اس وظیفہ کے مراتب
اس وظیفہ کے مراتب:
امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے مراتب:
مرتبہ اول۔ادنی مرتبہ اورکمترین ایمان یہ ہےکہ دل سے انکار کیاجائے۔
یعنی اپنے نفس کوروکےاوراس کی اللہ تعالی کی بابت نافرمانی کی صفت سے کراہت اور ناپسندیدگی کااظہار کرئے ۔
مرتبہ دوم۔اس عمل کی بابت ناراضگی کااظہار کرنا،جیسےفاعل سے نفرت کااظہار کرنا یااُس سے منہ پھیر لینااور اُس سے لینے دینے کو روک دینایا اس سے بات کرناچھوڑ دینا یا وہ جس مکان میں ہواسےترک کردینایااس کے مشاغل کوترک کردینا یااس کے ساتھ کاروبار نہ کرنا جو اقتصادی ہویادنیاوی ہویاآخرت سے ہو،مہم یہ ہےکہ ایسا اظہارکرنا جو دلالت کرئےکہ اس نے جوکیاہے میں اسے پسندنہیں کرتاہوں۔
مرتبہ سوم۔زبان سے انکارکرنا،یعنی سب سےپہلے اسےحکم شرعی بتلانا،اگر سدھر جائے اور اس صفت کے ترک میں کفایت ہوجائے تواس سے زائد کوئی شے واجب نہیں ہوگی،ورنہ اسےوعظ و نصیحت کرنا واجب ہے،اسے اللہ تعالی کاعذاب یاد دلائے جواس نے نافرمانوں کےلیےبنایاہواہے،اور اس کاثواب یاددلائے جواس نے اطاعت گزاروں کے لیےبنایاہواہے۔
مرتبہ چہارم۔ہاتھ سے انکار کرنا،یعنی امکان اور تاثیر کی صورت میں ہاتھ سے ایسی درد ناک ماردے جواسے نافرمانی سے روکنے والی ہو،خواہ ہاتھ میں آلہ لےکراُسے استعمال کرئے یا آلہ کواستعمال نہ کرئے۔
مرتبہ پنجم۔خون بہانا،یعنی زخمی کرنایا قتل کردینا،بشرطیکہ وہ سابقہ مراتب سے نافرمانی کرنے سےباز نہ آئے اور نہ ہی رکے،یہ اجتماعی احکام میں سے ہے ،جن میں قیادت اجتماعیہ رکھنےوالےجامع الشرائط مجتہدکی اجازت ہوتی ہے۔
مرتبہ ششم۔جلسے جلوس اور احتجاجی مظاہرے کرنا ،جس سے نافرمانی کی روک تھام ہوسکے اور جواسے مستلزم ہو یعنی جان،مال ،اہل وعیال کونقصان پہچانے سے بچانا ، جب اس واجب کو طلب کرئے اوراس کی تشخیص قیادت اجتماعیہ رکھنے والےفقیہ کے ہاتھوں ہونی چاہیے۔
مسئلہ396:امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کےوجوب کی تاکید ،اہل خانہ کی نسبت گھر کے سربراہ کےلیے ہوئی ہے،بلکہ اسے تفصیلی عنوان کے ذریعہ سے شرعاً ،اس کا حکم دیا گیاہے،اس کےبارے قرآن مجید کی نص موجود ہے: قُوْا اَنْفُسَکُمْ وَاَھْلِیْکُمْ نَاراً وَقُوْدُھَاالنَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ ۔
مسئلہ397:جب کوئی شخص اپنے اہل خانہ کو امر یا نہی کرئے اور وہ منع نہ ہوں،تو دوبارہ سے کہے اور کوئی اثر نہ ہو ،تواُس کی تکلیف ساقط ہوجائےگی،بشرطیکہ اس نے اسےگزشتہ انکار والے مراتب کےپیش نظر اچھے انداز سے اداکیاہو،اس کے بعد اس پر واجب نہیں ہے کہ وہ اپنے اہل خانہ کو چھوڑ دے یا دوسری جگہ منتقل ہو جائے یا برائی کرنے والے کو دور کردے ،جب تک کہ کوئی دوسری مہم مصلحت ان کاموں کے کرنےکی مقتضی نہ ہو، تکرار کے بعد سب سے زیادہ خاموشی کی بابت بہتر بیوی ہے،جب شوہرکودیکھے کہ وہ اللہ تعالی کانافرمان ہو چکاہے ،اور منع بھی نہیں ہوتا ہے ، اس صورت میں بیوی کےلیےجائز نہیں ہے کہ اسے اس کے واجب حقوق سے محروم قراردے،یااس کی اجازت کے بغیر گھر سے نکل جائےبلکہ اسے جِھَادُ الْمَرْاَۃِ حُسْنُ التَّبَعُلِ کاعنوان شامل رہے گا،اس کا معاملہ فرعون سے زیادہ سخت نہیں ہے جو قرآن کریم میں مذکورہے ،جس میں اس کی بیوی نے فرعون کے مظالم پر صبر کیا ،یہاں تک کہ وہ دنیاکی چارپاک باز خواتین میں سے ہوگئی اور کہنے لگی:رَبِّ ابْنِ لِی عَنْدَکَ بَیْتاً فِی الْجَنَّۃِ وَ نَجِّنِیْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَ عَمَلِہٖ ۔یہ نجات معنوی ہے یا اُخروی ہے دنیاوی نجات نہیں ہے،ورنہ اسے مجاہدین میں لکھا نہیں جاتا۔
مسئلہ398:اگرامر اور نہی کاکرنا متعدد اشخاص پر موقوف ہوتویہ اپنی شرائط کے ساتھ واجب ہوگا،یا اس صورت میں اُن کااشتراک واجب ہوگا۔
مسئلہ399:اگرکسی کوعلم ہویااحتمال دے کہ اگر باربار امر یانہی کروں گاتو اس کااثر ضرور ہوگاتوایساکرناواجب ہوگا۔
مسئلہ400:اگرایک مسئلہ دولوگوں کے درمیان اختلافی ہو ،وہ دونوں مجتہد ہوں یا دوعلیحدہ علیحدہ مجتہدین کے مقلد ہوں،اورمکلف احتمال دےکہ فاعل کی رائےاُس کےمخالف ہے،اور اس نے جو کیاہے وہ اُس کے نزدیک جائز ہے ،اسے اُس سے نہی کرنا واجب نہیں ہے۔
مسئلہ401:اگرکوئی شخص احتمال دے کہ برائی کو بجالانے والاشخص وعظ اور نرم کلامی سے برائی کرنے سے باز آجائے گا ،تو یہی کرئے،اوراس سے تجاوز کرناجائز نہیں ہے،اوراگراسے علم ہوکہ اس پر وعظ اور نرم کلامی سے کوئی اثر نہیں پڑے گا تو اس سے زیادہ وعظ و نصیحت کرئے،اور واجب ہے کہ جہاں تک ہوسکے آسان کام پر اکتفاء کیاجائے۔
مسئلہ402:اگرمخالفت کی صورت میں یہ وظیفہ سخت کلامی،سختی اور دھمکی پر موقوف ہو توایساکرناجائزہے بلکہ واجب ہے،بشرطیکہ اس میں جھوٹ نہ ہو ،گالیاں نہ ہوں،اور نہ ہی توہین ہو۔
مسئلہ403:اگرتاثیراور منع کے حصول کا مرتبہ اول اوردوم یادومرتبوں میں سے کسی ایک کےدرمیان جمع کا احتمال ہو،یاان دونوں کےدرجات کےدرمیان جمع کا احتمال ہو،تو جہاں تک ممکن ہو ،ایساکرناواجب ہے۔
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔