کرونا وائرس دنیا کو بدل رہا ہے اور اسے دوبارہ تشکیل دے رہا ہے

| |عدد القراءات : 15
کرونا وائرس دنیا کو بدل رہا ہے اور اسے دوبارہ تشکیل دے رہا ہے
  • Post on Facebook
  • Share on WhatsApp
  • Share on Telegram
  • Twitter
  • Tumblr
  • Share on Pinterest
  • Share on Instagram
  • pdf
  • نسخة للطباعة
  • save
بسمه تعالی
کرونا وائرس دنیا کو بدل رہا ہے اور اسے دوبارہ تشکیل دے رہا ہے

۱۔ بہت سارے رونما ہونے والے حادثے جو کہ کئی نقصانات کا سبب بنتے ہیں اور لوگوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی پر جن کے سلبی آثار مترتب ہوتے ہیں اگر ان میں دقت کی جائے اور انہیں ایک اور جہت سے دیکھا جائے تو ان سے بہت سارے مفید اور مثبت نکات کا استفادہ کیا جاسکتا ہے، اور اللہ تعالی کے اس قول میں (له باب باطنه فيه الرحمة و ظاهره من قبله العذاب)[1] (الحديد:13). " جس میں ایک دروازہ ہوگا اس کے اندر تو رحمت ہوگی اور اس کے باہر کی طرف عذاب ہوگا۔"بھی یہ معنی موجود ہے۔
۲۔ چیزوں کو مثبت نگاہ سےدیکھا جائے تو اس سے نفس کو استحکام ملتا ہے،دل کو سکون ملتا ہے اور جو کچھ ہورہا ہے انسان اس سےراضی ہوتا ہے اور انسان درد و رنج سے نجات پیدا کرتا ہے جس نے اس کی زندگی کو تلخ کردیا ہے، اس کو ناامیدی کی طرف دھکیلا ہے اور اعتراض اور شورش پر مجبور کردیا ہے اور نتیجے کے طور پر صحت کے محاذ پر (ماہرین کے مطابق) اگر اس رنج و الم کا علاج نہ کیا جائے تو انسان کی سلامتی کمزور پڑ جاتی ہے اور امراض میں مبتلا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
۳۔- اس مثبت سوچ سے ، کورونا کی وبا ایک بیماری سے کئی دماغی ، معاشرتی ، سیاسی اور فکری بیماریوں کے علاج میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ کرونا وایرس کے خوف اور اس کے سامنے انسان کی بے بسی نے انسان کو غفلت کی نیند سے بیدار کیا ہے،اللہ تعالی کے خلاف بغاوت سے روک کر بارگاہ الہی میں اس کی لا متناہی طاقت کے سامنے سر جھکانے اور اس سے توسل کرنے پر مجبور کردیا ہے تاکہ وہ ان سے اس بلا کو دور کرے۔[2] .
۴۔ اس وائرس نے قرآن کریم کی اس آیت مبارکہ کی حقیت کو کشف کیا ہے: (مثل الذين اتخذوا من دون الله أولياء كمثل العنكبوت اتخذت بيتاً وإن اوهن البيوت لبيت العنكبوت) (العنكبوت\41) ." ان لوگوں کی مثال جنہوں نے اللہ کے سوا حمایتی بنا رکھے ہیں مکڑی کی سی مثال ہے، جس نے گھر بنایا، اور بے شک سب گھروں سے کمزور گھر مکڑی کا ہے، کاش وہ جانتے۔"
کرونا وائرس نے عالمی طاقتیں جو اپنے آپ کو سپر پاور کہتی تھیں ،جن کو اپنی مادی قدرت پر اتنا غرور تھا کہ وہ سمجھتی تھیں کہ کوئی چیز اس دنیا میں ان کی طاقت اور قدرت کے دائرے سے باہر نہیں،ان کو ذلیل و رسوا کردیا اور سب کے سب اس کے سامنے بے بس نظر آئیے۔ ان کی فوجیں ، بیڑے ، اور ٹیکنالوجی جو انہوں نے اسٹار وار کے ساتھ ساتھ زمین کے لئے تیار کی ہے وہ وائرس کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لئے کچھ بھی کرنے سے قاصر ہیں۔ اس وائرس نے ان اقوام کو مجبور کردیا ہے کہ وہ لوگوں کے خلاف فوجی ہتھیاروں اور جارحیت پر خرچ ہونے والے اموال کو ، صحت کی خدمات اور لوگوں کی مدد کرنے میں خرچ کریں، جیسا کہ اس وائرس کی وجہ سے وہ ساری کانفرنسز کینسل ہوگئیں جن کے انعقاد کا مقصد کمزور اقوام پر ظلم کرنے اور ان کے مال و متاع کو لوٹنے کے منصوبے تیار کرنا تھا۔
۵۔کرونا وائرس سبب بنا کہ مختلف اقوام کا اخلاق،ان کی آئڈیالوجیز،ان کی اقدار اور ان کے اصولوں کی بھی جانچ پڑتال ہو۔ ہم نے دیکھا کہ ہمارے ملک میں رضاکاروں کی ایک بڑی تعداد اس بیماری میں مبتلا لوگوں کے علاج معالجے اور ان کی خدمت کےلیے پہنچ گئی، جو لوگ اس مرض کی وجہ سے فوت ہوگئے ان کو پوری عزت اور احترام کے ساتھ دفن کیا اور یہ خدمات ابھی جاری و ساری ہیں۔یہ ایسے خاندانوں کی مدد کرتے ہیں جن کا معاش کرفیو اور قرنطین کی وجہ سے رکا ہوا ہے؛ ان کو مفت میں راشن فراہم کرتے ہیں۔ عوامی سہولیات اور سڑکوں کی جراثیم کشی اور صفائی ستھرائی کی خدمات انجام دیتے ہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ بعض مغربی حکومتیں Herd immunity کی پالیسی کو عملی جامہ پہنانے پر زور دیتی ہیں جس کا مطلب ہے لوگوں کی حفاظت کے لئے ضروری احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنا اور لوگوں کو اپنے حال پر چھوڑ دینا تاکہ جن کا دفاعی نظام immune system مضبوط ہے وہ نجات پیدا کریں اور جن کا دفاعی نظام کمزور ہے جیسے بوڑھے حضرات اور وہ لوگ جو دائمی بیماریوں میں مبتلا ہیں تو وہ مرجائیں، یہاں تک کہ نجات پیدا کرنے والوں کی نجات کے ساتھ اور مرنے والوں کی موت کے ساتھ اس وائرس کا خاتمہ ہو تاکہ حکومت کو معاشرتی امداد کی رقم ادا کرنے سے چھٹکارا مل سکے جوکہ ان کے نقطہ نظر کے مطابق ریاست پر مالی بوجھ ہیں ، حالانکہ ان کو جو کچھ ادا کیا جاتا ہے وہ ٹیکس محصول ہے جو وہ اپنے کام کی مدت کے دوران ادا کررہے تھے۔ اس طرح ، ان کے انسانی وقار کو کچل دیا گیا ، خاص طور پر بزرگ جو کہ ہماری شریعت میں پوری عزت اور احترام کے مستحق ہیں۔
۶۔ جو کچھ بھی ہوا ہے یا جو ہوگا وہ انسانوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنے خیالات ، طرز عمل ، اصولوں اور ترجیحات کا دوبارہ سے جائزہ لیں جن پر وہ یقین کرتے ہیں، دانشور، فلسفی اور مفکرین حضرات کو چاہیے کہ وہ کرونا وائرس کی وباء،اس کے اسباب اور اس کےنتائج کا فائدہ اٹھا کر ایک جامع تبدیلی کی تحریک شروع کریں اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے کیو ں کہ ہم کرونا سمیت کئی اور اس طرح کی بیماریوں سے محفوظ نہیں جن کو فیس کرنے کی صلاحیت آپ میں نہیں ،کچھ کریں اگرچہ وہ قلیل مقدار میں ہی کیوں نہ ہو تاکہ اس بیماری سے چھٹکارا مل سکے۔
۷۔یہ بیماری انسان کے برے اعمال کا نتیجہ ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہے: (وما أصابكم من مصيبة فبما كسبت أيديكم ويعفو عن كثير)[3] (الشورى:۳۰)" اور تم پر جو مصیبت آتی ہے تو وہ تمہارے ہی ہاتھوں کے کیے ہوئے کاموں سے آتی ہے اور وہ بہت سے گناہ معاف کر دیتا ہے۔" اور بے شک اللہ تعالی اپنے بندوں کو اس طرح کی کئی بیماریوں میں مبتلا ہونے سے محفوظ رکھتا ہے۔قرآن کریم میں ارشاد باری تعالی ہے: ( له معقبات من بين يديه ومن خلفه يحفظونه من امر الله) (الرعد:11)" ہر شخص کی حفاظت کے لیے کچھ فرشتے ہیں اس کے آگے اور پیچھے اللہ کے حکم سے اس کی نگہبانی کرتے ہیں۔" اسی طرح قرآن کریم میں آیا ہے: { إِنَّ رَبِّي رَحِيمٌ وَدُودٌ} [هود : 90]." بے شک میرا رب مہربان محبت والا ہے۔"
۸۔اللہ تعالی اور اس کی مخلوق کے درمیان یہ محبت کا ایک ایسا خوشگوار رشتہ ہے جس کی بنیاد اور اساس اللہ تعالی کی رحمت ہے،اگرچہ یہ یکطرفہ ہے خداتعالیٰ کی طرف سے کیونکہ انسان اس دوستی کی قدر نہیں کرتا ہے اور اسے اس کا حق نہیں دیتا ہے [4] جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد ہوا ہے: {وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ} [الأنعام : 91]" اور انہوں نے اللہ کو صحیح طور پر نہیں پہچانا۔" لیکن اللہ تعالی کھبی کسی مصلحت کی خاطر انسان کو اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہے ، جب وہ اپنی حفاظت نہیں کرتا تو فرشتے جو کہ اس کی حفاظت پر مامور ہیں اس پر سے اپنے ہاتھ اٹھالیتے ہیں اور یہ تب ہوتا ہے جب انسان سرکشی اورعصیان میں حد سے آگے نکل جاتا ہے اور اپنے آپ کو نقصان پہنچانے کے ساتھ دوسروں کو بھی نقصان پہنچاتا ہے،تو پھر اللہ تعالی اس کو اپنے اعمال کا خمیازہ بھگتنے کےلیے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے تاکہ اس کے ہوش و حواس ٹھکانے آجائیں اور جو کچھ اس نے بگاڑا ہے اسے ٹھیک کردے۔[5].
۹۔ ان حالات میں جب مومنین خانہ کعبہ، مسجد نبوی،معصومین علیہم السلام کی زیارت سے محروم ہیں، مسجدیں نماز جماعت،دعا و ذکر سے خالی ہیں تو مومنین کو چاہیے ان حالات سے سبق سیکھیں کہ خدا نہ کرے کہ وہ اللہ تعالی کے اس قول کے مصداق قرار پائیں(وان تتولوا يستبدل قوماً غيركم ثم لا يكونوا امثالكم) (محمد:38)."اور اگر تم نہ مانو گے تو وہ اور قوم سےسوائے تمہارے بدل دے گا، پھر وہ تمہاری طرح نہ ہوں گے۔"
محمد اليعقوبي – النجف الاشرف
28/رجب/1441
23/3/2020