تیمم کے احکام

| |عدد القراءات : 2
  • Post on Facebook
  • Share on WhatsApp
  • Share on Telegram
  • Twitter
  • Tumblr
  • Share on Pinterest
  • Share on Instagram
  • pdf
  • نسخة للطباعة
  • save

تیمم کے احکام

مسئلہ125:جب اثنائے عمل میں پانی مل جائےجو طہارت پرموقوف ہو ،جیسے نماز تو اس کاعمل باطل ہوجاتاہے،بنابراس کے پانی سے وضویاغسل کرکے نماز کا وقت  ہوتو اسے پڑھے ،اوراگرنماز کاوقت تنگ ہوتو تیمم والی نماز کوجاری رکھے اور مکمل کرئے۔

 مسئلہ126:حدث اکبر والا شخص غسل کے بدلے میں تیمم کرتاہےاور یہ مطلق طور پر وضوسے مجزی وکافی رہتاہےجیسے اس نےخود  غسل کرلیاہے۔

پس اگر اسے حدث اصغر ہوجائے اور وہ وضوکرنے سے معذور ہو توتیمم کیا جائے اور اگر معذور نہ ہوتووضوکیاجائے،غسل کےبدل میں کیاہواتیمم باطل نہیں ہوتا مگر حدث اکبر سے باطل ہوجاتاہے۔

مسئلہ127:تیمم،ہراُس عمل کےلیےمشروع ہے ،جس کے بجالانےمیں طہارت   شرط ہے،واجبات و مستحبات سے،نماز وغیرہ سے۔

مسئلہ128:تیمم پانی پرقدرت حاصل ہونے سے ٹوٹ جاتاہے،جب کافی وقت میں کافی پانی مل جائے توتیمم باطل ہوجاتا ہے تاکہ پانی سے طہارت انجام دے ،بشرطیکہ پانی کے استعمال سے مانع موجودنہ ہو۔