جماعت کےاحکام
جماعت کےاحکام:
مسئلہ 276:نماز باجماعت ہو تو امام ماموم سے نماز کے افعال اور اقوال سے کسی شے کو تحمل(برداشت)نہیں کرتاہے سوائے پہلی دورکعت کی قرائت کے،جب وہ ان دو رکعتوں کی امامت کرواتاہےتو ماموم کے لیےامام ہی کی قرائت کافی ہورہتی ہے،ماموم پر قیام کی حالت میں امام کی متابعت کرناواجب ہے،اس قیام میں طمانیہ فی الجملہ واجب ہے۔
مسئلہ277:اخفاتی نماز کی پہلی دورکعتوں میں ،ماموم کےلیے جزئیت کے قصد سے قرائت کاترک کرناا حوط ہے ، اس کے لیے افضل ہےکہ اس دوران ذکر اور درود میں مشغول رہے،جہری نماز کی پہلی دورکعتوں میں امام کی آواز سنائی دے رہی ہو ،اگرچہ مدہم ہی سنائی دے تو ماموم پر قرائت کاترک کرنا واجب ہے،بلکہ احوط اور بہتر ہے وہ اس کی قرائت کی وجہ سے خاموش رہے،اور اگر اسے سن نہ رہاہو ،یہاں تک کہ اس کی سرسراہٹ کو بھی سن نہ رہاہوتواس کا قصد قربت اور قصد جزئیت سے قرائت کرنا جائز ہے۔
مسئلہ278:جب امام کو آخری دورکعت میں درک کرئے،تو اس پر واجب ہے کہ سورہ حمد اوردوسری سورہ کو پڑھے،اگر سورہ کی قرائت سے رکوع میں امام کی متابعت فوت ہوجائےتو سورہ حمد ہی پر اکتفاء کرئےاورسورہ حمد کوپڑھےاور رکوع میں امام کے ساتھ مل جائے۔
مسئلہ279:افعال میں ،ماموم پرامام کی متابعت واجب ہے،یعنی جان بوجھ کر اس سے آگے نہ بڑھے اور بغیر ضرورت کے زیادہ پیچھے بھی نہ رہے ۔
مسئلہ280:انفرادی نماز پڑھنے والے کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی نماز کا جماعۃً اعادہ کرئے وہ امام ہویاماموم ہو ،یہی حکم ہے جب جماعت کے ساتھ نماز پڑھے ،امام ہویاماموم ہو،وہ دوسری جماعت میں نماز کااعادہ کرسکتاہے ،امام ہویاماموم ہو ، احتیاط لازم ہےکہ جماعت میں وہ ہو جو اپنی اصلی نماز اداکررہاہو،یعنی ایسا نہ ہو کہ جماعت میں سارے لوگ ایسے ہوں جو نماز کااعادہ کررہے ہوں،یہ اشکال وضعی ہے ورنہ وہ تو فرض کے حساب سے اپنافرض اداکرچکے ہیں۔
مسئلہ281:جب کوئی شخص نافلہ نماز پڑھ رہاہو اور جماعت کھڑی ہوجائے اور اسے خوف لاحق ہوجائے کہ اگر نماز مکمل کرتاہوں تو جماعت کو درک نہیں کرپاؤں گا ،اگرچہ امام کے ساتھ تکبیر کو درک نہیں کرسکوں گا تو اس کے لیے مستحب ہے کہ نماز نافلہ توڑ دے اور جماعت میں شامل ہوجائے۔