تیمم کاطریقہ

| |عدد القراءات : 2
  • Post on Facebook
  • Share on WhatsApp
  • Share on Telegram
  • Twitter
  • Tumblr
  • Share on Pinterest
  • Share on Instagram
  • pdf
  • نسخة للطباعة
  • save

تیمم کاطریقہ  

  دونوں ہاتھوں کی باطنی ہتھیلیوں کو زمین پر مارے،اور احتیاط واجب کی بناپر اسے ایک ہی دفعہ مارے،یعنی اگر متعدد بار ہاتھ زمین پر مارے گاتو احتیاط کی بناء پر  تیمم باطل ہوجائے گا،پھر دونوں ہتھیلیوں سے ساری پیشانی کا مسح کرئے،پیشانی بالوں کےاگنے سے پٹپٹی تک ہےاور وہاں سے ہتھیلیوں کوکھینچ کر ناک کی نوک تک لےآئے،احوط ہےکہ پٹپٹیوں کو بھی مسح کرئے،پھر دائیں ہاتھ کے سارے ظاہری حصے کوکلائی سے انگلیوں کے سروں تک بائیں ہاتھ کے باطن سے مسح کرئے، پھر بائیں ہاتھ کےسارے ظاہری حصے کوکلائی سے انگلیوں کے سروں تک دائیں ہاتھ کے باطن سے مسح کرئے ۔

مسئلہ118:دونوں ہتھیلیوں میں سے ہرایک کے تمام حصے سے مسح کرنا واجب نہیں ہے،بلکہ بعض سےہی کافی ہےجس سے پیشانی اور پٹپٹیوں کومسح شامل ہو جائے ،یہاں مہم مسح والی جگہ ہے ،مسح کرنے والانہیں ہے۔

مسئلہ119:مسح کرنےوالےمیں ،ہتھیلی کے باطن اور انگلیوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے،خواہ مسح کیے جانے والی جگہ چہرہ ہو یا ہاتھ ہو۔

مسئلہ120:پیشانی  سے مراد ،چہرےکااوپروالاحصہ ہے اور پٹپٹی سے مراد قلموں کی بالوں کے اگنے کی طرف والی جگہ ہے۔

مسئلہ121:دونوں ہاتھوں کوزمین پر رکھنا جس سے ان کازمین پر مارنا صادق نہ آئے،درست نہیں ہے،اور دوہاتھوں میں سے ایک کازمین پر مارنا بھی درست نہیں ہے،دونوں ہاتھوں کایکےبعد دیگرے زمین پرمارنا درست نہیں ہے،جزئیت کی نیت سے ہاتھوں کو باربار زمین پر مارنابھی درست نہیں ہے۔

 ہاں! اگر ایسانادانی یا فراموشی کی وجہ سے ہوجائےتوکوئی حرج نہیں ہے،دونوں ہاتھوں کے ظاہر کوزمین پرمارنادرست نہیں ہے،دونوں ہاتھوں کے معتدبہ حصہ کوترک کرکے  بعض حصہ کےباطن کو زمین پر مارنادرست نہیں ہےاگرچہ ایک انگلی کے برابر ہی کیوں نہ ہو،دو  ہتھیلیوں میں سے ایک کامسح کرنا  اور دوسرے کو چہرے اور ہاتھوں کےلیےترک کرنادرست نہیں ہے،اور نہ ہی چہرے کو آگے پیچھےکرکے دونوں ہاتھوں سے مسح کرنادرست ہے۔