سال 1441كى نماز عيد فطر كے خطبے _ أَمَّن يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ..

| |عدد القراءات : 23
سال 1441كى نماز عيد فطر كے خطبے _ أَمَّن يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ..
  • Post on Facebook
  • Share on WhatsApp
  • Share on Telegram
  • Twitter
  • Tumblr
  • Share on Pinterest
  • Share on Instagram
  • pdf
  • نسخة للطباعة
  • save
سال 1441كى نماز عيد فطر كے خطبے _ أَمَّن يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ..
بسمہ تعالى
[أَمَّن يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاء الْأَرْضِ أَإِلَهٌ مَّعَ اللَّهِ قَلِيلاً مَّا تَذَكَّرُونَ؛ یا وہ بہتر ہے جو مضطرب کی فریاد سنتا ہے جب وہ اسے پکارتا ہے اور اس کی تکلیف دور کرتا ہے اور تمہیں زمین میں جانشین بناتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے ؟ تم لوگ بہت کم نصیحت حاصل کرتے ہو۔](1) (النمل : 62)
مضطر وہ ہے جس کو ضرر کا سامنا ہو یعنی جس کی حالت بری ہو اور اس پر یہی آیت دلالت کرتی ہے (ویکشف السوء) اور ضرر نفع کے مقابلے میں ہے اور (ضراء یعنی سختی) خوشی اور نعمت کے مقابلے میں ہے۔ اور ضرر کبھی مادی ہوتا ہے جیسے مال کا کھو جانا، بدن کے کسی عضو کا ناقص ہونا، اور کبھی معنوی جیسے ایمان، یا علم یا اخلاق یا اجتماعی مقام میں نقص۔ اور دوسری جہت سے ضرر کبھی ایک فرد کو لاحق ہوتا ہے جیسا کہ اوپرمثالیں بیان کیں اور کبھی پورے معاشرے کو لاحق ہوتا جیسے جنگیں، وبائی امراض، نا امنی، برے لوگوں کا تسلط، ملکی بحران، فساد، خوف وہراس، اقتصادی مشکلات، غربت ومہنگائی، اور اجتماعی عدالت کا فقدان وغیرہ جو کہ کبھی خارجی عناصر کی وجہ سے ہوتا ہے جیسے قہر وزبردستی، دھمکی یا لالچ، اور کبھی داخلی عناصر کی وجہ سے ہوتا ہے جیسے ہلاکت کا سبب بننے والی بھوک، خداوند نے فرمایا: (فَمَنِ اضْطُرَّ فِي مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِّإِثْمٍ فَإِنَّ اللّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ؛ پس جو شخص گناہ کی طرف مائل ہوئے بغیر بھوک کی وجہ سے (ان حرام چیزوں سے پرہیز نہ کرنے پر) مجبور ہو جائے تو اللہ یقینا بڑا بخشنے والا، مہربان ہے۔) (المائدہ/3) (فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلاَ عَادٍ فَلا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ؛ پس جو شخص مجبوری کی حالت میں ہو اور وہ بغاوت کرنے اور ضرورت سے تجاوز کرنے والا نہ ہو تو اس پر کچھ گناہ نہیں، بے شک اللہ بڑا بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے) (البقرہ/173)، پس یہ سب ضرر کی مختلف شکلیں ہیں۔
لہذا آیہ کریمہ غير خداوند بارے میں سوال کرتی ہے جو پریشان حال کی فریاد کے وقت اس کا پرسان حال کرے، اور یہ انکاری اور اقراری سوالات کے ایک سلسلے کے ضمن میں وارد ہوئی ہے، اور کئی متعدد اور وسیع مراتب کو مخاطب کرتی ہے، وجود خداوند کے منکرین سے شروع کرتے ہوئے شرک کرنے والوں تک جاتی ہے، وہ گمان کرتے ہیں کہ خدا پر ایمان لانے اور اس کی وحدانیت کی گواہی دینے والی مخلوق کی تدبیر ان کے ہاتھ میں ہے مگر وہ خود اس سے منہ موڑے ہوئے ہیں، اسکی نافرمانی کرتے ہیں غفلت کی وجہ سے سرکشی کرتے ہیں اور اس کے وجود کو حاضر نہیں سمجھتے، پس آیت ان سب کی فطرت بیان کرتی ہے اور ان کی توجہ اس حقیقت کی طرف مبذول کراتی ہے کہ انسان چاہے اپنی زبان سے جتنا بھی اس کا انکار کرے یا اپنی زندگی میں اس سے غفلت برتے مگر اس کا ذاتی وجود اور احتیاج اس کی گواہی دیتا ہے۔ پس آیت انہیں اس حقیقت کا ایمان باللہ کا مقدمہ ہونے کی حیثیت سے یاد دہانی کراتی ہے اور ثابت کرتی ہے کہ امور کی تدبیر کرنے والا صرف وہی ہے، اور بعین وقت ان کے کفر، شرک اور سرکشی کا انکار کرتی ہے اور وہ در واقع خداوند کا محتاج ہیں، ارشاد بارئ تعالی ہے: (وَإِذَا مَسَّ الإِنسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنبِهِ أَوْ قَاعِداً أَوْ قَآئِماً فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهُ مَرَّ كَأَن لَّمْ يَدْعُنَا إِلَى ضُرٍّ مَّسَّهُ كَذَلِكَ زُيِّنَ لِلْمُسْرِفِينَ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ ؛ اور انسان کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ لیٹے، بیٹھے اور کھڑے ہمیں پکارتا ہے پھر جب ہم اس سے تکلیف دور کر دیتے ہیں تو ایسا چل دیتا ہے گویا اس نے کسی تکلیف پر جو اسے پہنچی ہمیں پکارا ہی نہیں، حد سے تجاوز کرنے والوں کے لیے ان کے اعمال اسی طرح خوشنما بنا دیے گئے ہیں) (یونس/12)، اور فرمایا: (وَإِذَا مَسَّكُمُ الْضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلاَّ إِيَّاهُ فَلَمَّا نَجَّاكُمْ إِلَى الْبَرِّ أَعْرَضْتُمْ وَكَانَ الإِنْسَانُ كَفُوراً ؛ اور جب سمندر میں تمہیں کوئی حادثہ پیش آتا ہے تو سوائے اللہ کے جن جن کو تم پکارتے تھے وہ سب ناپید ہو جاتے ہیں پھر جب اللہ تمہیں خشکی کی طرف نجات دیتا ہے تو تم منہ موڑنے لگتے ہو اور انسان بڑا ہی ناشکرا ثابت ہوا ہے( (الاسراء/67) (وَإِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُم مُّنِيبِينَ إِلَيْهِ ثُمَّ إِذَا أَذَاقَهُم مِّنْهُ رَحْمَةً إِذَا فَرِيقٌ مِّنْهُم بِرَبِّهِمْ يُشْرِكُونَ؛ اور جب لوگوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اس کی طرف رجوع کرتے ہوئے اپنے رب کو پکارتے ہیں پھر جب وہ انہیں اپنی رحمت کا مزہ چکھاتا ہے تو ان میں سے ایک فرقہ اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتا ہے۔) (الروم/33) (فَإِذَا مَسَّ الْإِنسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا ثُمَّ إِذَا خَوَّلْنَاهُ نِعْمَةً مِّنَّا قَالَ إِنَّمَا أُوتِيتُهُ عَلَى عِلْمٍ بَلْ هِيَ فِتْنَةٌ وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ؛ جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ ہمیں پکارتا ہے، پھر جب ہم اپنی طرف سے اسے نعمت سے نوازتے ہیں تو کہتا ہے: یہ تو مجھے صرف علم کی بنا پر ملی ہے، نہیں بلکہ یہ ایک آزمائش ہے لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے) (الزمر/49) اور فرمایا: (وَمَا بِكُم مِّن نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّهِ ثُمَّ إِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَإِلَيْهِ تَجْأَرُونَ؛ اور تمہیں جو بھی نعمت حاصل ہو وہ اللہ کی طرف سے ہے پھر جب تمہیں کوئی تکلیف پہنچ جاتی ہے تو تم اس کے حضور زاری کرتے ہو۔) (النحل/53)۔ اور قرآن کریم میں اس مطلب کا بہت زیادہ تکرار ہوا ہے۔
پس انسان جب مشکل اور آزمائش کا شکار ہوتا ہے اور اس کی امید دم توڑ جاتی ہے تو فطرتا اس بات کو درک کرتا ہے کہ ایک غیبی اور حکیم ومہربان طاقت اس کے پاس موجود ہے اور اس کی حالت سے آگاہ ہے، اور وہ اس کی طرف رحمت کا ہاتھ بڑھانے اور اسے بچانے پر قادر ہے اور اسے کوئی عاجز نہیں کر سکتا اور جب وہ اسے پکارتا ہے تو اسے بچانے کی خاطر وہ جواب دیتی ہے اور اس کے بدلے کسی جزاء یا شکر کا انتظار نہیں کرتی، اور اس حالت کی مثال اس کی قیدی ہے جو تنہا تاریک زندان میں بند ہے اور طاغوت کے جلادوں کے سخت عذاب کے رحم وکرم پر ہے (2)، یا وہ شخص جسکی کشتی سمندر کے بیچ ٹوٹ گئی ہے یا جس جہاز پر وہ سوار ہے وہ فضا میں خراب ہوجائے، یا جو خطرناک امراض کے درد میں مبتلاء ہے اور موت کے نزدیک ہو رہا ہے اور اس طرح کی دیگر اضطراری صورتیں جن کی طرف دعاء جوشن صغیر اشارہ کرتی ہے۔ (3)
پس آیہ کریمہ اس عاطفی اور وجدانی شعور کو ابھارتی ہے تاکہ انسان ہدایت اور اصلاح کے نزدیک ہوجائے۔ اور یہ وہ اسلوب ہے جس پر معصومین (سلام اللہ علیہم) نے اعتماد کیا ہے تاکہ اس فطرت سلیم کو ابھاریں جو ایمان باللہ اور اسی کی طرف رجوع کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ مروی ہے کہ ایک آدمی نے امام صادق (علیہ السلام) سے پوچھا: (اے رسول خدا کے بیٹے، مجھے خدا کی طرف رہمنائی کریں کہ وہ ہے کیا؟ بحث کرنے والوں نے مجھے پریشان کیا ہے، تو امام علیہ السلام نے فرمایا: اے بندہ خدا، کیا کبھی آپ کشتی میں سوار ہوئے ہو؟ کہا: جی ہاں، فرمایا: کیا آپ کی کشتی ايک ایسی جگہ ٹوٹی جہاں آپ کو بچانے کے لیئے نہ کوئی اور کشتی تهى نہ آپ كى تیراکی کام آئى ؟ کہا: جی ہاں، فرمایا: تو کیا اس وقت آپ کے دل میں خیال آیا کہ کوئی چیز ہے جو مجھے اس مشکل سے نجات دے سکتی ہے؟ کہا: جی ہاں، امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: اور وہی چیز خدا ہے کہ جب کوئی نجات دینے والا اور فریاد سننے والا نہ ہو تو وہ نجات دینے اور فریاد سننے پر قادر ہے۔(4)
کتاب در منثور میں مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ) سے پوچھا: ہم کس کو پکاریں؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ ) نے فرمایا: خدائے لا شریک کو پکاریں کہ جب آپ پر مصیبت آتی ہے اور اسے پکارتے ہو تو وہ اسے دور کرتا ہے، اور اگر کسی صحرا میں کھو جاتے ہو اور اسے پکارتے ہو تو جواب دیتا ہے، اور اگر قحط پڑتی ہے اور اسے پکارتے ہو تو اپنی رحمت بھیج دیتا ہے) .(5)
ایک منصف انسان جب اس آیت کریمہ کو پڑھتا ہے تو وہ در حقیقت اللہ کے سامنے اپنی سرکشی اور بشر کی ذلت کی خاطر شرمندہ ہوتا ہے کہ وہ خداوند متعال کے سامنے ان واضح حقائق کے زریعے توسل کرتا ہے اور یہ امر وجدانی احساسات ابھارتا ہے تاکہ اس کے سوال سے پہلے ہی اسے ایمان باللہ کی طرف ہدایت دے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے قرآن کریم نے ایک سے زائد آیات میں بیان کی ہے؛ فرمایا: (وَإِن يَمْسَسْكَ اللّهُ بِضُرٍّ فَلاَ كَاشِفَ لَهُ إِلاَّ هُوَ؛ اور اگر اللہ آپ کو کسی تکلیف میں ڈالے تو اس کے سوا کوئی نہیں جو اس تکلیف کو دور کرے) (الانعام/17) و(یونس/107).
لہذا ہم امیر المومنین (علیہ السلام) پر تعجب نہیں کرتے جب وہ اس آیت اور اس طرح کی دوسری آیات کو سننے کے بعد لوگوں کے انکار اور سرکشی کی وجہ سے تعجب اور مذمت کے ساتھ مضطرب ہوتے ہیں (أَمَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَأَنزَلَ لَكُم مِّنَ السَّمَاءِ مَاء فَأَنبَتْنَا بِهِ حَدَائِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ مَّا كَانَ لَكُمْ أَن تُنبِتُوا شَجَرَهَا أَإِلَهٌ مَّعَ اللَّهِ بَلْ هُمْ قَوْمٌ يَعْدِلُونَ؛ (شریک بہتر ہیں) یا وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور آسمان سے تمہارے لیے پانی برسایا؟ پھر ہم نے اس سے پر رونق باغات اگائے، ان درختوں کا اگانا تمہارے بس میں نہ تھا، تو کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے؟ بلکہ یہ لوگ تو منحرف قوم ہیں۔) (النمل/60). اور اس کے بعد والی آیات سب کے سب اس سوال (کیا اللہ كےسوا کوئی معبود بھی ہے) پر ختم ہوتی ہیں۔ ابن شہر آشوب نے انس بن مالک سے روایت کی ہے، اس نے کہا: (جب طس میں یہ پانچ آیات نازل ہوئیں: (أَمَّنْ جَعَلَ الأرضَ قَرَاراً؛ (یہ بت بہتر ہیں) یا وہ جس نے زمین کو جائے قرار بنایا) تو علی علیہ السلام بہت مضطرب ہوئے، رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے ان سے پوچھا: اے علی آپ کو کیا ہوا ہے؟ فرمایا: اے رسول خدا، مجھے ان کے کفر اور خدا کے صبر پر تعجب ہے، پھر رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے ان پر اپنا دست مبارک پھیرا اور فرمایا: میں خوشخبری دیتا ہوں کہ کوئی مومن آپ سے بغض نہیں رکھے گا اور کوئی منافق آپ سے محبت نہیں کرے گا، اگر آپ نہ ہوتے تو گروہ خدا کی پہچان نہ ہوتی) (6)، اور عنقریب جواب ميں اس بشارت کی وجہ بیان ہوگی۔
اور آیت نے (مضطر) اس لیئے کہا کیونکہ انسان پریشانی اور اسباب ووسائل سے ناامیدی کے وقت صرف خداوند متعال کو یاد کرتا ہے لہذا یہ حالت استجابت دعا کی شرط پوری ہونے میں اس کی مدد کرتی ہے اور وہ (شرط) خلوص اور صدق دل کے ساتھ اس ذات کی طرف متوجہ ہونا ہے جس کے ہاتھ میں تمام امور کی چابیاں ہیں، پس اس وقت فطری طور پر اس کی زبان خدا کو پکارنے میں اس کی حالت کے مطابق ہوتی ہے، یعنی فطری طلب تکوینی، طلب تشریعی کے مطابق ہوتی ہے اور وہ دعا کے زریعے متوجہ ہونا ہے تاکہ اذن خدا سے حاجت پوری ہو۔
لہذا دعا کی قبولیت اور رفع مشکل چند امور پر مبتنی ہے:
1۔ خلوص اور صدق نیت سے اللہ کی طرف متوجہ ہونا، اور پریشانی کی حالت اس امر کے متحقق ہونے میں مدد کرتی ہے۔
2۔ دعا اور طلب کا صادر ہونا (اذا دعاہ) تا کہ جواب دیا جائے، اور طلب خداوند متعال کے سوا کسی اور سے نہ ہو (دعاہ)، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ خداوند بن مانگے عطا نہیں کرتا، اس کی نعمت ازلى ہے اور س کا احسان لطف ہے (اے (خدا) جو آپ سے نہیں مانگتا اور تمہیں نہیں پہچانتا اسے بھی اپنے لطف وکرم سے عطا کرتے ہو) (7) پس یہ جملہ (اذا دعاہ؛ جب اس سے مانگے) مقتضی کو بیان کرتی ہے نہ علت تامہ کو۔ اور ممکن ہے یہ جملہ شرطیہ نہ ہو جس کا کوئی مفہوم نہیں ہوتا بلکہ یہ اصولیوں کی زبان میں تحقق موضوع کے لیئے بیان ہوا ہے۔
3۔ طلب حصول خیر اور دفع ضرر اور مشکلات کی خاطر ہو (ویکشف السوء)؛ یعنی جس میں بندے کی مصلحت ہو، پس اگر اپنی مصلحت کے خلاف کچھ مانگے تو دعا قبول نہیں ہوگی۔
لہذا اس آیت میں مذکور تفصیل قبولیت دعا کی شروط بیان کرتی ہے جو دوسری آیات میں مجمل ہیں، جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے (ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ ؛ مجھے پکارو، میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا،) (غافر/60) اور فرمایا: (وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ ؛ اور جب میرے بندے آپ سے میرے متعلق سوال کریں تو (کہدیں کہ) میں (ان سے) قریب ہوں، دعا کرنے والا جب مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں) (البقرہ/186)۔
بے شک پریشانی ایک ایسی حالت ہے جو راہ تکامل کی مسافت كو قریب کر دیتی ہے اور بندے کو اعلی منزلوں کے قابل بناتی ہے بشرطیکہ وہ اس فرصت سے استفادہ کرے۔ پس پریشانی اور آزمائش میں پڑنا اگرچہ اس میں نفس کے لیئے مشقت اور تنگی کا احساس ہے، لیکن اس سے وجود میں آنے والی پریشانی کی حالت بندے کے لیئے نعمت ہے، جو اسے اللہ کی طرف لوٹاتی ہے اور اسے غفلت کی وادی سے نکال دیتی ہے جو دنیاوی امور میں غرق ہونے کہ وجہ سے اس کا شکار ہوا تھا۔ اور یہ امام صادق (علیہ السلام) کی ایک حدیث میں بیان ہونے والے مطلب کو سمجھنے کے لیئے ایک سبب ہے، انہوں نے فرمایا: (پریشانی عین دين ہے) (؛ کیونکہ انسان اضطراب اور پریشانی کے زریعے حقیقت تک پہونچتا ہے)۔
اگر انسان بابصیرت ہو تو اسے معلوم ہوگا کہ وہ اپنی زندگی کے ہر پل اور ہر سانس میں پریشانی کی حالت میں ہے؛ کیونکہ وہ ہر چیز میں ذاتا محتاج ہے لیکن نعمتوں کا عادی ہونے کی وجہ سے وہ اس حقیقت سے غافل ہوتا ہے اور اسوقت اس طرف متوجہ ہوتا ہےجب پریشانی کا سامنا ہوتا ہے (وَإِذَا مَسَّ الإِنسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنبِهِ أَوْ قَاعِداً أَوْ قَآئِماً فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهُ مَرَّ كَأَن لَّمْ يَدْعُنَا إِلَى ضُرٍّ مَّسَّهُ؛ اور انسان کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ لیٹے، بیٹھے اور کھڑے ہمیں پکارتا ہے پھر جب ہم اس سے تکلیف دور کر دیتے ہیں تو ایسا چل دیتا ہے گویا اس نے کسی تکلیف پر جو اسے پہنچی ہمیں پکارا ہی نہیں۔) (یونس/12).
اور جو کچھ اوپر بیان کیا کہ بعض مشکلات اور پریشانیاں اجتماعی ہیں جو پوری امت کا گھیراو کرتی ہیں، اس کے زریعے آیت کے اس جزء اور اس کے بعد والی آیت کے درمیان مناسبت کو جان سکتے ہیں: (اور تمہیں زمین كے خلفاءقرار دے گا)، بے شک خداوند متعال آپ کو صرف اجتماعی مشکلات جیسے برے لوگوں کا تسلط، امن اور اجتماعی عدالت کا فقدان، فساد، ظلم، خوف وہراس اور آزاد وباعزت زندگی کا موقع معدوم ہونا، سے نجات نہیں دیتا بلکہ آپ -نیک بندوں -کو زمین کے خلفاء، حاکم اور وارث بناتا ہے جیسا کہ بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم سے نجات دی اور انہیں ان کی زمین اور گھروں کا وارث بنا دیا۔
اور خلافت عمومی خلافت خصوصى کے علاوہ ہے اور ایک ایسا قانون ہے جو انسان کو زمین میں اللہ کا خلیفہ بناتا ہے (إِنِّي جَاعِلٌ فِي الأَرْضِ خَلِيفَةً ؛ میں زمین میں ایک خلیفہ (نائب) بنانے والا ہوں) (البقرہ/30) اور زمین میں ہر موجود ہر قسم کے موارد اور امکانات انسان کے لیئے مسخر ہيں اور اس كے تصرف ميں ہیں (وَسَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعاً مِّنْهُ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لَّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ؛ اور جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو اس نے اپنی طرف سے تمہارے لیے مسخر کیا، غور کرنے والوں کے لیے یقینا اس میں نشانیاں ہیں۔) (الجاثیہ/13)۔ پس انسان اپنے پرورگادر سے کیسے غافل ہوتا ہے جس نے اسے ان تمام نعمتوں سے نوازا ہے۔
لہذا آیت کے آخر میں ان تمام نعمتوں کو عطا کرنے والے پروردگار کی نسبت غفلت برتنے پر تعجب اور انکار کے ساتھ سوال ہوتا ہے، ارشاد باری تعالی ہے: (کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے ؟) (النمل/62)۔
شاید یہ وجہ اپنے سیاق کے سبب، دوسری وجوہات کی نسبت، آیت کا اللہ کی وعدہ شدہ خلافت خاص پر دلالت کرنے کے زیادہ قریب ہے (9)۔ فرمایا: (وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْناً يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئاً وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ؛ تم میں سے جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور نیک اعمال بجا لائے ہیں اللہ نے ان سے وعدہ کر رکھا ہے کہ انہیں زمین میں اس طرح جانشین ضرور بنائے گا جس طرح ان سے پہلوں کو جانشین بنایا اور جس دین کو اللہ نے ان کے لیے پسندیدہ بنایا ہے اسے پائدار ضرور بنائے گا اور انہیں خوف کے بعد امن ضرور فراہم کرے گا، وہ میری بندگی کریں اور میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں اور اس کے بعد بھی جو لوگ کفر اختیار کریں گے پس وہی فاسق ہیں) (النور/55)۔
اور جو چیز اس وجہ کو مزید قریب کرتی ہے وہ امام مہدی (علیہ السلام) کے قضیہ پر زیادہ منطبق ہونا ہے جسکی تفسیر آیت کے زریعے ہوئی ہے جیسا کہ بعد میں آئے گا۔ امیر المومنین (علیہ السلام) کا قول خداوند (وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاء الْأَرْضِ) سننے کے بعد اضطراب ہونے کی وجہ - جس کا ذکر عنقریب آئیگا- کے علاوہ یہ تین قرائن ہیں جو ہمارے مذکورہ مطالب کو فہم کے قریب کر دیتے ہیں۔
بے شک زمین میں اللہ کی خلافت جس کی زمینہ سازی، تطبیق اور پرچم توحید اٹھانے کا وعدہ خدا کے نیک اور باشعور بندوں نے کیا ہے، ایک عظیم فريضہ اور سخت مسؤولیت ہے جس کا ادراک اس کے اہل لوگ کرتے ہیں۔
شیخ مفید نے اپنی امالی میں اور شیخ طوسی نے ان سے اپنی امالی میں عمران بن حصین کی سند کے ساتھ روایت کی ہے کہ اس نے کہا: (میں اور عمر بن خطاب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ) کے پاس تھے اور علی علیہ السلام ان کے پاس تشریف فرما تھے، جب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ نے یہ آیت (أمن يجيب المضطر... ) اور طس میں نازل ہونے والی پانچ آیات (أَمَّنْ جَعَلَ الأرضَ قَرَاراً ) پڑھیں تو علی علیہ السلام زخمى چڑیا کی طرح تڑپ گئے (سخت مضطرب ہوگئے)، رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: اے علی، آپکو کیا ہوا ہے؟ فرمایا: اے رسول خدا، مجھے ان کے کفر اور خدا کے صبر پر تعجب ہے، پھر رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے ان پر اپنا دست مبارک پھیرا اور فرمایا: میں خوشخبری دیتا ہوں کہ کوئی مومن آپ سے بغض نہیں رکھے گا اور کوئی منافق آپ سے محبت نہیں کرے گا، اگر آپ نہ ہوتے تو گروہ خدا کی پہچان نہ ہوتی) (10)
بریدہ سے مروی ہے کہ اس نے کہا: (رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے کہا جبکہ علی علیہ السلام ان کے پاس بیٹهے ہوئے تھے: (أَمَّن يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاء الْأَرْضِ)، تو علی یہ السلام سخت مضطرب ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: اے علی کیوں مضطرب ہو؟ فرمایا: کیسے مضطرب نہ ہو جاوں جبکہ آپ فرما رہے ہیں (وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاء الْأَرْضِ) فرمایا: مضطرب نہ ہوں، خدا کی قسم کوئی مومن آپ سے بغض نہیں رکھے گا ور کوئی کافر آپ سے محبت نہیں کرے گا) (11). اور اس جواب کے سبب میں کہا گیا ہے کہ يہ امام امیر المومنین علیہ السلام کے اطئمنان کے لیئے تھا اور وہ خلافت کی مسؤولیت کو احسن طریقے سے نبھائینگے اس طرح سے کہ حکومت میں ان کی عدالت کی ضمانت دی (لا يبغضك مؤمن ولا يحبّك منافق؛ کوئی مومن آپ سے بغض نہیں رکھے گا ور کوئی کافر آپ سے محبت نہیں کرے گا) ،بے شک غیر عادل کی حکومت سے مومن نفرت کرتا ہے اور منافق اسے پسند کرتا ہے))۔ (12)
پس امام کے اضطراب کی دو وجوہات تھیں: جب قول خدا (أَمَّن يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ) سنا تو ان لوگوں کی طرف سے کفر پر اصرار اور نافرمانی کی وجہ سے تھا۔ اور جب قول خدا (وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاء الْأَرْضِ) سنا تو خلافت کی بھاری مسؤولیت کی وجہ سے تھا۔
اسی لیئے امام مہدی منتظر (عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) آنے والی روایات کے مطابق اس آیت کریمہ کا کامل ترین مصداق ہیں، اور دعاء ندبہ میں ہے (کہاں ہے وہ مضطر جب پکارتا ہے تو (خدا) جواب دیتا ہے) (13) کیونکہ:
1۔ وہ (علیہ السلام) خدا کی مکمل معرفت رکھنے والوں میں سے ہیں (14) لہذا وہ ہمیشہ اضطرار اور خدا کے ساتھ راز ونیاز کی حقیقت سے واقف ہیں نہ کہ صرف پریشانی اور سختی کے وقت۔
2۔ کیونکہ وہ (علیہ السلام) لوگوں کی نافرمانی، سرکشی اور حق اور ہدایت سے دوری پر مطلع ہونے کی خاطر سب سے زیادہ تکلیف، درد اور اذیت محسوس کرتے ہیں یہاں تک کہ ان چیزوں کے حساب وکتاب پر مقرر ہستیوں سے بھی زیادہ۔ اسی طرح خشکی اور سمندر میں ظلم اور فساد پھیلنے کی خاطر، اور عموما بشریت کی مشکلات اور خصوصا ان کے پیروکار اور محبین پر ظلم وستم اور محرومیت پر درد محسوس کرتے ہیں۔
3۔ اور کیونکہ وہ بقیت اللہ اور زمین پر اس کا خلیفہ ہیں جس کے ساتھ اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ اسے زمین پر اپنا خلیفہ بنائے تاکہ حق اور عدل کی ریاست قائم کرے اور ظلم وجور اور فساد کو ختم کرے۔
امام باقر (علیہ السلام) سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: (خدا کی قسم! گویا میں اس (امام قائم) کو دیکھ رہا ہوں کہ ایک پتھر پر تکیہ کیئے ہوئے ہیں اور خدا کی قسم کھاکر لوگوں سے مخاطب ہو رہے ہیں کہ: اے لوگو! جس نے اللہ کے بارے میں مجھ سے بحث کی تو میں اللہ كى نسبت تمام لوگوں سے برتر ہوں ، اے لوگو جس نے آدم کے بارے میں مجھ سے بحث کی تو میں آدم کی نسبت تم سب سے برتر ہوں، اے لوگو: جس نے نوح کے بارے میں مجھ سے بحث کی تو میں نوح کی نسبت تمام لوگوں سے برتر ہوں، اے لوگو: جس نے مجھ سے ابراہیم کے بارے میں بحث کی تو میں براہیم کی نسبت تمام لوگوں سے برتر ہوں، اے لوگو: جس نے موسی کے بارے میں مجھ سے بحث کی تو میں موسی کی نسبت تمام لوگوں سے برتر ہوں، اے لوگو: جس نے عیسی کے بارے میں مجھ سے بحث کی تو میں عیسی کی نسبت تمام لوگوں سے برتر ہوں، اے لوگو: جس نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ) کے بارے میں مجھ سے بحث کی تو میں محمد (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ) کی نسبت تمام لوگوں سے برتر ہوں، اے لوگو: جس نے کتاب خدا کے بارے میں مجھ سے بحث کی تو میں کتاب خدا کی نسبت تمام لوگوں سے برتر ہوں۔ اس کے بعد مقام ابراہیم کے پاس جاتے ہیں اور وہاں دو رکعت نماز پڑھتے ہیں۔
اور ابو جعفر (علیہ السلام نے فرمایا: اور وہ ہی مضطر ہیں جس کے بارے میں اللہ نے فرمایا: (أَمَّن يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاء الْأَرْضِ (15)، اور ان ہى كى شان ميں نازل ہوئى ہے.
امام صادق (علیہ السلام) سے مروی ہے: (جب قائم (علیہ السلام) قیام کرینگے تو مسجد حرام میں داخل ہونگے، رخ قبلے کی طرف اور پشت مقام ابراہیم کی طرف کرینگے، پھر دو رکعت نماز پڑھیں گے، پھر کھڑے ہونگے اور فرمائیں گے: اے لوگو: میں آدم کی نسبت تمام لوگوں سے برتر ہوں، اے لوگو، میں ابراہيم کی نسبت تمام لوگوں سے برتر ہوں، اے لوگو، میں اسماعیل کی نسبت تمام لوگوں سے برتر ہوں، اے لوگو، میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ کی نسبت تمام لوگوں سے برتر ہوں، اس کے بعد آسمان کی طرف ہاتھ اٹھائیں گے اور بارگاہ خداوندی میں اتنی دعا اور تضرع کرینگے کہ زمین پر گرینگے، اور اللہ کا فرمان ہے: (أَمَّن يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاء الْأَرْضِ أَإِلَهٌ مَّعَ اللَّهِ قَلِيلاً مَّا تَذَكَّرُونَ؛ یا وہ بہتر ہے جو مضطرب کی فریاد سنتا ہے جب وہ اسے پکارتا ہے اور اس کی تکلیف دور کرتا ہے اور تمہیں زمین میں جانشین بناتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے ؟ تم لوگ بہت کم نصیحت حاصل کرتے ہو) (16)۔
اور اگر ہم واقعی طور پر ظہور امام (علیہ السلام) اور انکی حکومت کے قیام کا معنی سمجھیں گے اور تعجیل در ظہور کی دعا کریں گے تو یقینا اس آیت مبارکہ (وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ ؛ اس دن مومن خوش ہونگے) کا اجراء ہوگا۔
بے شک معصومین (علیہم السلام) کے کلمات اور اقوال، اضطرار اور بارگاہ خداوند میں مخلوق سے دور خضوع وخشوع کی عطر سے معطر ہیں، اس حوالے سے بدر کے دن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ) سے مروی دعا ہے، جب آپ (ص) نے مشرکین کا سامنا کیا جن کی تعداد اور جنگی تیاری کئی گنا زیادہ تھی اور امام حسین (علیہ السلام) نے روز عاشور یہی دعا پڑھی: (اللَهُمَّ أَنْتَ ثِقَتِي‌ فِي‌ كُلِّ كَرْبٍ، وَأَنْتَ رَجَائِي‌ فِي‌كُلِّ شِدَّةٍ، وَأَنْتَ لِي‌ فِي‌ كُلِّ أَمْرٍ نَزَلَ بِـي‌ ثِقَةٌ وَعُدَّةٌ. كَمْ مِنْ هَمٍّ يَضْعُفُ فِيهِ الْفُؤَادُ، وَتَقِلُّ فِيهِ الْحِيلَةُ، وَيَخْذُلُ فِيهِ الصَّدِيقُ، وَيَشْمَتُ فِيهِ الْعَدُوُّ، أَنْزَلْتُهُ بِكَ، وَشَكَوْتُهُ إلَيْكَ، رَغْبَةً مِنِّي‌ إلَيْكَ عَمَّنْ سِوَاكَ، فَفَرَّجْتَهُ عَنِّي‌، وَكَشَفْتَهُ، وَكَفَيْتَهُ. فَأَنْتَ وَلِي‌ُّ كُلِّ نِعْمَةٍ، وَصَاحِبُ كُلِّ حَسَنَةٍ، وَمُنْتَهَي‌ كُلِّ رَغْبَةً؛ اے پروردگار ہر مشکل میں تم ہی میرا اعتماد ہو، اور ہر مشکل میں میری امید ہو، اور مجھ پر نازل ہونے والی ہر مصیبت میں میرا اعتماد اور آسانی کا سبب ہو۔ کتنی ہی مشکلات ہیں جنکے سبب دل کمزور ہوتا ہے، تدبیریں کام نہیں آتیں، دوست پریشان ہوتے ہیں اور دشمن خوش ہوتے ہیں، جب میں تمہاری محبت کی خاطر سب کو چھوڑ کے آپکی بارگاہ حاضر ہوا اور اپنا شکوہ بیان کیا تو تو نےمیری پریشانی دور کی اور میرے لیئے آپ ہی کافی ہیں اور ہر نعمت میں میرا ولی ہیں اور ہر نیکی کا مالک ہیں اور ہر خواہش کا ہدف ہیں) (17)
اور امام سجاد (علیہ السلام) کی دعا (يا من تحَلّ به عقد المكاره ) جسے ائمہ اہل بیت (علیہم السلام) پڑھتے تھے، مھج الدعوات میں سید ابن طاووس نے روایت کی ہے کہ یسع بن حمزہ القمی نے امام مہدی (علیہ السلام) کو ایک خط لکھا جس میں عباسی خلیفہ کے وزیر کی طرف سے پیش آنے والی مشکل اور انکے قتل کی دھمکی کا شکوہ کیا، تو امام نے جواب میں لکھا: خوف اور پریشانی کی ضرورت نہیں، اس دعا کے زریعے خدا کو پکارو وہ جلد تمہیں اس سے چھٹکارا دے دگا اور کامیابی عطا کرے گا، بے شک آل محمد (صلوات اللہ علیہم اجمعین) مصیبت اور بلا کے نزول، دشمنوں کے ظہور، اور فقر و تنگ دستی سے خوف کے وقت یہ دعا پڑھتے ہیں، پس اس نےدن کے شروع میں دعا پڑھی اور نصف دن نہیں گزرا تھا وہ باعزت آزاد ہوگیا۔
اور امام کاظم (علیہ السلام) کی دعا جب انہیں ہارون عباسی کے اندھیرے زندان (18) میں نفسانی اور جسمانی شدید عذاب کا سامنا تھا جہاں رات اور دن میں فرق نہیں تھا، تو اس وقت اپنے پرورگار سے راز ونیاز کرتے تھے (يا سيدي نجني من حبس هارون، وخلصني من يده، يا مخلص الشجر من بين رمل وطين وماء، ويا مخلص اللبن من بين فرث ودم، ويا مخلص الولد من بين مشيمة ورحم، ويا مخلص النار من بين الحديد والحجر، ويا مخلص الروح من بين الأحشاء والأمعاء، خلصني من يدي هارون؛ اے میرے مولا، مجھے ہارون کی قید سے آزاد کر، اور مجهے اس كے چنگل سے نكالے، اے درخت کو ریت، مٹی اور پانی کے درمیان سے نکالنے والے، اے دودھ کو خون اور گوبر کے درمیان سے نکالنے والے، اے بچے کوآنول (placenta) اور رحم کے درمیان سے نکالنے والے، اے روح کو ويسرا (viscera)اور معدے کے درمیان سے نکالنے والے، مجھے ہارون کے زندان سے نکال دے۔ ) (19)
مصیبت کے وقت پڑھی جانے والی دعاووں میں سے جن کا داعی کبھی مایوس نہیں ہوتا ایک یہ ہے: (( يا غياث المستغيثسن أغثني؛اے فریاد کرنے والوں کی فریاد سننے والے، میری فریاد سن لے۔)
مرحوم شیخ احمد وائلی نے اس دعا کی تاثیرے کے بارے میں ایک واقعہ نقل کیا ہے کہ ایک بادشاہ ایک دن غمگین اور پریشان حال تھا اور اسکا سبب بهى اسے معلوم نہيں تها، اس کے معاونوں اور مشيروں نے اس کے مزاج کو بدلنے، اسے خوش کرنے اور غم دور كرنے کے لیئے ہر قسم کوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہو سکے۔ پس بادشاہ نے حکم دیا کہ کشتیاں تيار کریں تاکہ تفریح کے لیئے سمندر كى طرف چلے جائیں شاید اسی طرح اس کی حالت بہتر ہوجائے۔ پس انہوں ضرورت کا سامان تیار کر لیا اور سمندری سفر پر نکلے۔ اس دوران ایک انسان کی فریاد سنی، بادشاہ نے اپنے بندوں کو سمندر میں اترنے اور اس شخص کو ڈھونڈنے کا حکم دیا یہاں تک كہ انہوں نے اسے ڈھونڈ لیا اور بچا لیا۔ اور اسے بادشاہ کے پاس لے آئے، بادشاہ نے اس کا حال پوچھا تو اس نے جواب دیا: ہم ایک کشتی میں سوار تھے، سمندر کی لہریں اٹھیں اور کشتی ٹوٹ گئی اور سب مسافر ڈوب گئے سوائے میرے۔ میں خدا وند سے فریاد کر رہا تھا اور چلا رہا تھا: ( يا غياث المستغيثسن أغثني؛اے فریاد کرنے والوں کی فریاد سننے والے، میری فریاد سن لے۔) یہاں تک کہ آپ لوگ آئے اور مجھے نجات دی۔