ماموم کے جماعت کودرک کرنے کی بابت مسائل

| |عدد القراءات : 2
  • Post on Facebook
  • Share on WhatsApp
  • Share on Telegram
  • Twitter
  • Tumblr
  • Share on Pinterest
  • Share on Instagram
  • pdf
  • نسخة للطباعة
  • save

ماموم کے جماعت کودرک کرنے کی بابت مسائل:

مسئلہ269:امام کی تکبیرۃ الاحرام کے بعد سے اس کے رکوع کوختم کرنے تک جماعت میں داخل ہوسکتے ہیں،پس اگرامام کے ساتھ تکبیرۃ الاحرام میں یا اس کے بعد قرائت سے قبل قیام کی حالت میں یاقرائت کے دوران یا قرائت کے بعد رکوع سے قبل یا رکوع کی طرف جھکتے ہوئے یا رکوع کی حالت میں اس کے ذکرکے ختم ہونے تک  نماز میں داخل ہو تواس نے رکعت کو پالیا،رکعت کاادراک موقوف نہیں ہے کہ امام کے ساتھ رکوع میں اجتماع اختیارکیاجائے،اگرچہ امام کے رکوع میں جانے سے قبل تکبیر کہہ دے،اس کے علاؤہ  اس کےلیے امام کی متابعت واجب ہے ،رکوع کے ادراک کے لیے معتبرہے کہ دونوں رکوع  میں  اطمینان کی حالت میں اکٹھے  ہوں،اگرچہ ایک لحظہ کے لیے ہو ،اگروہ امام کے رکوع  سے خارج ہوجانے کے  بعد تکبیر کہے،اس کی جماعت کی صحت مشکل ہوجاتی ہے ،جیسے ماموم  رکوع میں جا رہاہو اورامام رکوع سے سر اٹھارہاہوتو   یہاں احوط یہ ہے کہ وہ انفرادیت کی نیت کرلے۔

مسئلہ270:جب کوئی شخص امام کو آخری تشہدیاسلام  میں درک کرئے،تو اس کےلیے جائز ہے کہ وہ احتیاط واجب کی بناء پر  تکبیرۃ الاحرام کہے اور امام کے ساتھ بیٹھ کر قربت مطلقہ یا مطلق ذکر  کی نیت سے تشہد پڑھے،اورجب امام سلام پڑھے تویہ  بغیر  تکبیر کے اپنی نماز کےلیے کھڑاہوجائے،اسے جماعت کی فضیلت  اورثواب مل جائے گا،  اگرچہ اس کی  رکعت شمار  نہیں ہوگی،یہی حکم ہے جب کوئی  امام کو آخری رکعت کے دوسرے سجدے میں  درک کرئےتویہ اسے قربت مطلقہ کی نیت سے بجالائے ،اور اس کی نماز  تکبیراول کے ذریعہ سے صحیح ہوگی۔