معاشرے كےمنحرف مسائل

| |عدد القراءات : 68
  • Post on Facebook
  • Share on WhatsApp
  • Share on Telegram
  • Twitter
  • Tumblr
  • Share on Pinterest
  • Share on Instagram
  • pdf
  • نسخة للطباعة
  • save

معاشرے كےمنحرف مسائل
بسمہ تعالی
جدید استفتاء
7۔ معاشرے كےمنحرف مسائل
معاشرے میں شارع مقدس اور فاضل انسانی اخلاق کی تعلیمات کے مخالف مسائل مشاہدہ کیئے گئے ہیں، اور بعض اعمال عام اجتماعی مسائل کی حد تک نہیں پہونچے اور شخصی اعمال سے آگے نہیں بڑھے، مگر ان کو نظر انداز کرنا اور ان سے غافل رہنا خدا کی طرف سے محرمات، اور ان کا سد باب کرنے کے لیئے بنائے گئے دائرے کو توڑنے کا سبب بنے گا۔ اور نفس سے ارتکاب معصیت کا خوف زائل کرے گا، اور جس کے دل میں مرض ہے وہ انہیں انجام دینے کی خواہش کرے گا، پھر اسی طرح اس کا دائرہ مزید پھیلتا جائے گا یہاں کہ اس کا علاج ناممکن ہوگا۔
اس لیئے معاشرے کے غیور افراد، خصوصا دینی مرجعیت کے پیروکاروں، سے مطالبہ ہے کہ وہ صرف ان امور سے اجتناب پر اکتفاء نہ کریں، بلکہ عظیم فریضے پر عمل کرتے ہوئے حکمت اور اچھی نصیحت کے زریعے معاشرے سے انہیں پاک کرنے پر کام كريں، اور وہ (عظیم فریضہ): امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے، جسے امام (علیہ السلام) نے سب سے اعلی اور اشرف فریضہ قرار دیا ہے، اور ہم انہیں دعوت دیتے ہیں کہ خداوند متعال کے قول ((وَتَعَاوَنُواْ عَلَى الْبرِّ وَالتَّقْوَى وَلاَ تَعَاوَنُواْ عَلَى الإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ)) (المائدہ/2) کی تطبیق کرتے ہوئے ایک دوسرے کی مدد کریں اور اسے تقویت دیں۔
نیز دعوت دیتے ہیں کہ اس قسم كے مسائل کو تشخیص دینے، ان استفتاءات کو دوسروں تک پہونچانے، معاشرے کو باشعور بنانے، نصیحت ورہنمائی کرنے، اور جو ان نصیحتوں پر عمل پیرا ہوکر تبدیلی لاتا ہے، کی حوصلہ افزائی کرنے میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں (آپ ميں سے ايك گروه ہو جو نيكى كا حكم دے اور برائى سے روكے) (آل عمران/104).
1۔ خواتین کے بعض بیوٹی پالرز یا بعض تجارتی دکانیں عورتوں كى ایسی تصویریں یا نقشے لٹکاتے ہیں جو شریعت کے منافی ہیں، پس واجب ہے کہ انہیں ان چیزوں کو ہٹانے یا اس طرح سے رکھنے کی نصیحت کی جائے کہ عام حیاء پر اثرانداز نہ ہوں.
2-مرد اور عورتوں کی شادی کے بعض جشن حرام اعمال پر مشتمل ہوتے ہیں، جیسے غنا، اور موسیقی کی دھن پر رقص كرنا، یا عورتوں کا نیم برہنہ لباس پہنا، اس دلیل کے ساتھ كہ یہ محفل عورتوں کے ساتھ خاص ہے، یہ سب کچھ شہوت اور فساد کا سبب بنتا ہے یا مجلس میں حاضر عورتیں اپنے مردوں کے سامنے ان بے حجاب عورتوں کے محاسن (جسم کی حسین جگہوں) کے بارے میں بیان کرتی ہیں جس سے معصومین علیہ السلام نے منع کیا ہے۔
3۔ بعض کافی کی دکانوں (coffee shops) میں کچھ افراد حرام وناپسندیدہ کاموں کا ارتکاب کرتے ہیں، جیسے جنسی (سیکسی) فلموں اور میگزیز کا تبادلہ، یا نادر جنسی تعلقات، یا نشہ وغیرہ۔
4۔ بعض سرپرست مینگنی کے وقت عورت کا مہر بہت زیادہ رکھتے ہیں، اور ایسی شرطیں سامنے رکھتے ہیں کہ رشتہ مانگنے والا انہیں پورا کرنے سے عاجز ہوتا ہے، جبکہ وہ خود اعتراف کرتے ہیں كہ یہ ایک نیک اور مہذب جوان ہے جو اپنی بیوی کو خوش ركهنے اور اس کی کرامت کی حفاظت کرنے پر قادر ہے لیکن اس کے باوجود وہ ان فضول رسومات اور تقالید کے پیچھے بھاگتے ہیں جن کی کوئی قدر وقیمت نہیں، اور یہ عمل اس الہی ومبارک سنت کو زندہ رکھنے والے راستے میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ اور معصومین علیہ السلام کے ارشادات کی صریح مخالفت ہے، جس طرح ان سے نقل ہوا ہے( جب آپ کے پاس ایسا شخص رشتہ لیکر آئے جس کی عقل اور دین آپ کو پسند آئے، تو اس سے اپنی بیٹی کی شادی کرو، اگر ایسا نہیں کروگے تو زمین میں بڑا فتنہ اور فساد جنم لے گا)۔
5۔ بعض علوی سادات (خدا ان کے شرف میں اضافہ فرمائے) ابھی تک یہ شرط رکھتے ہیں کہ انکی بیٹی کی شادی کسی علوی سید سے ہو، اور ہم نے ایک تفصیلی بیانیہ نشر کیا ہے جس میں اس ظالم رسم پر نقد کیا ہے جس نے علوی عورتوں کو بغیر کسی شرط کے (شوہر علوی نہ ہو) اپنی ازدواجی زندگی کا حق حاصل کرنے سے محروم رکھا ہے۔
محمد یعقوبی
7 رمضان 1437