شرائط انعقاد جماعت
شرائط انعقاد جماعت:
جماعت کے انعقاد میں چند امور معتبر ہیں:
1۔ امام اور ماموم کے درمیان کسی چیز کاپردہ نہ ہو ،اسی طرح بعض مامومین کے درمیان بھی کسی چیز کا پردہ نہ ہو ،اس حیثیت سے کہ وہ امام کے ساتھ اتصال میں واسطہ قرارپائے،پردہ سے مراد کپڑے کا یادیوار کا یا درخت کا یاایسی کسی اور شے کاحائل ہوناہے،اگرچہ کوئی انسان کھڑا ہو،جب تک حائل کےعنوان کاصدق موجود ہو۔
یہ اس وقت ہے جب ماموم مرد ہو لیکن جب ماموم عورت ہو اورامام مرد ہو تواس کے اور امام یا مامومین کے درمیان ، حائل کےہونے کاکوئی حرج نہیں ہے ،لیکن جب امام عورت ہو تو وہی حکم ہوگاجو عورت کے بارے میں بیان کردیاہے ،مہم مردوں اور عورتوں کے درمیان حائل کاوجود ہے،ناکہ ایک جنس کے درمیان ،خواہ وہ امام ہویامامومین ہوں۔
مسئلہ 271:حائل میں فرق نہیں ہے جوجماعت کے انعقاد سے مانع ہوتاہے،کہ وہ دیکھنے اور مشاہدہ وغیرہ کے کرنے سے مانع ہو ،یہ حکم اظہر قول کی بناء پر ہے ، حائل کے ہوتے ہوئے جماعت منعقد نہیں ہوتی ہے،جوبمثل شیشہ و کھڑکی اور سوراخوں والی دیواروغیرہ کے ہو ، جو دکھنے سے مانع نہ ہو،کھال اور بسیط راستہ کاکوئی حرج نہیں ہے جب عرف کی نظر سے معتد بہ نہ ہو ،اس صورت میں اس کاحکم بیان کیاجائے گا،اندھیرے اور غبار وغیرہ کاکوئی حرج نہیں ہے۔
2۔ امام کے کھڑے ہونے کی جگہ ماموم کے کھڑے ہونے کے مقام سے بلند نہ ہو جیسے عمارت اوراس کی مثل ،بلکہ اگر پہاڑی کی طرح ڈھیلوانی جگہ ہو تو درست نہیں ہے ،ہاں! اگر ڈھیلوانی جگہ ہو اور اس پر بسیط زمین کانام صدق کرئے،اور ایک بالشت یا اس سے تھوڑا سا کم بلند کھڑے ہونے کامقام ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔
مسئلہ272:ماموم کے کھڑے ہونے کی جگہ امام کے کھڑے ہونے کی جگہ سے بلند ہو تو کوئی حرج نہیں ہے ،جب اتنی مقدار میں ہو جس کی بابت عرف کہے کہ یہ لوگ اکٹھے ہیں ،یہی حکم مامومین کے ایک دوسرے سےبلند ہونے کا ہے ،لیکن احتیاط واجب ہے کہ ان کے درمیان برابری ہو اگرچہ تھوڑی سی مقدار ،جیسے پہلے کاقدم دوسرے کے سر کے برابر ہو ۔
3۔ ماموم امام سے دوری پر نہ ہو ،یابعض مامومین سے معتدبہ مقدار میں دوری پرنہ ہو ،آگے اور دائیں بائیں کے اتصال میں زیادہ فاصلہ نہ ہو ،احتیاط مستحب ہےکہ آگے والے شخص کے کھڑے ہونے کی جگہ اور پیچھے والے شخص کے سجدے والی جگہ کے درمیان فاصلہ نہ ہو۔
مسئلہ273:جب امام کے پیچھے پوری صف جماعت کےلیے کھڑی ہواور وہ انفرادی نماز پڑھ رہے ہوں تواحتیاط واجب کی بناء پر پچھلی صف کا امام سے اتصال منقطع ہوجائےگا،یہی حکم ہے جب کوئی ماموم پچھلی صف میں کھڑا ہو اوراُس کے آگے ایک شخص کھڑا ہو اور وہ انفرادی نماز پڑھ رہاہو ،اس صورت میں پچھلے شخص کےلیے معین ہے کہ انفرادی نیت کرلے۔
دائیں بائیں والااتصال،اس میں ایک شخص کےفاصلے کاکوئی حرج نہیں ہے،خواہ وہ انفرادی نماز پڑھنے والاہویاکوئی غیر ممیزبچہ ہو یاکوئی اور !
ہاں،اگر دائیں بائیں دویادوسے زیادہ آدمیوں کافاصلہ ہوجو اتصال احتیاط واجب کے مخالف ہو تو انفرادیت ہی کی نیت کرئے۔
4۔ کھڑے ہونے میں ماموم امام سے آگے نہ ہو،بلکہ احتیاط واجب ہےکہ ماموم امام کے برابر بھی کھڑا نہ ہو ،جب وہ متعدد مرد ہوں ،اس کے برخلاف ہے اگرماموم ایک ہو یا جماعت عورتوں کی ہوتو موقف میں مساوات کا کوئی حرج نہیں ہے،احتیاط مستحب ہے کہ جب ماموم متعدد ہوں تو امام کے پیچھے ہی کھڑے ہوں ، جس طرح احتیاط مستحب ہے کہ جو عورت عورتوں کو امامت کراتی ہے وہ اُن کے وسط میں کھڑی ہو اور اُن سے مقدم نہ ہو ،بلکہ اس احتیاط کو ترک نہ کرئے،اور خاص کرکے جب ایسی جگہ پر ہوں جہاں مردوں کے وجود کااندیشہ ہو(یعنی وہاں مرد آسکتے ہوں جس سے وہ انہیں مشاہدہ کرلیں گے)۔
مسئلہ274:بعض مامومین کاایک دوسرے کے سامنے حائل ہونے کاکوئی حرج نہیں ہے،اگرچہ وہ ابھی نمازمیں داخل نہ ہوئے ہوں ،بلکہ نماز میں داخل ہونے کے لیے آمادہ ہوں۔