اساسى | | رسالہ عمليہ | باب نماز
باب نماز

شارك استفتاء

قرائت:

ہر نماز کی پہلی رکعت میں اور دوسری رکعت میں سورہ فاتحہ کا پڑھناواجب ہے خواہ نماز فرض ہویا نافلہ ہو اور خصوصاً  فرض نماز میں سورہ فاتحہ کے بعد ایک کامل سورہ کاپڑھنا بناء براحتیاط کے واجب ہے۔

مسئلہ193:ایسی سورتوں کانماز میں پڑھناجائز نہیں ہے ،جن کے پڑھتے پڑھتے نماز کاوقت ہی گزر جائے،اگر انہیں پڑھے ،بلکہ اگر یہ جانتے بوجھتے ہوئے ان کو شروع کردے تواس کی نماز باطل ہوجائے گی۔

مسئلہ 194:احتیاط کی بناء پر فرض نماز میں واجب سجدے والی سورتوں میں سے کسی ایک کاپڑھنا جائز نہیں ہے۔

مسئلہ195:بسم اللہ قرآن مجید کی ہر سورہ کا جزء ہے ،مگر یہ اس سورہ کی آیت نہیں  ہے سوائے سورہ فاتحہ کے،اس کا نماز میں سورہ فاتحہ کے ساتھ پڑھنا واجب ہے،سوائے سورہ توبہ کے،جب کسی سورہ کو پڑھنے کےلیے معین کرلے تو کسی دوسری سورہ کاپڑھنا جائز نہیں ہے مگر اس کے لیے دوبارہ سے بسم اللہ کو پڑھا جائے،جب کسی سورہ کی تعیین کے بغیر بسم اللہ کوپڑھے ولواجمالاً تو اس کااعادہ واجب ہے اور اسے خاص سورت کےلیے معین کرئے۔

مسئلہ 196:احتیاط واجب ہے،سورہ فیل اور سورہ ایلاف کو نماز میں ترک کیاجائے ،یہی حکم سورہ  الضحی اور سورہ الم نشرح کاہے۔

 

شارك استفتاء

قیام:

یہ تکبیرۃ الاحرام ، قیام متصل بہ رکوع کی حالت میں نماز کا واجب رکن  ہے ، جو شخص  بیٹھ کر عمداً یا سہواً تکبیرۃ الاحرام کہتا ہے اس کی نماز باطل ہوجاتی ہے ،یہی حکم ہے جب کوئی شخص سہواً بیٹھ کر رکوع کرئے یا قوس کی حالت میں بیٹھ کر رکوع کے لیے کھڑا ہو ۔

ان دو مورد کے غیر میں قیام واجب غیر رکنی ہوتاہے جیسے رکوع کے بعد کاقیام اور قرائت کی یا تسبیح کی حالت کا قیام ۔

جب سہواً بیٹھ کر قرائت کی جائے یا بیٹھ کر تسبیح پڑھے اور پھر کھڑاہو اور قیام سے رکوع کرئے پھر متوجہ ہو تو اس کی نمازصحیح ہوگی اور یہی حکم ہے جب رکوع کے بعد قیام بھول جائے یہاں تک کہ دونوں سجدے کرلے۔

مسئلہ 191:جہاں تک ممکن ہو قیام میں معتدل اور سیدھا کھڑا ہونا واجب ہے ،اگر عمداًجھکاہواہویا دونوں جانبوں  میں سے کسی ایک کی طرف مائل ہو تواس کی نماز باطل ہوگی،خاص کرکے اگر اس حالت میں قرائت کوجاری رکھے۔

مسئلہ 192:قیام میں تکبیرۃ الاحرام اور قرائت کے وقت طمانیہ واجب ہے یعنی اطمینان کی حالت میں رہے ،احوط ہے کہ اپنے قدموں پر کھڑا ہو،جب تک کہ اسے ترک کرنے کاکوئی صحیح یاعقلائی جوا ز  نہ ہو ،احوط ہے کہ قیام میں استقلال ہو اور کسی عصا یا دیوار یاانسان کاسہارا نہ لیاجائے ،جب تک اسے ترک کرنے کا صحیح یا عقلائی سبب نہ ہو۔ 

شارك استفتاء

تکبیرۃ الاحرام:

اسے افتتاحی تکبیر کہتے ہیں ،اس کی صورت یہ ہے:(اللہ اکبر)اس کا مترادف کہنا اور اس کا دوسری زبان میں ترجمہ کرکے کہنا درست نہیں ہے ،جب اللہ اکبر کہہ دیں تو   اب  نمازگزار  پر ہر وہ شے حرام ہوجائے گی جس کا بجالانا نمازگزار کےلیے جائز نہیں  ہے یعنی منافیات نماز۔

احتیاط یہ ہےکہ ،ایسا تکبیر کی ابتداء سے ہی کیا جائے اور یہ تکبیر نماز کا واجب رکن  ہے، اس  تکبیرۃ الاحرام میں عمداً و سہواً کمی ،بیشی کرنے سے نماز باطل ہوجاتی ہے ، اگراسے دوسری دفعہ بجالایاجائے تونماز باطل ہوجائے گی پھر تیسری بار کہنی پڑے گی ،اگر چوتھی دفعہ بجالایاجائے تو بھی نماز باطل ہوجائے گی ،پھر پانچویں بار کہنی پڑے گی اسی طرح جفت سے نماز باطل اور طاق سے نماز صحیح ہوتی رہے گی۔

مسئلہ 189:احتیاط واجب ہےکہ،اسے پہلے والی کلام ،دعا وغیرہ سے وصل نہ کیاجائے اور نہ ہی بعد والی کلام بسم اللہ وغیرہ سے وصل کیاجائے۔

مسئلہ190:اس میں قیام تام واجب ہے،اسے عمداً یاسہواً ترک کرنے سے نماز باطل ہوجاتی ہے،خواہ   وہ ماموم ہو جس نے امام کو رکوع کی حالت میں درک کیاہو یااس کا غیر ہو ،بلکہ فی الجملہ انتظار کرنا واجب ہے یہاں تک کہ تکبیر کے قیام تام میں وقوع کا علم حاصل ہوجائے۔

 

شارك استفتاء

واجبات نماز:

واجبات نماز گیارہ ہیں :

نیت،تکبیرۃالاحرام،قیام،قرائت، ذکر،رکوع،سجود،تشہد،سلام،ترتیب،

موالات،ان میں سے چار ارکان ہیں جن میں جان بوجھ کر یا بھول کر کمی و بیشی سے نماز باطل ہوجاتی ہے :

تکبیرۃ الاحرام،بعض حالات  میں قیام،رکوع اور سجودیعنی دونوں سجدے۔

نیت ،اگرچہ اس کی زیادت کافرض ممکن نہیں ہے،مگر یہ اہم ارکان میں سے ہے کیونکہ اس کی کمی سے نماز باطل ہوجاتی ہے،اگرچہ نادانی یا فراموشی  کی وجہ سے ہی کیوں نہ ہو ،باقی واجبات غیر رکنی ہیں،جن کے بھول کرکم و زیادہ کرنے سے نماز باطل نہیں ہوتی ہے ،ان تمام واجبات کو ایک مستقل فصل میں ذکر کرتے ہیں۔

نیت:یعنی فعل کےبجالانے کا قصد اور ارادہ!

 جو  اللہ سبحانہ کے امر  کو انجام دینے  کاباعث ہویا اس کی بارگاہ میں  تقرب معنوی کاسبب ہو یا اس کی رضا کی طلب کے لیے ہو یا اس کی ناراضگی سے اجتناب کا موجب ہو یا اس لیے کرئے کہ وہ لائق عبادت ہے ،ان میں سے جو قصد ہو کافی ہورہے گا۔

مسئلہ187:نیت کاتلفظ کرنا واجب نہیں ہے ،اس طرح ذہن میں نیت کی تفصیلات  کالانا بھی واجب نہیں ہے ،بلکہ کافی ہے کہ جان لے کہ کونسا عمل بجالارہاہے،جیسے دوسرے عرفی عمل انجام دیئے جاتے ہیں،اس حیثیت سے کہ اگر اس سے پوچھاجائے کہ کیا کررہے ہوں تواس کی تمام تفصیلات بتائے گا۔

مسئلہ188:جس   نماز کو پڑھنے کاارادہ ہو ،اس نماز کی تعیین کرنا معتبر ہے،جب وہ صلاحیت رکھتی ہو کہ اسے دو متمیز وجہ میں سے ایک کے مطابق بجا لایا جا سکے ، تعیین اجمالی کافی ہے جیسے وہ عنوان جس سے ذمہ مشغول رہے (جب وہ متحد ہو)یا جو اولاً مشغول ہے (جب وہ متعدد ہو)یااس کی مثل۔

 

شارك استفتاء

افعال نماز اور اس کے متعلقات:

اذان اور اقامت

پنجگانہ نمازوں کے لیے اذان اور اقامت مستحب مؤکدہے،خواہ اداہویاقضاء ہو ،سفر میں ہو یا حضر میں ہو ،نماز پوری ہویانماز قصر ہو،صحتیاب ہویا مریض ہو ،جماعت کے ساتھ پڑ ھےیا اکیلے پڑھے،مرد ہویاعورت ہو ۔

ادا نمازوں میں اس کی تاکید زیادہ ہے،خصوصاً نماز مغرب  اور نماز صبح،مردوں کےلیے اقامت کی بہت زیادہ تاکید ہوئی ہے،بلکہ  ان کےلیےاحتیاط مستحب ہے کہ اسے بجالائے ،نوافل اور یومیہ فرائض کے علاؤہ دوسرے فرائض مانند نماز آیات ، میں اذان واقامت  نہیں ہے۔  

اذان

اللہُ اَکْبَرُ ، اللہُ اَکْبَرُ ، اللہُ اَکْبَرُ ، اللہُ اَکْبَرُ  ۔

اَشْھَدُ اَنْ لَّاْ اِلٰہَ اِلَّاْاللہُ ۔

اَشْھَدُ اَنْ لَّاْ اِلٰہَ اِلَّاْاللہُ ۔

اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًارَّسُوْلُ اللہِ۔

اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًارَّسُوْلُ اللہِ۔

اَشْھَدُ اَنَّ اَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اِمَامَ الْمُتَّقِیْنَ عَلِیّاً وَلِیُّ اللہِ وَصِیُّ رَسُوْلِ اللہِ وَ خَلِیْفَتُہٗ بِلَافَصْلٍ۔

اَشْھَدُ اَنَّ اَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اِمَامَ الْمُتَّقِیْنَ عَلِیّاً وَلِیُّ اللہِ وَصِیُّ رَسُوْلِ اللہِ وَ خَلِیْفَتُہٗ بِلَافَصْلٍ۔

حَیَّ عَلیٰ الصَّلَاۃِ۔

حَیَّ عَلیٰ الصَّلَاۃِ۔

حَیَّ عَلیٰ الْفَلَاحِ۔

حَیَّ عَلیٰ الْفَلَاحِ۔

 حَیَّ عَلیٰ خَیْرِ الْعَمَلِ۔

حَیَّ عَلیٰ خَیْرِ الْعَمَلِ۔

اللہُ اَکْبَرُ ، اللہُ اَکْبَرُ ۔

لَاْاِلٰہَ اِلَّااللہُ۔

لَاْاِلٰہَ اِلَّااللہُ۔

دعا بعد از اذان

اَللَّھُمَّ اجْعَلْ قَلْبِیْ بَاراً وَّ عَمَلِیْ سَاراً وَّ عَیْشِی قَاراً وَّ رِزْقِیْ دَاراً وَّ اَوْلَادِیْ اَبْرَاراً وَّ اجْعَلْ لِیْ عِنْدَ قَبْرِ نَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ مُسْتَقَرّاً وَّ قَرَاراً بِرَحْمَتِکَ یَااَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ۔

 اقامت

اللہُ اَکْبَرُ ، اللہُ اَکْبَرُ  ۔

اَشْھَدُ اَنْ لَّاْ اِلٰہَ اِلَّاْاللہُ ۔

اَشْھَدُ اَنْ لَّاْ اِلٰہَ اِلَّاْاللہُ ۔

اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًارَّسُوْلُ اللہِ۔

اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًارَّسُوْلُ اللہِ۔

اَشْھَدُ اَنَّ اَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اِمَامَ الْمُتَّقِیْنَ عَلِیّاً وَلِیُّ اللہِ وَصِیُّ رَسُوْلِ اللہِ وَ خَلِیْفَتُہٗ بِلَافَصْلٍ۔

اَشْھَدُ اَنَّ اَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اِمَامَ الْمُتَّقِیْنَ عَلِیّاً وَلِیُّ اللہِ وَصِیُّ رَسُوْلِ اللہِ وَ خَلِیْفَتُہٗ بِلَافَصْلٍ۔

حَیَّ عَلیٰ الصَّلَاۃِ۔

حَیَّ عَلیٰ الصَّلَاۃِ۔

حَیَّ عَلیٰ الْفَلَاحِ۔

حَیَّ عَلیٰ الْفَلَاحِ۔

 حَیَّ عَلیٰ خَیْرِ الْعَمَلِ۔

حَیَّ عَلیٰ خَیْرِ الْعَمَلِ۔

قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ۔

قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ۔ 

اللہُ اَکْبَرُ ، اللہُ اَکْبَرُ ۔

لَاْاِلٰہَ اِلَّااللہُ۔

مسئلہ183:

چند موارد میں اذان واقامت ساقط ہے:

اول۔جو شخص آئے اور دیکھے کہ اذان واقامت کے بعد ،نماز جماعت ہورہی ہے ، اگرچہ اس نے اذان واقامت نہیں سنی ،اس سے اذان واقامت ساقط ہوگی۔

دوم۔جوشخص ایک جماعت کے بعد چاہے کہ ایک جماعت کے بعد دوسری جماعت ہو جائے ،پہلی جماعت کے لیے اذان واقامت دی گئی ہو اور ان میں سے ایک پہلی میں  شریک ہو تو یہاں اذان واقامت ساقط ہوگی۔

سوم۔جوشخص جماعت کے متفرق ہونے سے قبل مسجد میں داخل ہو خواہ اس نے پیش نماز کی حیثیت سے نماز پڑھی ہویامقتدی  یاانفرادی  حیثیت سے نماز پڑھی ہو ، بشرطیکہ عرف مکانی میں اتحاد ہو۔

چہارم۔پیش نماز سے اذان واقامت ساقط ہے ،جب کوئی مقتدی اذان واقامت پڑھ دے ،اگرچہ اس نے انہیں نہ سناہو ۔

پنجم۔جب کوئی  شخص اذان واقامت سنے ،خواہ پیش نماز ہویا مقتدی ہو یاانفرادی نماز اداکرنے والا  ہو تو اُس شخص سے اذان واقامت ساقط ہے۔

مسئلہ184:اذان واقامت کی اٹھارہ فصلیں ہیں:

اللہُ اَکْبَرُ ،چار مرتبہ،پھر  اَشْھَدُ اَنْ لَّاْ اِلٰہَ اِلَّاْاللہُ،دومرتبہ،اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًارَّسُوْلُ اللہِ،دومرتبہ،پھر اَشْھَدُ اَنَّ اَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اِمَامَ الْمُتَّقِیْنَ عَلِیّاً وَلِیُّ اللہِ وَصِیُّ رَسُوْلِ اللہِ وَ خَلِیْفَتُہٗ بِلَافَصْلٍ،دومرتبہ،

پھر حَیَّ عَلیٰ الصَّلَاۃِ،دومرتبہ،پھرحَیَّ عَلیٰ الْفَلَاحِ دومرتبہ، حَیَّ عَلیٰ خَیْرِ الْعَمَلِ دومرتبہ، پھر اللہُ اَکْبَرُ دومرتبہ ،پھر لَاْاِلٰہَ اِلَّااللہُ دومرتبہ ۔

اقامت ،اسی طرح سے ہے،مگر اس کی فصلیں دو دو کرکے پڑھی جاتی ہیں ،سوائے لاالہ الااللہ کے اسے اقامت کے آخر میں ایک مرتبہ پڑھا جاتاہےاور حی علی خیرالعمل کے بعد دومرتبہ قد قامت الصلاۃ پڑھا جاتاہے،اس کی سترہ فصلیں ہیں ،آپ ؐ کے نام گرامی کے ذکر کے ساتھ درود شریف پڑھاجائےاور اذان وغیرہ میں  اللہ و رسول کی گواہی کے بعد امیر المؤمنین علیہ السلام کی ولایت کی گواہی دی جائے،اور اسے درود وسلام سے مکمل کیاجائے۔

مسئلہ 185:اذان واقامت کے شرائط:

اول۔نیت،اول تاآخر دل  یاذہن میں قصد کرئے ۔

یہ عادۃ ً حاصل ہوتی ہے،اس سے زیادہ بیان  کی نیاز نہیں ہے ۔

دوم۔عقل،مجنون کی اذان واقامت درست نہیں ہے۔

سوم۔ایمان ۔

چہارم۔مذکر ہو،عورتوں کی اذان واقامت مردوں کےلیےکافی نہیں ہے، حتی کہ  بناء بر احتیاط کے محارم کے لیے بھی کافی نہیں ہے۔

عورت کی عورت کے لیے اذان واقامت مجزی ہے ۔

پنجم۔ترتیب،یعنی پہلے اذان اورپھر اقامت کہی جائے،یہی حکم ان کی فصلوں کے پڑھنے کاہے۔

ششم۔موالات  ،ان دونوں کے درمیان ،ان کی فصلوں کے درمیان،ان دونوں اور نماز کے درمیان موالات۔

ہفتم۔عربیت،اس کے قواعد کاخیال رکھاجائے،خاص کرکے اُن قواعد کا جن کوترک کرنے سے معنی تبدیل ہوجاتاہے۔

ہشتم۔وقت کاداخل ہونا،قبل از وقت ان کا پڑھنا صحیح نہیں ہے۔

مسئلہ186:جو اذان اور اقامت کویاان میں سے کسی ایک کوجان  بوجھ کر ترک کردےاور نماز کےلیے تکبیرۃ الاحرام کہہ دے تو اس کےلیے نماز کاتوڑنا اور دوبارہ نماز کا شروع کرنا بناء بر احتیاط کے جائز نہیں ہے اور اگر بھول کر انہیں ترک کردےتو اس کے لیے مستحب ہے کہ  اگر رکوع تک نہیں پہنچاتو نماز کوتوڑ کراذان واقامت کہہ کر نماز پڑھےاور اگر ان دو میں سے کسی ایک کو بھول جائےیا کسی فصل کو پڑھنا بھول جائےتواس کےلیے  نماز کوتوڑدینا جائز نہیں ہے ،مگریہ کہ وہ صرف اقامت کو بھول جائے،ظاہر ہے اس کاجواز تب ہےجب  قرائت سے قبل یاد آجائے،بلکہ یہی حکم قرائت کے بعد اوررکوع سے قبل کاہے،لیکن رکوع میں اور رکوع کے بعد یاد آئے تواحتیاط واجب ہے نماز کوجاری رکھے۔

 

شارك استفتاء

محل سجود کی بابت مسائل:

مسئلہ177:سجدہ  گاہ میں معتبرہےکہ نمازی اپنی پیشانی  زمین یا نبات یا کاغذ پر رکھے۔

کاغذ میں شرط ہےکہ ایسی جنس سے بنا ہوا نہ ہو جس پر سجدہ کرنا صحیح نہیں ہوتا ہے ،جیسے کیمیاوی  مواد اور لباس اور کپاس وغیرہ۔

مسئلہ178:افضل ہے،سجدہ گاہ خاک شفاء کی بنی ہوئی ہو ،اس کے بارے میں بہت زیادہ فضیلت وارد ہوئی ہے،اس کے بعد میں تربت رضویہ پر سجدہ کرنے کی فضیلت ہے اوراس کے بعد دوسرے معصومین علیہم السلام میں سے ہر کسی کی تربت پر سجدہ کرنے کی فضیلت ہے۔

مسئلہ179:جوشےزمین کے نام سے خارج ہے،اُس پر سجدہ کرنا جائز نہیں ہے جو معدنیات ہیں جیسے سوناو چاندی وغیرہ اور جوشے نبات کے نام سے خارج ہو اُس پر سجدہ کرنا جائز نہیں ہے جیسے خاکستر اور کوئلہ۔

اسی طرح ٹھیکری ،شیشہ ،اینٹ،چونہ اور نورہ  پر بناء بر احتیاط واجب کے ،ان کے جلادینے کے بعد سجدہ کرناجائز نہیں ہے،البتہ ان پر ان کے جلادینے سے قبل سجدہ کرنا جائز ہے۔

مسئلہ180:نبات پر سجدے کے جواز میں معتبر ہے کہ وہ کھائے جانے والی نہ ہو ،جیسے گندم،جو،سبزی پھل وغیرہ ،اور معتبر ہے کہ ملبوس (پہناجانے والا)نہ ہو جیسے کپاس ،کتان اور دھاگا،اگرچہ کاتنے اور بننے سے قبل ہو۔

مسئلہ181:لکھےہوئےکاغذپر سجدہ ہوسکتاہے،جب کتابت رنگ شمار ہو، ٹکڑی  شمار نہ ہو۔

مسئلہ182:نمازی کے مکان اور خاص کرکے سجدہ گا ہ میں معتبر ہےکہ  ایک جگہ پراستقرار کے ساتھ  ہواور اس میں  اضطراب نہ ہو یعنی ہلتی حالت میں نہ ہو،چلتے ہوئے چوپاہےاور جھولے  پر نماز پڑھناجائز نہیں ہے، جس سے استقرار فوت ہو جائے۔

 

شارك استفتاء

نمازی کا مکان

مسئلہ173:نمازفرض ہویا نافلہ ہو ایسے مکان میں جائز نہیں ہے ،جس میں  سات اعضائے سجدہ میں سے کسی ایک کو  غصبی جگہ پر رکھناپڑے۔

وہ جگہ عین کے اعتبار سے غصبی ہو یا منفعت کے اعتبار سے غصبی ہویا اس جگہ پر تصرف جائز نہ ہو ،اس میں اظہر قول کے مطابق فرق نہیں ہے وہ غصب کاعلم رکھتاہو یا غصب کاعلم نہ رکھتا ہو ۔

مسئلہ 174:ایسی زمین پرنماز پڑھناجائز ہے جو کئی لوگوں کی ملکیت میں  ہو ، یہاں  وضواور غسل کرنا اور پانی پینا جائز ہے،جب لوگوں کی عادت ہوکہ وہ ایسے مقام پر یہ امور انجام دیتے ہوں بشرطیکہ  ایسے مقام پر ان استعمالات سے منع نہ ہو اور اس  زمین اور پانی کے مالکان کی طرف سے انکار بھی نہ ہو۔

مسئلہ175:مرداورعورت کی ایک دوسرے کے سامنے نماز پڑھنا:

احتیاط ہے ،نماز کی حالت میں عورت مرد کے آگے  یا اختیاری حالت میں اُس کے سامنے نہ ہو ،بلکہ مرد کے سجدہ کا مقام آگے ہو ،اگرچہ کم از کم   عورت کی سجدہ گاہ سے ایک بالشت آگے ہو ،احتیاط مستحب ہے کہ مرد عورت کی سجدہ گاہ سے تھوڑا سا آگے ہو یاان کے درمیان پردہ ہو یا دس ہاتھ کافاصلہ ہو ،اس میں محرم و غیر محرم  اور میاں و بیوی اور ممیز اطفال کا کوئی فرق نہیں ہے۔

مسئلہ176:معصوم علیہ السلام کی قبر کے آگے کھڑے ہوکر نماز پڑھنا جائز نہیں ہے ،جب اس  سے معصوم علیہ السلام کی عرف میں  ہتک یا  سوء ادب لازم آئے۔

 

شارك استفتاء

شرائط ساتر:

نمازگزار کے  لباس میں چند امور معتبر ہیں:

اول۔نمازگزارکالباس پاک ہو،سوائے چند موارد کے ،جن میں نجاست کونماز میں  معاف قراردیاگیاہے ،اور یہ نجاسات کے احکام میں گزر چکاہے۔

دوم۔نمازی کالباس مباح ہو ،غصبی لباس میں بناء بر  احتیاط لازم   کے نماز پڑھنا جائز نہیں ہے،بشرطیکہ  وہ شرمگاہ کےلیے بالفعل ساتر ہو،اگر غصبیت کے عنوان کو نہ جانتاہو یا غصبیت کے عنوان کو بھول گیاہویا غصبیت کی حرمت سے جاہل ہو اور وہ ایسی جہالت ہو جواس کےلیے عذرہو یا اسے بھول گیاہو یا مجبور ہو اور وہ خود غصب کرنے والا  نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔

سوم۔نمازی کالباس مردارکےاجزاء سےبنا ہوا  نہ ہو، جس میں زندگی حلول کرتی ہے ،اس میں کوئی فرق نہیں اس میں نماز تام ہوتی ہویاتام نہیں ہوتی ہو ،خواہ حلال گوشت جانور سے ہویاحرام گوشت جانور سے ہو ،جو خون جہندہ رکھتے ہیں۔

مسئلہ 170:مردارکے اجزاء کو نمازمیں اٹھایاہواہوتو نماز صحیح ہے ،جب تک کہ اس پر پہننا صادق نہ آئے،جیسے بلٹ،گھڑی کاپٹہ ،گلےکی ڈوری اور آزاربند وغیرہ ،پس یہ لباس سے ہیں ،اسے عرف اٹھایاہوا نہیں کہتی ہے، پس اس کا مردارسے ہوناجائز نہیں ہے۔

چہارم۔نمازی کالباس ایسے جانور کی کھال سے بناہوانہ ہو، جس کا گوشت کھایا نہیں جاتاہے،کوئی فرق نہیں ہے خون جہندہ رکھتاہو یا نہ رکھتاہو ،اس میں زندگی حلول کرتی ہو یااس میں زندگی حلول نہ کرتی ہو ،اس میں نماز تام ہوتی ہو یا اس میں نماز تام نہ ہوتی ہو ،بلکہ    وہ بال جو کپڑے وغیرہ پر گرے ہوئے ہوتے ہیں ،ان کا ممنوع  ہونا بعید نہیں ہے۔

پنجم۔مرد نمازی کا لباس سونے سے بناہوا نہ ہو،اگرچہ زیور ہی کیوں نہ ہو جیسے سونے کی انگوٹھی۔

مسئلہ171:مردوں کے لیےنماز کے علاؤہ بھی سونے کا پہننا جائز نہیں ہے اور جو اسے پہنتاہے وہ گناہگار ہے۔

ششم۔مردوں کےلیے خالص ریشم کا پہننا جائز نہیں ہے ،خواہ نماز ہو یا دوسرے اوقات ،مردکےلیے سونے کی طرح ریشم پہنناجائزنہیں ہے۔

مسئلہ172:مصنوعی ر یشم،خالص ریشم کو شامل نہیں ہے،بلکہ مصنوعی اور خالص  سے مکس شدہ کپڑے کو خالص ریشم شامل نہیں ہے،اس حیثیت سے کہ وہ خالص ریشم کے نام سے خارج ہوجائے۔

 

شارك استفتاء

ستر اور ساتر:

 نماز اور اس کے توابع میں ،جہاں تک ہوسکے   شرمگاہ کاچھپاناواجب ہے ،حتی کہ احتیاط واجب کی بناء پر سجدہ سہو میں بھی شرمگاہ  کاچھپاناواجب ہے ،اگرچہ وہاں آس پاس دیکھنے والا کوئی نہ ہو یا یہ شخص اندھیرے میں نماز اداکررہاہو۔

مسئلہ169:مردکی شرمگاہ  اُس کی آگے ،پیچھے والی جگہ ہے،یعنی اس کا عضو تناسل ،خصیتین،پیٹھ کا حلقہ اور بناء براحتیاط کے ، ان کے درمیان کی جلد جسے عربی میں عجان کہتے ہیں۔

عورت کی شرمگاہ ،اُس کا سر اور بالوں سمیت  سارا بدن ،سوائے اس کے چہرے کی وہ مقدار جسے وضو میں دھویاجاتاہے،سوائے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں اور دونوں قدموں کے ظاہر اور باطن کے۔

ضروری ہے کہ ستر کی حدود سے کچھ زیادہ کو ازباب مقدمہ  کے چھپائے،تاکہ واجب کے حصول کا علم اور یقین حاصل ہوجائے۔

 

شارك استفتاء

قبلہ

اُس جگہ اور مکان کی طرف اجمالی طور پر منہ کرنا واجب ہے ، جس میں کعبہ شریف واقع ہے اور کعبہ کی طرف منہ کرناتب درست ہوتاہے ،جب  کعبہ کی   تعیین ممکن ہو اور اگر کعبہ کی تعیین ممکن نہ ہو تو کعبہ کی  سمت کی طرف  رخ  کریں ،جس سے عرف کہے کہ اس کامنہ کعبہ کی طرف ہے ۔

مسئلہ167:سوائے اس کے نہیں ہے کہ کعبہ ہی کی طرف منہ کرناواجب ہے،جب کوئی شخص دقت سے جان لے کہ میرا منہ کعبہ کی طرف ہے تو اس کے لیے سجدے والی جگہ سے ایک بالشت اختیاراً دائیں و بائیں انحراف کرنا جائز ہے۔

مسئلہ168: قبلہ کی طرف منہ  کرکے نماز پڑھنا واجب ہے ۔

 کعبہ کی شناخت کے چند طریق ہیں:

1۔ اسے کعبہ کی سمت اور جہت کاعلم ہو۔

2۔کعبہ کی سمت اور جہت پر بینہ (گواہ)قائم ہو۔

3۔کعبہ کی سمت اور جہت کی بابت   ثقہ شخص  خبر دے۔

4۔اگر کسی کےہاں  مہمان ہے ،تو  گھر والے  کعبہ کی سمت اور جہت  کی بابت خبردیں۔

5۔ اگر کسی ایسے شخص کے پاس جائے جو اس جگہ کام کرتاہے اور وہ کعبہ کی سمت اور جہت  کی خبر دے ۔

6۔مسلمانوں کے شہر کے قبلہ  پر، اُن کی نمازوں پر ،اُن کی قبروں پر،اُن کے محرابوں پر اعتماد کرنا جائز ہے۔

 

1 2 3 4 5
المجموع: 42 | عرض: 31 - 40

دفتر مرجع عالیقدر

شیخ محمد یعقوبی (دام ظلہ) -اپنا استفتاء ارسال کیجیئے

نجف اشرف