اساسى | | رسالہ عمليہ | باب نماز
باب نماز

شارك استفتاء

فرض نمازوں کی تعداد،وقت اور جملہ احکام

فرض نمازوں کی تعداد:

اصل شریعت میں  فی الجملہ سات نمازیں  واجب ہیں:

1۔یومیہ،پنجگانہ نمازیں(نمازصبح،نمازظہر،نمازعصر،نمازمغرب،نماز عشاء)۔

نماز جمعہ انہی میں درج ہے ،نماز جمعہ واجب تعیینی ہے،مگر جب کوئی مانع پیداہوجائے،جب نماز جمعہ اپنی شرائط کے ساتھ قائم کی جائے تو نماز ظہر سے مجزی اور مبری الذمہ ہوگی۔

نماز صبح دورکعت،نمازظہرچاررکعت،نماز عصر چار رکعت،نمازمغرب تین رکعت،نماز عشاء چاررکعت ۔

سفر اور خوف میں ہر چار رکعتی نماز دو رکعت ہوجاتی ہے ،اسے نماز قصر کہتے ہیں۔

2۔نماز طواف۔

3۔نماز آیات ۔

4۔نماز میت۔

5۔نماز نذر (نماز عہد ونماز یمین ونماز اجارہ)۔

6۔نماز عیدین ۔

7۔باپ کی بڑے بیٹے پر قضاء نمازیں۔

فرض نمازوں کے اوقات:

نماز ظہرین کاوقت:زوال آفتاب سے غروب آفتاب تک۔

نماز ظہر کا مخصوص وقت:زوال کے بعد اتناہے کہ جس میں نماز ظہر اداہوجائے۔

نماز عصر کامخصوص وقت:غروب سے پہلے اتناہے کہ جس میں نماز عصر ادا ہو جائے ۔

ان دونوں کے درمیان کاوقت، نماز ظہر اورنماز عصر کا مشترک وقت ہے۔

نماز مغربین کاوقت :  مختار شخص کےلیے مغرب سے لےکر نصف رات تک ہے۔

نماز مغرب کا مخصوص وقت:مغرب کے اول وقت سے لےکر اتناوقت جس میں نماز مغرب اداہوجائے۔

نماز عشاء کامخصوص وقت: نصف رات  سے پہلے اتناہے کہ جس میں نماز عشاء اداہوجائے۔

ان دونوں کے درمیان کاوقت  نماز مغرب  اورنماز عشاء  کا مشترک وقت ہے۔

 لیکن ،جو نیند یا فراموشی یاحیض یاکسی وجہ سے مجبور ہو ،اُس کے لیے ان دونوں کاوقت فجر صادق تک بڑھ جاتاہے،عامد شخص کے لیے احتیاط واجب ہےکہ  نصف رات کے بعد طلوع فجر سے قبل ما فی الذمہ کی نیت سے ،ان دونوں کو بجالانے میں جلدی کرئے۔

نماز صبح کاوقت:طلوع فجرصادق سے لےکر طلوع آفتاب تک ہے۔

مسئلہ160:فجرصادق،وہ سفیدی ہے جو افق میں ظاہر ہوتی ہے،جس سے جلاء اور روشنی میں اضافہ ہوتاجاتاہے،اس سے قبل فجر کاذب ہوتی ہے ،جو افق سے مستطیل سفیدی  کی صورت میں ہوتی ہے ،جوعمود کی صورت میں آسمان کی طرف بلند ہوتی ہے،اس کا شرعی کوئی اعتبار نہیں ہے۔

مسئلہ161:زوال،قرص آفتاب کا ، نصف النہار کے دائرہ سے خارج ہونا اور یہ طلوع آفتاب اور اس کے غروب کے درمیان کاوقت ہے،زوال کے حصول کے لیے یہ کم عرصہ حساب ہوتاہے،اس کی ابتداء کاوقت معتدل  شاخص کے سائیہ کاختم ہونے  کے بعد بڑھناہے۔

مسئلہ162:نمازظہر کے مخصوص  وقت سے مراد یہ ہےکہ اس کے اول وقت میں نماز عصر کاپڑھنا صحیح نہیں ہے،یعنی جب جان بوجھ کر صحیح طریقہ سے نماز ظہر   پڑھے بغیر     نماز عصر پڑھ لے تواس کی  نماز عصرادا  نہیں ہوگی،اور اگر بھول کر ایسا کرئے تونماز عصر ہوجائے گی،اگرچہ احوط یہ ہے کہ اس کے بعد  نماز ظہردوبارہ سے  پڑھے اوربعدازاں نماز عصر بھی  پڑھے،اوراگر نماز عصرکے دوران  یاد آجائے کہ نماز ظہر پڑھی ہی نہیں ہے تو فوراً دل میں نماز ظہر کی نیت کرلے اور اس کے بعد میں نماز عصر پڑھ لے،اور اگر نماز عصر کے بعد میں یاد آئے کہ نماز ظہر تو پڑھی ہی نہیں ہے، تواس کے بعد میں نماز ظہر پڑھ لے۔

مسئلہ163:مغربین کے  بارے میں وہی  کلام  ہے جو ظہرین کے بارے میں    سابقہ مسئلہ میں بیان  کردی ہے،لیکن توجہ رہے کہ عشاء کا مخصوص  وقت  مختار شخص کے لیےنصف رات سے قبل  اور مجبور شخص کے لیے فجر سے قبل ہے۔

مسئلہ164:جب اول وقت سے اختیاری نماز کے ادا  کا وقت گزر جائے اور وہ اس وقت میں نماز ادانہ کرئے،پھر اسے تکلیف سے مانع عذروں میں سے کوئی ایک عذر عارض ہو جائے تو اس پر قضاء واجب ہے ،وگرنہ قضاء واجب نہیں ہوگی۔

مسئلہ165:وقت سے قبل نماز پڑھناجائز نہیں ہے،اور نہ ہی وہ مجزی اور مبری الذمہ ہوتی ہے مگرجب  اسے وقت کے دخول کاعلم ہویا اس کے لیے بینہ قائم ہوا ہو ،البتہ اس مسئلہ کی بابت اطمینان ہی کافی ہے ،بلکہ  وقت کے دخول کاوثوق کافی ہے، جیسے ثقہ اور اوقات نماز جاننے والے کی اذان کا سن لینا کافی ہے بلکہ اس مؤذن کی مطلق  خبر ہی کافی سمجھی جائے گی۔

مسئلہ166:نماز ظہرین کے درمیان ترتیب واجب ہے،یعنی پہلے نمازظہر ادا کرئے  ،یہی حکم نماز مغربین کاہے ،یعنی پہلے نماز مغرب پڑھے،اور جب جان بوجھ کر اس کےبر عکس کرئے گاتو نماز دوبارہ سے پڑھے گا۔

 

شارك استفتاء

باب نماز

مقدمہ

اہل بیت علیہم السلام سے بہت زیادہ روایات  وارد ہوئی ہیں ،جو نماز کی اہمیت ،وجوب ،فضیلت ،عظمت  کی تاکید کرتی  ہیں ،اوراُن میں  نماز کے ایسے فوائد بیان ہوئے ہیں،جن کاتعلق خود نمازگزاراور معاشرے کے لوگوں کے ساتھ ہے،ان احادیث کے مضامین یہ ہیں:

نماز دین کاستون ہے۔

جس کی نماز قبول ہوگئی اس کے  دوسرے سب اعمال قبول ہوجائیں گےاور جس کی نماز رد کردی گئی تواس کے دوسرے اعمال رد کردیئے جائیں گے۔

نماز ہر متقی کو اللہ کے قریب کرتی ہے ۔

اس سے انسان کے درجات بلند ہوجاتے ہیں۔

انسان دنیاوی مصروفیات سے دور ہوجاتاہے۔

انسان اپنے پروردگار سے خلوت کرتاہے۔

انسان بنفس نفیس اپنے پروردگار سے مناجات کرتاہے ۔

روایت میں ہے ،امام جعفر صادق علیہ السلام  کی وفات کاوقت قریب ہوا تو آپ نے اپنے اہل بیت کو اکٹھاکیا اور فرمایا:لَاتَنَالُ شَفَاعَتُنَا مُسْتَخِفاً بِصَلَاتِہٖ۔ نماز کو خفیف شمار کرنے والے کو ہماری شفاعت نصیب نہیں ہوگی۔

نیز فرمایا:ہمارے شیعوں کی نماز کے اوقات میں آزمائش کرو ،اس لیے کہ مسلمان کی اپنے پروردگار سے دوستی اور فرمانبرداری کانماز کی طرف جلدی سے بڑھنے سے امتحان لیا جاتاہے۔

ایک اور حدیث میں ہے:مؤمن اور کافرکے درمیان نماز ہی کافرق ہے،قرآن مجید میں متعدد آیات میں نماز کی تاکید کی گئی ہے،نماز کے ثمرات اور فوائد میں سے ہے :

یہ بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے،جب امام علیہ السلام سے پوچھاگیا کہ کیسے معلوم ہوکہ ہماری نماز قبول ہوگئی ہے، تو امام علیہ السلام نے فرمایا:جس قدر بے حیائی اور برائی سے رکتے ہو،اتنی مقدار آپ کی نماز قبول ہے۔

آپؐ نماز کے وقت کاانتظار بڑے شوق سے کرتے تھے تاکہ آپؐ اپنے پروردگار سے خلوت کریں،اور اپنے مؤذن بلالؒ کو کہتے تھے کہ: اے بلالؒ !

ہمیں  آرام و سکون دلاؤ۔

اس نماز کا،دنیاوآخرت میں ،فرداور معاشرے پر بہت گہرااثر پڑتاہے ۔

 

1 2 3 4 5
المجموع: 42 | عرض: 41 - 42

دفتر مرجع عالیقدر

شیخ محمد یعقوبی (دام ظلہ) -اپنا استفتاء ارسال کیجیئے

نجف اشرف