سوشل نیٹ ورکس میں کثرت سے مگن رہنے کے بارے میں استفتاء

| |عدد القراءات : 64
سوشل نیٹ ورکس میں کثرت سے مگن رہنے کے بارے میں استفتاء
  • Post on Facebook
  • Share on WhatsApp
  • Share on Telegram
  • Twitter
  • Tumblr
  • Share on Pinterest
  • Share on Instagram
  • pdf
  • نسخة للطباعة
  • save

سوشل نیٹ ورکس میں کثرت سے مگن رہنے کے بارے میں استفتاء

بسمہ تعالی

مرجع عالیقدر جناب شیخ محمد یعقوبی )دام ظلہ)

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 سوشل نیٹ ورکس کے بارے میں تحقیقات سے ہمیں معلوم ہوا کہ کچھ مومنین ان سوشل نیٹ ورکس میں روزانہ کی بنیاد پر بہت زیادہ وقت گزارتے ہیں یہاں تک کہ ان میں ڈوب جاتے ہیں جبکہ انہیں اس بارے خبر تک نہیں ہوتی.

پس اس عمل کے بارے میں جناب مرجع عالیقدر کی رائے کے مطابق  شرعی حکم کیا ہے؟

 

بسمہ تعالی

السلام علیکم ورحمة الله وبركاته

بے شک کسی عقلائی ضرورت کے بغیر  سوشل نیٹ ورکس میں طویل وقت گزارنا لہو باطل اور عبث کے عنوان کے تحت داخل ہوتا ہے اور ہمیں فضول اور عبث کام کے لئے خلق نہیں کیا گیا. بتحقیق اللہ تبارک وتعالی نے لہو ولعب کا ارتکاب کرنے سے خبردار کیا ہے. ارشاد فرمایا ( فَذَرۡہُمۡ یَخُوۡضُوۡا وَ یَلۡعَبُوۡا حَتّٰی یُلٰقُوۡا یَوۡمَہُمُ الَّذِیۡ یُوۡعَدُوۡنَ) (الزخرف/ 83 والمعارج/ 42).

"پس انہیں بیہودہ باتوں میں مگن اور کھیل میں مشغول رہنے دیجئے یہاں تک کہ وہ اپنے اس دن کو پائیں جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔"

لہذا ضروری ہے کہ ان نیٹ ورکس کے حوالے سے مفید اور نتیجہ خیز امور پر اکتفاء جائے، اور اس ميں بھی  اتنی مقدار پر اکتفاء کرے جس سے نفس پر بوجھ نہ پڑے اور تھکاوٹ اور ملال کا احساس نہ کرے بلکہ آرام کرے اور پھر اپنی سرگرمیوں کو دوبارہ شروع کرے.

محمد یعقوبی

22 شعبان 1442