بقیہ واجب نمازیں
نماز جمعہ:
جمعہ کادن،شریف اور متبرک دن ہے،اسے اللہ تبارک وتعالی نے عظیم اور اپنی رضاکے حاصل کرنے کے لیے بہت بڑی فرصت قراردیاہے ،اس میں نیکیاں بجا لانے والے کے لیے برکت رکھی ہے۔
ابو بصیرؓ سے روایت ہے ،میں نے امام محمد باقر علیہ السلام سے سنا،آپ نے فرمایا:جمعہ کے دن سے افضل کوئی دن نہیں ہے۔
اس لیے کہ ایک مسلمان شخص جمعہ کےدن اس الہی مبارک فضا میں گزربسر کرتاہے ۔
آئمہ معصومین علیہم السلام نے اپنے شیعوں کے لیے عملی پروگرام تشکیل دیئے ہیں ،جن سے وہ خود کو مہذب بنائیں اور اپنے اجساد کو پاک و صاف قراردیں،اور گزرے ہوئے ہفتے کی غلاظتیں دورکریں اور آنے والے ہفتے کے لیے امدادی زادوتوشہ جمع کریں ،اس سے دعاؤں ،سنن اور مستحبات کی کتابیں بھری پڑی ہیں ۔
ان تمام اعمال کاتاج نمازجمعہ کے سرپرہے ،جس میں نماز ہے،دعائیں ہیں ،رکعات ہیں،جماعت ہے ،خطبے ہیں،خاص عنایات ہیں،انہوں نے اس کی فضیلت، اوراسے اداکرنے والے کے ثواب کوبیان کیا ہے،اوراس کےترک کرنے سے ڈرایا ہے ۔
امام جعفر صادق علیہ السلام کا فرمان ہے :مَامِنْ قَدَمٍ سَعَتْ اِلی الْجُمْعَۃِ اِلَّا وَ حَرَّمَ اللہُ جَسَدَھَا عَلَی النَّارِ،
جوقدم جمعہ کی طرف بڑھتے ہیں ،اللہ تعالی اس کے جسم پر جہنم کی آگ کو حرام قراردے دیتاہے۔
نماز جمہ کےلیے وجوب تعیینی:
مسئلہ236:جمعہ کےدن،ظہر کےوقت ،مسلمانوں پر نماز جمعہ کااداکرنا واجب ہے ،جب مجتہد جامع الشرائط نماز جمعہ پڑھائے تو پھر نماز ظہر پڑھی نہیں جائے گی،اس لیے کہ نماز جمعہ کے ادا کرنے کا امر ولی الامر کے وظائف میں سے ہے جو فقیہ جامع الشرائط ہوتاہے ،جسے امت کے معاملات اور اسلامی مشروعات کی رعایت کے لیے مقرر کیا گیاہے۔
نماز جمعہ کے وجوب اور صحت میں دو چیزیں شرطیں ہیں:
1۔ کم از کم پیش نماز سمیت پانچ نمازی ہوں۔
2۔پیش نماز موجود ہو جو دوخطبے اچھے انداز میں دے ،اور اس میں پیش نماز والی شرطیں پائی جاتی ہوں۔
مسئلہ237:یہ وجوب سوائے چند مورد کے ساقط نہیں ہوتا:
1۔مانع کاموجود ہونا،جیسے ظالم حکمران اسے اداکرنے سے روکیں،اور اگر اسے انجام دیاتو نمازیوں کو ناقابل برداشت نقصان پہنچاسکتاہے۔
2۔اس کامقرر وقت گزرجائے،جو زوال آفتاب سے لےکر اتناہے جس میں شاخص کا سائیہ اس کی مثل تک پہنچ جائے،کیونکہ نماز جمعہ کی قضاء نہیں ہے۔
3۔ جہاں ایک جمعہ ہورہاہے وہاں سے دوسرے جمعہ کافاصلہ 5اشاریہ 5کلو میٹر سے کم ہو۔
مسئلہ238:نماز جمعہ ہر اس شخص پر واجب ہے،جو ایک کالونی یا قصبہ میں رہتے ہیں اور اُن میں گزشتہ نماز جمعہ کے ادا کرنے کی دونوں شرطیں ہوں،یا دوسرے جمعہ میں حاضر ہوسکتاہوجہاں مقیم کے زمرہ میں آتاہو۔
مسئلہ239:نماز جمعہ کااول وقت،نماز ظہر کاوقت ہے اوروہ جمعہ کے دن زوال کاوقت ہے،اس سےقبل نماز جمعہ کاادا کرنا صحیح نہیں ہے،اور اس کاوقت ہر شے کے اس کے برابر سائیہ ہوجانے سے ختم ہوجاتاہے ،اگرچہ ظہر کاوقت باقی ہی ہو اور اگر نماز کے دوران وقت خارج ہوجائے اور اس نے ایک رکعت پڑھی ہوتواسے جاری رکھے اس کی نماز جمعہ صحیح ہوگی۔
مسئلہ240:ایک منطقہ اورعلاقہ میں دونماز جمعہ پڑھناصحیح نہیں ہے بلکہ ان کے درمیان تین میل کافاصلہ واجب ہے،جس کی مقدار 5اشاریہ 472کلومیٹر ہے،اگر اس فاصلے کے اندر ایک ہی وقت میں دو نماز جمعہ پڑھی جائیں تو دونوں باطل ہوں گی،اوراگر ایک نماز اس لیے پہلےاداکی جائے کہ اُن کی نماز جمعہ پڑھنا عادت ہے اور دوسری وقت کے لحاظ سے بعد میں اداکی جائے تو دوسری نماز باطل ہوگی ،تقدم وتاخر میں تکبیرۃ الاحرام اور خطبے کااعتبار نہیں ہے البتہ اگر فرض کیاجائے کہ ان کی نماز جمعہ ادا کرنے کی عادت نہ ہو اور ایسے ہی اسے بجالائیں توتقدم و تاخر میں تکبیرۃ الاحرام کااعتبار کیاجائےگا اور اگر ازروی جہل دو نمازجمعہ نزدیک نزدیک اداکیے جائیں تو دونوں صحیح ہوں گے۔
نماز جمعہ کس پر واجب ہے:
نماز جمعہ واجب نہیں ہوتی مگر اس کے لیے شرائط مقرر کیے گئے ہیں ،جب وہ شرائط کسی شخص میں پائے جائیں گے تو اس پر نماز جمعہ کا ادا کرناواجب ہوجائے گا،ورنہ اس پر اس کاادا کرنا واجب نہیں ہوگا،لیکن اگر اسے ادا کرلے تو اس کی نماز صحیح ہوگی۔
1۔تکلیف یعنی وہ بالغ و عاقل ہو۔
2۔مرد،یعنی عورتوں پر واجب نہیں ہے۔
3۔آزاد،یعنی غلام پر واجب نہیں ہے۔
4۔یہ ایسےمسافر پر واجب نہیں ہے ،جس پر نماز کاقصر پڑھنا واجب ہے۔
5۔بینا،یہ اندھے پر واجب نہیں ہے ۔
6۔چلنے کی قدرت،یہ لنگڑے پر واجب نہیں ہے۔
7۔نماز میں حاضر ہونے کی قدرت،یہ مریض اور عاجز پر واجب نہیں ہے۔
8۔اپنے مقام و کالونی سے حاضر ہونے کی قدرت،وہ بہت زیادہ بوڑھا نہ ہوجو نماز میں حاضر ہونے سے عاجز ہو۔
9۔ شخص کے اور نماز جمعہ کے درمیان دوفرسخ یا کمتر کا فاصلہ نہ ہوجو 10اشاریہ 944کلومیٹر ہے اور اگر اتنی مقدارکافاصلہ ہو تواس پر نماز کی طرف جاناواجب ہے ، اس مقدار سے فاصلہ زیادہ ہوتو اس پر نماز کی طرف جاناواجب نہیں ہے،یہ حکم ایسے شخص کےساتھ مختص ہے جواُس شہر سے باہر رہتاہے جس میں نماز جمعہ ادا کی جارہی ہے۔
اگر شہر بڑاہو جیسے بغداد یا تہران ،اس حیثیت سے کہ اس شہر کے بعض ساکنین اس مسافت یااس سے زیادہ مسافت کے فاصلے پر رہتے ہیں ،جہاں نمازادا ہوتی ہے توان پر نمازمیں حضور واجب ہے ،کیونکہ یہ مسافت ایسی ہے جس کی شارع مقدس نے حدبندی کی ہے تاکہ اتنے فاصلے کے لوگ ایک جگہ جمع ہوں ،یہ ایک شہر کے لوگوں کے درمیان تفریق کے لیے نہیں ہے۔
مسئلہ241:جب مسافر پر پوری نماز پڑھناواجب ہو تو اس پر نمازجمعہ ادا کرنا بھی واجب ہے،جیسے وہ شخص جو کسی جگہ پر دس دن رہنے کی نیت رکھتاہویا ایک ماہ کی مدت تک تردد کی حالت میں ہو،یعنی آج جاتاہوں ،کل جاتاہوں ،یااس کا شغل ہی سفر ہو یا اس کا شغل سفر میں ہو۔
مسئلہ242:صاحبان عذرجن کی ہم نے یوں تعریف کی ہے،اگر اُنہیں نماز میں حاضر ہونے کی تکلیف دی جائےجو اُن کے غیر کے ذریعہ سے منعقد ہوئی ہے تو اُن غیروں کی نماز صحیح اور مجزی وکافی ہو۔
مسئلہ243:جس شخص پرنماز جمعہ کاپڑھنا واجب نہ ہو ،اس کے لیے نماز ظہر کااول وقت میں پڑھنا جائز ہے ،اگرچہ اس وقت وہاں نماز جمعہ ہورہی ہو،اس میں تاخیر کرنا واجب نہیں ہے،یہاں تک کہ جمعہ ختم ہوجائے،اور اگر وہ اس کے بعد جمعہ میں حاضر ہو تو اس پر نماز جمعہ کاپڑھنا واجب نہیں ہے ،نا واجب تعیینی کے طور پر اور ناہی واجب تخییری کے طور پر۔
نماز جمعہ کاطریقہ:
نماز جمعہ نماز صبح کی طرح دورکعت ہے،اس کی دورکعت پڑھنے سے نماز ظہر ساقط ہوجاتی ہے ،ہر اس شخص سے جس پر نماز جمعہ کاپڑھنا واجب تعیینی ہو یاواجب تخییری ہو یا مستحب ہو۔
یہ نماز جماعت کے بغیر نہیں ہوتی،اس کے لیے گزشتہ شرائط والے پانچ افراد ہوں ،اس سے قبل دو خطبے ہوں ،ان میں سے ہرایک میں اللہ تعالی کی حمد و ثنا ، رسول خداﷺ اورآپؐ کی پاک آل پر درودوسلام ،لوگوں کو وعظ و نصیحت ،اور قرآن مجید کی ایک سورہ کی قرائت ہو، اگرچہ وہ سورہ چھوٹی سی ہو،دونوں خطبوں کےدرمیان فاصلہ کاہونا واجب ہے جسے عرف فاصلہ کہے،جیسے ایک دفعہ بیٹھنایا سکوت اختیار کرنا،جیسا کہ بناء بر احتیاط کے واجب ہے کہ خطیب اپنی قدرت کے مطابق خطبہ کے دوران کھڑا ہو،جیسا کہ بناء بر احتیاط کےواجب ہے کہ زوال کے وقت دونوں خطبوں کوشروع کرئے ،زوال سے قبل خطبوں کاشروع کرنا جائز نہیں ہے۔
مسئلہ244:نماز جمعہ سے پہلے دوخطبےپڑھے پس ان دو خطبوں کانماز کے بعد واقع کرنا جائز نہیں ہے،اور ناہی نماز کاان دوخطبوں کے درمیان میں واقع کرناجائزہے۔
مسئلہ245:واجب نہیں ہے کہ خطبہ دینے والا نماز میں امام جماعت ہو ،جیساکہ واجب نہیں ہے کہ خطیب اور امام جماعت دونوں یاان میں سے کوئی ایک عادل ولی عام ہو ،چہ رسد نوبت بہ امام معصوم علیہ السلام۔
مسئلہ246:نماز جمعہ کی قرائت میں جہر واجب ہے،جمعہ کے دن کی نمازظہر کی قرائت میں جہر واجب نہیں ہے بلکہ اس میں اخفات احوط ہے۔