نماز عید الاضحی کے دو خطبے 1443

| |عدد القراءات : 101
نماز عید الاضحی کے دو خطبے 1443
  • Post on Facebook
  • Share on WhatsApp
  • Share on Telegram
  • Twitter
  • Tumblr
  • Share on Pinterest
  • Share on Instagram
  • pdf
  • نسخة للطباعة
  • save

بسم الله الرحمن الرحيم

{ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ} [الروم : 41]

خشکی اور تری میں لوگوں کے اعمال کے سبب فساد پھیل گیا ہے).”سورہ روم 41(

زندگی کی برائی اور بھلائی کا انسان کے اعمال سے تعلق۔[1]

اللہ تبارک و تعالی نے فرمایا: {ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُمْ بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ} [الروم : 41].

"خشکی اور تری میں لوگوں کے اعمال کے سبب فساد پھیل گیا ہے تاکہ اللہ انکو ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے عجب نہیں کہ وہ باز آ جائیں۔") سورہ روم 41(

{ظَهَرَ}کا مطلب واضح ہوجانا، آشکار ہوجانا یا پھیل جانا ہے- جیسا کہ مفردات میں بیان ہوا ہے- یعنی ایک چیز پہلے موجود نہیں تھی یا موجود تھی لیکن آنکھوں سے پوشیدہ تھی جیسا کہ وہ چیزیں جو کہ زمین کے اندر موجود تھیں اور پھر باہر نکل آئیں یا ممکن ہے اس کا مطلب غالب آنا، مسلط ہونا ااور قدرت مند ہونا ہو جیسا کہ  اللہ تعالی کے اس قول میں: {كَيْفَ وَإِنْ يَظْهَرُوا عَلَيْكُمْ لَا يَرْقُبُوا فِيكُمْ إِلًّا وَلَا ذِمَّةً} [التوبة : 8]

"ان کے وعدوں کا کیا اعتبار ان کا اگر تم پر غلبہ ہو جائے تو نہ یہ قرابت داری کا خیال کریں نہ عہدوپیمان کا۔"

اس سے لفظ "مظاہرہ" نکلا ہے، جس کا مطلب ہے مدد، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

{وَظَاهَرُوا عَلَى إِخْرَاجِكُمْ} [الممتحنة : 9].

"اور تمہارے نکالنے میں اوروں کی مدد کی"

{الْفَسَادُ} کا مطلب حد اعتدال سے نکل جانا ہے کم ہو یا زیادہ اور اس کی ضد ہے بھلائی،قرآن کریم میں  یہ دونوں الفاظ ایک دوسرے کی ضد کے طور پر استعمال ہوئے ہیں-دونوں کے معانی متضاد ہیں- لفظ فسادکسی چیز کی ترتیب اور ساخت میں خرابی کی کیفیت کا اظہار کرتا  ہے۔فساد یعنی اس راستے سے منحرف ہوجانا جو انسان کو  منزل مقصود تک پہنچا دیتا ہے جوکہ انسان کی حیات طیبہ اور کامیابی کا موجب ہے۔ اس فساد کے انسانی زندگی پر برے  آثار مترتب ہوتے ہیں اور لوگ ممکنہ اور متوقع فواید سے محروم ہوجاتے ہیں۔

خلل یا  تو اس  بیرونی مادی دنیا میں پڑتا ہے جیسا کہ اللہ تعالی کے اس قول میں ہے: {وَلَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ أَهْوَاءَهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ} [المؤمنون : 71]

"اور اگر معبود برحق انکی خواہشوں پر چلتے تو آسمان اور زمین دونوں برباد ہوجاتے۔" اور ممکن ہے خلل انسان کے اعمال و افعال میں واقع ہو:

{وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ} [البقرة : 11]

"اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں کہ ہم ہی اصلاح کرنے والے ہیں۔"

{الَّذِينَ طَغَوْا فِي الْبِلَادِ * فَأَكْثَرُوا فِيهَا الْفَسَادَ} [الفجر : 11 - 12] .

"ان لوگوں نے شہروں میں سرکشی کی تھی۔ (11) اوران میں بہت فساد پھیلایا تھا۔ (12)"

 

{فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ}یہ کنایہ ہے اس بات سے کہ برائی زمین کی تمام اطراف میں پھیل چکی ہے جیسا کہ ہم کہتے ہیں: ملأ الخافقين: مشرق و مغرب کو پر کردیا ہےیا اس سے مراد یہ ہے کہ درحقیقت برائی نے خشکی اور سمندر دونوں کو بھر دیا ہے:بیرونی مادی دنیا اور انسان کے اعمال،پہلی قسم یہ کہ برائی نے اس بیرونی مادی دنیا کو بھر دیا ہے، اس برائی اور فساد سے مرادماحولیاتی آلودگی، گلوبل وارمنگ، آگ، سمندری طوفان، مہلک وبائی امراض کا پھیلاؤ، مہلک بیماریاں، معاشی بحران، صحرائی، پانی کی قلت، قحط، زلزلے، سیلاب، اوزون کی تہہ کو تباہ کرنے والی گیسوں کا اخراج، اور دیگر، اور دوسری قسم، اعمال کی خرابی ہے:جیسے شرک، الحاد، قتل، زنا، چوری، سود، شراب نوشی، غداری، ناانصافی، جارحیت، جنون، نفرت، عداوت، بیہودہ جنگیں، بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار، جنس پرستی، اور دیگر مظالم اور بڑے جرائم جن کی زمین گواہ ہے۔

اور اسی طرح سمندر جن چیزوں کا مشاہدہ کرتا ہے، جیسا کہ اس کے ساحلوں پر بے حیائی کے واقعات ہوتے ہیں اور یہ کہ خلیج کے ساحلوں پر بحری جہاز طوائف اور شراب لے کر لنگر انداز ہوتے ہیں۔ اس سے میری مراد مسلمانوں کی آبادی ہے جو ان برائیوں کا مرتکب  ہوتی ہے۔اور سمندر کی خرابیوں میں سے ایک اس کے اندرونی حصوں میں ہونے والے ایٹمی دھماکے اور اس میں جانداروں کا ہلاک ہونا ہے۔ اسی طرح سمندروں کے اندر ہونے والی برائیوں میں سے ایک  اس کے اندر گھومنے والے بحری بیڑے ہیں، جو کہ جدید ترین فوجی ٹیکنالوجی سے لیس ہیں جن کا مقصد لوگوں کو خوفزدہ کرنا، ان کا محاصرہ کرنا اور انہیں طاقتور اقوام کے تابع کرنا ہے۔ اسی طرح سمندر کی خرابی کی ایک مثال ماحولیاتی تحفظ کے قوانین کی خلاف ورزی ہے جو کہ  بارش کی کمی کا سبب بنی ہے اور اس سے سمندروں اور خشکی پر رہنے والے جانداروں کی زندگیوں کو نقصان پہنچا ہے۔

القمی نے اپنی تفسیر میں امام صادق (ع) سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا: سمندری جانور بارش میں رہتے ہیں، لہٰذا اگر بارش رک جائے تو خشکی اور سمندر میں فساد برپا ہوجاتا ہے اور یہ تب ہوتا ہے  جب گناہ زیادہ ہوں."[2]

کچھ عصری ذرائع ابلاغ نے سمندر کے ساحل پر رہنے والوں کے حوالے سے کہا ہے کہ "سمندر کو بارش کا فائدہ صحرا سے زیادہ ہے۔"[3]

فساد اور برائی کی مخلتف قسمیں ہیں جیسےنظریاتی فساد، سیاسی فساد، معاشی فساد، امن اور امن  کے شعبے میں فساد، اخلاقی فساد، فکری فساد اور سماجی فساد۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم زندگی کے ہر شعبے میں موجود فساد ، کرپشن اور برائی کو سمجھیں۔

ان مفاسد میں سے سب سے بڑا مفسدہ انسان کے عقیدہ کا فاسد ہونا ہے یعنی توحید کے راستے سے ہٹ کر شرک، کفر اور الحاد کے راستے پر گامزن ہونا ہے چونکہ یہ فساد اور انحراف تمام انحرافات اور برائیوں کی جڑ ہے۔{إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ} [لقمان : 13].

{بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے}۔

امام باقر علیہ السلام نے صحيحة محمد بن مسلم میں  اس آیت کریمہ کی سقیفے کے واقعہ پر تطبیق کی ہے جس میں امیرالمومنین علی علیہ السلام کو  رسول خدا صل اللہ علیہ و آلہ وسلم  کی خلافت اور امت کی سرپرستی سے محروم کیا گیا۔

حالیہ برسوں میں لوگوں کے زوال اور تنزلی کی رفتار اس شدت سے بڑھی ہے جس کا کسی نے تصور بھی نہیں کیا ہوگا ، یہاں تک کہ انہوں نے ہم جنس پرستی اور ٹرانسجینڈرزم کو فروغ دینے کے لیے قوانین بنائے، یہاں تک کہ انہوں نے والدین کی اجازت کے بغیر بچوں کے لیے قوانین بنائے اور آزادی کے نام پر انہیں تحفظ فراہم کیا اور انہیں  دنیا کے سامنے اس طرح سے پیش کیا  جیسا کہ والدین کہ طرف سے ان پر بہت تشدد ہورہا ہو، ان پر تنقید کرنے والوں کو سزا دی گی، اور پتہ نہیں کیوں کرپشن کو فروغ دینے والوں کو آزادی دی جاتی ہے، لیکن ان لوگوں کو آزادی نہیں ملتی جو کرپشن اور برائی کو مسترد کرتے ہیں اور اس بارے میں  اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں؟

سویڈن میں مقیم ایک شخص کا کہنا ہے کہ میں اپنے بیٹے یا بیٹی کو ہم جنس پرستوں کے ساتھ دوستی کرنے سے نہیں روک سکتا چونکہ وہاں کے قانون کے مطابق والدین اپنے بچوں پر ان کی مرضی کے خلاف کوئی پابندی نہیں لگا سکتے اور بچوں کی شکایت پر باپ کو ایک سے چھ سال کی جیل ہوسکتی ہے۔

آیت کا یہ حصہ ہمیں یہ بتلاتا ہے کہ کس طرح فساد  پوری دنیا میں  ہر جگہ، خشکی میں اور تری میں پھیل چکا ہے اور کس طرح تمام معاملات پر بدعنوانی اور کرپشن مسلط ہوچکا ہے، مومنین کمزور سے کمزور تر ہوتے جارہے ہیں، اسلام لوگوں میں اجنبی [4]ہوتا جارہا ہے جیسا کہ ابتدا میں تھا حتی  ان لوگوں کے  درمیان جو خود کو مسلمان کہتے ہیں۔ بات یہاں تک آ پہنچی ہے کہ اگر آپ کسی کو امر بالمعروف اور نہی  عن المنکر کرنا چاہو اور کسی کو شرعی احکام پر عمل کرنے کا کہو تو آپ کا یہ کام برا سمجھا جاتا ہے اور لوگ آپ کے اس کام کی مذمت کرتے ہیں بلکہ آپ کا مذاق اڑاتے ہیں اور آپ کی توہین کرتے ہیں اور اس سلسلے نے جاری رہنا ہے یہاں تک کہ خدا وند متعال امام مہدی عجل اللہ تعالی فرجہ کے ہاتھوں اس زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسا کہ یہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی۔

مزے کی بات یہ ہے کہ قرآن کریم نے اسی لفظ "ظہر" کو دیگر تمام نظاموں اور نظریوں پر ایمان کی فتح، رعب و دبدبہ اور غلبہ کی حالت کے لیے استعمال کیا ہے۔  جیسا کہ اللہ تعالی اس آیت کریمہ میں  فرماتا ہے:

{هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ} [التوبة : 33]، [الفتح : 28]، [الصف : 9].

{وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے تمام ادیان پر غالب کردے۔" [التوبہ: 33]، [الفتح: 28]، [الصف:9]۔

 

{بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ}آیت کا یہ حصہ اس فساد اور انتشار کے واقع ہونے کی اصل وجہ کی طرف اشارہ کرتا ہے اور وہ ہے انسان کے اپنے اعمال، یہ انسان ہی ہیں جو اپنی حماقتوں، جہالت، تکبر، اپنی خواہشات نفسانی کی پیروی کرکے اور جنات اور انسانوں میں موجود شیاطین کے آگے سر تسلیم خم کرکے ان آفات اور برائیوں کو اپنے اوپر مسلط کرتے ہیں۔ان تباہیوں کی وجہ قدرت کا قہر اور جو کچھ وہ بول رہے ہیں وہ نہیں ہے۔

اور اب جب اس فساد کا سبب معلوم ہوچکا  ہے تو ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کے علاج پر اور اس فساد کو ختم کرنے پر توجہ دی جائے اورفساد کے نتائج اور اثرات پر توجہ دینا کافی نہیں ہے بلکہ ایک ماہر ڈاکٹر کی طرح جو سر درد اور بھوک کی کمی جیسی بیماریوں کی علامات کا علاج کرنے سے مطمئن نہیں ہوتا ، بلکہ بیماری کی تشخیص اور علاج کے لیے ٹسٹ تجویز کرتا ہے اور رپورٹس کی چھان بین کرکے مریض کو دوائی دیتا ہے۔ لیکن بے وقوف مغرب، ہوس میں ڈوبا ہوا،  اس منطق کی پیروی نہیں کرتا۔

مغربی ممالک میں لوگ حال ہی میں ایک سنگین بیماری میں مبتلا ہوئے تھے، جسے انہوں نے بندر پاکس کہا تھا اور اعتراف کیا تھا کہ یہ ہم جنس پرستوں کی شادی کی وجہ سے ہوا ہے، اور یہ کہ ان دنوں اس کا وسیع پیمانے پر پھیلاؤ اس وقت ہوا جب تقریباً دو ماہ قبل برطانیہ میں ہم جنس پرستوں کے ایک بڑے میلے کا انعقاد کیا گیا اور تقریبا اسی ہزار لوگوں نے اس میں شرکت کی۔اس بیماری کے اصل سبب کے انکشاف کے بعد بجائے اس کے کہ  ہم جنس پرستی  پر پابندی لگاتے اور لوگوں کو اس خطرے سے آگاہ کرتے ،انہوں نے لوگوں کو مونکی پوکس سے بچاؤ کے ٹیکے لگوانے کے لیے بلایا!!!

یہ احمق اور بے قوف لوگ اپنی حماقت اور اپنی جہالت سے انسانوں کو ایسی آفات اور مصیبتوں سے دچار کررہے ہیں کہ تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی اور بے سابقہ ہے کیونکہ انہوں نے زمین پر ایسا فساد برپا کیا ہے جس کا ذکر تاریخ میں نہیں ملتا اور امام رضا علیہ السلام کی ایک حدیث میں یہ مطلب بیان ہوا ہے۔ امام علیہ السلام فرماتے ہیں:

(كلما أحدث العباد من الذنوب ما لم يكونوا يعملون أحدث الله لهم من البلاء ما لم يكونوا يعرفون)[5]

" جب بھی خدا کے بندے کوئی ایسا گناہ انجام دیتے ہیں جس کا وہ پہلے ارتکاب نہیں کرتے تھے تو اللہ بھی ان پر ایسی بلا نازل فرماتا ہے جس کے بارے میں وہ پہلے نہیں جانتے تھے۔"

آیت کا یہ حصہ ایک اہم حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے اور وہ یہ کہ انسان پر جتنی بھی بلائیں نازل ہوتی ہیں یہ سب اس کے اپنے اعمال کی بدولت ہے یا ایک انسان ہونے کے ناطے یا پھر معاشرے کا ایک حصہ ہونے کے ناطے کہ جو کچھ معاشرے کے ساتھ ہوتا ہے اس کے ساتھ بھی وہی ہوتا ہے۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا  ذکر قرآن میں بارہا آیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالی کا یہ قول:

{مَا أَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللَّهِ وَمَا أَصَابَكَ مِنْ سَيِّئَةٍ فَمِنْ نَفْسِكَ وَأَرْسَلْنَاكَ لِلنَّاسِ رَسُولًا وَكَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا} [النساء : 79]

"اے آدم زاد تجھ کو جو فائدہ پہنچے وہ اللہ کی طرف سے ہے۔ اور جو نقصان پہنچے وہ تیری ہی شامت اعمال کی وجہ سے ہے۔ اور اے نبی ہم نے تم کو لوگوں کی ہدایت کے لئے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے اور اس بات کا اللہ ہی گواہ کافی ہے۔"

اور اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے:

{وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ} [الشورى : 30]

{اور تم پر جو بھی مصیبت آتی ہے وہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی کی وجہ سے ہے اور وہ بہت سے لوگوں کو معاف کر دیتا ہے} (الشوریٰ:30)۔

اللہ تعالی فرماتا ہے:

{وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ آمِنَةً مُطْمَئِنَّةً يَأْتِيهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِأَنْعُمِ اللَّهِ فَأَذَاقَهَا اللَّهُ لِبَاسَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوا يَصْنَعُونَ} [النحل : 112]

"اور اللہ ایک بستی کی مثال بیان فرماتا ہے جو کہ ہر طرح امن چین سے تھی ہر طرف سے اس کا رزق با فراغت چلا آتا تھا۔ مگر ان لوگوں نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ نے انکے اعمال کے سبب انکو بھوک اور خوف کا لباس پہنا کر ناشکری کا مزہ چکھا دیا۔"

اللہ تعالی کا قول ہے:

{ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ لَمْ يَكُ مُغَيِّرًا نِعْمَةً أَنْعَمَهَا عَلَى قَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ وَأَنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ} [الأنفال : 53].

"یہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کہ کسی قوم پر کوئی نعمت انعام فرما کر پھر بدل دے جب تک کہ وه خود اپنی اس حالت کو نہ بدل دیں جو کہ ان کی اپنی تھی اور یہ کہ اللہ سننے وا جاننے وا ہے۔"

اور اسی مطلب کی طرف بہت ساری احادیث نے بھی اشارہ کیا ہے۔ جیسا کہ رسول خدا صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ قول:

(ما اختلج عرق ولا عثرت قدم إلا بما قدمت أيديكم وما يعفو الله عنه أكثر)[6]

" نہ تو – بیماری کی وجہ سے-کوئی رگ پھٹتی ہے اور نہ ہی کوئی پاوں پھسل  جاتا ہے جو کچھ بھی ہے تمھارے خود کا کیا دھرا ہے اور جو اللہ بخش دیتا ہے وہ بہت زیادہ ہے۔"

امام صادق علیہ السلام کا فرمان ہے:

(من يموت بالذنوب أكثر ممن يموت بالآجال)[7].

"گناہوں کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد موت کی وجہ سے مرنے والوں سے زیادہ ہے۔"

اس میں انسان کےلیے تنبیہ اور ایک مخلصانہ دعوت ہے تاکہ لوگ خود کو آفات سے بچائیں اور ان مصیبتوں میں مبتلا نہ ہوں جن میں گزشتہ اقوام مبتلا ہوئی تھیں۔انسان  کی بھلائی اور اس کائنات کی بھلائی کے درمیان ملازمے کو  اور ان دونوں میں فساد کو میں  نےمتعدد الفاظ میں واضح کردیا۔

اس سے عام لوگوں میں رائج ایک خیال کی اصلاح ہو جاتی ہے جو ان آفات کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں ۔ جب انسان کسی ٹریفک حادثے کا شکار ہو جائے تو کہتا ہے،یہ اللہ کی طرف سے امتحان ہے۔ اور اگر وہ صحت کے احکام پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے بیمار ہو جائے تو اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے امتحان سمجھتا ہے۔ لہٰذا یہ ایک خطرناک سوچ ہے کیونکہ یہ خداوند متعال پر اعتراض کرنے، اس پر شک کرنے یا اس کے وجود پر شک کرنے، یا ایمان سے نفرت کا باعث بنتی ہے۔ {سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يَصِفُونَ} [الصافات : 159]

" جن صفات کی نسبت وہ اللہ تعالی کی طرف دیتے ہیں، وہ ان سے پاک اور منزہ ہے۔"

کافروں کے برے کاموں میں سے ایک ،  برائیوں کو خالق کی طرف منسوب کرنا ہے جبکہ یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ ان تمام برائیوں کا سبب بالواسطہ یہ بلا واسطہ فعل انسان ہے یہاں تک کہ بعض گناہ تمام انسانوں کو بلکہ تمام مخلوقات کو نقصان پہنچانے کا سبب بنتے ہیں۔جیسا کہ اللہ تعالی کے اس قول میں:

 {وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ مَا تَرَكَ عَلَيْهَا مِنْ دَابَّةٍ وَلَكِنْ يُؤَخِّرُهُمْ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ} [النحل : 61]

"اور اگر اللہ لوگوں کو انکے ظلم کے سبب پکڑنے لگے تو ایک جاندار کو زمین پر نہ چھوڑے۔ لیکن انکو ایک وقت مقرر تک مہلت دی جاتی ہے۔ پھر جب وہ وقت آ جاتا ہے تو ایک گھڑی نہ پیچھے رہ سکتے ہیں نہ آگے بڑھ سکتے ہیں۔"

اللہ تعالی کا فرمان ہے:

{وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً} [الأنفال : 25].

"اور اس آفت سے ڈرو کہ جب وہ آئے گی تو وہ صرف  تم  میں سےظالموں کے لیے ہی نہیں ہو گی (بلکہ تمام ظالموں اور مظلوموں پر چھا جائے گی) اور جان لو کہ خدا کا عقاب بہت سخت ہے۔"

ہاں، اس عمل کو آیات کریمہ اور احادیث مبارکہ میں خدا کے حکم سے منسوب کیا گیا ہےاس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ اللہ تبارک و تعالی نے ان آفاقی قوانین کو قائم کیا جو انسانی زندگی کو متاثر کرتے ہیں لیکن خدا وند متعال نے  انسانوں کی بھلائی کےلیے ان قوانین کو بنایا ہے اور وہی اس کا غلط استعمال کرتے ہیں۔جیسا کہ زندگی کے استحکام کے لیے کشش ثقل کا قانون ضروری ہے۔ اس کے بغیر نہ تو پتھر پر پتھر رکھنا ممکن ہو گا اور نہ ہی زمین پر پاؤں جمانا جیسا کہ آپ خلابازوں کو دیکھتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی شخص اپنے آپ کو اونچائی سے پھینک دے اور اس کی ہڈیاں ریزہ ریزہ ہو جائیں اور وہ کشش ثقل سے مر جائے تو قصور قانون کا نہیں ہے، بلکہ انسان کی غلطی ہے۔پس ہمیں چاہیے کہ ہم ہر اس چیز سے اجتناب کریں جو لوگوں کو  اپنے عظیم خالق سے دور کردیتی ہے اور انہی چیزوں میں سےایک یہ اعتقاد ہے کہ انسان کو جو بھی تکلیف پہنچتی ہے وہ اللہ تعالی کا فعل ہے اور اللہ تعالی ان چیزوں سے پاک و منزہ ہے۔

 اس آیت کریمہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جب تک لوگ چھپ کر گناہ کرتے رہیں اور کھلم کھلا  گناہ نہ کریں تو مصیبت بھی ان تک محدود ہوتی ہے لیکن جب وہ کھلم کھلا سب کے سامنے گناہ کا ارتکاب کریں تو مصیبت  بھی بہت بڑی اور عام ہوگی۔

اور یہ مطلب روایات میں بھی وارد ہوا ہے۔ نبی اکرم صل اللہ علیہ و آلہ وسلم  کی حدیث مبارکہ ہے:

قال (لم تظهر الفاحشة في قوم قط حتى يعلنوا بها إلا فشا فيهم الطاعون ـ وهو وصف عام للجوائح والاوبئة العامة مثل فايروس كورونا ـ والأوجاع التي لم تكن مضت في أسلافهم الذين مضوا)[8]

فرمایا:" ہرگز کسی قوم میں تب تک کوئی برائی ظاہر نہیں ہوتی  جب تک کہ وہ کھلم کھلا گناہ کا ارتکاب نہ کریں سوائے اس کے کہ ان میں طاعون - یہ عام وبائی امراض جیسے کورونا وائرس کی عمومی صفت ہے۔ا ور بیماریاں پھیل جائیں جو ان کے اسلاف میں موجود نہ تھیں۔"

وعنه (J) قال (إن المعصية اذا عمل بها العبد سرّاً لم تضرّ الا عاملها، واذا عمل بها علانية ولم يغيَّر عليه أضرّت بالعامة)[9] .

اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: "نافرمانی اگر کوئی بندہ چھپ کر کرے تو اس سے سوائے اس کے کسی اور کو نقصان نہیں پہنچتا، لیکن اگر سرعام اسے انجام دیا جائے اور اسے تبدیل نہ کیا جائے تو اس سے سب کو نقصان پہنچے گا۔"

"ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ"

"خشکی اور تری میں لوگوں کی بداعمالیوں کے باعث فساد پھیل گیا۔ اس لئے کہ انہیں ان کے بعض کرتوتوں کا پھل اللہ تعالیٰ چکھا دے (بہت) ممکن ہے کہ وه باز آجائیں"

خشکی اور سمندر میں فساد کے ظہور کو خدا وند خود سے نہیں روکتا، اس کائنات پر حاکم نظام اور قوانین  میں وہ خلل نہیں ڈالتا چونکہ اللہ تعالی نے انسان کو آزاد پیدا کیا ہے تاکہ وہ اپنے افعال کی زمہ داری قبول کرے اور اسی بنیاد پر اسے جزا و سزا ملے گی۔ پس جو کچھ انہوں نے کیا ہے کچھ کی ان کو سزا ملے گی چونکہ دنیا جزا کی جگہ نہیں بلکہ جزا کی جگہ یقینا آخرت ہے۔

{فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ * وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ} [الزلزلة : 7 - 8]

"پس جس نے ذره برابر نیکی کی ہوگی وه اسے دیکھ لے گا. اور جس نے ذره برابر برائی کی ہوگی وه اسے دیکھ لے گا."

اور اس لیے کہ خدا تعالیٰ بہت سے لوگوں کو معاف کرتا ہے، جیسا کہ شوریٰ کی پچھلی آیت میں  گزراہے، اور اگر یہ معافی اور فرشتوں کا استعمال انسانوں کو ان کے شر سے بچانے کے لیے نہ ہوتا،{لَهُ مُعَقِّبَاتٌ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ} [الرعد : 11]" اس کے پہرے دار انسان کے آگے پیچھے مقرر ہیں، جو اللہ کے حکم سے اس کی نگہبانی کرتے ہیں۔"، خصوصی میگزینوں اور کتابوں کی طرف سے شائع ہونے والے خوفناک اعدادوشمار کے مطابق، زمین کے باشندے ایک حقیقی تباہی کا شکار ہو چکے ہوتے اور دنیا کی قیادت کرنے والے احمقوں کے اعمال اور ان کے بڑے پیمانے پر تباہی کے ہتھیاروں سے زمین پر کوئی زندگی نہ ہوتی۔

اپنے اس عمل کا حقیقی ذائقہ تب ہی چھکے گا جب اس کا یہ عمل اپنی واقعی بری شکل میں اس کے لیے ظاہر ہوگا اس حال میں کہ جس کام کو وہ لذت سمجھ بیٹھا تھا وہ مکمل درد و الم میں تبدیل ہوچکا ہوگا،جس کو وہ خیر سمجھ بیٹھا تھا وہ شر میں تبدیل ہوچکا ہوگا یا انہیں اپنے بعض افعال کےلیے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا البتہ یہ ان کے خلاف انتقامی کاروائی نہیں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز سے بے نیاز ہے نہ بندوں کی نافرمانی اس کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور نہ ان کی اطاعت اس کی کسی چیز میں اضافہ کر سکتی ہے۔ وہ پاک ہے اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے اور ان کےلیے خیر چاہتا ہے۔{كَتَبَ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ} [الأنعام : 12] {اس نے مہربانی کرنا اپنے اوپر زم قرار دیا  ہے} [الانعام: 12]

حدیث قدسی میں آیا ہے:

(الخلق عيالي فأحبهم إليّ ألطفهم بهم وأسعاهم في حوائجهم)[10]

"لوگ میرا خاندان ہیں، پس ان میں  مجھے سب سے زیادہ محبوب وہ ہیں جو لوگوں کے ساتھ  سب سے زیادہ مہربان ہیں اور ان کی ضروریات کو پورا کرنے میں زیادہ محنتی ہیں۔"

کیا تم نے  کھبی کسی فیملی کے سمجھدار سربراہ  کودیکھا ہے جو اپنی فیملی کا برا چاہتا ہو؟

{لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ} ان کے بعض کاموں کےلیے انہیں مزہ چکھانے کا مقصد ان کی تربیت اور ان کی اصلاح اور ان کی غفلتوں سے انہیں  آگاہ کرنا ہے جس پر اگر وہ ڈٹے رہیں تو یہ ان کے لیے غم اور پشیمانی کا باعث بنے گی۔

اللہ تعالی فرماتا ہے:

{وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ} [السجدة : 21].

"اور ہم انکو قیامت کے بڑے عذاب سے پہلے دنیا کے عذاب کا بھی مزہ چکھائیں گے شاید وہ ہماری طرف لوٹ آئیں۔"

اس آیت کریمہ سے ہم کئی ذمہ داریاں حاصل کرتے ہیں:

ان میں سے ایک ذمہ داری یہ ہے کہ خدا  وند تبارک و تعالی کی طرف بلانے والے مومنین کو چاہئے کہ وہ تمام لوگوں کو یہ تعلیم دیں کہ ان پر آنے والی آفات، تکلیفیں اور برائیاں ان کے اعمال کا فطری نتیجہ ہیں۔ اگر وہ اس سے چھٹکارا پانا چاہتے ہیں تو وہ اپنی اصلاح کریں اور اپنے سماجی، سیاسی اور معاشی نظام کو بدلیں جو اللہ تعالے کے بنائے ہوئےٰ  قوانین سے متصادم ہے۔

ان ذمہ داریوں میں سے ایک اورذمہ داری یہ ہے:

 مومنین کو چاہیے کہ لوگوں کی بھلائی اور خوشی کےلیے جد و جہد کریں، جس طرح سے بھی اور جیسے بھی ممکن ہو ان کےلیے  انصاف کے حصول  اورانہیں ایک باوقار زندگی فراہم کرنے  میں اپنی پوری توانائی لگائیں۔

الکافی میں امام کاظم علیہ السلام سے  ایک حدیث، قرآن مجید کی اس آیت : {وَيُحْيِي الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا} [الروم : 19] کی تفسیر میں نقل ہوئی ہے۔ امام علیہ السلام نے فرمایا:

(ليس يحييها بالقطر ولكن يبعث الله رجالاً فيحيون العدل فتحيى الأرض لإحياء العدل، ولإقامةُ الحدِّ لله أنفع في الأرض من القطر أربعين صباحاً)[11].

"وہ بارش سے زمین کو زندہ نہیں کرتا بلکہ اللہ تعالی ایسے لوگوں کو اٹھاتا ہے جو انصاف کو زندہ کرتے ہیں۔ پس عدل کے احیاء کی وجہ سے زمین زندہ ہو جاتی ہے اور یقیناً زمین پر حدِ الٰہی قائم کرنا چالیس صبح کی بارش سے زیادہ مفید ہے۔"



[1] ۔ نماز عید کا پہلا خطبہ 1443ء بمطابق 7/10/2022

[2] ۔ تفسير القمي: 2/160

[3] ۔ الأمثل: 10/180

[4] ۔ مضمون حديث شريف عن أخبار آخر الزمان ورد فيه قال رسول الله (ص) (الاسلام بدأ غريباً وسيعود غريباً كما بدأ، فطوبى للغرباء) / إكمال الدين: ج 1 / ص 308

[5] - الكافي: 2/275 ح 29

[6] - بحار الأنوار: 81/194 ح 52

[7] - الأمالي للطوسي: 701 ح 1498 وأحاديث كثيرة غيرها في ميزان الحكمة: 3/ 369-390

[8] - ميزان الحكمة: 7/97 عن الترغيب والترهيب : 2/568 ح 3

[9] - بحار الأنوار: 100/ 74 ح 15

[10] - الكافي: 2/199 ح 10

[11] - الكافي: 7/174 ح 2