باب اجتہاد وتقلید

| |عدد القراءات : 4
  • Post on Facebook
  • Share on WhatsApp
  • Share on Telegram
  • Twitter
  • Tumblr
  • Share on Pinterest
  • Share on Instagram
  • pdf
  • نسخة للطباعة
  • save

باب  اجتہاد وتقلید

جب تکلیف کی  عمومی شرائط موجود ہوں تو ، انسان کے لیے احکام تکلیفی کا انجام دینا ضروری ہے،اور وہ شرائط یہ ہیں:

بالغ ہونا، عاقل ہونا، قدرتمند ہونا،پس بچے پر بالغ ہونے تک اور مجنون  پر اُس کے جنون کے برطرف ہوجانےتک اورعاجزکے قدرتمند ہوجانے تک کوئی تکلیف نہیں ہوتی ہے،البتہ کچھ تکالیف کے لیے خاص شرائط بھی ہیں،جیسے حج کےلیے استطاعت  کا ہوناشرط ہے،اسے اس کی بحث میں ذکرکریں گے۔

مسئلہ1:علامات  بلوغ:

انسان مرد ہو یاعورت ہو،وہ تب  بالغ  ہوتاہے جب اُس میں جنسی  پختگی  کی علامتیں ظاہر ہوتی ہیں،جیسے شہوت انگیز حالت اور دوسری جنس کی طرف میلان اور جنسی امور سے اثر کو قبول کرنا اور بعض جسمانی و نفسانی تبدیلیوں کا رونما ہونا۔

مرد کے لیے بلوغ کی قطعی علامت احتلام ہے،یعنی جاگتے یا سوتے میں منی کا خارج ہونا ،اسی طرح عورت کےلیے بلوغ کی قطعی علامت خون حیض کا آناہے۔

عورت قمری نو سال مکمل ہونے سے پہلے بالغ نہیں ہوتی ہے، اگرچہ اُس سے حیض کی صفات والا خون خارج ہو،مرد کےلیے بلوغ کی اس سے کمتر حد پائی نہیں جاتی ہے،لیکن معروف یہ ہے کہ مرد عورت سے بعد میں بالغ ہوتاہے،جب بالغ ہونے کی کوئی بھی  علامت حاصل نہ ہوتو بلوغ کو عمر کے ذریعہ معین کیاجائے گا،اور وہ عمر کی حد مرد کے لیے قمری پندرہ سال کا مکمل ہونااور عورت کےلیے قمری تیرہ سال کا مکمل ہوناہے،قمری سال شمسی سال سے گیارہ دن کم کاہوتاہے۔

ان  کے سرپرست افراد کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے بچوں کومندرجہ بالا عمر تک پہنچنے سے پہلے ، اطاعت پروردگار اور گناہوں سے بچنے کی تمرین کروائیں،تاکہ بالغ ہونے کے بعد اُنہیں اس کی عادت پڑجائے اور اُن کی بچپنے کی حالت سنجیدگی میں تبدیل  اور ثابت ہوجائے۔

تقلید کے مسائل

مسئلہ2:اجتہاد اور عدالت کے علاؤہ مرجع تقلید میں شرط ہےکہ وہ حلال زادہ ہو ،اس کی قوائے نفسیہ و عقلیہ صحیح و سالم ہوں،وہ اپنے وظائف ادا کرنے کی کامل قدرت رکھتاہو،بالغ ہو،عاقل اور راشد ہو،اور مکتب اہل بیت علیہم السلام  سے نسبت رکھتا ہو۔

اور جب اُس کی طرف رجوع کرنے والے مرد ہوں تو شرط ہے کہ مرجع مرد ہو ، اور وہ  عام زندگی کے حالات سے آگاہ ہو ،اس لیے کہ یہ چیز موضوعات کے سمجھنے میں دخیل ہے اور اس سے وہ ان موضوعات پر صحیح حکم جاری کرسکے گا،اور وہ فقہی تمرین میں خبر رکھتاہو اور حکم شرعی تک پہنچنے کے مقدمات کا احاطہ رکھتاہو،یہ شرائط جتنی زیادہ مجتہد میں پائی جاتی ہوں گی ،اور ان کی حدبندی بھی ممکن ہوگی، تواس کا تقلید میں اختیار کرنا ضروری ہوگا اور یہی اعلمیت کاوسیع معنی ہے ،جسے ہم سمجھتے ہیں کہ اس کا تقلید میں ہوناضروری ہے۔

مسئلہ 3:مکلف جس مرجع کی تقلید کرتاہے ،وہ مرجع وفات پاجائے تو مکلف پر لازم ہے کہ  فوراً   زندہ مجتہد کی طرف رجوع کرئے ،جس پر سابقہ شرائط صادق آتی ہوں،وہی لوگوں کے لیے اپنی طرف  اور میت مجتہد کی طرف رجوع کی کیفیت کو بیان کرئے گا،اگر یہ کام مکلف  غفلت کی وجہ سے  یا اسے مہمل چھوڑدینے کی وجہ سے یا میت مجتہد کی تعزیت کی وجہ سے انجام نہ دےسکے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اس عرصے میں انجام دیئے گئے وظائف   زندہ مجتہد کے سامنے  بیان کرئے۔

مسئلہ4:اجتہاد اور اعلمیت  باخبر یا مخصوص افرادکی گواہی کے ذریعہ سے ثابت ہوتے ہیں ،اور وہ فضلائے کرام اور حوزہ علمیہ کے وہ اساتید ہیں جو مجتہدین کی ابحاث کو سمجھنے کی قدرت رکھتے ہیں،اور ان کے درمیان تمیز کرسکتے ہیں ،چہ جائیکہ وہ مجتہد ہوں۔

اور اہل خبرہ میں  اُن کی علمی فضیلت کے علاؤہ شرط ہے کہ وہ گواہی دینے میں دقت رکھتے ہوں ،تقوی و پرہیزگاری رکھتے ہوں،اور اپنی ہوائے نفس سے دورہوں ،اورشخصی و  گروہی مصلحتوں سے دور ہوں ۔

مسئلہ 5:انسان پر واجب ہے کہ دین میں اتنی مقدار سوجھ بوجھ رکھتاہو ،جس سے اللہ تبارک وتعالی کے حضور بری الذمہ ہوسکے،پس واجبات کے احکام پڑھے تاکہ اُنہیں اس انداز سے انجام دے کہ وہ کافی ہورہیں اور گردن سے واجبات ادا ہو جائیں ،اور محرمات کو جانے ،تاکہ اُن سے اجتناب کرسکے۔

مسئلہ6:عقائد میں تقلید جائز نہیں ہے ،بلکہ عقائد میں واجب ہےکہ اُنہیں دلیل و برہان کے ساتھ جانتا اور مانتاہو،اس میں کافی ہے کہ یدطولیٰ رکھتا ہو،پس توحید کاعقیدہ رکھے،کیونکہ  لَوْکَانَ فِیْھِمَا آلِھَۃٌ اِلَّااللہ لَفَسَدَتَا۔اگر زمین و آسمان کے درمیان اللہ کے علاؤہ کوئی معبود ہوتاتو یہ دونوں(زمین و آسمان) تباہ ہوجاتے،یا جیسے امیرالمؤمنین علیہ السلام نے اپنے فرزند امام حسن علیہ السلام سے فرمایا:

لَوْکَانَ لِرَبِّکَ شَریکٌ لَاَتَتْکَ رُسُلَہٗ۔اگر تمہارے پروردگار کا کوئی شریک ہوتا تو آپ کے پاس اُس کے رسول بھی آتے۔

مسئلہ7:فقہ کے ابواب میں مرجع کے وظائف اور ذمہ داریاں بہت زیادہ اور مختلف قسم کی ہیں،لیکن انہیں تین عنوانوں کے ضمن میں درج کیا جاسکتاہے:

اول:فتوی دینا،اور مختلف حالات اور واقعات کے احکام کو اصول تشریع سے استخراج کرنااور نکالنا۔

دوم: لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنا اور اُن کے جھگڑوں میں غورو خوض کرنا۔

سوم: امت کے معاملات کی ولایت اور سرپرستی کرنا۔

مسئلہ8:شرعی معنی کے مطابق ،اجتہاد اجتماعی یا واجب کفائی ہے،یعنی اُمت پر لازم ہے کہ اپنی اولاد میں سے کافی تعداد میں بچوں کو اجتہاد کے مرتبہ تک فائز کرنے کے لیے تیار کرئے اور اُن کے لیے مقدمات فراہم کرئے ،اس لیے کہ امت کی قیادت ،ہدایت اور اصلاح اُسی شخص کے ذریعہ سے ہی ہوسکتی ہے جس میں  گزشتہ شرائط کے علاؤہ ،یہ شرط موجود ہو،اللہ تبارک وتعالی نے معصومین علیہم السلام کےوسیلہ سے وعدہ کیا ہےکہ زمین ایسی حجت سے خالی نہیں رہ سکتی ،جس کی طرف اُمت رجوع کرتی ہے۔