امربالمعروف اور نہی عن المنکر
باب امربالمعروف اور نہی عن المنکر
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ دین کے عظیم ترین واجبات میں سے نیکی کا حکم دینااور برائی و بے حیائی سے منع کرناہے،اللہ تعالی نے فرمایا:وَ لْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلیٰ الْخَیْرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ اُوْلٰئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ۔
رسول خداﷺ نے فرمایا:
تم پر کیسے گزرے گی جب تمہاری عورتیں فاسد ہوجائیں گی اور نوجوان فاسق ہوجائیں گےاور تم نیکی کاحکم نہیں کروگےاور برائی سے نہیں روکوگے؟ کسی نے عرض کی یا رسول اللہﷺ کیا ایسا ہوگا؟
آپﷺ نے فرمایا: ہاں!
آپؐ نے فرمایا: تم پر کیسے گزرے گی جب تم برائی کاحکم دوگے اور نیکی سے منع کرو گے،کسی نےعرض کی: یارسول اللہﷺ کیاایساہوگا؟
آپؐ نے فرمایا: ہاں! اس سے بھی براہوگا ۔
تم پر کیسے گزرے گی جب تم نیکی کو برائی اور برائی کو نیکی دیکھو گے؟
آئمہ علیہم السلام نے بیان فرمایاہے : امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے ذریعہ سے فرائض کاقیام ہوتاہےاور مذاہب پُرامن رہتے ہیں اور حلال کی کمائی ہوتی ہےاور مظالم کی روک تھام ہوتی ہے اور زمین آباد ہوتی ہے اور مظلوم کو ظالم سے انصاف ملتاہے اور لوگ جب تک امربالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے رہتے ہیں خیر میں رہتے ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ نیکی پر تعاون کرو،اور اگر ایسانہیں کیاتو ان سے برکتوں کو چھین لیا جائے گا ،اوروہ ایک دوسرے پر مسلط ہوجائیں گے ،اور زمین وآسمان میں اُن کے لیے کوئی مددگار نہیں ہوگا۔
مسئلہ393:واجب نیکی کا حکم دیناواجب ہے،حرام برائی سے منع کرنا واجب ہے،اور یہ وجوب واجب کفائی ہے،یعنی تمام لوگوں پر واجب ہے لیکن بعض کے انجام دینے سے بقیہ سے ساقط ہوجاتاہے،اور اگراسے کوئی بھی انجام نہیں دے گاتو سب مستحق عقاب اور گناہگار ہوں گے ۔
مسئلہ 394:امربالمعروف اورنہی عن المنکر کے مقدمات کاایجاد کرنا واجب ہےاوروہ مقدمات یہ ہیں:
1۔زندگی میں درپیش ،ضروری شرعی احکام کی تعلیم حاصل کی جائے ، جس سے فرد نیکی ،بدی کو جان لے،خود اور دوسروں کے دین کو محفوظ رکھے۔
2۔ مجتہد مطلق پیداکرنا،جس کی تقلید جائز ہوسکتی ہو،اس کےلیے ایک کافی تعداد میں طلبہ دینی علوم حاصل کرنے کےلیےداخل کروائے جائیں ،تاکہ ان میں سے کچھ اس بلند مقام کو حاصل کرلیں،کسی علاقےاور ملک کےلوگوں کےلیے جائز نہیں ہے کہ وہ اس کام کو مہمل چھوڑ دیں ،جس سے مستقبل میں مجتہد باقی نہیں رہیں ،اور اُن کاکوئی بدل موجود نہیں رہے ۔
3۔ جامع الشرائط شرعی قاضی کاتیارکرنا،تاکہ وہ لوگوں کےدرمیان جھگڑے دورکرئے،یہ اُس وقت ہوگاجب وہ دینی علوم حاصل کرئےگاجیساکہ ہم نے کہہ دیاہے،اس کو بھی مہمل چھوڑ دینا جائز نہیں ہے،جس سےامردنیاوی قضاوت کی طرف لوٹے۔