خون نفاس
خون نفاس
خون نفاس،جورحم سے بچے کی پیدائش کے ساتھ یا اس کی پیدائش کے بعد خارج ہوتاہےاور معلوم ہوتاہے کہ یہ خون زچگی کی وجہ سے ہے،اس کے کم ازکم ہونے کی حد معین نہیں ہے البتہ زیادہ سے زیادہ دس دن آتا ہے،اگر عورت اس خون کو بچے کی پیدائش کے چوتھے دن دیکھےتو اس کی حد اکثر یہ ہے کہ چودویں دن سے تجاوز نہ کرئےاور اگر اس خون کو بچے کی پیدائش کے دس دن بعد دیکھے تو نفاس نہیں ہوگا،اگر دس دنوں میں خون نہ دیکھے تو اس کے لیے اصلاً نفاس نہیں ہوگا،اکثر کے حساب کی ابتداء پیدائش کےمکمل ہونے کے وقت سے شروع ہوتی ہے،پیدائش میں شروع ہونے کے وقت سے نہیں ،اگرچہ اس پر احکام کاجریان شروع کے وقت سے ہوتا ہے ،دونفاس کے درمیان اقل طُہر کافاصلہ معتبر نہیں ہے،بلکہ دونفاس کے درمیان اصلاً فاصلہ معتبر نہیں ہے۔
مسئلہ69:ظاہرہے،سقط حمل کے وقت نکلنے والاخون،اگرچہ سقط کے وجوہات واضح نہ ہوں تو خون نفاس کو معتبر سمجھا جائے گا،اور اس عورت پر نفاس والے احکام جاری ہوں گے،تروک احکام نفاس اور افعال استحاضہ کے درمیان جمع میں احتیاط حسن ہے۔
مسئلہ 70:نفاس والی عورت کی تین قسمیں ہیں:
اول۔جس عورت کاخون دس دن سے تجاوز نہ کرئے،اس صورت میں سارا خون نفاس ہوگا۔
دوم۔جس عورت کاخون دس دن سے تجاوز کرجائےاوروہ حیض میں صاحب عادت عددیہ ہو،دس دن سے تجاوز سے مراد یہ ہے کہ اس عورت کاخون ،خون دیکھنے کے وقت سے قراردیاجائے،نہ کہ پیدائش سے شروع کیاجائے،جیساکہ ہم نے اسے پہلے بیان کردیاہے،اس صورت میں اس کانفاس اس کی عادت کی مقدار ہوتا ہے اور باقی استحاضہ ہوتاہے ،اس کے لیے احتیاط واجب ہے کہ جمع کےذریعہ سے احتیاط کرئے،یعنی عادت سے دس دن تک زائد مدت کے دوران جمع کرئے۔
سوم۔جس عورت کاخون دس دن سے تجاوز کرجائے،اور وہ عورت حیض میں صاحب عادت نہ ہو،خواہ مضطربہ ہویامبتدئہ ہو ،وہ اپنی قریبیوں کی عادت کی مقدار کو نفاس قراردے اور باقی کواستحاضہ قراردےاور احتیاط کوترک نہ کرئےیعنی عادت اور دس کے درمیان احتیاطاً جمع کرئے ،بشرطیکہ اُن کی عادت دس دن سے کم کی ہو۔
مسئلہ71:نفاس والی خواتین ،خون کے استظہارکے ذریعہ حیض والی عورت کے حکم میں ہوتی ہے ،جب اس کاخون ایام عادت سےتجاوز کرجائے۔
اور جب خون بند ہوجائے توچھان بین سے اپنی پوزیشن کو سمجھنا لازم ہے،وہ روزے کی قضاء بجالائے اور نماز کی قضاء کابجالانااس کے ذمہ میں نہیں ہے،اس کے ساتھ جماع کرنا حرام ہے،اسے طلاق دینا درست نہیں ہے،احتیاط واجب ہے کہ نفاس والی عورت کے لیےواجبات و محرمات و مستحبات اور مکروہات وہی امور ہیں جو حیض والی عورت کےلیے ہیں۔