نماز جماعت
نماز جماعت:
یومیہ نمازوں کو باجماعت اداکرنا مستحب مؤکد ہے ،اداہوں یاقضاء ہوں ،بلکہ نمازطواف کے علاؤہ باقی سب فرائض میں یہی حکم ہے،احتیاط لازم یہ ہے کہ اس میں جماعت کی بابت اتمام پراکتفاء نہ کیاجائے،یومیہ ادانمازوں میں جماعت مستحب مؤکد ہے اور خصوصاً صبح اورمغربین میں ہے کہ انہیں باجماعت اداکیاجائے،اس کابہت زیادہ ثواب ہے ،اس کی بہت تاکید ہوئی ہے اور اس کے ترک پر مذمت ہوئی ہے ،اس کی بابت بہت زیادہ اخبار اور عالی مضامین بیان ہوئے ہیں ،جتنے اکثر مستحبات میں وارد نہیں ہوئے ہیں۔
مسئلہ266:اگر امام یومیہ نمازوں میں سے کوئی ایک نماز پڑھا رہاہو ،اور پیچھے سے کوئی شخص آئے تووہ اپنی نمازاس کی اقتداء میں پڑھ سکتاہے ،اگر چہ ان دونوں کے درمیان جہر واخفات کااختلاف ہو یعنی ایک کی نماز جہری ہواوردوسرے کی اخفاتی ہو یاایک کی نماز اداہواور دوسرے کی نماز قضاء ہو یاایک کی نماز قصر ہو اور دوسرے کی نماز پوری ہو۔
مسئلہ267:تنہانماز پڑھنے والے کے لیےجائز نہیں ہےکہ نماز کے دوران عدول کرکے امام کے پیچھے نماز کی نیت کرلے۔
مسئلہ268:جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے والے کےلیے جائز ہے کہ دوران نماز نماز کے تمام حالات میں ، حالت اختیار میں جماعت کی نیت سےعدول کرکے انفرادیت کی نیت کرلے،یہ قول اقوی ہے۔