احکام حیض
احکام حیض
مسئلہ57:حیض والی عورت پر ،اُن تمام عبادات کاانجام دیناحرام ہے،جس میں طہارت شرط ہے،مثلاً نماز،روزہ،طواف ،اعتکاف۔
اقوی ہےکہ یہ حرمت تشریعیہ ہے، حرمت ذاتیہ نہیں ہے،یہ حرمت مثل شراب کی حرمت کے نہیں ہے،جو مخالفت کی صورت میں گناہ کاموجب بنتی ہے ،اس سے ہماری مراد اس کی مشروعیت کانہ ہوناہے۔
اُس پر تمام وہ چیزیں حرام ہیں جو جنب والے شخص پر حرام ہوتی ہیں،جیسے قرآن مجید کی کتابت کو مس کرنا،اور سجدہ والی سورتوں کی قرائت کرنا،مسجد نبوی اور مسجد حرام سے گزرنااور دوسری مساجد میں ٹھہرنا،ان کی حرمت ذاتی ہے تشریعی نہیں ہے۔
مسئلہ58:حیض کی حالت میں عورت کی شرمگاہ میں ،مباشرت کرنااُس پر اور (فاعل)یعنی کرنے والےپر حرام ہے ، بلکہ کہاگیاہےکہ یہ کبیرہ گناہ ہے،بلکہ احتیاط واجب ہےکہ عضو تناسل کا کچھ حصہ بھی اندر داخل نہ کیاجائے،جسے عرف جماع کہے،وطی فی الدبر(پچھلی طرف میں مباشرت)احتیاط واجب ہےکہ وطی فی الدبر نہ کی جائے۔
مسئلہ59:حیض والی ایسی عورت کوطلاق دینا،ظہارکرنا صحیح نہیں ہے، جس کے ساتھ مباشرت ہوچکی ہو ،اگرچہ وطی فی الدبر کی ہوئی ہو،اور حاملہ عورت کو طلاق دینا درست نہیں ہے، جس کا شوہر حاضر ہو یا اس کی دسترس میں ہو ۔
مسئلہ60:حیض کے ختم ہوجانے کے بعد غسل کرنا واجب ہے، بلکہ ہراُس کام کےلیے جو حدث اکبرکی صورت میں طہارت کے ساتھ مشروط ہے،یہ مشروع ہے تاکہ طہارت پررہاجائے ،جسے قربت مطلق کی نیت سے انجام دیاجاتاہے،یہ غسل جنابت کی مثل ہے جو ترتیبی اورارتماسی طریقہ سے انجام دیا جاتاہے،اس کے بعد نماز وغیرہ کےلیےوضو کی ضرورت نہیں ہے۔
مسئلہ61:ماہ رمضان کے جو روزے حیض کی حالت میں قضاء کیے ہیں ،اُن کو اداکرناواجب ہے،بلکہ وہ نذری روزے جو معین وقت میں رکھنے تھے اوروہ اس وقت حیض کی حالت میں تھی ،قضاء ہوئےروزوں کو اداکرئے،اُس پر حیض کے دوران قضاء ہونے والی یومیہ نمازوں اور نمازآیات کی قضاء واجب نہیں ہے۔