اسلام کی آفاقیت اورحسینی نہضت (تحریک) کے بارے میں ہماری ذمہ داریاں

بسمہ تعالی
اسلام کی آفاقیت اورحسینی نہضت (تحریک) کے بارے میں ہماری ذمہ داریاں[1]
امام حسین (علیہ السلام) کی عطاء صرف شیعہ کے ساتھ خاص نہیں، اور نہ صرف مسلمانوں کے ساتھ خاص ہے، بلکہ وہ ایک ایسے چشمہ ہیں جس سے پوری انسانیت سیراب ہوتی ہے۔ اور یہ صرف کوئی دعوی نہیں بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کی گواہی مختلف امتوں کے قائدین، علماء،مفکرین اور ادباء مختلف زبانوں میں دیتے ہیں۔ اور اس میں ان کے کلمات معروف اور اشعار مشہور ہیں۔
اور یہ ہمارى يعنى حسین (علیہ السلام) کے دوستداروں اور جو حسین (علیہ السلام) کی خوشبو کے بارے میں کچھ جانتا ہے اس کو ذمہ داری بنتی ہے کہ اس مبارک پیغام کو دیگر امتوں کی نسلوں تک مختلف زبانوں کے ميں پہونچا دیں۔ اور اگر ہم نے اس میں کوئی کوتاہی کی تو وہ امتیں چاہے وہ افریقہ کے بيابانوں میں ہوں یا امازون کے جنگلوں میں یا مشرق اور مغرب کے شہروں ميں، ہم سے شکوی کرینگی اور قیامت كے دن خدا کے سامنے روک کر سوال کرینگی اور کہیں گی: اے رب عزت وجلالت! ان لوگوں سے ہمارا حق لے لو جنہوں نے ہمیں امام حسین (علیہ السلام) کی برکات سے محروم کیا ہے اور ہماری زبان میں ہم تک ان کا پیغام نہیں پہونچایا تاکہ اس سے فائدہ اٹھائیں اور انکی برکات سے سیراب ہو جائیں۔
کیا امام حسین (علیہ السلام) کے اوصاف میں سے نہیں ہے کہ وہ "چراغ ہدایت اور کشتی نجات" ہیں۔ پس ان کی روشنی ہر اس انسان تک پہونچنی چاہیئے جو ہدایت، تکامل اور بلندی چاہتا ہے اور جو بھی گناہ، فتنہ، گمراہی، انحراف اور فساد میں غرق ہونے سے نجات چاہتا ہے وہ انکی کشتی میں سوار ہو جائے۔ پس لازم ہے کہ ہم کسی کو بھی اس عظیم فصیلت سے محروم نہ کریں.
ممکن ہے یہ امتیں ہم سے کہیں کہ ہم نے آپ کو روتے، سینہ زنی کرتے، اور مجالس اور مناسبات کو برگزار کرتے ہوئے دیکھا تھا لیکن ہم اس درد والم، بکاء، عاطفی زخم اور دنیا کے کونے کونے میں لاکھوں لوگوں كے اجتماع کے راز سے آگاہ نہیں تھے، اور حادثہ جتنا عظیم ہوتا ہے اتنا ہی صاحب حادثہ عظیم ہوتا ہے۔ اور آپ نے ہماری ثقافت اور ماحول کی زبان میں ہمیں نہیں سمجھایا۔ اور طبيعی طور پر انہیں امام حسین پر رونے اور رلانے کے ثواب سے مربوط روایات قانع نہیں کر سکتیں؛ چونکہ وہ اسلام کے اصولوں پر ایمان نہیں رکھتے لیکن اگر ہم خود ان کے دروازے سے داخل ہوجائیں اور انکی زبان میں بتائیں جسے وہ سمجھتیں ہیں اور ان کے لیئے امام حسین (علیہ السلام) پر رونے کے اجتماعی، نفسی، اخلاقی اور سیاسی حتی صحی (صحت كے) آثار کے بارے میں تشریح کریں تو وہ بکاء کی اہمیت اور برکت کو سمجھ لینگے۔ یہ وہ آثار اور نتائج ہیں جنہیں طاغوت اور ظالموں نے سمجھا اور شعائر حسینیہ سے منع کیا اور لوہے اور آگ کے ساتھ انكا مقابلہ کیا۔ اور اس سے پہلے جناب سیدہ فاطمہ زہرا (علیہا السلام) کو بھی اپنے والد پر رونے سے منع کیا تھا اور امیر المومنین (علیہ السلام) بیت الحزن بنانے پر مجبور ہوگئے تا کہ جناب سیدہ اس کے اندر اپنے والد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر روئے۔
یورپ میں کوئی خطیب جب زیب ممبر ہوتا ہے اور امام حسین (علیہ السلام) کا یزید کے مقابلے میں کھڑے ہونے کے اسباب بیان کرتا ہے کہ وہ شراب پیتا تھا، آلات موسیقی کے ساتھ کھیلتا تھا، گناہ کا مرتکب ہوتا تھا، اور بندروں کے ساتھ کھیلتا تھا وغیرہ تو وہ لوگ اس میں کوئی قباحت نہیں دیکھتے اور اسے شخصی آزادی سمجھتے ہیں۔ اور اگر کچھ افعال کے غلط ہونے کے قائل بھی ہو جائیں تو اسے حکومت کے خلاف قیام کرنے، جان ومال کی قربانی دینے حتی شیرخوار بچے، اور خدا کے معزز ترین مخلوق کو بدترین مخلوقات کی مجلس میں لے جانے کا مستحق قرار نہیں دیتے۔
لیکن اگر ہم امام حسین (علیہ السلام) کے کلمات کو ایک نئے خطاب کی شکل میں پيش كرنا چاہيں جو انکی جدید نسل کی ثقافت سے مناسبت رکھتا ہوتو یوں کہینگے: یزید نے عوام کا مال لوٹا اورانہيں ان کے قانونی حقوق سے محروم کیا (فیء سے غلط استفادہ کیا) اور اس نے اس دستور پر عمل کرنے سے منع کیا جس پر عوام نے اعتماد کیا اور راضی ہوئے (سنت کو ختم کیا اور بدعت کو زندہ کیا، اور حلال خدا کو حرام اور حرام خدا کو حلال قرار دیا) اور قرآن وسنت کی توہین کی جو مسلمانوں کا دستور ہیں۔
اس نے انسانی حقوق کو پامال کیا (گمان کی بنیاد پر حبس کرتا تھا اور تہمت پر قتل کرتا تھا)۔ وہ ایک ظالم وجابر سلطان تھا جو عوام کی مرضی کے بغیر زبردستی حکومت تک پہونچ گیا، وغیرہ وغیرہ۔ اور یقینا یہی امر انقلاب اور ظالم حکومتوں کے خلاف قیام کرنے کا مستحق ہے۔
پس حسینی نہضت کی آفاقیت ایک لفظ نہیں جسے ہمیں دوسروں کے سامنے بولیں اور یہ گمان کریں کہ ہم نے امام حسین (علیہ السلام) کے لیئے کچھ کیا، اور ان کی مدح سرائی کا حق ادا کیا، بلکہ یہ ایک وسیع ذمہ داری ہے جو ہم پر یعنی امام (علیہ السلام) کے دوستداروں پر عائد ہے، کہ ہم تمام امتوں کو ان کے ہاں رائج ثقافت کے مطابق مخاطب کریں اور انکی اپنی زبان ميں انہیں بتائیں اور انکے ماحول جس میں وہ رہے ہیں، كو مد نظر رکھیں اور ہر نسل کو اسی کے مطابق مخاطب کریں تو سب امام حسین (علیہ السلام) کی عطا سے مالا مال ہوجائینگے۔ اسی لیئے کہا گیا ہے کہ امام حسین (علیہ السلام) نجات کی کشتیوں میں سب سے وسیع کشتی ہے۔
اور یہ ذمہ داری ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے لیئے مختلف وسائل اختیار کریں، اور اس مشن کو کامیاب کرنے والی ہر طاقت کو اپنائیں۔
اور ہم اس واجب کے ادا میں سرزد ہونے والی ہر کوتاہى کے مسوول ہیں۔ اور اس سے بھی زیادہ محاسبہ تب ہوگا جب ہم سے کوئی ایسی کوتاہی سرزد ہوجائے جو ان شعائر کو خراب کرے اور اقوال وافعال کے زریعے لوگوں کو متنفر کریں، اور امام حسین (علیہ السلام) کے قضیے پر ایمان لانے والے لوگوں کے راستے میں رکاوٹیں ڈال دیں، یا اسلام اور تشیع کا چہرہ بگاڑ دیں جس طرح بعض متسلط لوگ دین اور مذہب کے نام پر ایسا کرتے ہیں جس کی وجہ سے بعض لوگ دین سے متنفر ہوتے ہیں۔ پس اس وقت محاسبہ سخت اور دوگنا ہوگا اور امتیں ہم سے انہیں اس عظیم نعمت کی برکات سے محروم رکھنے پر سوال کرینگی۔
آیا ہر سال لینگویج فکیلیٹیز (language faculties) سے ہمارے بہت سارے لوگ فارغ التحصیل نہیں ہوتے؟ حالانکہ وہ مختلف بین الاقوامی زبانوں میں ماہر ہوتے ہیں اور انہیں کوئی نوکری نہیں ملتی یا اپنے اختصاص سے ہٹ کر کسی فیلڈ میں کام کرتے ہیں۔ پس ہم ان سے ایک الیٹرونک فوج کیوں نہیں تیار کرتے جو مخلتف عالمی زبانوں کے زریعے اقوام عالم تک اسلام کا اصل پاکیزہ پیغام پہونچا دے۔
پس جس چیز کی ہمیں ضرورت ہے وہ صرف خطاب کو اسلامی اور حسینی بنانا نہیں، بلکہ اس میں تنوع، تعدد لغات، وسائل اور نفوذ کے مقامات جن کے زریعے دنیا کی اقوام اور نسلوں تک پہونچ سکتے ہیں، بھی درکار ہیں۔ اور سب سے پہلے ہمیں خود کو علمی، فکری، اور اخلاقی لحاظ سے اس بڑی ذمہ داری کے لیئے تیار کرنا ہوگا۔
ابو صلت ہروی نے روایت کی ہے: اس نے کہا: ( میں نے ابو الحسن علی بن موسی رضا (علیہ السلام) کو فرماتے ہوئے سنا: خدا اس بندے پر رحم کرے جو ہمارے امر کو زندہ رکھتا ہے، میں نے پوچھا: کیسے آپ کے امر کو زندہ کیا جائے؟ فرمایا: ہمارے علوم سیکھے اور لوگوں کو سکھائے، بے شک لوگ اگر ہمارے کلام کے محاسن کو جان لینگے تو ہماری پیروی کرینگے)۔ [2]
اس حدیث میں کئی نکات ہیں:
1۔ ان (علیہم السلام) کے امر کو زندہ کرنا باعث رحمت الہی ہے جسکی ہم سب خواہش کرتے ہیں۔ لیکن مطلوب حاصل کرنے کے لیئے صرف شعائر منانا کافی نہیں وہ صرف ان (علیہم السلام) کے پیغام کا حقیقی مضمون پہونچانے کا وسیلہ ہے (لوگوں کو سکھائے)۔
2۔ اس سے پہلے ان کے علوم اور اخلاق کو اپنانا اور انکی سیرت اور مبارک اقوال پر مطلع ہونا ضروری ہے۔
3۔ جب لوگوں تک اہل بیت (علیہم السلام) کا کلام اپنے حسن وجمال اور انسانیت کے ساتھ پہونچے گا تو نتیجہ (جو کہ لوگوں کا اہل بیت علیہم السلام کی اتباع کرنا ہے) حتما متحقق ہوگا۔ اور ہماری زمہ داری ہے کہ ان (علیہم السلام) کے کلام کے محاسن لوگوں تک اپنی طرف سے (یہ خیال کرتے ہوئے کہ ہم اچھا کام کر رہے ہیں) بغیر کسی کمی بیشی کے پہونچائیں۔
4۔ تمام لوگوں کے لیئے ان کا پیغام آفاقی ہے، صرف مسلمانوں یا شیعہ کے ساتھ خاص نہیں۔ یہ اپنے جد امجد مصطفی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نہج پر ہیں ( ہم نے آپکو عالمین کے لیئے رحمت بناکر بھیجا ہے) (الانبیاء/ 107) ( تاکہ عالمین کے لیئے نذير (ڈرانے والا) بن جائے) (الفرقان/ 1)۔ اور امام حسین علیہ کی زیارت کے وقت ہم اسی چیز کا اقرار کرتے ہیں اور انکی مبارک نہضت کا ہدف بیان کرتے ہیں (آپ پر اپنی جان قربان کی تاکہ آپ کے بندوں کو جہالت اور گمراہی سے نجات دے).[3]
[1] - جناب مرجع یعقوبی (دام ظلہ) کی بروز پیر، 23 ذی الحج/ 1439، بمطابق 4/9/2018 کو (مدرسہ الابرار للعلوم الدینیہ فی النجف الاشرف) کے اساتذہ اور طلاب سے گفتگو۔
[2] - عيون اخبار الرضا : 1/275 باب 28ح 69، معاني الاخبار : 180
[3] - مفاتيح الجنان : 773 زيارة الاربعين