واجبات غسل
واجبات غسل
1۔نیت،غسل ختم ہونے تک اس نیت کاجاری رکھنا ضروری ہے۔
2۔ظاہر جلد کادھونا،یوں دھوئیں کہ اس پر دھونے کانام صادق آجائے،پس ضروری ہےکہ جسم سے حائل شے کواتار دیں، جلد کے جس حصے تک پانی نہیں پہنچ سکتا وہاں تک ہاتھ مار کے پانی پہنچائیں،بالوں کادھوناواجب ہےمگر جن کی لمبائی سر کے متعارف حدسے خارج ہو جیسے عورتوں کے لمبے بال یا مردوں کے داڑھی کے لمبے بال۔
3۔غسل کا دو طریقوں میں سے ایک طریقہ کے مطابق بجالانا:
اول۔غسل ترتیبی،پہلے تمام سر کو گردن سمیت دھوئے پھرباقی بدن کو دھوئے،احتیاط واجب یہ ہے کہ سر کے بعد مکمل دائیں طرف کو دھوئےپھر مکمل بائیں طرف کو دھوئےاور ضروری ہے کہ ازباب مقدمہ دائیں طرف دھوتے وقت کچھ حصہ بائیں طرف کا اور بائیں طرف دھوتے وقت کچھ حصہ دائیں طرف کادھوئے۔
دوم ۔غسل ارتماسی،ایک ہی دفعہ پورے بدن کو پانی میں ڈبودے،یوں کہ نیت کرئے اور پانی میں غوطہ لگائے جس سے تمام بدن دھل جائے،اس میں بالوں کا خلال کرئےاورزمین پر رکھےہوئے پیر زمین سے اٹھالے۔
واجب ہے کہ غسل جنابت ارتماسی بدن کی طہارت کے بعد میں انجام دیاجائے۔
4۔پانی مطلق ہو،پانی پاک ہو،پانی مباح ہو،حالت اختیار میں خود غسل کرئے ،پس دوسرے شخص کے لیے جائز نہیں ہےکہ اُس کے بدل میں غسل کرئے،پانی کے استعمال سے کوئی شے مانع نہ ہو جیسے مرض وغیرہ،غسل کا پانی بدن پر ڈالنے سے پہلے دھوئے جانے والاعضو پاک ہو۔
مسئلہ39:غسل ترتیبی غسل ارتماسی سے افضل اور احوط ہے۔
مسئلہ40:عام جگہوں میں پینے کے لیے قراردیا جانے والا سبیل کا پانی،اس سے وضو اور غسل کرنا جائز نہیں ہے مگر جب علم ہو کہ اسے استعمال کرنے کا اذن عام ہے۔