افعال نماز اور اس کے متعلقات:
اذان اور اقامت
پنجگانہ نمازوں کے لیے اذان اور اقامت مستحب مؤکدہے،خواہ اداہویاقضاء ہو ،سفر میں ہو یا حضر میں ہو ،نماز پوری ہویانماز قصر ہو،صحتیاب ہویا مریض ہو ،جماعت کے ساتھ پڑ ھےیا اکیلے پڑھے،مرد ہویاعورت ہو ۔
ادا نمازوں میں اس کی تاکید زیادہ ہے،خصوصاً نماز مغرب اور نماز صبح،مردوں کےلیے اقامت کی بہت زیادہ تاکید ہوئی ہے،بلکہ ان کےلیےاحتیاط مستحب ہے کہ اسے بجالائے ،نوافل اور یومیہ فرائض کے علاؤہ دوسرے فرائض مانند نماز آیات ، میں اذان واقامت نہیں ہے۔
اذان
اللہُ اَکْبَرُ ، اللہُ اَکْبَرُ ، اللہُ اَکْبَرُ ، اللہُ اَکْبَرُ ۔
اَشْھَدُ اَنْ لَّاْ اِلٰہَ اِلَّاْاللہُ ۔
اَشْھَدُ اَنْ لَّاْ اِلٰہَ اِلَّاْاللہُ ۔
اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًارَّسُوْلُ اللہِ۔
اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًارَّسُوْلُ اللہِ۔
اَشْھَدُ اَنَّ اَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اِمَامَ الْمُتَّقِیْنَ عَلِیّاً وَلِیُّ اللہِ وَصِیُّ رَسُوْلِ اللہِ وَ خَلِیْفَتُہٗ بِلَافَصْلٍ۔
اَشْھَدُ اَنَّ اَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اِمَامَ الْمُتَّقِیْنَ عَلِیّاً وَلِیُّ اللہِ وَصِیُّ رَسُوْلِ اللہِ وَ خَلِیْفَتُہٗ بِلَافَصْلٍ۔
حَیَّ عَلیٰ الصَّلَاۃِ۔
حَیَّ عَلیٰ الصَّلَاۃِ۔
حَیَّ عَلیٰ الْفَلَاحِ۔
حَیَّ عَلیٰ الْفَلَاحِ۔
حَیَّ عَلیٰ خَیْرِ الْعَمَلِ۔
حَیَّ عَلیٰ خَیْرِ الْعَمَلِ۔
اللہُ اَکْبَرُ ، اللہُ اَکْبَرُ ۔
لَاْاِلٰہَ اِلَّااللہُ۔
لَاْاِلٰہَ اِلَّااللہُ۔
دعا بعد از اذان
اَللَّھُمَّ اجْعَلْ قَلْبِیْ بَاراً وَّ عَمَلِیْ سَاراً وَّ عَیْشِی قَاراً وَّ رِزْقِیْ دَاراً وَّ اَوْلَادِیْ اَبْرَاراً وَّ اجْعَلْ لِیْ عِنْدَ قَبْرِ نَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ ﷺ مُسْتَقَرّاً وَّ قَرَاراً بِرَحْمَتِکَ یَااَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ۔
اقامت
اللہُ اَکْبَرُ ، اللہُ اَکْبَرُ ۔
اَشْھَدُ اَنْ لَّاْ اِلٰہَ اِلَّاْاللہُ ۔
اَشْھَدُ اَنْ لَّاْ اِلٰہَ اِلَّاْاللہُ ۔
اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًارَّسُوْلُ اللہِ۔
اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًارَّسُوْلُ اللہِ۔
اَشْھَدُ اَنَّ اَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اِمَامَ الْمُتَّقِیْنَ عَلِیّاً وَلِیُّ اللہِ وَصِیُّ رَسُوْلِ اللہِ وَ خَلِیْفَتُہٗ بِلَافَصْلٍ۔
اَشْھَدُ اَنَّ اَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اِمَامَ الْمُتَّقِیْنَ عَلِیّاً وَلِیُّ اللہِ وَصِیُّ رَسُوْلِ اللہِ وَ خَلِیْفَتُہٗ بِلَافَصْلٍ۔
حَیَّ عَلیٰ الصَّلَاۃِ۔
حَیَّ عَلیٰ الصَّلَاۃِ۔
حَیَّ عَلیٰ الْفَلَاحِ۔
حَیَّ عَلیٰ الْفَلَاحِ۔
حَیَّ عَلیٰ خَیْرِ الْعَمَلِ۔
حَیَّ عَلیٰ خَیْرِ الْعَمَلِ۔
قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ۔
قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ۔
اللہُ اَکْبَرُ ، اللہُ اَکْبَرُ ۔
لَاْاِلٰہَ اِلَّااللہُ۔
مسئلہ183:
چند موارد میں اذان واقامت ساقط ہے:
اول۔جو شخص آئے اور دیکھے کہ اذان واقامت کے بعد ،نماز جماعت ہورہی ہے ، اگرچہ اس نے اذان واقامت نہیں سنی ،اس سے اذان واقامت ساقط ہوگی۔
دوم۔جوشخص ایک جماعت کے بعد چاہے کہ ایک جماعت کے بعد دوسری جماعت ہو جائے ،پہلی جماعت کے لیے اذان واقامت دی گئی ہو اور ان میں سے ایک پہلی میں شریک ہو تو یہاں اذان واقامت ساقط ہوگی۔
سوم۔جوشخص جماعت کے متفرق ہونے سے قبل مسجد میں داخل ہو خواہ اس نے پیش نماز کی حیثیت سے نماز پڑھی ہویامقتدی یاانفرادی حیثیت سے نماز پڑھی ہو ، بشرطیکہ عرف مکانی میں اتحاد ہو۔
چہارم۔پیش نماز سے اذان واقامت ساقط ہے ،جب کوئی مقتدی اذان واقامت پڑھ دے ،اگرچہ اس نے انہیں نہ سناہو ۔
پنجم۔جب کوئی شخص اذان واقامت سنے ،خواہ پیش نماز ہویا مقتدی ہو یاانفرادی نماز اداکرنے والا ہو تو اُس شخص سے اذان واقامت ساقط ہے۔
مسئلہ184:اذان واقامت کی اٹھارہ فصلیں ہیں:
اللہُ اَکْبَرُ ،چار مرتبہ،پھر اَشْھَدُ اَنْ لَّاْ اِلٰہَ اِلَّاْاللہُ،دومرتبہ،اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًارَّسُوْلُ اللہِ،دومرتبہ،پھر اَشْھَدُ اَنَّ اَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اِمَامَ الْمُتَّقِیْنَ عَلِیّاً وَلِیُّ اللہِ وَصِیُّ رَسُوْلِ اللہِ وَ خَلِیْفَتُہٗ بِلَافَصْلٍ،دومرتبہ،
پھر حَیَّ عَلیٰ الصَّلَاۃِ،دومرتبہ،پھرحَیَّ عَلیٰ الْفَلَاحِ دومرتبہ، حَیَّ عَلیٰ خَیْرِ الْعَمَلِ دومرتبہ، پھر اللہُ اَکْبَرُ دومرتبہ ،پھر لَاْاِلٰہَ اِلَّااللہُ دومرتبہ ۔
اقامت ،اسی طرح سے ہے،مگر اس کی فصلیں دو دو کرکے پڑھی جاتی ہیں ،سوائے لاالہ الااللہ کے اسے اقامت کے آخر میں ایک مرتبہ پڑھا جاتاہےاور حی علی خیرالعمل کے بعد دومرتبہ قد قامت الصلاۃ پڑھا جاتاہے،اس کی سترہ فصلیں ہیں ،آپ ؐ کے نام گرامی کے ذکر کے ساتھ درود شریف پڑھاجائےاور اذان وغیرہ میں اللہ و رسول کی گواہی کے بعد امیر المؤمنین علیہ السلام کی ولایت کی گواہی دی جائے،اور اسے درود وسلام سے مکمل کیاجائے۔
مسئلہ 185:اذان واقامت کے شرائط:
اول۔نیت،اول تاآخر دل یاذہن میں قصد کرئے ۔
یہ عادۃ ً حاصل ہوتی ہے،اس سے زیادہ بیان کی نیاز نہیں ہے ۔
دوم۔عقل،مجنون کی اذان واقامت درست نہیں ہے۔
سوم۔ایمان ۔
چہارم۔مذکر ہو،عورتوں کی اذان واقامت مردوں کےلیےکافی نہیں ہے، حتی کہ بناء بر احتیاط کے محارم کے لیے بھی کافی نہیں ہے۔
عورت کی عورت کے لیے اذان واقامت مجزی ہے ۔
پنجم۔ترتیب،یعنی پہلے اذان اورپھر اقامت کہی جائے،یہی حکم ان کی فصلوں کے پڑھنے کاہے۔
ششم۔موالات ،ان دونوں کے درمیان ،ان کی فصلوں کے درمیان،ان دونوں اور نماز کے درمیان موالات۔
ہفتم۔عربیت،اس کے قواعد کاخیال رکھاجائے،خاص کرکے اُن قواعد کا جن کوترک کرنے سے معنی تبدیل ہوجاتاہے۔
ہشتم۔وقت کاداخل ہونا،قبل از وقت ان کا پڑھنا صحیح نہیں ہے۔
مسئلہ186:جو اذان اور اقامت کویاان میں سے کسی ایک کوجان بوجھ کر ترک کردےاور نماز کےلیے تکبیرۃ الاحرام کہہ دے تو اس کےلیے نماز کاتوڑنا اور دوبارہ نماز کا شروع کرنا بناء بر احتیاط کے جائز نہیں ہے اور اگر بھول کر انہیں ترک کردےتو اس کے لیے مستحب ہے کہ اگر رکوع تک نہیں پہنچاتو نماز کوتوڑ کراذان واقامت کہہ کر نماز پڑھےاور اگر ان دو میں سے کسی ایک کو بھول جائےیا کسی فصل کو پڑھنا بھول جائےتواس کےلیے نماز کوتوڑدینا جائز نہیں ہے ،مگریہ کہ وہ صرف اقامت کو بھول جائے،ظاہر ہے اس کاجواز تب ہےجب قرائت سے قبل یاد آجائے،بلکہ یہی حکم قرائت کے بعد اوررکوع سے قبل کاہے،لیکن رکوع میں اور رکوع کے بعد یاد آئے تواحتیاط واجب ہے نماز کوجاری رکھے۔