معاشرتی فقہ اسلامی قانون کی زندگی کا مظہر ہے

| |عدد القراءات : 25
معاشرتی فقہ اسلامی قانون کی زندگی کا مظہر ہے
  • Post on Facebook
  • Share on WhatsApp
  • Share on Telegram
  • Twitter
  • Tumblr
  • Share on Pinterest
  • Share on Instagram
  • pdf
  • نسخة للطباعة
  • save

معاشرتی فقہ اسلامی قانون کی زندگی کا مظہر ہے[1]

شریعت اسلامی تمام آسمانی پیغامات کا خاتمہ ہے اور نبی حضرت محمد (صلى الله عليه وآله وسلم) اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔(رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ) (الأحزاب:40)اور یقینا حضور (صلى الله عليه وآله وسلم) نے  مکمل طور پر  اللہ تعالی کا پیغام ہم تک پہنچایا ہے(الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا) (المائدة:3) "آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام کو (بطور) دین (یعنی مکمل نظامِ حیات کی حیثیت سے) پسند کر لیا۔"اور اللہ تعالی نے یہ چاہا ہے کہ یہ دین تمام ادیان اور انسانی نظریات پر غالب  آئے جیسا کہ اللہ تعالی نے  فرمایا ہے: (وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ الْكِتَابِ وَمُهَيْمِنًا عَلَيْهِ) (المائدة:48) اور (اے نبیِ مکرّم!) ہم نے آپ کی طرف سچائی کے ساتھ کتاب نازل فرمائی ہے جو اپنے سے پہلے کی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اور اس (کے اصل احکام و مضامین) پر نگہبان ہے،" اور اللہ تعالی فرماتا ہے: (لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ) (التوبة:33)، (الفتح:28)، (الصف:9)." تاکہ اسے سب ادیان پر غالب و سربلند کردے"

لہذا ، انسانی زندگی کے مختلف شعبوں میں  ترقی اور پیشرفت کے تسلسل کےلیے  اللہ تعالی نے اسے قدرت تحرک عنایت فرمایا  ہے،اسلامی شریعت نے گزشتہ صدیوں  میں انسانوں کو در پیش ہر قسم کی  مشکلات اور چیلینجز کا  حل پیش کرکے اپنی قدرت کو ثابت کیا ہے اور مختلف علوم و فنون کے ذریعے انسانی تہذیب  کو تقویت  بخشی ہے اور فقہا  نے   ہمیشہ زندگی کے تمام شعبوں میں  دلیل کےساتھ حکم،موقف اور اس کے طریقہ کار کو  احسن طریقے سے بیان کیا ہے۔

اسلامی شریعت کا یہ تحرک  دو چیزوں میں واضح نظر آتا ہے:

پہلی چیز: خود شرعی احکام  ہیں کیونکہ یہ طے شدہ ہیں اور زمانے کے گزر اور نسلوں کی تبدیلی سے تبدیل نہیں ہوتے کیونکہ یہ ایسے احکام ہیں جو زندگی میں بدلاؤ سے متاثر نہیں ہوتے ہیں ، جیسے انسانی حقوق اور انسان کا اپنے رب سے رشتہ ، یا اخلاقی اقدار  کہ جن کی بنیاد پر قانون سازی ہوتی ہے اور جن سے قانون اخذ کیا جاتا ہے۔

اسی طرح اسلامی شریعت میں کچھ احکام ایسے ہیں جن میں تغیر اور تحرک پایا جاتا ہے البتہ شریعت کے مقرر کردہ قواعد کے مطابق اور اس کا ہرگز  مطلب یہ نہیں ہے کہ مذہب کی تحریف ہو یا موضوعات کے طے شدہ احکام میں تبدیلی ، بلکہ  وقت کے گزر کے ساتھ ساتھ حکم کا موضوع بدلنے سے حکم بدل جاتا ہے اور احکام اپنے موضوعات کی پیروی کرتے ہیں یا مورد ایسا ہے جہاں پر دو حکم آپس میں  ٹکراتے ہیں  ، ایک اہم ہے اور ایک مہم تو یہاں پر جو اہم ہے اس کو مہم پر مقدم کیا جاتا ہے یا حکم اس لئے بدل جاتا ہے چونکہ عناوین ثانویہ یہاں پر موجود ہیں جن کی وجہ سے مکلف پر سے تکلیف ساقط ہوجاتی ہے  جیسے نفی حرج(وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ) (الحج:78)" اور تم پر دین کی (کسی بات) میں تنگی نہیں کی۔" یا دفع ضرر کےلیے(لا ضرر ولا ضرار) اور یا اگر منصوص العلہ ہے تو حکم کی علت منتفی ہوچکی ہے، یا اگر وہ حکم ایک خاص اور معین مدت کےلیے  تھا تواس  کا مقررہ وقت ختم ہوچکا ہے یا  جامع الشرایط ولی فقیہ کی طرف سے کوئی حکم صادر ہوا ہے۔

پس رمضان المبارک کے روزے کا وجوب ثابت ہے مگر یہ کہ روزہ رکھنے سے کسی کی صحت کو نقصان پہنچتا ہو ،تو اس صورت میں اس سے روزہ ساقط ہوجاتا ہے، انسان کا اپنی ملکیت میں تصرف جایز ہے لیکن اس تصرف کی وجہ سے اگر کسی کو نقصان پہنچ رہا ہو تو یہ تصرف جایز نہیں، نماز وقت پر پڑھنا واجب ہے لیکن اس دوران کوئی پانی میں ڈوب رہا ہو تو نماز کو ترک کرکے پانی میں ڈوبتے ہوئے شخص کو بچانا واجب ہے۔

احکام دو طرح کے ہیں:بعض احکام انفرادی ہیں جیسے ہر انسان  پراس کی روزانہ کی نمازیں واجب ہیں،یا رمضان کے روزے یا صاحب استطاعت شخص پر حج کا واجب ہونا اور بعض احکام اجتماعی ہیں جن  کا تعلق پوری امت سے ہے جیسے ریاستی ادارے، تریڈ یونینز،یا سول سوسائٹی کی تنظمیں اور دوسری سوشل آرگنایزیشنس جو پوری قوم و ملت کی رہنمائی کرتے ہیں، نظام سے مربوط یہ ساری چیزیں  اس آیت کریمہ میں امت  کی ترجمانی کرتی ہیں : (وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ) (آل عمران:104).

"اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیئے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائے اور اچھے کام کرنے کا حکم دے اور برے کاموں سے منع کرے یہی لوگ ہیں جو نجات پانے والے ہیں۔"

یہ عام معاشرتی احکام  اسلامی شریعت کے اہم احکام میں سے ہیں،اور یہ بعض  عمومی احکام بڑے اصول تشکیل دیتے ہیں اور تفصیلی قانون سازی کے لئے فریم ورک  اور بنیاد فراہم کرتےہیں، جب ان میں اور دوسرے احکام کے درمیان تعارض واقع ہوجاتا ہے تو  یہ ان پر مقدم ہوجاتے ہیں ،ان کی مشخص حدود سے ہٹ کر کوئی حکم صحیح نہیں ،ان کے درمیان اور شریعت کے دیگر قوانین کے درمیان رابطہ دستور اور قوانین کے درمیان رابطہ جیسا ہے وہ قوانین جنہیں  حکومت بناتی ہے ،پس ان میں شرط ہے کہ وہ دستور کی مخالفت نہ کریں۔

قرآن مجید نے ان اعلی اصولوں اور عام قوانین کو بیان کرنے کی ذمہ داری اٹھائی ہے۔یہ تفصیلی قانون سازی کے لئے ایک آئین کی طرح ہے ،لہذا، ائمہ(عليهم السلام) نے یہ حکم دیا ہے کہ انکی طرف سے جو بھی وارد ہو یعنی احکام اور فتاوی تو انہیں کتاب خدا  وند کے سامنے پیش کیے جائیں  تاکہ ان کی صحت کی جانچ پڑتال کی جاسکے کہ یہ احکام اور فتاوی ان سے صادر ہوئےکہ نہیں، امام صادق(عليه السلام) سے ایک صحیح روایت میں آیا ہے:انہوں نے فرمایا: (خطب النبي (صلى الله عليه وآله) نبی (صلى الله عليه وآله) نے خطاب فرمایا،کہا: أيها الناس: ما جاءكم عني يوافق كتاب الله فانا قلته، وما جاءكم يخالف كتاب الله فلم أقله)[2] ، " ائے لوگو جو بھی میری طرف سے تم تک پہنچے پس اگر وہ اللہ تعالی کی کتاب کے موافق ہو تو وہ میں نے کہا ہے اور جو کتاب خدا کے مخالف ہو تو وہ میں نے نہیں کہا ہے۔" وقال (عليه السلام) (كل شيء مردود الى الكتاب والسنة، وكل حديث لا يوافق كتاب الله فهو زخرف) .[3]" اور آنحضرت (عليه السلام) نےفرمایا: (ہر چیز کو قرآن و سنت کی طرف پلٹایا جائے گا ، اور ہر وہ حدیث جو کتاب خدا سے مطابقت نہیں رکھتی ہے ، وہ جعلی اور بناوٹی ہے)۔

مثال کے طور پر ، انسانی کرامت و وقار کا اصول خدا  وند متعال کے اس  قول پر مبنی ہے: (وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ) (الإسراء:70) (اور ہم نے بنی آدم کو عزت دی ہے) (الاسراء: 70) اور یہ تمام قوانین پر حاکم ہے، پس اگر فقیہ کسی ایسے حکم تک پہنچ جاتا ہے جو اس اصل کے متنافی ہے تو اسے لغو شمار کیا جائے گا، جیسا کہ انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین میں ہوتا ہے پس اگر پارلیمنٹ کوئی قانون بناتا ہے جو کہ انسانی حقوق کے خلاف ہے یا معاشرتی عدالت کے اصولوں کے خلاف ہے جیسے قومیت ، پارٹی وابستگی ، یا جغرافیہ وغیرہ کی بنیاد پر حقداروں میں امتیازی سلوک کرنا ، تو یہ قانون باطل ہے چونکہ یہ طے شدہ اصول کے خلاف ہے۔

دوسری چیز: حکم شرعی تک رسائ حاصل کرنے کا  میکینزم   اور اسے قانون سازی کے مصادر سے نکالنے کا طریقہ کار ہے۔مصادر تشریع دو ہیں  قرآن کریم اور سنت نبوی )صل اللہ علیہ و آلہ وسلم(،حکم شرعی تک رسائی حاصل  کرنے کےلیے جس آلہ اور میکنیزم کا استعمال ہوتا ہے اسے عام فہم میں اجتہاد کہا جاتا ہے جس کی تعریف یہ ہے کہ اجتہاد  ایک   ایسی قدرت اور ملکہ ہے جس کے توسط سے مجتہد احکام شرعیہ کے اصلی مصادر سے احکام شرعیہ کا استنباط کرتا ہے،پس باب اجتہاد کا کھلا رہنا ، اسلامی قانون بنانے والے کو یہ فرصت فراہم کرتا ہے کہ وہ تمام امور میں حکم شرعی کی معرفت حاصل کرے۔اللہ تعالی فرماتا ہے: (مَّا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِن شَيْءٍ) (الأنعام:38)، (ہم نے کتاب میں کسی بھی قسم کی کوتاہی نہیں کی) (الانعام: 38) ، اور امیرالمومنین (عليه السلام) نے فرمایا ہے ــ حديث ــ (ذلك القرآن فاستنطقوه ولن ينطق لكم أخبركم عنه إن فيه علم ما مضى وعلم ما يأتي الى يوم القيامة) (یہ قرآن ہے ، اس سے بات کرو ، لیکن  یہ آپ سے ہرگز  بات نہیں کرے گا۔ میں آپ کو اس کے بارے میں بتاتا ہوں کہ اس میں جو کچھ گزر چکا ہے اس کا  علم ہے اور قیامت تک جو کچھ آنے والا یا ہونے والا ہے اس کا بھی علم ہے) اور امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: (ما من شيء الا وفيه كتاب أو سنّة) (ایسی کوئی چیز نہیں ہے جس میں کتاب یا سنت نہ ہو) اور آنحضرت (عليه السلام) نے فرمایا: (ما من أمر يختلف فيه اثنان الا وله أصل في كتاب الله عزوجل ولكن لا تبلغه عقول الرجال)" کوئی ایسا موضوع نہیں جس میں دو لوگ اختلاف کریں  مگر یہ کہ اس کی اصل – حل اور جواب-  اللہ عز وجل کی کتاب میں موجودہے لیکن لوگوں کی عقول اس تک نہیں پہنچ پاتیں۔" اور فرمایا (عليه السلام): (إن الله تبارك وتعالى انزل في القرآن تبيان كل شيء حتى والله وما ترك الله شيئاً يحتاج اليه العباد حتى لا يستطيع عبد يقول: لو كان هذا أنزل في القرآن؟ الا وقد أنزله الله فيه)" اللہ تبارک و تعالی نے قرآن کریم میں ہر  چیز کا بیان نازل کیا ہے یہاں تک کہ خدا نے کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی ہے جو اس کے بندوں  کی ضرورت ہو اور یہاں تک کہ  کوئی بندہ یہ نہ کہہ سکے کہ  ائے کاش یہ قرآن میں نازل ہوتی۔ پس آگاہ رہو یقینا خدا نے اسے قرآن میں اتارا ہے۔"

امام باقر (عليه السلام) نے فرمایا: (إن الله تبارك وتعالى لم يدع شيئاً يحتاج اليه الأمة الا أنزله في كتابه وبيّنه لرسوله (صلى الله عليه وآله) )" اللہ تبارک و تعالی نے  کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی جس کی امت کو ضرورت ہو مگر یہ کہ کتاب میں اس کاذکر کیا ہے اور اپنے رسول (صلى الله عليه وآله)  کو اس کے بارے میں بتایا ہے۔"

سماعہ نے  ابو الحسن موسى بن جعفر (عليهما السلام) سے روایت کی ہے، انہوں نے فرمایا: (قلت له أكلُّ شيء في كتاب الله وسنة نبيّه أو تقولون فيه ــ أي تجتهدون فيه برأيكم ــ ؟ قال (عليه السلام): بل كل شيء في كتاب الله  وسنة نبيّه) .

" میں نے ان سے کہا  کیا ہر چیز کتاب اور خدا اور اس کے نبی  کی سنت میں موجود ہے؟ یہ آپ اس بارے میں بیان فرماتے ہیں یعنی آپ اس میں اجتہاد کرتے ہیں ؟ فرمایا(عليه السلام): بلکہ ہر چیز اللہ تعالی کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت میں موجود ہے۔"[4]

شیخ کلینی نے کتاب الکافی میں ابو عبدالله الامام الصادق (عليه السلام) سے ایک صحیح روایت نقل کی ہے۔ اس میں وہ فرماتے ہیں: (إن عندنا الجامعة، قلت: وما الجامعة؟ قال: صحيفة فيها كل حلال وحرام وكل شيء يحتاج اليه الناس حتى الارش في الخدش)[5]  " ہمارے پاس ایک جامعہ ہے۔ میں نے کہا ؛ جامعہ کیا چیز ہے؟ فرمایا: ایک صحیفہ ہے جس میں  تمام حلال و حرام  موجود ہیں اور ہر وہ چیز موجود  ہے جس کی لوگوں کو ضرورت پڑتی ہے یہاں تک کہ خدش کی ارش بھی موجود ہے۔"  اور ارش الخدش سے مراد انسان کی جلد پر لگے معمولی زخم کی قیمت  ہے۔" یہاں تک کہ فقہا کے درمیان  یہ بات مشہور ہوگئی: (ما من واقعة الا ولله فيها حكم)" کوئی واقعہ ایسا نہیں مگر یہ کہ اس  کے بارے میں اللہ تعالی کا حکم موجود ہے۔" اور اس میں نئے رونما ہونے والے  حوادث بھی شامل ہیں  جو کہ فقہ نوازل، مستحدثات المسائل یا فقه الحوادث الواقعة  کہلائے جاتے ہیں   ، جن کے متعلق  امام (عليه السلام)  کی حدیث بھی امت کی رہنمائی کےلیے وارد ہوئی ہے: (واما الحوادث الواقعة فارجعوا فيها الى رواة أحاديثنا فإنهم حجتي عليكم وأنا حجة الله) . [6]" اور جہاں تک بات ہے رونما ہونے والے حوادث کی تو ان میں ہماری احادیث کے روایوں کی طرف رجوع کریں  کیونکہ وہ ہماری طرف سے تم پر حجت ہیں اور میں اللہ تعالی

 کی حجت ہوں۔"

امام صادق (عليه السلام)  نےاجتہاد کی صلاحیت رکھنے والے فقہا سے یہ چاہا ہے کہ وہ اپنی اس صلاحیت کو شرعی قوانین کے استنباط کےلیے بروئے کار لائیں،امام (عليه السلام) نے فرمایا ہے: (إنما علينا أن نلقي اليكم الأصول وعليكم أن تفرّعوا) [7]." ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم آپ کو اصول بتائیں اور آپ کی ذمہ داری یہ ہے کہ آپ  فروعات کو استخراج و استنباط کریں۔"

 مثال کے طور پر جب ماڈرن میڈیکل سائنس نے  مصنوعی حمل کے ذریعے سے بانجھ پن کا علاج پیش کیا تو  ایک نیا مسئلہ کھڑا ہوا جو کہ اس عنوان کے ساتھ فقہ کی کتابوں میں موجود نہیں تھا۔ لہذا،  فقہاء میں سے بعض نے اس پر تحقیق شروع کردی  تاکہ اس کا شرعی حکم  جان سکیں اور ہم نے شرعی نصوص میں  اس کی مختلف صورتوں کے متعلق  تحقیق کی کہ آیا یہ عمل میاں بیوی کے درمیان انجام پایا ہے یا میاں بیوی کے علاوہ؟ اور کیا یہ حمل داخلی ہے یا خارجی؟ اور کیا سپرم بیوی کے رحم  میں رکھا گیا ہے یا کسی اور عورت کے رحم میں رکھا گیا ہے؟ اور اس طرح کی دوسری تفاصیل۔ ہم  نے اس مسئلے سے مربوط تمام احکام کا استخراج کیا  اور ان کی ادلہ سمیت انہیں  تحریر میں  لایا ، انہیں کتابی شکل دی اور (فقه الإنجاب الصناعي) )مصنوعی حمل کی فقہ(  کے عنوان سے اسے چھپوا دی۔

اگرچہ حکمرانوں  نے فقہاء کی دیکھ بھال کی اور ان پر پیسہ  پانی کی طرح بہایا اور انہیں ایک ممتاز معاشرتی درجہ عطا کیا ، لیکن فقہاء کے کام میں ان کی مداخلت نے ان کی کارکردگی کو منفی طور پر متاثر کیا ، حکمران  ، فقہاء سے یہ چاہتے تھے کہ وہ ان کی مرضی کے فتوے جاری کریں  تاکہ ان کے کاموں اور منصوبوں  کو  شرعی حیثیت مل سکے اور جو فقہا ان کی بات نہیں مانتے تھے ان کو بہت ساری مشکلات اور مصائب کا سامنا کرنا پڑتا تھا ؛ یا تو انہیں قید کر لیا جاتا تھا،کسی بھی طرح انہیں اذیت دی جاتی تھی،انہیں بہت سارے حقوق سے محروم رکھا جاتا تھا اور یا پھر انہیں قتل کردیا جاتا تھا۔یہاں تک کہ حکمرانوں نے اجتہاد کا دروازہ بند کردیا اور اسلامی مذاہب ایک خاص  دایرے کے اندر محصور ہوگئے جس کی وجہ سے فقہاء کی اجتہاد اور استنباط کی قدرت میں کمی آئی، نتیجے کے طور پر فقہاء جس مذہب کے پیروکار تھے اس میں محدود ہوکر رہ گئے۔

اس کے ساتھ ساتھ جو فقہاء ائمہ اہل بیت نبی (صلى الله عليه وآله) کی پیروی کرتے تھے ان کا بھی محاصرہ ہوا،ریاستی اداروں میں اپنا فعال کردار ادا کرنے سے اور قومی امور چلانے سے انہیں محروم کردیا گیا، یہاں تک کہ آہستہ آہستہ فقہا نے سیاست،حکومت، ریاستی انتظامیہ،معیشت، سوسائٹی اور  عوامی امور میں دلچسپی لینا چھوڑ دی چونکہ انہیں یہ محسوس ہوا کہ عملی طور پر اس کا کوئی فایدہ نہیں  اور  یہ امور اتنے اہم نہیں کہ ان  پر سالہا سال تحقیق کرکے اپنی عمر ضایع کی جائے۔پس انہوں نے فقہ  فردی پر اقتصار کیا جس کا مطلب ہے شخصی ذمہ داریاں اور فرائض جو کہ توضیح المسائل میں موجود ہیں۔ان  دو مشکلوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ فقہ اسلامی  ،اسلام کو ایک مکمل اور جامع   نظام حیات زندگی کے طور پر پیش کرنے سے قاصر رہی اور اسلامی قدرت بشری قیادت کے  ہاتھوں یرغمال ہوگئی اور مادی  ترقی اور اس کی پیچیدگیوں  کے سبب  متنازعہ اور سوالیہ نشان بن گئی۔

لہذا، ہماری ذمہ داری ہے کہ  ہم اسلامی شریعت کو ایک ایسے نظام کے طور پر اجاگر کریں جس میں  مہذب معاشروں کے امور کو سنبھالنے اور ان کی مشکلات کو حل کرنے کی صلاحیت اور قدرت ہو چاہے وہ مشکلات کتنی ہی سخت اور پیچیدہ کیوں نہ ہوں۔پس ضروری ہے کہ ہم فقہ اجتماعی کو اپنے معاشرے میں رایج کریں اور اس سے بھرپور فایدہ اٹھائیں کیونکہ اصول فقہ اور اس کے متداول قواعد انسانی معاشرے کی ضروریا ت کو پورا نہیں کرسکتے،جس طرح فقہ فردی کے اپنے اصول ہیں اس طرح سے فقہ اجتماعی کے بھی اپنے اصول ہیں  اور کھبی بعض موارد میں یہ ایک جگہ جمع بھی ہوجاتے ہیں۔پس عام معاشرتی نظام  کی حفاظت کو واجب  قرار دینے والا قاعدہ،اہم کو مہم پر مقدم قرار دینے والا قاعدہ اور ولی امر کی اطاعت کو واجب قرار دینے والا قاعدہ، یہ سب فقہ اجتماعی کے اصولوں میں سے بعض اصول ہیں۔ اس نظریئے کے مطابق  بعض اصول جو فردی سطح پر درست  اور قابل قبول نہیں وہ  اجتماعی سطح پر درست اور قابل قبول ہیں جیسے  عوامی مفادات،برائیوں کی روک تھام اور ہر اس چیز کا سد باب کرنا  جس کا اختتام فساد پر ہوتا ہے البتہ ان پر دلیل قائم کرنے کے بعد۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس فقہ اجتماعی کے اعلی اصولوں اور اخلاقی بنیادوں کو مضبوط کریں  جیسے انسان کی کرامت اور اس کے حقوق کی حفاظت(وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ) (الإسراء:70) (اور ہم نے بنی آدم کو عزت دی ہے) (الاسراء: 70) اور سوشل جسٹس جیسا کہ اللہ تعالی کے اس قول میں آیا ہے: (كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنكُمْ) (الحشر:7) تاکہ جو لوگ تم میں دولت مند ہیں ان ہی کے ہاتھوں میں نہ پھرتا رہے۔ اور اللہ تعالی کا یہ قول: (إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ) (النحل:90) (بے شک ، خدا انصاف اور نیکی کا حکم دیتا ہے) (النحل: 90) اور ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بھلائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کی بنیاد پر ایک اچھے معاشرے کو تشکیل دیں۔

ہم اس فرصت سے فا یدہ اٹھاتے ہوئے تمام مذاہب اسلامی کو دعوت دیتے ہیں  کہ وہ مذہب  امامی کو اپنے لئے رول ماڈل قرار دیتے ہوئے اجتہاد کا دروازہ کھول دیں تاکہ اس سے عقل فقہی کو بھی آذادی ملے گی،اسے  اجتہاد کے سلسلے کو جاری رکھنے کی صلاحیت بھی مل جائے گی اور فتوا دینا بھی ان فقہا اور مجتہدین تک محدود ہوگا جن کے اندر  فتوا دینے کی صلاحیت موجود ہے  تاکہ ان نادان اور جاہل لوگوں کا راستہ روکا جاسکے جو بغیر تحقیق اور ریسرچ کے بعض روایات کے ظاہر سے تمسک کرکے، شارع مقدس کی مراد جانے بنا، دوسروں کی تکفیر کرتے ہیں  اور  اپنے دہشت گردانہ،پسماندہ اور جاہل فتووں سے دین مقدس اسلام کے صاف وشفاف چہرے کو مسخ کردیتے ہیں۔

معاشرتی فقہ میں تحقیق کسی فکری عیش و آرام کی پیداوار نہیں ہے جو خلا سے پیدا ہوتی ہے ، بلکہ ایک مہذب ضرورت ہے ، کیونکہ ہم نظریات اور دیگر معاشرتی نظاموں پر فخر کرتے ہیں کہ بنی نوع انسان کی زندگی کو منظم کرنے کے لئے اسلام بہترین  نظام ہے۔ ہر زمانے میں لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کےلیے یہ مکمل اور جامع نظام ہےاور اس میں تبدیلیوں کے ساتھ تسلسل برقرار رکھنے کی صلاحیت ہے ، اور یہ سب تب ہی ممکن ہے جب اسلام کو ایک ایسے نظام کی شکل میں پیش کیا جائے جو انسانی زندگی  کے مختلف شعبوں سے مربوط امور کی مدیریت کرسکتا ہو،اور اس ہدف کے حصول کےلیے صرف فقہی کتابوں میں چند ایک فقہی ابواب کا مطالعہ و درس و تدریس کافی نہیں بلکہ ہمیں چاہیے کہ ہم اسلام کو ایک مکمل نظام، نظریات اور قوانین کی شکل میں پیش کریں تاکہ دوسروں کو قانع کیا جاسکے اور اقوام عالم کے سامنے اپنے امور چلانے میں ہم ناکام نہ ہوں۔

حالیہ دہائیوں میں ، اس بنیاد پر اسلام کے نظریات کو پیش کرنے کی سنجیدہ کوششیں کی گئیں ، اور ہم نے مختلف معاشی ، سیاسی ، قانونی اور معاشرتی شعبوں میں قابل فخر نتائج  بھی دیکھے.

معاشرتی فقہ، انفرادی فقہ کا متبادل نہیں ہے ، اور وہ اس سے الگ تھلگ  بھی نہیں۔چونکہ فقہیہ بھی اجتماعی نہیں ہوسکتا مگر یہ کہ پہلے وہ فردی ہو یعنی سالہا سال حوزات علمیہ میں درس و  تدریس اور مطالعات کے بعد  ہی وہ درجہ اجتہاد کسب کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے، چونکہ معاشرتی فقہ میں استنباط  اجتہاد کی صلاحیت  کو عملی جامہ پہنانے کی مہارت کا نام ہے۔یہ بات مشہور ہے کہ کسی بھی سائنسی شعبے مثلا) medicine (طب میں مہارت ، اصل ملکہ و قدرت کے حصول کے بعد ہی حاصل ہوتی ہے۔

اور یہ تخصص کچھ اضافی آلات اور ٹولز کا محتاج ہے جیسے موجودہ حالات کا تجربہ اور ان علوم کی معرفت جو اس تخصص کے ساتھ مرتبط ہیں اور یہ تخصص امام صادق (عليه السلام) کے اس قول کا مصداق ہے: (العالم بزمانه لا تهجم عليه اللوابس)[8] "شکوک و شبہات ، لاعلمی اور غلط فہمیاں اس پر حملہ نہیں کرتیں جو اپنے زمانے کے بارے میں جانتا ہو۔"اپنے کام میں کچھ نیا سامنے لانے کےلیے ، اس کو مشاوروں اور تحقیقی مراکز کی ضرورت ہے تاکہ وہ انھیں ایسا ڈیٹا مہیا کریں جو ان امور کے موضوعات کو بہتر بنائیں جن پر وہ غور کرنا چاہتے ہیں ، اور یہاں یونیورسٹی کے پروفیسرز ، ماہرین اور دانشور طبقے کا اہم کردار ا بھر کر سامنے آتا ہے۔

بے شک   اس تحریک اور مومنٹ میں ایسے فقہاء کی موجودگی لازمی ہے جو کہ بہت ہی سپیشل ہوں جن کی صفت میری نظر میں  یہ ہے کہ وہ نظریہ ساز اور نظریہ پرداز ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں  جو معاملات اور مشکلات کو سمجھتے ہیں اور ان کے اسرار سے بھی واقف ہیں ،پھر وہ شریعت کی گہرائی میں ڈوب جاتے ہیں تاکہ اس کےموتیوں سے وہ نکالیں جو  ان مشکلات کو حل کرے اور مسایل کا جواب دے۔آخری صدی  میں حوزات علمیہ نے اس طرح  کے غیر معمولی  فقہا کا تعارف کروایا ہے جن میں   محقق نائنی،شیخ حسین حلی، سید شہید  محمد باقر الصدر اور سید محمود ہاشمی(قدس الله ارواحهم جميعاً)، شامل ہیں۔(وَقُلِ اعْمَلُوا فَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ) (التوبة:105). "اور ان سے کہہ دو کہ عمل کرتے جاؤ۔ خدا اور اس کا رسول اور مومن (سب) تمہارے عملوں کو دیکھ لیں گے۔"

 

 

 

 

 

 



[1] ۔ یہ مرجع عالیقدر شیخ محمد الیعقوبی (دام ظله) کا خطاب ہے جو انہوں نے  بروز جمعہ ۱۲ شعبان۱۴۴۲ بمطابق ۲۶/۳/ ۲۰۲۱ کو کیا تھا تاکہ اس خطاب کو ٹیلیویزن پر بغداد میں منعقد ہونے والی ایک کانفرنس جس میں عراقی یونیورسٹیز کے اساتذہ اور علماء اور عرب و اسلامی ممالک کے کچھ افراد کے حضور پیش کیا جاسکے جس کا عنوان تھا(الاجتهاد في مجال النظريات والنظم المجتمعية).)نظریات اور معاشرتی نظام میں اجتہاد(

[2] ۔ الكافي: 1/56 ح 5

[3] - الكافي: 1/55 ح 3 ، المحاسن: 220 ح 128

[4] ۔ روایات کا یہ مجموعہ اصول کافی: 1/59-62 : باب: الرد الى الكتاب والسنة، میں موجود ہے۔

[5] - وسائل الشيعة: 29/ 356 ط. مؤسسة آل البيت (عليهم السلام)

[6] - وسائل الشيعة: 27/140

[7] - وسائل الشيعة: 27/61 أبواب صفات القاضي، باب 6 ح 51 ط. مؤسسة آل البيت (عليهم السلام)

[8] - تحف العقول: 259