تیمم کےجوازکاپہلا سبب
تیمم کےجوازکاپہلا سبب ۔
پانی کاموجود نہ ہونا،جس سے وضویاغسل کیاجاسکتاہو ،یاجو ان دونوں میں استعمال کی صلاحیت رکھتاہو،اور یہ درج ذیل حالتوں میں سے ایک حالت کے ضمن میں متحقق ہوتاہے:
حالت اول۔مکلف اپنے گھر میں پانی نہ پائےاور نہ ہی کسی دوسرے مقام میں پانی پائے جو اس کی پہنچ میں ہو ۔
حالت دوم۔اس علاقے کے بعض نقاط میں پانی موجود ہولیکن اس تک پہنچنے میں شدید مشقت اور حرج کاسامناکرناپڑے۔
حالت سوم۔اس کے علاقے میں پانی موجود ہو،لیکن وہ کسی اور کی ملکیت ہو،جو اس میں تصرف کااذن نہ دیتاہو،مگر وہ پانی کی قیمت مانگتاہو جس کاادا کرنا بندے کے بس میں نہیں ہو،یااس پانی تک پہنچنے میں حرام کاارتکاب ہوتاہو۔
مسئلہ108:زمین کی وہ مساحت ،جس میں مکلف پر پانی کاتلاش کرنا واجب ہے،شرعاً طول وعرض میں معین حدود نہیں رکھتی ہے ،پانی کی تلاش کے وجوب میں مساحت کی کمی و بیشی کےلحاظ سے معیار،یہ ہے کہ اس سے عسروحرج یا جسمانی ضرر و خطر لازم نہ آئے۔
مسئلہ109:جب کوئی شخص پانی تلاش کیے بغیر اس امید پر کہ پانی ملنے والا نہیں ہے تیمم کرلے اور حقیقت میں بھی پانی نہ ملے تو اس کا تیمم صحیح ہوگا ۔
مسئلہ110:جب مکلف کو علم ہویااسے اطمینان ہو کہ حد مذکور سے خارج میں پانی موجود ہے ،تواس پر کوشش کرناواجب ہے ،اگرچہ دور ہی کیوں نہ ہو،مگریہ کہ اس کے لیے کوشش کرنا حرج کاباعث ہویا اس میں بہت زیادہ مشقت کا سامنا کرنا پڑتا ہو۔
مسئلہ111:پانی موجود نہ ہو اور نماز کاوقت تنگ ہو توپانی کی تلاش کاوجوب ساقط ہوجاتاہے،اور اگر اسے اپنی جان یامال کی بابت خوف ہو،چوری یادرندے وغیرہ کاڈر ہو،تو اس سے پانی کی تلاش ساقط ہوجاتی ہے، اگرپانی کی تلاش میں ناقابل برداشت مشقت اور حرج ہوتو اس پر پانی کی تلاش کرنا ساقط ہے۔
مسئلہ112:جب مکلف پانی تلاش کرئے اور اسے میسر نہ ہو اور تیمم کرکے نماز پڑھ لے ،پھر معلوم ہوجائے کہ جہاں پانی تلاش کرتارہاہوں وہاں پانی موجود تھا تو اس صورت میں وقت ہوتو نماز کااعادہ کرنا واجب ہے۔
ہاں،نماز کاوقت گزر گیاہوتو اس پرقضاء بجالانا واجب نہیں ہے۔