غسل جنابت
غسل جنابت
غسل جنابت کے اسباب
غسل جنابت کے دو سبب ہیں:
اول۔منی کا عادی مقام سے نکلنا،اور وہ مقام آگے والی شرمگاہ ہے،یہ شرعاً غسل کا موجب ہے ،خواہ اختیار سے نکلے یا بغیر اختیار کے نکلے،جاگتے میں نکلے یا سوتے میں نکلے،کم ہو یازیادہ،جماع کے ذریعہ سے ہویاجماع کے بغیر ہو۔
اگر عورت کے اندر سے چھیڑ چھاڑ کے وقت لیس دار پانی نکلے تو جنابت نہیں ہوگا،اگرچہ زیادہ مقدار میں ہواور شہوت سے خارج ہو،اگر عورت کے اندر شہوت اور ہیجان پیداہو،جس سے اس کے جسم کے اندر سستی اور لاغری پیداہوجائےتو اُس پر غسل واجب ہوجائےگا،البتہ یہ حالت خواتین میں بہت کم ہوتی ہے۔
احتیاط یہ ہےکہ ایسی خواتین غسل پر اکتفاء نہ کریں،بلکہ حدث اصغر کی صورت میں وضو بھی کریں۔
مسئلہ38:منی کے خارج ہونے کے بعد اور استبراء سے پہلے،جومشکوک تری نکلتی ہے ،وہ ظاہراً منی کے حکم میں ہوتی ہے۔
دوم۔جماع،اگرچہ منی خارج نہ ہو،عورت کی شرمگاہ میں عضو تناسل کے داخل کرنے سے جماع ثابت ہوجاتاہے،جب وہ صحیح وسالم ہو اور اگر کٹا ہواہوتو جتنی مقدار موجود ہے ،اُس کے داخل کرنے سے جماع متحقق ہوجاتاہے۔
جس چیز کی صحت اور جواز غسل جنابت پر موقوف ہے
یہ چند چیزیں ہیں:
اول۔ہر قسم کی نماز کےلیے،سوائے نماز جنازہ کے ،یہی حکم ان نمازوں کے بھولے ہوئے اجزاء کے بجالانے کاہے،بلکہ احتیاط واجب کی بناء پر سجدہ سہو کے بجالانے کےلیے۔
دوم۔ہرقسم کے واجبی طواف کےلیے،جو احرام کے ساتھ ہو۔
سوم۔روزہ رکھنے کےلیے،یعنی اگر جان بوجھ کر جنابت پر باقی رہےاورطلوع فجر ہوجائےتواس کاروزہ باطل ہوگا۔
چہارم۔قرآن مجید کی کتابت کو مس کرنے کےلیےاور لفظ جلالت(اللہ)کو مس کرنے کے لیے۔
پنجم۔مساجد میں ٹھہرنے کےلیے،بلکہ ان میں داخل ہونے کےلیے،اگرچہ یہ عمل ان میں کسی شے کے رکھنے کےلیے ہو۔
ششم۔سجدہ والی سورتوں کی قرائت کےلیےاور وہ یہ ہیں:
حم فصلت،سورہ سجدہ،سورہ نجم،سورہ علق۔