وضومیں خلل کے احکام

| |عدد القراءات : 3
  • Post on Facebook
  • Share on WhatsApp
  • Share on Telegram
  • Twitter
  • Tumblr
  • Share on Pinterest
  • Share on Instagram
  • pdf
  • نسخة للطباعة
  • save

وضومیں خلل کے احکام

مسئلہ28:جس کو حدث کایقین اور وضو میں شک ہو،وہ وضو کرئے،جیسے کسی کو علم ہو کہ اس نے وضو نہیں کیاہےاور شک ہوکہ وضو کیاہے یاوضو نہیں کیا ہے؟

مسئلہ29:جب اثنائے نماز میں یا ایسے عمل میں جس کےلیے وضومعتبر ہوتاہے ،وضو میں شک ہوجائے،تو اس نماز یا عمل کو توڑ دے اور وضو کرکے نئے سرہ سے نماز  پڑھے یااس عمل کو انجام دے۔

مسئلہ30:جب کسی کو یقین ہوکہ اُس نےوضوکے عضو کو دھونے یا مسح کرنے میں خلل ڈالاہے،اسے بجالائے،اور پھر اس کے بعد والے اعضاء کو ترتیب وار بجالائے ،پس ترتیب و موالات اور دوسری سب شرائط کی رعایت کرئے،اسی  طرح اگر کوئی شخص افعال وضو میں سے کسی فعل کی بابت وضو سے فارغ ہونے سے پہلے شک کرئے تو اسے بجالائے اور اگر وضوسے فارغ ہونے کے بعد شک کرئے تو اُس شک کی طرف توجہ  نہ کرئے۔

مسئلہ31:جب وضوسے فارغ ہونے کے بعد یقین ہوکہ میں نے کسی جزء کوترک کردیاہے اور معلوم نہ ہو کہ وہ واجب جزء ہے یامستحب جزء ہے تو ظاہر اً  حکم لگائے کہ اس کا وضو صحیح ہے۔