ایک ماہ میں دوخون کے درمیان طُہر کا تخلل

| |عدد القراءات : 2
  • Post on Facebook
  • Share on WhatsApp
  • Share on Telegram
  • Twitter
  • Tumblr
  • Share on Pinterest
  • Share on Instagram
  • pdf
  • نسخة للطباعة
  • save

ایک ماہ میں دوخون کے درمیان طُہر کا تخلل

جس خون کو عورت اپنی عادت کے دنوں میں دیکھتی ہے،وہ حیض ہے اگرچہ اس خون میں خون حیض والی صفات نہیں ہوں،اور جس خون کو عورت اپنی عادت کے علاؤہ دوسرے دنوں میں دیکھتی ہےاور اُس میں خون حیض والی صفات موجود نہیں ہوتی ہیں،وہ خون استحاضہ ہوتاہے،بشرطیکہ اسے علم ہوکہ اسے عادت ،عادت ہی کے وقت میں حاصل ہوتی ہے،اگرچہ عادت معجل ہو یاعرفاً متاخر ہو،اور اگر اسے صورت حال کاعلم نہ ہو،اور جان لےکہ یہ خون ماہواری کے حصے کا ہے ،تواسے حیض کاخون قراردے،بغیر صفات کے اعتبار کے اور بغیر ان دونوں قسم کے علم کے، بناء بر  اظہر قول کے، صفات کے مطابق عمل کرئے گی۔

مسئلہ49:جب عورت تین دن خون دیکھےاور وہ خون منقطع ہوجائے،پھر اور تین دن  یااس سے زیادہ خون دیکھے،اگر نقاء(بدون خون کازمانہ)اور دونوں خون دس دن سے زیادہ نہ ہوں،اور دونوں خون اس کی عادت میں ہوں،یا حیض کی صفات کےہوں، تو کل  متخلل نقاء کے ساتھ ،ایک حیض شمار ہوگا،اور اگر مجموع خون دس دن سے تجاوز کرجائےلیکن دونوں کے درمیان اقل طہر کافاصلہ نہ ہو،پس جب دومیں سے ایک عرفاً عادت میں ہو اور دوسراعادت میں نہ ہو،توجوعادت میں ہے وہ حیض ہوگااور دوسرا مطلق طور پرنفاس ہوگا۔

لیکن اگر اُن دونوں میں سے کوئی شے عادت کے ساتھ مصادف نہ ہو ،اگرچہ اس لیے کہ وہ ذات عادت نہیں ہے،اب اگر اُن دوخونوں میں سے ایک میں حیض والی صفات ہوں اور دوسرے میں حیض والی صفات نہ ہو،توجس میں حیض والی صفات ہوں وہ حیض ہوگا اور جس میں حیض والی صفات نہ ہوں وہ استحاضہ ہوگا،جب تک اسے علم نہ ہو کہ یہ استحاضہ ہے اور جب اطمینان ہو کہ خون اُس کی عادت کے قریبی وقت میں آیاہےتواسے خون حیض قراردے گی۔

مسئلہ50:جب دونوں خون میں حیض والی صفات ہوں،یا حیض والی صفات نہ ہوں،اگراسے علم ہوکہ اسے مستقبل میں عادت حاصل ہوگی،تو وہ مستحاضہ کے حکم میں ہوگی،اور اگر اسے علم ہو کہ یہ خون اس کے ماہ کے حصہ سے ہے تو پہلاخون حیض ہوگا اور دوسرے خون کی بابت احتیاط کرئےاور اگر اسے دونوں علم حاصل نہ ہوں تو خون کی صفات کے مطابق عمل کرئےگی،اوراگر دونوں خون میں حیض والی صفات پائی جاتی ہوں تو وہ پہلےخون کے شروع سے دسویں دن کی انتہاء تک  حیض ہی  میں ہوگی،اور دونوں خون میں حیض والی صفات موجود نہ ہوں تو وہ مستحاضہ ہوگی ،اور اولی یہ ہے کہ حائض کے تروک اور مستحاضہ کے اعمال کے درمیان جمع کرئے۔

مسئلہ51:جب دوخون کے درمیان اقل طہر سے زیادہ کا فاصلہ ہو،تو دونوں خون مستقل حیض ہوں گے،جب دونوں خون عادت میں ہوں یا اُن میں  خون حیض والی صفات موجود ہوں یا وہ جانتی ہو کہ یہ خون اس کی ماہواری کاحصہ ہے،اور اس کے بغیر وہ مستحاضہ ہوگی۔