تیمم کےجوازکادوسرا سبب

| |عدد القراءات : 2
  • Post on Facebook
  • Share on WhatsApp
  • Share on Telegram
  • Twitter
  • Tumblr
  • Share on Pinterest
  • Share on Instagram
  • pdf
  • نسخة للطباعة
  • save

تیمم کےجوازکادوسرا سبب ۔

 مکلف  کےپاس پانی  ہولیکن وہ پانی کے استعمال کی قدرت نہ رکھتا ہو، اور یہ درج ذیل حالتوں میں سے ایک حالت کے ضمن میں متحقق ہوتاہے:

حالت اول۔پانی کے استعمال سے ضرر کاخوف ہو،بیمار ہوجائےگا،یابیماری بڑھ جائےگی،یابیماری لمبی ہوجائے گی،یاجان اور بدن پر مرض کاخوف ہو،یہی حکم شدید سردی کاہے جو پانی کے استعمال سے مانع ہو۔

حالت دوم۔اپنی جان پر یا کسی دوسرے کی جان پر پیاس کاخوف ہو ،جس کی حفاظت کرنااس پر واجب ہے،یا جانور کی جان پر پیاس کاخوف ہو ،جس کی حفاظت  اور اہتمام کرنا مکلف کی ذمہ داری ہے۔

حالت سوم۔اس کا بدن یالباس نجس ہو ،اوراس کے پاس اتناپانی ہوجس سے وہ نجاست کودور کرسکتاہویا وضو کرسکتاہو۔

حالت چہارم۔نماز کا وقت اتنا تنگ ہو کہ وہ وضوکرکے نماز ادانہیں کرسکتا،اس صورت میں وہ تیمم کرکے پوری نماز وقت میں اداکرئے۔

حالت پنجم۔وہ شخص کسی دوسرے واجب کامکلف ہو، جو اہم ہے اوراس میں پانی کا صرف کرنا معین ہو ،کیونکہ پانی کے علاؤہ کوئی اورشے اس اہم واجب کی قائم مقام نہیں بن سکتی،مثل مسجد نجس ہے اور اسے پاک پانی ہی سے کیا جاسکتاہے۔

مسئلہ113:جب مکلف عمداً مخالفت کرکے ایسے مورد میں وضو کرلے،جس میں وضوکرنا حرجی ہو ،جیسے شدید سردی میں وضو کرئے تواس کاوضوصحیح ہوگا،اور اگر ایسے مورد میں وضو کرئے جس میں وضو کرنا حرام ہو تواس کاوضو باطل ہوگا،جیسے اس کا ضرر بہت زیادہ ہو اوریہ وہ ضرر ہے جس میں مکلف کے لیے حرام ہے کہ خود کو اس ضرر میں ڈالے۔