اساسى | | رسالہ عمليہ | باب نماز
باب نماز

شارك استفتاء

نماز قضاء:

جو یومیہ نماز اپنے وقت میں جان بوجھ کر یا بھول کر یاازروی جہالت یا نماز کے سارے وقت میں سوتے رہنے کی وجہ سے یااس کے علاؤہ کسی اور سبب سے قضاء ہوجائے  جیسے نشہ ،اغماء، ارتداد اس  کی قضاء بجالانا واجب ہے،اسی طرح جب نماز پڑھے لیکن  وہ نماز باطل ہوجائے،اس لیے کہ اس کی کوئی  ایسی جزء  یاشرط ادا نہ کی جائے،جس کاادا نہ کرنا نماز کے بطلان کا موجب ہو ۔

مجنون سے جنون کی حالت میں  اور نابالغ بچے سے بچپن میں  اور اصلی کافر سے کفر کی حالت میں چھوٹ جانے والی نمازوں کے لیے کوئی قضاء نہیں ہے ،یہی حکم حیض یانفاس والی عورت کاہے جب وہ اپنی نماز کو ترک کرتی ہیں اور نماز سے مانع سبب نمازکے  سارے وقت  میں جاری رہتاہے۔

مسئلہ256:نماز یومیہ کے علاؤہ سوائے نماز عیدین کے تمام فرض نمازوں کی قضاء واجب ہے ،یہاں تک کہ منت والے نوافل جن کو معین دنوں میں اداکرنا ہو اور وہ ان دنوں میں ادا نہ کرسکے تو ان کی قضاء بناء بر احتیاط کے واجب ہے،لیکن اگر نماز جمعہ قضاء ہوجائے تو ظہر کااعادہ کیاجائےاور ظہر کی قضاء کی جائے۔

مسئلہ257:قضاء نمازدن رات میں جس وقت چاہیں اداکرسکتے ہیں،سفرمیں ہوں یاحضر میں ہوں،جو قصر میں قضاء ہوئی ہے اسے قصر ہی اداکریں ،اگرچہ حضر میں ادا کررہے ہوں،اور جو حضر میں قضاء ہوئی ہے اسے پورا ہی اداکریں ،اگرچہ سفر میں ادا کررہےہوں ،اور اگر نماز کے کچھ وقت میں انسان حضر میں ہو اور کچھ وقت میں سفر میں ہو تو اس کی قضاء  اُس کیفیت پر بجالائے جو اُس کی  آخر وقت میں کیفیت تھی ،یعنی قصرکواداکرئے۔

مسئلہ 258:جب نماز اماکن تخییر میں سے کسی میں ادا نہ ہوسکے اور قضاء ہوجائے تو اس کی قضاء قصر کی صورت میں ہوگی،ولو ابھی اس مکان سے خارج نہ ہواہوکہ  نماز کاوقت خارج ہوگیاہواور جب فوت ہونے والی نماز ایسی ہو جس میں قصراوراتمام کے درمیان احتیاطاً  جمع واجب ہوتاہے ،تو قضاء بھی احتیاطاً  اسی طرح ہوگی۔

مسئلہ259:قضاء اور ادا کے درمیان ترتیب معتبر نہیں ہے،یعنی پہلے قضاء کو بجالایاجائے یا نہ!بلکہ نماز پڑھنے والے کواختیار ہے ،اگر اداکاوقت وسیع ہوتوجسے چاہے مقدم قراردے،سوائے دو مورد کے اور یہ حکم بناء براحتیاط کے ہے:

1۔جونماز اسی روز فوت ہوئی ہو خواہ سابق وقت مباشر ہو جیسے صبح کو ظہر کے ساتھ پڑھنا،یا غیر مباشرہو جیسے صبح کو مغرب کے ساتھ پڑھنا۔

جب ایک نماز سے زیادہ فوت ہوگئی ہوں تو ادا سے قبل سب کی قضاء واجب ہے اور یہ حکم بناء بر احتیاط کے ہے۔

2۔جس کا وقت مباشر ہو اگرچہ سابقہ دن کے لیے ہو جیسے عشاء اور صبح،یہ اس وقت ہے جب حاضرہ نماز کاوقت وسیع ہو ،اور اگر حاضرہ نماز کاوقت تنگ ہو تو اسے مقدم قراردے،کیونکہ وقت کی وجہ سے اس کاحق زیادہ ہے۔

مسئلہ 260:قضاء نماز کو جماعت کے ساتھ پڑھ سکتے ہیں ،بلکہ مستحب ہے ،خواہ امام قضاء نماز پڑھ رہاہو یاادانماز پڑھ رہاہو،اس لحاظ سے امام اور ماموم کانماز میں اتحاد واجب نہیں ہے۔

مسئلہ 261:بچےکو فرائض ،نوافل اور ان کی قضاء کے اداکرنے پربلکہ ہرعبادت پر تمرین کروانا مستحب ہے ۔

 

شارك استفتاء

 نماز آیات:

نماز آیات کے اسباب :

یہ نماز ہر مکلف پر سوائے حیض والی عورت کے اور نفاس والی عورت کے ،واجب ہے ،اس نماز کے اسباب یہ ہیں:

1۔جب سورج گرہن  اور چاند گرہن ہو،  اگرچہ گہن کامل نہ ہو بلکہ بعض حصے کا گہن ہو۔

2۔زلزلہ۔

3۔ہر قسم کے خوف  کی نشانی کےلیے جو اغلب لوگوں کے نزدیک ڈر وہراس کا باعث بنے،وہ خوف کی نشانی آسمانی ہو جیسے سیاہ یاسرخ آندھی ،سخت اندھیرےکا چھا جانا ،ڈرونی آوازیں ،آگ کاآسمان میں ظاہر ہونا وغیرہ۔

یاوہ خوف زمینی ہو جیسے زمین کادھنس جانا ،زمین کا شق ہوجانا وغیرہ۔

اگر آسمانی یازمینی نشانی ظاہر ہو لیکن لوگ  خوف زدہ نہ ہوں  یا اس کا خوف بہت ہی کم ہو تو اس کاکوئی اعتبار نہیں ہوگااور ہردوقسم کے گہن اورزلزلہ میں خوف معتبر نہیں  ہے ،ان کے لیے ہر صورت میں نماز پڑھنا واجب ہے۔

نماز آیات کاوقت:

گہن میں نماز آیات کاوقت:گہن شروع ہونے سے لےکر تمام ٹکی کے جل جانے   تک ہے ،احتیاط مستحب ہے کہ  نمازآیات گہن کے شروع ہونے قبل ثابت ہوجاتی ہے،اورجب نمازی صرف ایک رکعت ہی کو گہن میں پاسکے تواسے ادا کی نیت سے پڑھے اور اگر ایک رکعت سے کم کو پاسکے تو ادا  و قضاء کاذکر کیے بغیر نماز آیات کو پڑھے،یہ اس وقت ہوتاہے جب وقت وسیع ہو اور اگر سورج گرہن یا چاند گرہن کاوقت قلیل ہو ،اتناکم کہ جس میں نماز ادا نہ ہوسکتی ہو ،ولو ایک رکعت ہی تو ا س پر نماز آیات کاپڑھنا واجب ہے، اور اس کے اداکرنے میں جلدی کرئے اگرچہ نماز کے دوران وقت گزر جائے اور اگر اس صورت میں نماز کو عمداً یا سہواً       تاخیر دے گااور وقت ختم ہوجائے تواسے قضاء کی نیت سے انجام دے۔

مسئلہ 252:دونوں قسم کے گہن میں نماز کاوجوب ایسے شخص کے ساتھ مختص ہے جس کے لیے ان گہنوں کادیکھنا ممکن ہو ۔

زلزلہ میں نماز کا وجوب اس علاقہ کے ساتھ مختص ہے جس میں زلزلہ آیا ہو ، اورباقی آیات میں نماز کاوجوب  اس علاقے کے ساتھ مختص ہے،جس میں نوعی یاعام خوف حاصل ہو اور اس کے علاؤہ کسی صورت میں نمازآیات واجب نہیں ہے ،اگرچہ وہ متاثرہ علاقہ اس کے پڑوس میں ہی ہو۔

نماز آیات کا طریقہ:

توجہ رہے کہ اس نماز کانام :نماز کسوف ہے،ادلہ صحیحہ صریحہ میں یہی نام آیا ہے،یہاں تک کہ  خسوف یازلزلہ وغیرہ میں بھی کسوف ہی کانام وارد ہوا ہے پس احوط ہے کہ اس عنوان کی نیت کی جائے،اگرنماز آیات کی نیت کی جائے تواحوط ہے کہ  مافی الذمہ کاقصد کیاجائے ،جسے نماز آیات کےنام سے تعبیر کیاجاتاہے،وہ دو رکعت نماز ہے جس کی ہر رکعت میں پانچ رکوع  ہیں،ہررکوع کے بعد سیدھے کھڑے ہوں ،اور پانچویں رکوع کے بعد کھڑے ہوں اور دوسجدے کریں ،دوسری رکعت کے آخری سجدے کے بعد بیٹھ کر تشہداورسلام پڑھیں۔

اس کی تفصیل:تکبیرۃ الاحرام کریں جو نیت کے ساتھ  ملی ہوئی ہو پھر سورہ فاتحہ اور ایک سورت پڑھیں ،پھر رکوع کریں ،اور رکوع سے سر اٹھاکر سیدھے کھڑے ہوجائیں،اور سورہ فاتحہ بمع کوئی ایک سورت پڑھیں اور رکوع کریں ،اسی طریقہ پر پانچ رکوع مکمل کریں ،پھر پانچویں رکوع کے بعد سیدھے کھڑے ہوں ، اورسجدہ کی طرف چلے جائیں اور دوسجدے کریں،پھر کھڑے ہوکر پہلی رکعت کی طرح دوسری رکعت بجالائیں ،پھر تشہد وسلام پڑھیں۔

مسئلہ253:جائز ہے کہ فاتحہ کے بعد والی سورہ کے پانچ حصے کرلیے جائیں ،اور ہر ایک حصہ کو پڑھ کر رکوع کریں ،البتہ  بناء بر احتیاط کے بسم اللہ کو مستقل حصہ قرار نہ دیا جائے،اس صورت میں سورہ فاتحہ ایک دفعہ اور دوسری سورہ تقسیم شدہ ایک دفعہ پڑھی جائے گی ،اب دوسری رکعت بھی اسی روش سے ادا کرسکتے ہیں،جائز ہے کہ پہلی رکعت اس روش سے اور دوسری رکعت پہلے والی روش سے اداکی جائے،اور اس کے برعکس کرنابھی جائز ہے۔

مسئلہ254:اس میں ہر دوسرے رکوع میں جانے سے قبل قنوت پڑھنا مستحب ہے ،اس طرح دورکعتوں میں پانچ قنوت بنتے ہیں:دوسرے ،چوتھے ،چھٹے ، آٹھویں ،دسویں رکوع میں جانے سے قبل قنوت پڑھیں گے،البتہ دوقنوت پر اقتصار کرسکتے ہیں،یعنی پانچویں اور دسویں رکوع میں جانے سے قبل قنوت پڑھیں،اور ان دونوں میں سے آخری رکوع سے قبل بھی قنوت ادا کرسکتے ہیں ،رکوع کی طرف جھکتے ہوئے  تکبیر مستحب ہے اور رکوع سے اٹھتے ہوئے بھی تکبیر مستحب ہے یاکہے:

سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ۔

مسئلہ255:کسوف اور دوسری آیات کے ثابت ہونے کا طریقہ:

1۔خود کو علم ہو۔

2۔دوعادل گواہی دیں۔

3۔بلکہ ایک باوثوق شخص کی گواہی بھی علی الاظہر کافی ہے۔

نجومی کی خبر سے یہ امور ثابت نہیں ہوتے ہیں،جب تک کہ وہ باوثوق نہ ہو یااس کا قول وثوق  یا اطمینان کا موجب بنے ۔

 

شارك استفتاء

نماز عیدین

نمازعیدین واجب ہے ،جب اسے اداکرنے کا جامع الشرائط فقیہ حکم دے ،کیونکہ یہ نماز جمعہ کی طرح ، اجتماعی وظائف میں سے ہے ،اس کاوجوب تعیینی ہے ،یہ کسی اور سبب کی وجہ سے واجب نہیں ہے ،اگرچہ نماز جمعہ کے وجوب کے لیے سبب  ہوتا ہے ،بلکہ یہ اس وقت مستحب ہے،اسے جماعت کے ساتھ اداکرسکتے ہیں اور اکیلے میں بھی اداکرسکتے ہیں۔

مسئلہ247:مکلفین کے لیے جو شرائط نماز جمعہ میں بیان کی ہیں ،وہی نماز عیدین میں مکلفین کے لیے ہیں،یہی حکم اس مسافت کاہے جس سے نماز کی طرف آتے ہیں۔

مسئلہ248:اس میں عدد کی کوئی قید نہیں ہے،نزدیک نزدیک دو جماعتیں بھی ہوسکتی ہیں،لیکن نماز جمعہ میں یہ چیزیں معتبر ہیں۔

مسئلہ249:اس نماز کاوہ وقت نہیں ہے جو نماز جمعہ کاہے ،اس نماز کاوقت طلوع آفتاب سے لےکر زوال آفتاب تک کاہے،عید سے مراد سال کے دودن ہیں،ایک عید الفطر یعنی اول شوال اور دوسرا عید الاضحی یعنی دس ذی الحجہ ہے،نماز جمعہ کے خطبےنماز سے  پہلے اور نماز عید کے خطبےنماز سے  بعد میں ہوتے ہیں ۔

مسئلہ 250:نماز عید دورکعت ہے ،دونوں رکعتوں میں سے ہرایک میں سورہ فاتحہ اور ایک سورہ پڑھے،افضل ہے کہ پہلی رکعت میں سورہ شمس اور دوسری رکعت میں سورہ غاشیہ یا پہلی رکعت میں سورہ اعلی اور دوسری رکعت میں سورہ شمس پڑھے،پھر پہلی رکعت میں پانچ تکبیریں کہے ،جن میں سے ہر تکبیر کے بعد دعائے قنوت مانگے،اور دوسری رکعت میں قرائت کے بعد چار تکبیریں کہے اور ہر تکبیر کے بعد دعائے قنوت مانگے،دعائے قنوت میں وہ تمام دعائیں مانگ سکتے ہیں ،جو دوسری نمازوں میں مانگی جاتی ہیں،افضل ماثور دعائیں ہیں،اُن میں سے ہر ایک میں کہے:

اَللَّھُمَّ اَھْلَ الْکِبْرِیَاءِ وَالْعَظَمَۃِ وَاَھْلَ الجُّوْدِ وَالْجَبَرُوْتِ وَاَھْلَ الْعَفْوِ وَالرَّحْمَۃِ وَاَھْلَ التَّقْوَی وَالْمَغْفِرَۃِ اَسْئَلُکَ بِحَقِّ ھَذَاالْیَوْمِ الَّذِیْ جَعَلْتَہٗ لِلْمُسْلِمِیْنَ عِیْداً وَ لِمُحَمَّدٍ ذُخُراً وَ مَذِیْداً اَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمّدٍ کَاَفْضَلِ مَاصَلَّیْتَ عَلَی عَبْدٍ مِنْ عِبَادِکَ وَصَلِّ عَلَی مَلَائِکَتِکَ وَ رُسُلِکَ وَ اغْفِرْ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ الْاَحْیَاءِ مِنْھُمْ وَالْاَمْوَاتِ اَللَّھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ خَیْرَ مَا سَئَلَکَ بِہٖ عِبَادُکَ الصَّالِحُوْنَ وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا اسْتَعَاذَ بِکَ مِنْہُ عِبَادُکَ الْمُخْلِصُوْنَ۔

نماز کے بعد پیش نماز دوخطبے پڑھے،جن کے درمیان تھوڑی دیر بیٹھ جائے،ان کے دوران حضور واجب نہیں ہے اور نہ ہی کان لگاکر سننا واجب ہے ،احوط ہے کہ نماز جماعت میں  انہیں ، امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کے زمانے میں ترک نہ کیا جائے۔

مسئلہ251:اس نماز میں  اذان  اور اقامت نہیں ہے ،بلکہ مستحب ہے کہ مؤذن تین مرتبہ الصلاۃ کہے۔

 

شارك استفتاء

بقیہ واجب نمازیں

نماز جمعہ:

جمعہ کادن،شریف اور متبرک  دن ہے،اسے اللہ تبارک وتعالی نے عظیم اور اپنی رضاکے حاصل کرنے کے لیے بہت بڑی فرصت قراردیاہے ،اس میں نیکیاں بجا لانے    والے کے لیے برکت رکھی ہے۔

ابو بصیرؓ سے روایت ہے ،میں نے امام محمد باقر علیہ السلام سے سنا،آپ نے فرمایا:جمعہ کے دن سے افضل کوئی دن نہیں ہے۔

اس لیے کہ ایک مسلمان شخص جمعہ کےدن اس الہی مبارک فضا میں گزربسر کرتاہے ۔

آئمہ معصومین علیہم السلام نے اپنے شیعوں کے لیے عملی پروگرام تشکیل دیئے ہیں ،جن سے وہ خود کو مہذب بنائیں اور اپنے اجساد کو پاک و صاف قراردیں،اور گزرے ہوئے ہفتے کی غلاظتیں دورکریں اور آنے والے ہفتے کے لیے امدادی زادوتوشہ جمع کریں ،اس سے دعاؤں ،سنن اور مستحبات کی کتابیں بھری پڑی ہیں ۔

ان تمام اعمال کاتاج نمازجمعہ کے سرپرہے ،جس میں نماز ہے،دعائیں ہیں ،رکعات ہیں،جماعت ہے ،خطبے ہیں،خاص عنایات  ہیں،انہوں نے اس کی فضیلت، اوراسے اداکرنے والے کے ثواب کوبیان کیا ہے،اوراس کےترک کرنے سے ڈرایا ہے ۔

امام جعفر صادق علیہ السلام کا فرمان ہے :مَامِنْ قَدَمٍ سَعَتْ اِلی الْجُمْعَۃِ اِلَّا وَ حَرَّمَ اللہُ جَسَدَھَا عَلَی النَّارِ،

جوقدم جمعہ کی طرف بڑھتے ہیں ،اللہ تعالی اس کے جسم پر جہنم کی آگ کو حرام قراردے دیتاہے۔

نماز جمہ کےلیے وجوب تعیینی:

مسئلہ236:جمعہ کےدن،ظہر کےوقت ،مسلمانوں پر نماز جمعہ کااداکرنا واجب ہے ،جب مجتہد جامع الشرائط نماز جمعہ پڑھائے تو پھر نماز ظہر  پڑھی نہیں جائے گی،اس لیے   کہ نماز جمعہ کے ادا کرنے کا امر ولی الامر کے وظائف میں سے ہے جو فقیہ جامع الشرائط ہوتاہے ،جسے امت کے معاملات  اور اسلامی مشروعات کی رعایت کے لیے مقرر کیا گیاہے۔

نماز جمعہ کے وجوب اور صحت میں دو چیزیں شرطیں  ہیں:

1۔ کم از کم  پیش نماز سمیت پانچ نمازی ہوں۔

2۔پیش نماز موجود ہو جو دوخطبے اچھے انداز میں دے ،اور اس میں پیش نماز والی شرطیں پائی جاتی ہوں۔

مسئلہ237:یہ وجوب سوائے چند مورد کے ساقط نہیں ہوتا:

1۔مانع کاموجود ہونا،جیسے ظالم حکمران اسے اداکرنے سے روکیں،اور اگر اسے انجام دیاتو نمازیوں کو ناقابل برداشت نقصان پہنچاسکتاہے۔

2۔اس کامقرر وقت گزرجائے،جو زوال آفتاب سے لےکر اتناہے جس میں شاخص کا سائیہ اس کی مثل تک پہنچ جائے،کیونکہ نماز جمعہ کی قضاء نہیں ہے۔

3۔ جہاں ایک جمعہ ہورہاہے وہاں سے دوسرے جمعہ کافاصلہ 5اشاریہ 5کلو میٹر سے کم ہو۔

مسئلہ238:نماز جمعہ ہر اس شخص پر واجب ہے،جو ایک کالونی یا قصبہ میں رہتے ہیں اور اُن میں گزشتہ نماز جمعہ کے ادا کرنے کی دونوں  شرطیں ہوں،یا دوسرے جمعہ میں حاضر ہوسکتاہوجہاں مقیم کے زمرہ میں آتاہو۔

مسئلہ239:نماز جمعہ کااول وقت،نماز ظہر کاوقت ہے اوروہ جمعہ کے دن زوال کاوقت ہے،اس سےقبل نماز جمعہ کاادا کرنا صحیح نہیں ہے،اور اس کاوقت ہر شے کے اس کے برابر سائیہ ہوجانے سے ختم ہوجاتاہے ،اگرچہ ظہر کاوقت باقی ہی ہو اور اگر نماز کے دوران وقت خارج ہوجائے اور اس نے ایک رکعت پڑھی ہوتواسے جاری رکھے اس کی نماز جمعہ صحیح ہوگی۔

مسئلہ240:ایک منطقہ اورعلاقہ میں دونماز جمعہ پڑھناصحیح نہیں ہے بلکہ ان کے درمیان تین میل کافاصلہ واجب ہے،جس کی مقدار 5اشاریہ 472کلومیٹر ہے،اگر اس فاصلے کے اندر ایک ہی وقت میں دو نماز جمعہ پڑھی جائیں تو دونوں باطل ہوں گی،اوراگر ایک نماز اس لیے پہلےاداکی جائے کہ اُن کی نماز جمعہ پڑھنا عادت ہے  اور دوسری وقت کے لحاظ سے بعد میں اداکی جائے تو دوسری نماز باطل ہوگی ،تقدم وتاخر میں تکبیرۃ الاحرام اور خطبے کااعتبار نہیں ہے البتہ اگر فرض کیاجائے کہ ان کی  نماز جمعہ ادا  کرنے کی عادت نہ ہو اور ایسے ہی اسے بجالائیں توتقدم و تاخر میں تکبیرۃ الاحرام کااعتبار کیاجائےگا اور اگر ازروی جہل دو نمازجمعہ نزدیک نزدیک اداکیے جائیں تو دونوں  صحیح ہوں گے۔

نماز جمعہ کس پر واجب ہے:

نماز جمعہ  واجب نہیں ہوتی مگر اس کے لیے شرائط مقرر کیے گئے ہیں ،جب وہ شرائط کسی شخص میں پائے جائیں گے تو اس پر نماز جمعہ کا ادا کرناواجب ہوجائے گا،ورنہ اس پر اس کاادا کرنا واجب نہیں ہوگا،لیکن اگر اسے ادا کرلے تو اس کی نماز صحیح ہوگی۔

1۔تکلیف یعنی وہ بالغ و عاقل ہو۔

2۔مرد،یعنی  عورتوں پر واجب نہیں ہے۔

3۔آزاد،یعنی  غلام پر واجب نہیں ہے۔

4۔یہ  ایسےمسافر پر واجب نہیں ہے ،جس پر نماز کاقصر پڑھنا واجب ہے۔

5۔بینا،یہ اندھے پر واجب نہیں ہے ۔

6۔چلنے کی قدرت،یہ لنگڑے پر واجب نہیں ہے۔

7۔نماز میں حاضر ہونے کی قدرت،یہ مریض اور عاجز پر واجب نہیں ہے۔

8۔اپنے مقام و کالونی سے حاضر ہونے کی قدرت،وہ بہت زیادہ بوڑھا نہ ہوجو نماز میں حاضر ہونے سے عاجز ہو۔

9۔ شخص کے اور نماز جمعہ کے درمیان  دوفرسخ یا کمتر کا فاصلہ نہ ہوجو 10اشاریہ 944کلومیٹر ہے اور اگر اتنی مقدارکافاصلہ ہو تواس پر نماز کی طرف جاناواجب ہے ، اس مقدار سے فاصلہ زیادہ ہوتو اس پر نماز کی طرف جاناواجب نہیں ہے،یہ حکم ایسے شخص کےساتھ مختص ہے جواُس  شہر سے باہر رہتاہے جس میں نماز جمعہ ادا کی جارہی ہے۔

اگر شہر بڑاہو جیسے بغداد یا تہران ،اس حیثیت سے کہ اس شہر کے بعض ساکنین اس مسافت  یااس سے زیادہ مسافت کے فاصلے پر رہتے ہیں ،جہاں نمازادا ہوتی ہے توان پر نمازمیں حضور واجب ہے ،کیونکہ یہ مسافت ایسی ہے جس کی  شارع مقدس نے حدبندی کی ہے تاکہ اتنے فاصلے کے لوگ ایک جگہ جمع ہوں ،یہ ایک شہر کے لوگوں کے درمیان تفریق کے لیے نہیں ہے۔

مسئلہ241:جب مسافر پر پوری نماز پڑھناواجب ہو تو اس پر  نمازجمعہ  ادا کرنا بھی واجب ہے،جیسے وہ شخص جو  کسی جگہ پر دس دن رہنے کی نیت رکھتاہویا ایک ماہ کی مدت تک تردد کی حالت میں ہو،یعنی آج جاتاہوں ،کل جاتاہوں ،یااس کا شغل ہی سفر ہو یا اس کا شغل سفر میں ہو۔

مسئلہ242:صاحبان عذرجن کی ہم نے یوں تعریف کی ہے،اگر اُنہیں نماز میں حاضر ہونے کی تکلیف دی جائےجو اُن کے غیر کے ذریعہ سے منعقد ہوئی ہے تو اُن غیروں  کی نماز صحیح اور مجزی وکافی ہو۔

مسئلہ243:جس شخص پرنماز جمعہ کاپڑھنا واجب نہ ہو ،اس کے لیے نماز ظہر کااول وقت میں پڑھنا جائز ہے ،اگرچہ اس وقت وہاں نماز جمعہ ہورہی ہو،اس میں تاخیر کرنا واجب نہیں ہے،یہاں تک کہ جمعہ ختم ہوجائے،اور اگر وہ اس کے بعد جمعہ میں حاضر ہو تو اس پر نماز جمعہ کاپڑھنا واجب نہیں ہے ،نا واجب تعیینی کے طور پر اور ناہی واجب تخییری کے طور پر۔

نماز جمعہ کاطریقہ:

نماز جمعہ نماز صبح کی طرح دورکعت ہے،اس کی دورکعت پڑھنے سے نماز ظہر ساقط  ہوجاتی ہے ،ہر اس شخص سے جس پر نماز جمعہ کاپڑھنا واجب تعیینی ہو یاواجب  تخییری ہو یا مستحب  ہو۔

یہ نماز جماعت  کے بغیر نہیں  ہوتی،اس کے لیے  گزشتہ شرائط والے پانچ افراد ہوں ،اس سے قبل دو خطبے ہوں ،ان میں سے ہرایک میں اللہ تعالی کی حمد و ثنا ، رسول خداﷺ اورآپؐ کی پاک آل پر درودوسلام ،لوگوں کو وعظ و نصیحت ،اور قرآن مجید کی ایک سورہ کی قرائت ہو، اگرچہ وہ سورہ چھوٹی سی ہو،دونوں خطبوں کےدرمیان فاصلہ کاہونا واجب ہے جسے عرف فاصلہ کہے،جیسے ایک دفعہ بیٹھنایا سکوت اختیار کرنا،جیسا کہ بناء بر احتیاط کے واجب ہے کہ خطیب  اپنی قدرت کے مطابق خطبہ کے دوران کھڑا ہو،جیسا کہ بناء بر احتیاط کےواجب ہے کہ زوال کے وقت دونوں خطبوں کوشروع کرئے ،زوال سے قبل خطبوں کاشروع کرنا جائز نہیں ہے۔

مسئلہ244:نماز جمعہ سے پہلے دوخطبےپڑھے پس ان دو خطبوں کانماز کے بعد واقع کرنا جائز نہیں ہے،اور ناہی نماز کاان دوخطبوں کے درمیان میں واقع کرناجائزہے۔

مسئلہ245:واجب نہیں ہے کہ خطبہ دینے والا نماز میں امام جماعت ہو ،جیساکہ واجب نہیں ہے کہ خطیب اور امام جماعت دونوں یاان میں سے کوئی ایک عادل ولی عام ہو ،چہ رسد نوبت بہ امام معصوم علیہ السلام۔

مسئلہ246:نماز جمعہ کی قرائت میں جہر واجب ہے،جمعہ کے دن کی  نمازظہر کی قرائت میں جہر واجب نہیں ہے بلکہ اس میں اخفات احوط ہے۔

 

شارك استفتاء

سجدہ سہو:

مسئلہ230:سجدہ سہو  چند موارد میں کرناواجب ہے:

1۔بھول چوک کی وجہ سے کلام کرنے پر۔

2۔بےجا سلام پڑھنے پر۔

3۔ایک سجدہ اور تشہد کے بھول جانے پر،ان کی قضاء بجالانے کے بعد۔

4۔ بیٹھنے کی جگہ میں کھڑے ہونے پر۔

5۔کھڑے ہونے کی جگہ میں بیٹھنے پر۔

بشرطیکہ یہ  قیام رکن نہ ہو ،جو اپنے تدارک کے مقام میں فوت ہوگیاہوتو اس صورت میں اس کی نماز باطل ہوجائے گی۔

مسئلہ231:احتیاط واجب ہے،کہ واجب نماز میں ہرقسم کی کمی وبیشی پر سجدہ سہو کیاجائے سوائےبنابراحتیاط   نماز میت کے ۔

کمی و بیشی سے مراد ،جزء کامل ہے ،جزء کاجزء نہیں ہے،جیسے سورت سے ایک آیت اور رکوع سے طمانیہ اور سجدہ کا بعض ذکر ،احتیاط یہ ہے کہ  ان تمام موارد میں سجدہ سہومستحب ہے۔

مسئلہ232:سجدہ سہوکی بابت احتیاط ہے کہ اسے   فوراً انجام دیاجائے۔

مسئلہ233:ایک سہو کےلیےپےدرپے دوسجدے سہو کے ہوتے ہیں ،اس میں قربت کی نیت واجب ہوتی ہے،اس میں تکبیر واجب نہیں ہے،اس میں ماتھےاور دوسرے تمام اعضائے سجدہ  کا، ایسی شے پر رکھنا معتبر ہے جس پر سجدہ کرنا صحیح ہوتا ہے ،بلکہ احتیاط واجب ہے کہ اس میں تمام وہ خصوصیات ہوں جو نماز کے سجدہ میں معتبر ہیں،یعنی طہارت،روبقبلہ،ستر وغیرہ۔

مسئلہ234:اگر اقوی نہ ہوتو احوط ہے کہ  دونوں سجدوں میں ذکر کاپڑھناواجب   ہے،اس میں ذکر معین نہیں ہے ،اگرچہ احوط ہےکہ یوں کہاجائے:

 بِسْمِ اللہِ وَ بِاللہِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَ رَحْمَۃُ اللہِ وَ بَرَکَاتُہٗ ۔

یاکہاجائے:

 بِسْمِ اللہِ وَ بِاللہِ وَ صَلَّی اللہُ عَلَی مُحَمَّدٍ وَّ آلِہٖ۔

اگران  دونوں ، ذکر کواختیار نہ کرئے تواس کے لیے احوط ہےکہ وہی کہے جسے  سجدے   میں کہنا جائز اور کافی ہے ۔

مسئلہ235:دونوں سجدوں کے بعدتشہداور سلام  پڑھناواجب ہے،احوط ہےکہ متعارف تشہد کو اختیار کیا جائے۔

 

شارك استفتاء

نماز کے بھولے ہوئے اجزاء کی قضاء

مسئلہ 227:جب  ایک سجدہ بھول جائے اور رکوع میں جانے کے بعد یاد آئےتو اس کی نماز کے بعد قضاء واجب ہے،اوراگر اس کے ذمہ نماز احتیاط ہو تو اس کی نماز احتیاط کے بعد قضاء ادا کرئے۔

مسئلہ228:جب تشہد بھول جائےاور رکوع میں جانے کے بعد یاد آئےتو احتیاط واجب کی بناء پر اس کی  نماز کے بعدقضاء واجب ہے،اوراگر اس کے ذمہ نماز احتیاط ہو تو اس کی نماز احتیاط کے بعد قضاء ادا کرئے۔

یہ مذکور حکم  تب جاری ہوتاہے ،جب ایک سجدہ  اور آخری رکعت کا تشہد بھول جائے اور سلام کے بعد اور عمداً و سہواً منافی نمازفعل کو انجام دینے کے بعد یاد آئے۔

اگر سلام کے بعد اور منافی نماز فعل کو انجام دینے سے قبل یاد آئےتو اس کاتدارک کرنا اور سجدہ وتشہد وسلام کا بجالانالازم ہے ،پھر احتیاط واجب کی بناء پر زائد سلام کی وجہ سے دوسجدے سہو کے بجالائے۔

مسئلہ229:نمازکے اجزاء میں سے سجدہ اور تشہد کے علاؤہ کسی شے کی قضاء نہیں ہے۔

 

شارك استفتاء

رکعات کے عدد میں شک کی صورت میں مسائل:

مسئلہ 224:جب نمازگزاررکعات کے عدد میں شک کرئےتو اس کے لیے احتیاط مستحب یہ ہے کہ تھوڑی سی سوچ بچار کرئےاور نماز کو آگے نہ بڑھائے،اب اگر اس کاشک جاری رہے اور وہ دورکعتی نمازمیں ہو یا تین رکعتی نماز میں ہو یا چار رکعتی نماز کی پہلی دورکعتوں میں ہو تو اس کی نماز باطل ہوجائے گی۔

اور اگر اس صورت کے علاؤہ  شک ہو اور اسے ثابت ہو کہ اس نے دورکعتیں ادا کرلی ہیں،باین معنی کہ  دوسری رکعت کے دوسرے سجدہ کے واجب ذکر کو پڑھ چکاہو اور ابھی سر سجدے سے اٹھایا نہ ہو ،اس صورت میں  مداوا (راہ حل )ہوسکتاہے ، جیسا کہ اسے بیان کیا جائے گا۔

مسئلہ225:جن شکوک کا راہ حل  ہوسکتاہے ،متعدد ہیں:

ان میں سے اہم کو بیان کرتے ہیں:

صورت اول۔دوسری تیسری رکعت میں دوسرے سجدہ کے ذکر کے بعد شک ہوتوتیسری رکعت پر بناء رکھےاور چوتھی رکعت بجالاکر نماز مکمل کرئے،پھراحتیاط واجب ہےکہ  ایک رکعت نماز احتیاط کھڑے ہوکر اداکرئے،اگرچہ اس کا وظیفہ یہ ہے کہ ایک رکعت نماز احتیاط بیٹھ کر اداکرسکتاہے۔

صورت دوم۔تیسری چوتھی رکعت میں جہاں کہیں بھی شک ہوتوچوتھی پر بناء رکھے اور نماز کو مکمل کرئے،پھر ایک رکعت کھڑے ہوکر یادورکعت بیٹھ کر نماز احتیاط پڑھے،احوط ہے کہ کھڑے ہوکر نماز کو اداکرے،اگرچہ اس کا وظیفہ یہ ہے کہ ایک رکعت نماز احتیاط بیٹھ کر اداکرئے۔

صورت سوم۔دوسری چوتھی رکعت میں دوسرے سجدہ کے ذکر کے بعد شک ہوتو چوتھی پر بناء رکھےاور نماز کو مکمل کرئے،پھر دورکعت نماز احتیاط کھڑے ہوکر اداکرئے،اگرچہ اس کاوظیفہ یہ ہے کہ دورکعت نماز احتیاط بیٹھ کر ادا کرئے۔

صورت چہارم۔چوتھی پانچویں رکعت میں دوسرے سجدے کے ذکر کے بعد شک ہو تو چوتھی پر بناء رکھے اور نماز کو مکمل کرئے،پھر دوسجدے سہو کے کرئے۔

مسئلہ226:نماز احتیاط واجب ہے،لیکن اس کا وجوب نماز کی صحت  کے لیے شرطی ہے،چاہے تواسے اداکرکے نماز صحیح کرلے ،چاہے تو منافی فعل کو انجام دے کر نماز کو باطل قرار دے دے اور دوبارہ سے از سرنو نماز کواداکرئے۔

 

شارك استفتاء

نماز میں واقع خلل:

نماز میں کمی و بیشی:

جوشخص  نماز کے اجزاء  و شرائط میں سے کسی جزء یا شرط میں عمداً خلل ڈالے تو اس کی نماز باطل ہوجاتی ہے،اگرچہ وہ خلل ایک حرف کاہو یا قرائت یا ذکر سے ایک حرکت کا ہو ،یہی حکم ہے اُس شخص کاجو نماز میں عمداً ایک جزء کا جزئیت کے قصد سے اضافہ کرتاہے،وہ قول ہو یا فعل ہو ، اس میں کوئی فرق نہیں ہے کہ وہ جزء نماز کارکن ہو یا رکن نہ ہو۔

مسئلہ216:جو شخص سہواً کسی جزء کو زیادہ کرئے اور وہ جزء نماز کارکن ہوتو اس کی نماز باطل ہوجاتی ہے،اور اگر وہ جزء نماز کارکن نہ ہو تو اس کی نماز باطل نہیں ہوتی

مسئلہ217:جوشخص رکوع کے بعد سیدھا کھڑے ہونا بھول جائے اور سجدہ کر لے  یا سجود کی طرف جھک جائے تو نماز جاری رکھے۔

مسئلہ218:جب رکوع بھول جائےاور دونوں سجدے کرلے تو نماز کااعادہ کرئےاور اگر دوسرے سجدے میں جانے سے قبل یاد آجائے توبعید نہیں ہے کہ  کھڑے ہوکر رکوع کرکے نماز کو پورا کرئے،اگرچہ احتیاط مستحب ہےکہ نماز کااعادہ کرئے۔

مسئلہ 219:جو شخص سلام بھول جائے اور کوئی نماز کے منافی فعل کو بجالانے سےقبل یاد آجائےتواس کاتدارک کرئےیعنی انجام دے تو اس کی نماز درست ہو جائے  گی،اور اگر نماز کے منافی فعل کو بجالانے کے بعد یاد آئےتو اس کاتدارک نہیں کرسکتا، احتیاط مستحب ہے کہ اس صورت میں نماز دوبارہ پڑھے۔

شکیات نماز:

مسئلہ220:جوشخص شک کرئے اور اسے معلوم نہ ہو کہ اُس نے نماز پڑھی ہے یااس نے نماز نہیں پڑھی ہے،اگر نماز کاوقت ہو تو نماز پڑھے اور اگر نماز کاوقت ختم ہوگیاہوتو اس شک کی  پرواہ نہ کرئے ۔

مسئلہ 221:جب نماز سے فارغ ہونے کے بعد اس کی جزء یا شرط میں شک ہوتو اس  شک کی پرواہ نہ کرئے ۔

مسئلہ 222:کثیر الشک،اپنے شک کی اعتناء اور پرواہ نہ کرئے،خواہ شک رکعتوں کی تعداد میں ہو یا شک نماز کے افعال میں ہو ،یاشک نماز کی شرائط میں ہو ،اس صورت  میں وہ نماز کو صحیح قراردے۔

مسئلہ 223:کثیر الشک کی جانچ میں عرف کی طرف رجوع کیا جائے کہ عرف کس حد تک کے شک کو کثیر الشک شمار کرتی ہے، ہاں،جب کوئی شخص  پے در پے تین نمازوں میں شک کرتاہے تووہ  عرف میں کثیر الشک ہوجاتاہے ،چہ جائیکہ وہ اتنے شک ایک ہی نماز میں کرئے۔

 

شارك استفتاء

نماز میں سلام کا جواب دینے کی بابت مسائل:

مسئلہ 213:نمازگزار کے لیے کسی کو سلام  وغیرہ کرنے میں ابتداء کرناجائز نہیں ہے،البتہ اسے کوئی سلام کرئے تواس کے سلام کاجواب دے سکتاہے،بلکہ اُس کے سلام کا جواب دیناواجب ہے،اور اگر اسے سلام کا جواب نہ دے اور نماز پڑھتا رہے تویہ  گناہگار ہوگا،لیکن اس کی نماز صحیح ہوگی ،نماز پڑھنے والے شخص پر سلام کرنا مکروہ ہے۔

مسئلہ 214:احوط ہے،اگر کوئی کسی نماز پڑھنے والے شخص پر سلام کرئے تو نمازگزار  اسے سلام کے جواب میں وہی کہے جواس نے سلام میں کہاہے،پس اگر سلام کرنے والا کہے:سلام علیکم تو واجب ہے کہ نمازگزار بھی جواب میں سلام علیکم ہی کہے۔

مسئلہ215:جب کوئی شخص  کئی لوگوں کو سلام کرئے اور اُن میں سے ایک شخص نماز بھی پڑھ رہا ہو اور دوسروں میں سے ایک شخص اس کے سلام کا جواب دے دے تو نمازگزار کےلیے احوط ہے کہ سلام کاجواب نہ دے۔

پنجم۔جان بوجھ کر قہقہ لگانا،یعنی ایسا ہنسنا جس سے آواز اور ترجیع پیداہو بلکہ  احتیاط واجب کی بناء پر مطلق آواز بھی مت نکالے،اور خاص کرکے جب وہ بعض حروف پر مشتمل ہو ،البتہ مطلق طور پر  مسکرانےاور سہواً قہقہ لگانے کاکوئی حرج نہیں ہے۔  

ششم۔جان بوجھ کر رونا جس میں آواز پیداہو۔

ہفتم۔کھانا،پینا،اگرچہ قلیل ہی ہو ،جب تک کہ اس پر کھانا و پینا صادق آئے۔

ہشتم۔نماز میں پیٹ پر ہاتھ باندھنا۔

نہم۔سورہ فاتحہ کے آخر میں جان بوجھ کر آمین کہنا ،پیش نماز ہویا مقتدی ہو ، آہستہ  کہے یا بلند آواز سے کہے۔

 

شارك استفتاء

مبطلات نماز:

مبطلات نماز چند ہیں:

اول۔حدث،یہ  اصغرہویااکبر ہو ،نماز میں جہاں بھی واقع ہو عمداً یاسہواً ،نماز کو باطل کردیتاہے۔

دوم۔پورے بدن کو قبلہ سے دوسری جانب گھمانا،اگرچہ ایسا سہواً ہو یا زبردستی ہو جیسے تیز ہواسے گھوم جائے یا رش کی وجہ سے گھوم جائے یا کسی اور وجہ سے گھوم جائے۔

سوم۔جو شخص شرع کی نظر سے نماز کی صورت ہی کو ختم کردے،جیسے رقص کرئے،زیادہ تالیاں مارے کسی دوسرے کام میں مشغول ہوجائے مانند سیلائی ،بنائی میں اتنی مقدار وقت صرف کرئے جس سے کہاجائے کہ یہ نماز میں نہیں ہے ۔

چہارم۔ عمداً کلام کرنا،جب اس کی کلام دوحرف پرمشتمل ہو ،ایک حرف جو بامعنی ہو ،اس کابھی یہی حکم ہے۔

 

1 2 3 4 5
المجموع: 42 | عرض: 11 - 20

دفتر مرجع عالیقدر

شیخ محمد یعقوبی (دام ظلہ) -اپنا استفتاء ارسال کیجیئے

نجف اشرف