استحاضہ کی اقسام اور اس کے احکام
استحاضہ کی اقسام اور اس کے احکام
اس کی تین قسمیں ہیں،قلیلہ و متوسطہ اور کثیرہ۔
قلیلہ،جس میں خون کم آتاہے جو روئی کے اندر داخل نہیں ہوتاہے۔
متوسطہ،جس میں خون قلیلہ سے زیادہ آتاہے جو روئی کے اندر داخل ہو جاتا ہے لیکن روئی کی دوسری طرف سے خارج نہیں ہوتا۔
کثیرہ،جس میں خون متوسطہ سے زیادہ آتاہے جو روئی کے اندر داخل ہوکر دوسری طرف سے خارج ہوجاتاہے۔
مسئلہ62:احتیاط واجب یہ ہےکہ ایسی عورت کو نماز کےلیے اختیار ہے ،خون نکلنے کے مقام میں روئی داخل کرئےاور کچھ دیر انتظار کرئےپھر روئی نکال کردیکھے اوراس میں سابقہ اوصاف میں سے کسی ایک کو پائےتو اُس پر بناء رکھے ،اگراس اختیار کوعمداً یاسہواً ترک کردے اور عمل بجالائے،اوراس کاعمل لازم وظیفہ کے مطابق ہویااس سے زائد ہو،اور اس نے عمل کوقربۃ ً الی اللہ تعالی کی نیت سے انجام دیاہوتوصحیح ہے ورنہ اس کاعمل باطل ہوگا۔
مسئلہ63:استحاضہ قلیلہ کاحکم:
روئی یاپٹی تبدیل کرئےیااسے پاک کرئے ، اور خون والی جگہ نجس ہونے کی صورت میں پاک کرئے،ہر نماز کےلیے وضو کرنا واجب ہے، نماز فرض ہویا نافلہ ہو، نماز کے بھولے ہوئے اجزاء،نمازاحتیاط ،نماز کے ساتھ ہی اداکئے جانے والے سجدہ سہو کے لیے دوبارہ سے وضوکرناواجب نہیں ہے ،(بلکہ اسی وضو سے انہیں اداکرسکتی ہے)۔
مسئلہ64:استحاضہ متوسطہ کا حکم:
استحاضہ قلیلہ والے احکام کے علاؤہ،یعنی پٹی تبدیل کرنے اور خون والی نجس جگہ کو پاک کرنے اور ہر نماز کےلیے وضو کرنے کے علاؤہ ،دن میں ایک غسل کرئے،جس کا وقت پہلی فرض نماز کے وضو سے پہلےکاہے،جس سے قبل حدث حاصل ہواہو،اور بعد والی راتوں میں نماز صبح کے وضوسےقبل غسل کرئےپس مستحاضہ متوسطہ پر نماز فجرسے قبل نمازکےلیےغسل کرنا واجب ہے ،پھر وضوکرکے نماز فجر اداکرئے،اگر کسی وجہ سے نماز فجر کے لیے غسل نہ کرسکے تونمازظہرین کےلیے غسل کرئے۔
اس صورت میں نماز صبح کااعادہ کرئےیعنی دوبارہ پڑھے،جب کسی عورت کو نمازفجر کے بعد استحاضہ متوسطہ آجائے تواُس پر واجب ہےکہ غسل اور وضو کرکے نماز ظہرین ادا کرئےاور اگر کسی عورت کو نماز ظہر کے بعد استحاضہ متوسطہ آجائےتو غسل اور وضوکرکےنماز عصر ادا کرئے ،یہ پہلے دن کےلیے ہے،لیکن بعد والے دنوں کےلیےنماز فجرکے وضوسے پہلے غسل کرئے،اوراگر نماز کےدوران حدث ہوجائے یعنی خون استحاضہ آجائے تو واجب ہےکہ غسل اور وضوکےبعد نماز دوبارہ سے پڑھے۔
غسل کرنالازم ہوتویہ وضوسے بےنیاز نہیں کرتاہے،اگر حدث کےختم ہونے پر غسل کرئے تو وہ وضو سے بےنیاز کردےگایعنی اب اس کے بعد خون خارج نہ ہو یا وہ خون شرمگاہ کے باطن کی طرف اُترجائے۔
مسئلہ65:استحاضہ کثیرہ کاحکم:
گزشتہ احکام متوسطہ والے پرعمل کے علاؤہ دواور غسل بھی ہیں ،ایک ظہرین کی نماز کےلیےاور دوسرا مغربین کی نماز کےلیے،جب دو نمازیں اکٹھی اداکرئے ، دو یومیہ فرض نمازوں سے زیادہ ایک غسل سے ادا نہیں کر سکتا ۔
مسئلہ66:جب استحاضہ کثیرہ نماز فجر کے بعد آجائےتو ایک غسل نمازظہرین کےلیے اور دوسراغسل نمازمغربین کے لیے کرئے،اور جب استحاضہ کثیرہ نماز ظہرین کے بعد میں آجائے تونماز مغربین کےلیے غسل کرناواجب ہے،جب استحاضہ کثیرہ نماز ظہرین یانماز مغربین کے درمیان میں آجائے تواُن دونوں میں سے بعد والی نماز کے لیے رجائے مطلوبیت یااحتیاط کی نیت سے غسل واجب ہوگا،اور ساتھ وضوبھی کرناہوگا۔
مسئلہ67:مستحاضہ پر واجب ہے کہ خون کے نکلنےسے حفاظتی اقدام کرئے یعنی شرمگاہ پر زیادہ سی روئی رکھے اور کپڑے سے سخت کرکے باندھے،یعنی جتنا کرسکتی ہو کرئے اور اگر وہ ایساکرنےسے قاصر ہوتو نماز کااعادہ کرئے۔
مسئلہ68:ظاہرہے،مستحاضہ کے روزے کی صحت ،استحاضہ کثیرہ میں دن والے اغسال کے بجالانے پر موقوف ہے ،حتی کہ مغربین کا غسل ،اُس رات میں جو روزے کےدن سے پہلے احتیاط واجب کی بناء پر کیاجاتاہے،لیکن اگلی رات کا غسل ، اس کی شرط استحبابی ہے۔
استحاضہ متوسطہ، اس کے روزے کی صحت فجر کے غسل پر احتیاط واجب کی بناء پر موقوف ہے،جب مستحاضہ کثیرہ غسل کرلے تو اس کاشوہر اس سے مباشرت کر سکتا ہے،مساجد میں داخل ہونا ،سجدے والی سورتوں کاپڑھنا اور قرآن مجید کی کتابت کو مس کرنامستحاضہ کے لیے مطلق طورپرجائزہے،اگرچہ اولی ٰ اور بہتر یہ ہے کہ وہ جونسی مستحاضہ ہے اپنے وظیفہ کو اداکرنے کےبعد ،ان امور کوانجام دے۔