مسافر کی نماز

| |عدد القراءات : 2
  • Post on Facebook
  • Share on WhatsApp
  • Share on Telegram
  • Twitter
  • Tumblr
  • Share on Pinterest
  • Share on Instagram
  • pdf
  • نسخة للطباعة
  • save

مسافر کی نماز:

قصر نماز کی شرطیں:

چار رکعتی نمازکی آخری دو رکعت سفر میں چند شروط کے ذریعہ سے قصر ہوجاتی ہیں:

شرط اول۔مسافت کاطے کرنا جو آنے جانے کے حساب سے آٹھ فرسخ ہے یا جانا چار فرسخ اور آنا چار فرسخ ہے۔

مسئلہ282: ایک فرسخ تین میل کاہوتاہے،اور ایک میل چارہزار ہاتھ کا ہوتا ہے اور یہ ہاتھ کہنی تا انگلیوں کے سرے،اس حساب سے کل مسافت تقریباً 44 کلومیٹر بنتی ہے۔

اس کانصف 22 کلومیٹر ہے ،ہم نے اس مسئلہ کو تفصیل کے ساتھ اپنی کتاب الریاضیات للفقیہ میں بیان کردیاہے۔

مسئلہ283:جب ایک شہر کے دو راستے ہوں ،ایک قریب کاراستہ ہو اور دوسرا دور  کاراستہ ہو،دور کاراستہ قصر کے لیے شرعی مسافت بنتاہو اور  قریب کا راستہ شرعی مسافت نہیں بنتاہو ،اب اگر دوروالے راستہ سے سفر کرکے جائے تونماز قصر پڑھے گا اور اگر قریب والے راستہ سے سفر کرکے جائے تو نماز پوری پڑھے گایہی حکم ہے جب دور  والے راستہ سے جائے اور قریب والے راستہ سے آئےاور دونوں سفروں کو ملا کر  آنے جانے کی مسافت44 کلومیٹر بنے تو نماز قصر پڑھے گا۔

مسئلہ 284:جب جاناپانچ فرسخ ہو اور آنا تین فرسخ ہو تو دونوں سفروں کوملاکر آٹھ فرسخ سفر بن جائے گا ،اس صورت میں نماز قصر ہوگی،البتہ واپسی کے راستہ سے چشم پوشی کرتے ہوئے، جانے کی مسافت چار فرسخ سے کم نہیں ہوناچاہیے ،اگر ایسا ہوتوقصر کرئےورنہ اتمام !

مسئلہ285:مسافت کے حساب کی ابتداء شہر کی باؤنڈری دیوار سے ہوتی ہے اور اگر یہ موجود نہ ہوتو شہر کے گھروں کی انتہاء سے ہوتی ہے،خواہ شہر بڑاہو یا چھوٹا ہو۔

شرط دوم۔ابتداء سے آخر تک سفرکاقصد ہو۔

شرط سوم۔سفر کی ابتداء میں مسافت کے پہنچنے سے قبل دس دن کی اقامت کی نیت  نہ ہو یا وہ اس میں متردد ہو ،اگر ایسانہ ہوتو سفر شروع کرتے ہی نماز پوری پڑھے گا۔

شرط چہارم۔سفر مباح ہو ،اگرسفر حرام ہوتو قصر نہیں ہوگی،خواہ سفر فی نفسہ حرام ہو جیسے بیوی کا سفر جو اس کے شوہرکے حق کے منافی ہو اور شوہر کی اجازت کے بغیر ہو یا اس کاسفر کسی غرض کی وجہ سے ہوجیسے کسی انسان کے قتل کرنے کے لیے سفر کرئے،چوری کرنےکےلیےسفرکرئے،زناکرنے کےلیےسفر کرئے،ظالم  کی مدد کرنے کےلیے سفر کرئےوغیرہ۔

شرط پنجم۔سفر کو اپناعمل اور پیشہ بنایاہوانہ ہو،جیسے گاڑیاں چک کرنے کی ڈیوٹی کا کام ،چرواہے کا  کام،تجارت کا کام جس کےلیے سفر میں رہناپڑتاہےاور اس کے علاؤہ دیگر کام ،جن میں وہ مسافت یااس سے زائد سفر میں ہی رہتاہو ،یہ لوگ اپنے سفر میں نماز پوری پڑھیں گے ،جب تک کے اپنے کاموں سے خارج نہیں ہوجاتے ہیں۔

اگر اپنے لیے سفر کریں ،جیسے رشتہ داروں سے ملنے کے لیے جانا یا عتبات مقدسات کی زیارت  کے لیے جانا،اس صورت میں اس کا وظیفہ قصر ہے ،مگر جب اساسی عمل مقصود ہو اور یہ استعمال ضمنی ہو۔

مسئلہ286:جیساکہ وہ تاجر جو اپنی تجارت میں گردش کرتاہے وہ نماز پوری پڑھتا ہے ،اسی طرح ہے وہ عامل (کام کرنے والا)جواپنے عمل (کام کے سلسلہ) میں چکر لگاتاہے،جیسے چیکر شخص جو چیکنگ کے پوائنٹ پرگردش کرتاہے،یا ڈاکیہ ڈاک لے جاتاہے،یا سرحدوں کی حفاظت کےلیے جانے آنے والا،اور ان کی مثل لکڑی کا کارو بار کرنے والے اور سبزیاں و پھل اور دالوں کاکاروبار کرنے والے جو ایک شہر سے دوسرے شہر آتے جاتے ہیں،یہ لوگ نماز پوری پڑھیں گے۔

مسئلہ287:شرط پنجم کے لیے جن عناوین کااحتمال دیا جاتا ہے ،چند امور پر مشتمل ہیں:

امر اول۔ سفر  اس کاعمل اور کام ہو یعنی  اس کا سفر   کاروبار ہوجیسے کرایہ اور بھاڑے  پر کام کرنے والاشخص،اونٹوں کامہاری جو راستہ دکھانے کے لیے اونٹوں کے ساتھ آتاجاتا ہے ،جہاز کاپائلٹ،جب اپنے کام کے سلسلہ میں نکلے تو نماز پوری پڑھے اور روزہ رکھے،اور جب کسی دوسرے کام کے سلسلہ میں نکلے تو نماز قصر اور روزہ افطار  کردے۔

امر دوم۔اس کاعمل اور کام سفر میں ہو،یعنی اس کاکام سفر پر موقوف ہو،جو سفر کےبغیر انجام نہ دیاجاسکتاہو،جیسے وہ  شخص جو   اپنی سکونت والے شہر کوچھوڑ کر کسی دوسرے شہر میں کام کرتاہومانند ڈاکٹر،نرس ،طالب علم ،فوجی ،گارڈ اوران کی مثل پیشہ والے لوگ،یہ لوگ جب اپنے کام کے سلسلہ میں ڈیوٹی پرجائیں تو نمازپوری پڑھیں اور روزہ رکھیں،طالب علم میں فرق نہیں ہےکہ دینی طالب علم ہو یا اکیڈمی کا طالب علم ہو ،جس کاعلم اس کے مستقبل میں دخیل ہو ،اور اس پر اس کی زندگی کا سرکل موقوف ہو ،صرف تاریخی مشکل کی بابت چھان بین کافی نہیں ہےجو مصادر میں ہے۔

امر سوم۔جس کے عمل کاسفر جزء ہو،جیسے تجارت میں واسطہ شخص جو تاجروں کامال لےآتاہےاور ایک ایک خریدار پر تقسیم کرتاہے۔

امرچہارم۔اس کاعمل پھیری لگانے میں ہو،جو مختلف شہروں میں  جاتاہو،جیسے کوئی شخص متعدد کام اٹھاتاہےاور شہر بہ شہر جاکر خدمات پیش کرتاہے،اس کی مثالوں  میں سے مکانات کی اصلاح کرنے والا ،مستری یالوہار وغیرہ۔

مسئلہ288:تمام (پوری نماز پڑھنے)کے وجوب میں  سفر کا تین مرتبہ تکرار معتبر نہیں ہے،بلکہ کافی ہے کہ سفر اس کےلیےعمل ہو یا اس کاعمل سفر میں ہو ،اگرچہ پہلی دفعہ ہی سفر کررہاہو۔

مسئلہ289:جب کوئی شخص کئی اتفاقی سفروں میں گھر سے خارج ہو ،لیکن یہ سفر اس کے عمل کے ساتھ مربوط ہو اور یہ سفر اس کے عمل کا جزء ہو،تو نماز پوری پڑھے اور روزہ رکھے،جیسے ڈاک پہنچانے والا رسمی عمل میں یا فوجی اپنی ماموریت و ڈیوٹی میں اس قسم کاسفر اختیار کرتاہےاور جب اس طرح نہ ہو ،وفود کی تمرین کےلیے یاکام میں مہارت حاصل کرنے کےلیے کام کرناپڑتاہے اور یہ سفر عمل کاجزء قرارنہیں پاتاہے تو اس کا حکم قصر ہے۔