غسل جنابت کے احکام
غسل جنابت کے احکام
مسئلہ41:پیشاب کے بعد استبراء غسل کے صحیح ہونے میں شرط نہیں ہے،جب اسے ترک کرئےاور غسل کرئےاور پھر اس سے ایسی تری نکلے جو منی کے ساتھ مشابہہ ہو،توظاہراً اُس پر منی کاحکم جاری ہوگا،پس اس کے لیے غسل کرنا واجب ہے،یہ مانند منی کے ہے ۔
مگرجب کسی کو استبراء کے ذریعہ علم ہویا کسی اور شےکے ذریعہ علم ہوکہ مجری میں منی باقی نہیں رہی ہے ۔
مسئلہ42:غسل جنابت کے بعد نماز وغیرہ کےلیےوضو کی ضرورت نہیں ہے ،اسی طرح استحاضہ متوسطہ کے علاؤہ ہر واجب غسل کے بعد وضو کی ضرورت نہیں ہے ،استحاضہ متوسطہ کے بعد نماز کے لیے وضوکرنالازم ہے،اسی طرح جس مستحبی غسل کے استحباب کاثبوت معتبر دلیل کے ذریعہ ثابت ہے جیسے غسل جمعہ، اس کے بعد نماز وغیرہ کے لیے وضو کی ضرورت نہیں ہے،لیکن جس مستحبی غسل کے استحباب کاثبوت معتبر دلیل سے ثابت نہ ہویاجس کے موضوع میں شک ہویاجسے احتیاط کے طورپرانجام دیاجائے،اس صورت میں احتیاط واجب یہ ہے کہ غسل کے ساتھ نماز وغیرہ کے لیے وضو بھی کرئے،اگرچہ وضو مستحب نفسی کی نیت سے انجام دے۔
مسئلہ43:اگر اثنائے غسل میں غسل کرنے والے سے حدث اصغر صادر ہوجائےتو غسل کو مکمل کرئے اور وضو بھی کرئے،اسے اختیار ہے کہ غسل کو ترک کردےاور پھر سے غسل شروع کرئے،یہ غسل وضو سے مجزی ہوگا،احتیاط مستحب ہے کہ اس غسل کو مکمل کرئےپھر دوبارہ غسل کرئے اور وضو کرئے۔
مسئلہ44:جب غسل کے اعضاء میں سے ایک عضو کو دھوچکے ،پھر اس عضو کے دھلنے کی بابت شک کرئے کہ صحیح دھلاہے یانہیں،ظاہر ہےکہ وہ اس صورت میں اپنے شک کی پرواہ نہیں کرئےخواہ اسے شک دوسرے عضو میں داخل ہونےکے بعد میں ہو یا اس سے پہلے ہو۔
جس خون کو عورت دیکھتی ہے ،وہ خون اور اس کے احکام
جس خون کو عورت دیکھتی ہے ،اس کی چند قسمیں اور احکام ہیں:
اول۔خون حیض،جو ماہواری کے طور پر معروف ہے،یہ خون ہر ماہ رحم کی صفائی کے طور پر جاری ہوتاہے،کیونکہ جب رحم ایک ماہواری دیکھ لیتی ہے تو اُس میں داخل ہونے والے نطفہ کو قبول کرلیتی ہے ،اس لیے کہ نطفہ کے داخل ہونے سے وہ ماہواری رک جاتی ہےکیونکہ وہ نطفہ کی غذا قرار پاتی ہے۔
دوم۔بکارت،کنوارہ پن کاخون،جو پردہ بکارت کے پھٹنے سے نکلتاہے۔
سوم۔نفاس کاخون،جو بچے کی پیدائش کے ساتھ نکلتاہے۔
چہارم۔زخموں اور پھوڑوں کا خون،جوبدن سے خارج ہوتاہے۔
پنجم۔ استحاضہ کاخون،جو بچہ دانی کی بیماریوں کے باعث خارج ہوتاہے۔
دوسرا اور تیسراخون غسل کا موجب نہیں ہے،صرف نجاست کے مقام کو پانی سے دھویاجاتاہے،باقی تین خون حیض و نفاس اور استحاضہ حدث اکبر ہیں،اور غسل کا موجب بنتے ہیں۔