اساسى | | رسالہ عمليہ | باب نماز
باب نماز

شارك استفتاء

تعقیبات نماز:

یہ نماز کے بعد ذکرودعامیں مشغول ہونے کوکہتے ہیں ،جس سے چند یہ ہیں:

1۔سلام کے بعد تین دفعہ رفع یدین کی حالت میں  اللہ اکبر کہنا۔

2۔افضل ہے کہ تسبیح سیدہ فاطمہ زہراء علیہاالسلام پڑھےجس کاطریقہ یہ ہے:

اللہ اکبر 34مرتبہ،الحمدللہ 33مرتبہ ،سبحان اللہ 33مرتبہ،مستحب ہے اس کے بعد ایک مرتبہ کہے:لاالہ الااللہ۔

3۔سورہ فاتحہ،آیۃ الکرسی،آیت شھداللہ ،آیت الملک وغیرہ  کی تلاوت کرناجو تعقیبات نماز والی کتب میں ہیں۔

 

شارك استفتاء

قنوت:

یہ تمام نمازوں میں مستحب ہے ،فرض ہوں یا نافلہ ہوں،جہری فرض نمازوں میں قنوت مستحب مؤکد ہے،خصوصاًنماز صبح،نماز جمعہ،نماز مغرب ،اور نوافل میں سے نماز وتر۔

بلکہ احتیاط مستحب ہےکہ اسے سب فرائض میں ترک نہ کیاجائےکیونکہ نسل درنسل  دیندار مسلمانوں  کی یہی سیرت ہے۔

مسئلہ212:قنوت بھول جائے اور رکوع کےلیےجھک  جائے،اب اگر رکوع کی حد تک پہنچنے سے قبل یاد آجائے تو واپس لوٹ کر قنوت پڑھے،اوراگر رکوع کی حد تک پہنچ کر یاد آئے تو اسے رکوع کے بعد سیدھاکھڑے ہوکر قضاء کے طور پرپڑھے۔

 

شارك استفتاء

 موالات:

یہ نماز کے افعال میں واجب ہےیعنی افعال کے درمیان فاصلہ نہ ڈالاجائے کہ جس سے اہل شرع کی نظر میں نماز کی صورت باقی نہ رہے،اس معنی کے مطابق عدم موالات کی صورت میں نماز باطل ہوجائے گی ،ایسا عمداً کرئے یا سہواً ہوجائے۔

شارك استفتاء

اگر ایسا بغیر کوتاہی کے نادانی یا فرواموشی کی وجہ سےکیاجائے:

اگر رکن کو رکن پر مقدم کرئےجیسے  رکوع سے پہلے دونوں سجدے بجالائے تونماز باطل ہے ،اگر سہواً یا جاہل قاصر کی صورت  میں رکن کو غیر رکن پر مقدم کرئےجیسےقرائت سے پہلے رکوع کرلے اور جسے ترک کیاہے اس کے بجالانے کاموقع محل گزر جائےتو کمی کوپوراکرنے کےلیے سجدہ سہو کرئے،اگر اس پر غیر رکن کو مقدم کرئےتو اس کا تدارک کرئےجس سے ترتیب میں گڑبڑ لازم نہ آئے ،اسی طرح اگر غیرارکان کو ایک دوسرے پر مقدم کرئےتوجب تک رکن میں داخل نہ ہو، تدارک کرئے۔

 

شارك استفتاء

ترتیب:

نماز کے افعال کے درمیان ترتیب واجب ہے،اس طرح جیسے آپ جان چکے ہیں،ترتیب میں عکس کیا جائےاورعمداً  بعد والے فعل کو پہلے اور پہلے والے فعل کو بعد میں اداکیاجائےتو نماز باطل ہوجاتی ہے۔

 

شارك استفتاء

سلام:

سلام ہر نماز میں واجب ہے،اور یہ نماز کے اجزاء میں سے آخری جزء ہے ،اس سے  انسان نماز سے خارج ہوجاتاہے،اور اس پر وہ امور حلال ہوجاتے ہیں ،جن کا نماز میں بجالانا جائز نہیں ہے،اس کے لیے دو صیغہ ہیں:

اول۔اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَ عَلَی عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِیْنَ ۔

دوم ۔اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ ،بااضافہ   وَ رَحْمَۃُ اللہِ وَ بَرَکَاتُہٗ ۔

یہ احتیاط واجب کی بناء پر ہے،ان دو میں سے جسے پڑھاجائے توانسان نماز سے خارج  ہوجاتاہے،جب پہلے کو پڑھے تودوسرا مستحب ہوجاتاہے،دوسرے کو پڑھے تو پہلا مستحب نہیں ہوگا۔

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَاالنَّبِیُّ وَ رَحْمَۃُ اللہِ وَ بَرَکَاتُہٗ

  یہ سلام کے صیغوں میں سے نہیں ہےاور اس سے انسان نماز سے خارج بھی نہیں ہوتاہے بلکہ یہ واجب سلام سے قبل مستحب ہے ،واجب سلام کے بعد مستحب نہیں ہے۔

 

شارك استفتاء

تشہد:

یہ دورکعتی نماز میں دوسری رکعت کے دوسرے سجدہ سے سر اٹھانے کے بعد واجب ہے،واجب ہے کہ اطمینان کے ساتھ بیٹھ کر اسے پڑھاجائے ۔

تین اور چار رکعتی نماز میں دو مرتبہ تشہد پڑھناواجب ہے ،ایک دوسری رکعت کے دوسرے سجدہ کے بعد اور دوسرا آخری رکعت کے دوسرے سجدہ کے بعد انجام دیاجائے،یہ غیررکنی واجب ہے ،اسے جان بوجھ کرترک کرنے سے نماز باطل ہوجاتی ہے اور اگر سہواً چھوٹ جائے تو رکوع میں جانے سے پہلے پہلے بجالائے ، ورنہ نماز کے بعد اس کی قضاء بجالائے،یہ درمیان والے تشہد کے بارے میں ہے ،اگرآخری تشہدچھوٹ جائے اور نمازی سلام میں داخل ہوجائے تو اس کا سلام کے ساتھ اعادہ کرئے ،یہی حکم ہے ،جب  سلام پڑھ لے اور ابھی  نماز کے علاؤہ کسی دوسرے فعل میں داخل نہ ہوا ہو ،   موالات منقطع ہوجائیں تو اس صورت میں اس کی قضاء بجالائے۔

مسئلہ 211:تشہد میں دو گواہیاں دینا واجب ہے اور پھر محمد وآل محمد ﷺ پر صلوات بھیجی جائے،تشہد کویوں پڑھنااحوط ہے:

اَشْھَدُ اَنْ لَّا ِالٰہَ اِلَّااللہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ اَللَّھُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَّ آلِ مُحَمَّدٍ۔

 

شارك استفتاء

سجود:

ہررکعت میں دوسجدے واجب ہیں،دونوں مل کر رکن ہیں ،ان میں کمی و بیشی عمداً یاسہواً کرنے سے نماز باطل ہوجاتی ہے،ایک سجدے کی زیادتی سے نماز باطل نہیں ہوتی اور ایک سجدے کی سہواً کمی سے بھی نماز باطل نہیں ہوتی،سجدہ  یاسجودکے مفہوم کے تحقق میں معیار،اللہ سبحانہ وتعالی کےلیے پیشانی  کا زمین پر رکھناہے۔

واجبات سجود:

اول۔سات اعضاء پر سجدہ کرنا:

پیشانی،دو ہتھیلیاں ،دوگٹنے،دوقدموں کے انگوٹھے۔

مسئلہ207:مذکورہ اعضاء  جو زمین سے مس ہوتے ہیں ،اُن میں کوئی شے معتبر نہیں ہے،جو پیشانی  کی بابت معتبر ہے۔

دوم۔پیشانی  کو ایسی شے پر رکھاجائے جس پر سجدہ کرناصحیح ہے اور وہ زمین ہے یا جوشےزمین سے اگتی ہے اور نا کھائی جاتی ہے اور نا پہنی جاتی ہے۔

سوم۔ذکر پڑھنا جیسا رکوع میں گزر چکاہے اور بڑی تسبیح میں العظیم  کی بجائے الاعلی کہاجائے۔

چہارم۔طمانیہ(اطمینان )اختیار کرنا۔

پنجم۔ذکر کی حالت میں سجدہ کے مقامات اپنی جگہ پر ہوں۔

ششم۔موقف اور پیشانی  کی جگہ مساوی ہو ،مگر یہ کہ ایک اینٹ اور ملی ہوئی چار انگلیوں  جتنا سجدہ کا مقام نیچے ہوسکتاہے۔

ہفتم۔سر سجدہ سے اٹھائیں اور مطمئن حالت میں سیدھے بیٹھ جائیں ،یہ پہلے سجدہ کے آخر میں ہو یا دوسرے سجدہ کے آخر میں ہو ،ہم اس کی مثل رکوع میں بیان کرچکے ہیں ،کہ یہ نماز کے واجبات میں سے ہے ،سجدہ کے واجبات میں سے نہیں ہے۔

ہشتم۔دوسجدے کرنا،اس سے کم نہ ہوں۔

مسئلہ208:جب  تام سجدہ کرنے سے عاجز ہو تو  ممکن مقدار تک جھکے اور سجدہ گاہ کو پیشانی کی طرف بلند کرئےاور اس پر پیشانی  رکھے،احوط ہے کہ  پیشانی  کو ایسی شے پر رکھے جس پر پیشانی  ہلے جلے نہیں بلکہ جم کررہے پس اسے ہاتھ سے روک رکھنا یا دوسرے کے ہاتھ پر سجدہ گاہ رکھ کے سجدہ کرنا کافی نہیں ہے۔

قرآنی سجود کی بابت مسائل:

چار آیات کی قرائت کے وقت سجدہ کرنا واجب ہےاور وہ یہ ہیں:

1۔ سورہ فصلت یعنی حم تنزیل، فصلت کی آیت 37اس سے :اس کی آیات تا تعبدون ۔

2۔ سورہ سجدہ یعنی الم تنزیل، اور سورہ سجدہ کی آیت15 اس سے :انما یؤمن بآیاتنا تا وھم لایستکبرون۔

3۔سورہ نجم، اور سورہ نجم کی آخری آیت 62 ۔

4۔ سورہ  علق  یعنی اقرء، سورہ علق کی آخری آیت 19۔

مسئلہ209:مذکورہ آیات کو پڑھنے اور توجہ سےسننے سے سجدہ واجب ہوجاتاہے ،اگرچہ دونوں نماز میں ہی کیوں نہ ہوں ،اگر صرف آواز سنائی دے رہی ہو تو سجدہ واجب نہیں ہوتاہے ،یہ  احتیاط مستحب کی بناء پر  ہے۔

اس کا وجوب فوری ہے اوراس میں تاخیر گناہ ہے ،مگر وہ تاخیر غفلت یانسیان یاجہل سے ہوجائے،پس اگر یاد آجائے یا علم حاصل ہوجائے تو جتناجلدی ہوسکے، فوراً سجدہ کرناواجب ہے،ورنہ  جیسے ہی امکان پیداہو سجدہ کرے۔

مسئلہ210:اس سجدہ میں افتتاحی تکبیر ،تشہداور سلام نہیں ہوتی ہے۔

اس میں چند چیزوں کا خیال رکھنا شرط نہیں ہے:

 حدث سے طہارت  ہو،خبث سے طہارت ہو،قبلہ کی طرف منہ ہو،مقام سجدہ  پاک ہو ،ستر ہو ،ساتر کی صفات موجود ہوں  ،ماتھازمین پر رکھاہواہو۔

 اس میں ایسی شے پر سجدہ کرنا واجب نہیں ہےجس پر نماز میں سجدہ کرنا صحیح ہوتاہے۔

 

شارك استفتاء

رکوع:

ہر رکعت میں ایک رکوع واجب ہے،خواہ نماز فرض ہو یا نماز نافلہ ہو ،سوائے نماز آیات کے اور نماز میت کے ،رکوع کی عمداً یاسہواً کمی و بیشی سے نماز باطل ہوجاتی ہے،اس میں چند امور واجب ہیں:

اول۔خضوع کے قصد سے یاوظیفہ کے قصد سے یا جزئیت کے قصد سے یابغیر تفصیلی قصد کے جھکنا ،جس سے انگلیوں کے اطراف گٹنوں تک پہنچ جائیں۔

دوم۔ذکر،سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ وَبِحَمْدِہٖ ۔

یا تین مرتبہ سبحان اللہ کافی ہے بلکہ مطلق ذکر کافی ہے یعنی تحمید و تکبیر و تہلیل وغیرہ ،جب وہ تین  مرتبہ کہے جائیں ،اور اس سے کم نہ ہو جیسے اسمائے حسنی میں سے کوئی ایک ،لیکن اس کاتین بارتکرارکرناضروری ہوگا۔

سوم۔اس میں بمقدار واجب ذکر کے طمانیہ (اطمینان)اختیار کرنا۔

چہارم۔اس سے سر اٹھانا ،یہاں تک کہ سیدھاکھڑا ہوجائے،یہ واجبات نماز سے ہے،اس کا واجبات رکوع سے قراردینا درست نہیں ہے ،اگرچہ فقہاء نےاسے واجبات  رکوع سے بیان کیاہے،کیونکہ  واجب ذکریا مطلق ذکر  کے ختم ہوتے ہی رکوع  ختم ہوجاتاہے۔

پنجم۔مذکورہ قیام کی حالت میں طمانیہ(اطمینان )اختیار کرنا ۔

مسئلہ 205:جب واجب ذکر کی حالت میں حرکت کرئے،جس کاسبب قہری ہو تو حرکت کی حالت میں خاموش ہوجانااور ذکر کااعادہ کرناواجب ہے ۔

مسئلہ206:جب رکوع بھول جائے اور سجود کی طرف جھک جائے اور زمین پر پیشانی ٹیکنے سے پہلے یاد آجائےتو اطمینان سے سیدھا  کھڑا ہوجائےپھر رکوع کرئے اورعلی الاظہر  یہی حکم ہے  اگر اس کے بعد اور دوسرے سجدہ سے پہلے یاد آجائے۔

 

شارك استفتاء

صحیح قرائت کے بارے میں مسائل

مسئلہ 197: قرائت میں ہمزہ وصلی کا حذف کرنا  واجب ہے جیسے لفظ اللہ کاہمزہ اور الرحمن الرحیم اور اھدنا وغیرہ ۔

جب اسے عمداً ثابت قراردیاجائے تو قرائت باطل ہوجائے گی،اور اسی طرح ہمزہ قطعی کا ثابت قراردیناواجب ہے،جیساکہ اللہ تعالی کے فرمان میں ہے:ایاک اور انعمت ،جب اسے حذف قراردیاجائے گاتو قرائت باطل ہوجائے گی۔

مسئلہ198:مد کااتنا پڑھنا واجب کہ عرف کہے کہ مد پڑھی گئی ہےاور مد چند موارد میں دو حرکت کی مقدار ہوتی ہے:

1۔ واو ہے جس کا ماقبل مضموم ہوتاہے۔

2۔ یاء ہے جس کا ماقبل مکسور ہوتاہے ۔

3۔ الف ہے جس کا ماقبل مفتوح ہوتاہے ،جب اس کے بعد سکون لازم ہو جیسے ضآلین ،بلکہ یہ اس مثال میں احوط ہے: جآء اور جیء اور سوء۔

مسئلہ199:مالک کی ملک یوم الدین قرائت کرنا جائز ہے اور صراط میں صاد اور سین دونوں جائز ہیں،اور کفواً میں جائزہے کہ اسے فاء کے ضمہ کے ساتھ اور فاء کے سکون کے ساتھ ہمزہ یا واو  کے ساتھ پڑھاجائے۔

مسئلہ200:مرد پر واجب ہے کہ نماز صبح کی قرائت میں اور نماز مغرب وعشاء کی پہلی دورکعتوں کی قرائت میں جہر کرئےیعنی  اونچی آواز میں پڑھے جسے بالجہر کہتے ہیں،اور ان کی تیسری و چوتھی رکعت کی قرائت  آہستہ آواز میں کرئے جسے بالاخفات کہتے ہیں،جمعہ کے علاؤہ دوسرے دنوں کی نماز ظہرین میں اخفات کاحکم ہے لیکن جمعہ کے دن نماز ظہرین کی بابت نمازگزار کو جہر واخفات کی قرائت میں اختیار ہے ، جمعہ کے دن بھی احوط  اخفات ہے۔

مسئلہ201:قرائت جہریہ میں بسم اللہ کا جہراً پڑھناواجب ہے،قرائت اخفاتیہ میں مرد کے لیے بسم اللہ جہراً پڑھنامستحب ہے اور اگر آخری دورکعت میں سورہ فاتحہ پڑھے تو بناء بر احتیاط کے بسم اللہ کااخفاتاً پڑھنا واجب ہے ،اس میں کوئی فرق نہیں کہ وہ بسم اللہ سورہ فاتحہ کی ہو یاکسی دوسری سورہ کی ہو۔

مسئلہ202:عورتوں پر کوئی جہر کاحکم نہیں ہے،بلکہ انہیں جہریہ نماز میں جہر واخفات کی بابت اختیار حاصل ہے ،ان پر اخفاتی نماز میں اخفات واجب ہے۔

مسئلہ203:جہر و اخفات میں معیار صدق عرفی ہے ،اور ظاہر ہے کہ یہ آواز کے جوہراور اس کے عدم  کے ظہور پر منطبق ہوتاہے،تاکہ پتہ چلے کہ یہ قرائت   اسے سنائی دے رہی ہے جو اس کی بغل میں موجود ہے یااسے سنائی نہیں دے رہی ہے۔ 

 مسئلہ 204:نمازگزار کو مغرب کی تیسری رکعت میں اور چاررکعتی نماز کی آخری دورکعتوں میں اختیار ہے سورہ فاتحہ پڑھے یاتسبیح اربعہ پڑھے:

 (سُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُ لِلہِ وَلَاالٰہَ اِلَّااللہُ وَاللہُ اَکْبَرُ)

یہ حکم جہری نمازوں میں پیش نماز کے لیے ہے،لیکن ماموم کےلیے احتیاط لازم یہ ہے کہ وہ تسبحات اربعہ ہی کو اختیار کرئے،عربی قواعد کی رعایت کرنا واجب ہے ، ایک  دفعہ تسبیح کاپڑھناکافی نہیں ہے ،بلکہ احتیاط واجب ہےکہ اسے تین دفعہ پڑھا جائے  ،اور افضل ہے کہ اس کے بعد استغفراللہ  کا اضافہ کیاجائے،اور ذکر میں اخفات   واجب ہے اور اس کے بدل میں پڑھی جانے والی شے میں اخفات ہو یہاں تک کہ احتیاط واجب ہے کہ اس کی بسم اللہ بھی اخفات سے پڑھی جائے۔

 

1 2 3 4 5
المجموع: 42 | عرض: 21 - 30

دفتر مرجع عالیقدر

شیخ محمد یعقوبی (دام ظلہ) -اپنا استفتاء ارسال کیجیئے

نجف اشرف