ برابر تقسیم کیاجائے گا، اور اکیلی خالہ سارا مال لے گی،یہی حکم ہے جب  دو خالہ اور کئی خالائیں ہوں ،اور جب مرداور عورتیں جمع ہوں جیسے میت کاایک یا زیادہ ماموں ہوں اور ایک  خالہ یازیادہ خالائیں ہوں (خواہ  پدری مادری ہوں یا پدری ہوں یا مادری ہوں)ان کےدرمیان ارث کےمساوی تقسیم ہونے ، یامردعورت سے دوگنا حصہ لینے میں اشکال ہےپس زیادہ میں مصالحت کی بابت احتیاط کوترک نہ کیاجائے،اور جب ان میں سے پدری قریبی اور مادری قریبی اور پدری مادری قریبی جمع ہوجائیں تو پدری قریبی کے سقوط (یعنی وہ ماموں جو میت کی ماں کے ساتھ فقط باپ میں متحد ہو )اور ارث کے باقیوں میں منحصر ہونے میں اشکال ہےپس مصالحت کےذریعہ سے  احتیاط کو ترک نہ کیاجائے،بہرحال مرد اورعورت کے مختلف ہونے میں گزشتہ  اشکال جاری ہوگاکہ تقسیم مساوی ہو یا مردعورت سے دوگناہ حصہ پائے،پس  مصالحت کےذریعہ سے احتیاط کو ترک نہ کیاجا ئے۔

مسئلہ615:جب چاچے ،پھوپھیاں ، ایک ہوں یازیادہ ہوں، ایک یازیادہ مامؤوں اور خالاؤں کے ساتھ جمع ہوں تو ترکہ تین حصوں میں تقسیم کیاجائے گا،ایک حصہ ماموں،خالہ کےلیے اوردوحصے چچا،ماموں کےلیے ہے اورجب میت کے چاچے اور مامے نہ ہوں توان کی ذریت ان کی قائم مقام ہوگی ،جیساکہ ہم نے بھائیوں کے بارے  میں ذکر کیاہے۔

مسئلہ616:جب میت کے ورثاء اس کے باپ کے چاچے اور پھوپھیاں اور ماموں اور خالائیں ہوں،اس کی ماں کے چاچے ،پھوپھیاں،ماموں،خالائیں ہوں تو ماں کے قریبی لوگوں کو ثلث مال دیاجائے گااور ان میں مساوی تقسیم ہوگی ، مردکے عورت سےدوگنا حصہ پانے میں اشکال ہےپس مصالحت کےذریعہ سے احتیاط کو ترک نہ کیاجا ئے۔

اور باقی ثلث باپ کے ماموں اوراس کی خالہ کو دیاجائےاور ان کے درمیان مساوی تقسیم کی جائےگی،اور باقی ماندہ باپ کے چچا اور اس کی پھوپھی کےلیےہے اور ان کے درمیان مساوی تقسیم یا مردکے عورت سے دوگنا حصہ پانے میں اشکال ہے ،پس مصالحت کےذریعہ سے احتیاط کو ترک نہ کیاجا ئے۔

اوراگر میت کے ان رشتہ داروں میں سے کوئی نہ ہو تو ارث ان کی ذریت کے لیے ہوگی ،اوراس میں اقرب فالاقرب کی رعایت کی جائے گی۔

بہترہےکہ اس مورد اور دیگر سارے مواردمیں حاکم شرع کی طرف رجوع  کیا جائے ،جن میں ہم نےہر وارث کے استحقاق میں احتیاط بتائی ہے۔