حیض کے زمان کی تعیین
جس خون کو بچی نوسال قمری مکمل ہونے سے پہلے دیکھے ،اگرچہ ایک لمحہ کے لیے ہو ،اس پر حیض کے احکام مترتب نہیں ہوتے،بسااوقات اس کے لیے خون کا دیکھنا ،اس بات کااطمینان دلاتاہےکہ یہ بچی نوسال کی ہوگئی ہے،کیونکہ یہ اصول ہےکہ بچی نوسال مکمل کرنے کے بعد ہی خون حیض دیکھتی ہے۔
جب عورت یائسہ کی عمر(جس وقت اس کا خون حیض آنا بند ہوجاتاہے) کو پہنچ جائے،اور خون دیکھ لے تووہ خون حیض نہیں ہوگا،مگر جب اسے یائسہ کی عمر تک پہنچنے کاعلم نہ ہو،جیسے اسے اپنی عمر دقیق طور پر معلوم نہ ہو،تواسے حیض قراردے گی،یائسہ کی عمر کی حدبندی نہیں کی گئی ہے،یہ تبدیل ہوتی رہتی ہے اور یہ چند عوامل اوراسباب کی وجہ سے ہوتاہے،جیسے کوئی عورت گرم علاقے میں رہتی ہو یا ٹھنڈے علاقے میں رہتی ہو یا معتدل موسم والے علاقے میں رہتی ہو، اور اجنبی مشقوں کی تمرین کرتی ہو ،لیکن یائسہ کے سن کےلیے طبیعی عمر پچاس اور ساٹھ سال کے درمیان ہے ،خواہ عورت قریشی خاندان سے ہو یاکسی اور خاندان سے ہو۔
یائسہ کے سن کو نفسی اور جسمانی علامات سے بھی جانا جاسکتاہے، اور جب یائسہ کی عمر کاعلم ثابت نہ ہوسکے اور وہ ساٹھ سال سے پہلے خون دیکھے،تووہ خون حیض ہوگا،جب وہ ایسی خاتون کی طرح ہو جو ایام عادت میں خون دیکھتی ہے،اور جب ساٹھ سال کی عمر مکمل ہونے کے بعد خون دیکھے تو وہ خون حیض نہیں ہوگا۔
مسئلہ45:اکثروبیشتر حاملہ عورت کو ماہواری نہیں آتی ہےکیونکہ حمل کے دوران خون کاسبب پیدا نہیں ہوتاہے،لیکن کبھی شاذونادر ایسی خاتون کو حیض کا خون آجاتاہے،خواہ ظہور حمل سے قبل ہو یا بعد میں ہو،پس جب حاملہ عورت خون دیکھےاوراسے اس کے خون حیض ہونے کاوثوق اور اطمینان ہو تو اسے خون حیض قراردے ۔
اگر اسے اس کے خون حیض ہونے کاوثوق و اطمینان نہ ہو اور وہ خون عادت کے ایام میں یا عادت کے ایام کے ایک دودن قریب میں آیاہواور اس میں خون حیض والی صفات موجود ہوں تو اسے خون حیض ہی قراردے۔
اگر وہ خون عادت کے ایام میں نہیں آئے اور اس میں خون حیض والی صفات موجود نہیں ہوں تو اسے استحاضہ کاخون قراردے۔
اگروہ خون عادت کے ایام میں آئےلیکن اس میں خون حیض والی صفات موجود نہ ہوں یااس میں خون حیض والی صفات ہوں لیکن عادت والے ایام میں نہیں ہو تواس پر احتیاط کرنالازم ہوگی،یعنی حیض والی عورت جن چیزوں کو ترک کرتی ہے ،یہ اُن چیزوں کو ترک کرئے اور استحاضہ والی عورت جن اعمال کو بجالاتی ہے ،اُن اعمال کو بجابھی لائے۔