قرآن کے کردار کو کیسے بحال کیا جائے؟

| |عدد القراءات : 610
  • Post on Facebook
  • Share on WhatsApp
  • Share on Telegram
  • Twitter
  • Tumblr
  • Share on Pinterest
  • Share on Instagram
  • pdf
  • نسخة للطباعة
  • save

قرآن کے کردار کو کیسے بحال کیا جائے؟

اور اب میں اپنے اس سوال کی طرف آتا ہوں جسے میں نے بیان کیا ہے کہ انسان کی زندگی میں قرآن کو کیسے واپس لے کر آئیں اور اس سے استفادہ کریں۔  یہ ذمہ داری دو طرفہ ہے: معاشرہ اور حوزہ  جوکہ امت کی بیداری ،اس کی سوچ اور اس کی دینی سطح کی علامت ہے۔ جیسا کہ ہم نے پہلے بھی کہا ہے کہ معاشرے کے اندر  حوزہ علمیہ کی سب سے اہم ذمہ داری معاشرے کے اندر صحیح طریقے سے جس طرح سے قرآن چاہتا ہے، قرآن کے مفاہیم ،نظریات، اخلاقیات اور ا عتقا دات کو بیان کرنا ہے- جن میں سے بعض کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے- تاکہ قوم کی زندگی میں وہ فعال کرادار ادا کرسکے اور یہ کام کئی چینلز کے ذریعے ہوسکتا ہے جیسے منبر حسینی،لیکچرز،سیمینارز،جمعے کے خطبے، جماعت، کتب ، میگزینس اور پمفلٹس وغیرہ۔

لیکن اس سے پہلے قرآن کو لازمی طور پر حوزوی نصاب میں  واپس لانا ہوگا اور یہ دو  لیولز پر ہوگا:

پہلالیول:ابتدائی علوم  یعنی مقدمات اور سطوح ابتدائی،ان کےلیے قرآنی نصاب مندرجہ ذیل ہوگا ([1]):

۱۔ قرآن مجید کو حفظ  کرنااور تلاوت کرنا ، عربی زبان کے قواعد کے مطابق اسے ریکارڈکرنا ، اور قانونی ڈھانچے کے اندر اس کی تجوید کے قواعد پر عبور حاصل کرنا۔

۲۔الفاظ کی اجمالی تفسیر کرنا اگرچہ مفردات کی شرح کی حد تک ہو  جیسا کہ تفسیر شبر اور اس جیسی دوسری تفاسیر،تاکہ طالب علم قرآن کے معانی سے افکار عمومی حاصل کرسکے۔

۳۔ علوم قرآن کا مطالعہ اور اس کےلیے بہترین کتاب (البيان) ہے یا مقدمة كتاب آلاء الرحمن جو کہ تفسیر شبر کی پہلی چھاپ میں بیان ہوا ہے۔

۴۔قرآن کے مختلف علوم میں مقابلے کروانا اور کامیاب ہونے والوں میں انعام تقسیم کرنا۔

دوسرا لیول:ہائر سٹڈیز اور یہ کئی مراحل میں ہوگا:

۱۔علوم قرآن میں  سپیشل سٹڈیز کا دروازہ کھول دینا،اور اس کےلیے بہترین وقت ہائر سٹڈیز  کی تکمیل  کے بعد کا زمانہ ہے تاکہ متخصص  طالب علم اپنا نصاب  خود ہی تیار کر سکے اور کچھ موجودہ کتابیں اس طالب علم کی اہلیت کو دریافت کرنے کے لئے ایک خاص ٹیسٹ کے انعقاد کے بعد استعمال کی جاسکتی ہیں جو اس شعبے میں مہارت حاصل کرنا چاہتا ہے۔اور اس پڑھائی کےلیے  بھر پور وقت نکالے اور ساتھ متعلقہ وسائل اور امکانات بھی میسر ہوں تاکہ وہ مدرس قرآن،مفسر قرآن یا محقق قرآن بن سکے۔

۲۔ قرآن کی تفسیر کا گہرائی سے مطالعہ جہاں تک تمام قرآن یا آیات اور اس سے منتخب کردہ حصئوں کا تعلق ہے تو ، وہ ایک خاص مقصد کو پورا کرتے ہیں یا ممکن ہے  متن کے عنوان سے تفاسیر میں سے کسی ایک تفسیر کا انتخاب کرے اور استاد اس کی تشریح کرے اور اس پر اظہار نظر کرے اور جہاں تک ممکن ہےدوسری تفاسیر اور مصادر سے مفید معلومات بھی  اضافہ کرے۔میری  ناقص رای کے مطابق  دو بہترین مصدر المیزان اور  فی ظلال القرآن ہیں چونکہ تفسیر میں  ان میں سے ہر ایک کی ایک خاص جہت ہوتی ہے جو دوسری میں نہیں ہوتی اور  یہ بات وہ جانتا ہے جسے ان دونوں کی معرفت ہو۔

۳۔ کائنات اور زندگی میں قرآن کے مفاہیم،اس کے تصورات، نظریات اور اس کے فلسفے پر مشتمل نصاب تیار کرنا جب طالب علم نے گذشتہ مطالعہ میں قرآن کے الفاظ کی اجمالی تفسیر پڑھی ہو، اور یہ چیزیں قرآن کا موضوعاتی مطالعہ کرنے سے حاصل ہوتی ہیں  نہ تحلیلی اور تجزیاتی اگرچہ یہ طریقہ  ہی اس  کےلیے بنیاد اور اساس ہے، میں نے اپنی دستخطی کتاب (مدخل إلى تفسير القرآن) میں ان دو طریقوں کا موازنہ کیا ہے ، جس کے لئے یہ تحقیق ایک تعارف ہے۔

یہ علمی موضوعات پر فوکس کرتا ہے یعنی  وہ موضوعات جن کا حقیقی زندگی سے سرو کار ہے چاہے وہ عقاید ہوں،اخلاق ہو یا فکر ہو، مثال کے طور پر تقوی،صبر ،فقہ،توحید، امامت، ولایت،شیطان،معاد،مسلم معاشرے کی بنیادیں اور اس کی تباہی کے عوامل ، امید ،موعظہ  و عبرت، معاشروں میں اور امتوں میں  اللہ تعالی کی سنتیں۔ وغیرہ،تب ہمارے بہت سارے  افکار بدل جائیں گے چونکہ  موجودہ زمانے میں  قرآن کے الفاظ کےلیے جو عادی معانی ہیں  یہ ان معانی پر لاگو نہیں ہوتے اور اس کی وجہ  من گھڑت تاویلیں، اپنی من پسند تفسیریں،ہوا و ہوس کا غلبہ،تعصبات اور  بد خواہوں کے حملے وغیرہ ہیں۔

 



([1]) أدخل سماحة الشيخ هذه المفردات كلها في برامج الدراسة في جامعة الصدر الدينية التي يشرف عليها.