سجود:
ہررکعت میں دوسجدے واجب ہیں،دونوں مل کر رکن ہیں ،ان میں کمی و بیشی عمداً یاسہواً کرنے سے نماز باطل ہوجاتی ہے،ایک سجدے کی زیادتی سے نماز باطل نہیں ہوتی اور ایک سجدے کی سہواً کمی سے بھی نماز باطل نہیں ہوتی،سجدہ یاسجودکے مفہوم کے تحقق میں معیار،اللہ سبحانہ وتعالی کےلیے پیشانی کا زمین پر رکھناہے۔
واجبات سجود:
اول۔سات اعضاء پر سجدہ کرنا:
پیشانی،دو ہتھیلیاں ،دوگٹنے،دوقدموں کے انگوٹھے۔
مسئلہ207:مذکورہ اعضاء جو زمین سے مس ہوتے ہیں ،اُن میں کوئی شے معتبر نہیں ہے،جو پیشانی کی بابت معتبر ہے۔
دوم۔پیشانی کو ایسی شے پر رکھاجائے جس پر سجدہ کرناصحیح ہے اور وہ زمین ہے یا جوشےزمین سے اگتی ہے اور نا کھائی جاتی ہے اور نا پہنی جاتی ہے۔
سوم۔ذکر پڑھنا جیسا رکوع میں گزر چکاہے اور بڑی تسبیح میں العظیم کی بجائے الاعلی کہاجائے۔
چہارم۔طمانیہ(اطمینان )اختیار کرنا۔
پنجم۔ذکر کی حالت میں سجدہ کے مقامات اپنی جگہ پر ہوں۔
ششم۔موقف اور پیشانی کی جگہ مساوی ہو ،مگر یہ کہ ایک اینٹ اور ملی ہوئی چار انگلیوں جتنا سجدہ کا مقام نیچے ہوسکتاہے۔
ہفتم۔سر سجدہ سے اٹھائیں اور مطمئن حالت میں سیدھے بیٹھ جائیں ،یہ پہلے سجدہ کے آخر میں ہو یا دوسرے سجدہ کے آخر میں ہو ،ہم اس کی مثل رکوع میں بیان کرچکے ہیں ،کہ یہ نماز کے واجبات میں سے ہے ،سجدہ کے واجبات میں سے نہیں ہے۔
ہشتم۔دوسجدے کرنا،اس سے کم نہ ہوں۔
مسئلہ208:جب تام سجدہ کرنے سے عاجز ہو تو ممکن مقدار تک جھکے اور سجدہ گاہ کو پیشانی کی طرف بلند کرئےاور اس پر پیشانی رکھے،احوط ہے کہ پیشانی کو ایسی شے پر رکھے جس پر پیشانی ہلے جلے نہیں بلکہ جم کررہے پس اسے ہاتھ سے روک رکھنا یا دوسرے کے ہاتھ پر سجدہ گاہ رکھ کے سجدہ کرنا کافی نہیں ہے۔
قرآنی سجود کی بابت مسائل:
چار آیات کی قرائت کے وقت سجدہ کرنا واجب ہےاور وہ یہ ہیں:
1۔ سورہ فصلت یعنی حم تنزیل، فصلت کی آیت 37اس سے :اس کی آیات تا تعبدون ۔
2۔ سورہ سجدہ یعنی الم تنزیل، اور سورہ سجدہ کی آیت15 اس سے :انما یؤمن بآیاتنا تا وھم لایستکبرون۔
3۔سورہ نجم، اور سورہ نجم کی آخری آیت 62 ۔
4۔ سورہ علق یعنی اقرء، سورہ علق کی آخری آیت 19۔
مسئلہ209:مذکورہ آیات کو پڑھنے اور توجہ سےسننے سے سجدہ واجب ہوجاتاہے ،اگرچہ دونوں نماز میں ہی کیوں نہ ہوں ،اگر صرف آواز سنائی دے رہی ہو تو سجدہ واجب نہیں ہوتاہے ،یہ احتیاط مستحب کی بناء پر ہے۔
اس کا وجوب فوری ہے اوراس میں تاخیر گناہ ہے ،مگر وہ تاخیر غفلت یانسیان یاجہل سے ہوجائے،پس اگر یاد آجائے یا علم حاصل ہوجائے تو جتناجلدی ہوسکے، فوراً سجدہ کرناواجب ہے،ورنہ جیسے ہی امکان پیداہو سجدہ کرے۔
مسئلہ210:اس سجدہ میں افتتاحی تکبیر ،تشہداور سلام نہیں ہوتی ہے۔
اس میں چند چیزوں کا خیال رکھنا شرط نہیں ہے:
حدث سے طہارت ہو،خبث سے طہارت ہو،قبلہ کی طرف منہ ہو،مقام سجدہ پاک ہو ،ستر ہو ،ساتر کی صفات موجود ہوں ،ماتھازمین پر رکھاہواہو۔
اس میں ایسی شے پر سجدہ کرنا واجب نہیں ہےجس پر نماز میں سجدہ کرنا صحیح ہوتاہے۔