عراقی قیام آزادی سے جو کچھ حاصل ہوا

| |عدد القراءات : 46
عراقی قیام آزادی سے جو کچھ حاصل ہوا
  • Post on Facebook
  • Share on WhatsApp
  • Share on Telegram
  • Twitter
  • Tumblr
  • Share on Pinterest
  • Share on Instagram
  • pdf
  • نسخة للطباعة
  • save

بسمه تعالى

عراقی قیام آزادی سے جو کچھ حاصل ہوا

میرے خیال میں  غیور اور  بیدار جوانوں کی تحریک نے عراقی قیام  آزادی میں جو اہم نتائج اور ثمرات حاصل کیےہیں  ان میں سے سب سے اہم اور قیمتی نتیجہ اور ثمرہ قومی شناخت کی بحالی ہے جسے فرقہ پرستوں اور کرپٹ ایجنٹوں نے چھین لیا تھا یہاں تک کہ انہوں نے ہم سے اسے دوبارہ زندہ کرنے کی امید بھی چھین لی تھی اور بہت سارے وطن کے بیٹوں کو اپنا وطن، اپنے بیوی بچے اور  اپنی یادیں اپنے پیچھے چھوڑنے پر مجبور کردیا تھا،لیکن وطن کے  شجاع اور بہادر جوانوں نے ساری قوم کے دلوں میں آتش فشاں  پھوڑ دیا اور اس بے حد توانائی کو بیدار کیا اور ایک ہی نعرے تلے قوم کے تمام گروہوں کو متحد کیا اور وہ نعرہ تھا آزاد، مستقل اور  باشرف وطن جو اپنے بیٹوں کی کرامت کو حفظ کرے اور ان کے حال اور ان کے مستقبل میں خوشی اور خوشحالی لے کر آئے۔

ہم نے ان نوجوانوں میں دیکھا کہ یہ لوگوں کے دلوں میں مسرت اور خوشی پیدا کرتے ہیں عقول کو حیران کردیتے ہیں، ذہنوں  کو اپنی طرف کھنچتے ہیں ، اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں اور پوری دنیا کو عراق کی اصلی شکل و صورت دکھاتے ہیں وہ عراق جو کہ تہذیبوں کا بانی ہے اور  جو کہ  تمام اقوام  کےلئے علوم  اور معارف کا منار ہے۔ہم نے ان میں قربانی،شجاعت ،بیداری،اخلاص، کرداروں کی تنظیم ، حقوق کا مطالبہ اور پرامن مہذب طریقوں سے ناانصافی اور بدعنوانی کو مسترد  کرتے دیکھا ہے۔اور یہ ساری صفات اور خصوصیات کسی قوم میں جمع نہیں ہوسکتیں  مگر یہ کہ اللہ تعالی اس کو  تقدس عنایت کرے اور اس کی شان و شوکت بلند کرے۔اگر یہ ہچکچاتے،سستی اور کاہلی سے کام لیتے،ذلت برداشت کرتے اور فساد و باطل کی تقویت کرتے تو ان کو ذلیل و خوار کیا جاتا اور ان کو ان کے ابتدائی حقوق سے بھی محروم کردیا جاتا،اور یہ رسول خدا (صلى الله عليه واله) نے ہمیں حدیث شریف میں بتایا ہے: ( ما قدست أمة لم يؤخذ لضعيفها من قويِّها غير متعتع) )1(

) یعنی جس معاشرے میں کمزور کا حق طاقتور سے چھین کر اسے واپس نہ کردیا جائے اور طاقتور تواضع کے ساتھ کمزور کا حق اسے واپس نہ کردے وہ معاشرہ ایک پاک اور مقدس معاشرہ نہیں بلکہ آلودہ ہے (

اور یہ وہی  ہے جس کی طرف میں 2005 سے سب کو بلا رہا تھا جب  آمرانہ سیاسی جماعتوں کی بدعنوانی اور ناانصافی واضح ہوچکی تھی ،اورمیں قوم کی بیداری اور اس کے حقیقی مطالبات سے آگاہی کا مطالبہ کررہا تھا اور اس امت کی موجودہ قیادت کی خرابیوں کے بارے میں سب کو بتا رہا تھا۔

میں حکومت اور سیاسی و عسکری رہنماؤں سے مطالبہ کرتا ہوں خیال رہے کہ یہ نوجوان ہی اس  ملک کی اصل دولت ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو ملک کے خوشحال مستقبل کی ضمانت دیتے ہیں۔لہذا اس  عظیم دولت کیساتھ زیادہ روی اور افراط  سے پیش نہ آیں، چونکہ یہ وہ جوان ہیں  جنہوں نے دہشت گردی کا مقابلہ کیا ہے یہاں تک کہ انہوں نے اس دہشتگردی کو قابو کیا اور ان دہشت گردوں سے ساری دنیا کو نجات دلایا،یہ وہ جوان  ہیں جنہوں نے اربعین کو دوبارہ زندہ کیا اور پوری دنیا میں عراق کا  نام روشن کیا۔پس ضروری ہے کہ ان کی بات سنی  جائے، ان کے مطالبات کو سنا جائے۔اور جو امور اور احکامات انہیں مطمئن کرتے ہیں اور انہیں ان کی امید واپس دلاتے ہیں، انہیں فورا انجام دیا  جائے۔

لیکن جبر کی پالیسی اور تشدد کے استعمال پر اصرار کرنا کسی صورت میں فائدہ مند اور درست نہیں ، بلکہ یہ عمل ملک اور عوام کو کھائی اور تباہی کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ آپ ان جوانوں کو شکست نہیں دے سکتے جو مر رہے ہیں اور برہنہ چھاتیوں سے گولیوں کو وصول کررہے ہیں۔

میری جوانوں  کو یہ نصیحت ہے کہ وہ اپنے احتجاج اور قیام کو پر امن رکھیں اور سرکاری و نجی املاک کے تحفظ کو یقینی بنایں اور کسی صورت میں  سیکیورٹی فورسز یا دوسرں پر حملہ نہ کریں تاکہ مزید داخلی اور خارجی  تعاون اور ہمدردی حاصل کیا جاسکے،توڑپھوڑ اور تخریب کاری کے پیچھے دشمن کا ایجنڈا کام کررہا ہے اس سے دور رہیں یہ آپ کی سپورٹ کو نقصان پہنچائے گا، لوگوں کو آپ کے خلاف کردے گا  اور آپ کو جارحیت پسند بنادے گا۔پس ہوشیار اور آگاہ رہو۔

اب وقت آگیا ہے کہ ملک پر مسلط مختلف پارٹیز اور گروہ کچھ شرم کریں اور اس قوم سے معذرت کریں  جس نے مذہب  اور قوم و قبیلہ سےبالاتر ہوکر  ان کے اس فاسد نظام کے خلاف قیام کیا  ہے ، اس فاسد نظام کو مسترد کیا ہے ۔یہ لوگ حکومت چلانے میں بری طرح سے ناکام ہوچکے ہیں۔اب انہیں چاہیے کہ اس وطن کے مخلص اور شائستہ لوگوں کےلئے جگہ خالی کردیں تاکہ اس ملک کی قیادت میں وہ اپنا کردار ادا سکیں۔

یہ آزادی قیام  جو کہ لوگوں کے ارادے اور اختیار کی نمائندگی کرتا ہے اس حکومت سے بہت بہتر ہے جو کہ الیکشن میں کرپشن اور دھاندلی کے ذریعے بر سر اقتدار آئی ہے، اگرچہ ہم اس بات کو تسلیم بھی کرلیں کہ  یہ حکومت الیکشن کے ذریعے برسراقتدار آئی ہے لیکن  حکومت کے خلاف یہ قیام آزادی اس کی مشروعیت اور قانونی جواز کو ختم کردیتا ہے چونکہ عوام طاقت کا سرچشمہ ہے اور حکومت کا تسلسل  شروع سے لے کر آخر تک ان کے ارادے کے ساتھ مشروط ہے۔جس وقت بھی وہ ا پنا ارادہ بدل دیں  حکومت کی قانونی حیثیت ختم ہوجاتی ہے۔

محمد اليعقوبي – النجف الأشرف

1/ ربيع 1/ 1441

30/10/2019

ـــــــــــــــ

(1) وسائل الشيعة 120/16 .