ذات عادت
ذات عادت
عورتوں کی عادت کی طبعیت مختلف ہوتی ہے،کچھ کی عادت کاعدد ثابت ہوتاہے،مثلاً چھ دن ،لیکن وقت مقرر نہیں ہوتاہے،اسے عادت عددیہ کہتے ہیں،کچھ کی عادت کاوقت مقررہوتاہے ،جیسے قمری ماہ کی پانچ ،لیکن مدت معین نہیں ہوتی ہے ،اسے عادت وقتیہ کہتے ہیں۔
کچھ کی عادت کاعدد اور وقت دونوں معین ہوتے ہیں ،اسے عادت وقتیہ عددیہ کہتے ہیں،عورت خود جانتی ہے کہ وہ کس قسم سے ہےیعنی جب وہ ایک ہی روش سے دو دفعہ خون حیض دیکھتی ہے اور اس عادت کے مطابق ہوتاہے تووہ اسےاپنی عادت بنالیتی ہے،پس اگر دوخون حیض ایک ہی مدت اور تاریخ میں دیکھے،تو صاحب عادت وقتیہ عددیہ ہے ۔
اوراگردوخون حیض خاص زمانے میں دیکھے،جس کاعدد ایک نہ ہوتوصاحب عادت وقتیہ ہے۔
اور اگر دوخون حیض صرف ایک ہی عدد میں دیکھے تو صاحب عادت عددیہ ہوگی۔
مسئلہ46:ذات عادت وقتیہ خواہ عددیہ ہویانہ ہو،عادت میں یااس سے قبل یااس سے ایک دو دن بعد خون کو دیکھتے ہی خودکو حیض میں قراردے، جس سے عرف میں تقدم و تاخر صادق نہ آئے،اور خاص کرکے جب ثابت کرلےکہ یہ خون کے مہینہ کاحصہ ہے،پس وہ عبادت کوترک کرئےاور تمام احکام میں حائض والے عمل کوانجام دے،اگرچہ خون ،حیض والی صفت کانہ ہو،لیکن جب منکشف ہوجائے کہ یہ خون حیض نہیں ہےکیونکہ وہ تین دن سے پہلے منقطع ہوگیاہے،تواس صورت میں نماز کی قضاء واجب ہوگی۔
مسئلہ47:جو ذات عادت وقتیہ نہ ہو،خواہ صرف ذات عادت عددیہ ہویااصلاًذات عادت نہ ہو،جیسے مبتدئہ ،خون دیکھتے ہی خود کو حیض میں قرار دے ،بشرطیکہ خون میں تمام صفات موجود ہوں ،مثل حرارت ،سرخی،اچھل کر تیزی سے نکلنااور اگر اس میں حیض والی صفات موجود نہ ہوں،توتین دن کے بعد خود کو حیض میں قراردے،اور تین دنوں کے دوران احتیاط کوترک نہ کرئےیعنی تروک حائض اور افعال مستحاضہ کے درمیان جمع کرئے،بہرحال جب تین دن سے پہلے خون منقطع ہوجائے تو حیض نہیں ہوگا۔
مسئلہ48:جب خون عادت وقتیہ سے مقدم یااس سے زیادہ مقدار میں مؤخر ہوجائےتواس کاوقوع متعارف نہیں ہوگا،جیسے دس دن،پس اگر خون جامع صفات ہو یاوہ عورت جان لےکہ یہ خون کے مہینہ کا حصہ ہےتو حیض میں ہوگی ،اگر ایسانہ ہوتو اس پر مستحاضہ کا حکم جاری ہوگا،اس کے لیے احتیاط یہ ہےکہ تروک حیض اور افعال مستحاضہ کے درمیان جمع کرئے۔