طاغوت اور کفار سے روبرو ہونے کی فقہ

| |عدد القراءات : 490
  • Post on Facebook
  • Share on WhatsApp
  • Share on Telegram
  • Twitter
  • Tumblr
  • Share on Pinterest
  • Share on Instagram
  • pdf
  • نسخة للطباعة
  • save

طاغوت اور کفار سے روبرو ہونے کی فقہ

یہ فقہ زندگی کے ہر پہلو کو شامل ہے۔کفار  اور طاغوت سے ارتباط برقرار رکھنے کے متعلق جسے کفار سےروبرو ہونے کی فقہ کابھی نام دیا جاسکتا ہے قرآن  کہتا ہے؟ اللہ تعالی کا فرمان ہے: [وَلاَ تَهِنُواْ فِي ابْتِغَاء الْقَوْمِ إِن تَكُونُواْ تَأْلَمُونَ فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمونَ وَتَرْجُونَ مِنَ اللّهِ مَا لاَ يَرْجُونَ وَكَانَ اللّهُ عَلِيمًا حَكِيماً] (النساء: 104)، "اور ان (دشمن) لوگوں کا تعاقب کرنے سے ہمت نہ ہارو، اگر تم تکلیف اٹھاتے ہو تو وہ بھی تمہاری طرح تکلیف اٹھاتے ہیں، حالانکہ تم اللہ سے جس چیز کے امیدوار ہو وہ نہیں ہیں، اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے۔"

جہاں نقصان دونوں طرف برابر ہے تو ان کی ملاقات سے فرار کیوں؟فرق یہ ہے کہ آپ  آخرت میں اللہ کی طرف جو کچھ ملنے والا ہے اس سے پر امید ہو اور اس میں کوئی نقصان نہیں  لیکن ان کےلیے اللہ کے پاس سوائے دردناک عذاب کے کچھ نہیں جس کی وہ امید رکھیں۔

اللہ تعالی کا قول ہے: [وَظَنُّوا أَنَّهُم مَّانِعَتُهُمْ حُصُونُهُم مِّنَ اللَّهِ فَأَتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوا وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ يُخْرِبُونَ بُيُوتَهُم بِأَيْدِيهِمْ وَأَيْدِي الْمُؤْمِنِينَ فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الأَبْصَارِ] (الحشر: 2). "حالانکہ تمہیں ان کے نکلنے کا گمان بھی نہ تھا، اور وہ یہی سمجھ رہے تھے کہ ان کے قلعے انہیں اللہ سے بچا لیں گے پھر اللہ کا عذاب ان پر وہاں سے آیا کہ جہاں کا ان کو گمان بھی نہ تھا، اور ان کے دلوں میں ہیبت ڈال دی، کہ اپنے گھروں کو خود اپنے اور مسلمانوں کے ہاتھوں سے اجاڑنے لگے، پس اے آنکھوں والو عبرت حاصل کرو۔"

اللہ تعالی کا فرمان ہے: [مَا كَانَ لأَهْلِ الْمَدِينَةِ وَمَنْ حَوْلَهُم مِّنَ الأَعْرَابِ أَن يَتَخَلَّفُواْ عَن رَّسُولِ اللّهِ وَلاَ يَرْغَبُواْ بِأَنفُسِهِمْ عَن نَّفْسِهِ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ لاَ يُصِيبُهُمْ ظَمَأٌ وَلاَ نَصَبٌ وَلاَ مَخْمَصَةٌ فِي سَبِيلِ اللّهِ وَلاَ يَطَؤُونَ مَوْطِئًا يَغِيظُ الْكُفَّارَ وَلاَ يَنَالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَّيْلاً إِلاَّ كُتِبَ لَهُم بِهِ عَمَلٌ صَالِحٌ إِنَّ اللّهَ لاَ يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ، وَلاَ يُنفِقُونَ نَفَقَةً صَغِيرَةً وَلاَ كَبِيرَةً وَلاَ يَقْطَعُونَ وَادِياً إِلاَّ كُتِبَ لَهُمْ لِيَجْزِيَهُمُ اللّهُ أَحْسَنَ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ] (التوبة: 120 - 121)

"مدینہ والوں اور ان کے آس پاس دیہات کے رہنے والوں کےلیے یہ مناسب نہیں تھا کہ اللہ کے رسول سے پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ کہ اپنی جانوں کو اس کی جان سے زیادہ عزیز سمجھیں، یہ اس لیے ہے کہ انہیں اللہ کی راہ میں جو تکلیف پہنچتی ہے پیاس کی یا ماندگی کی یا بھوک کی یا وہ ایسی جگہ چلتے ہیں جو کافروں کے غصہ کو بھڑکائے اور یا کافروں سے کوئی چیز چھین لیتے ہیں ہر بات پر ان کے لیے عمل صالح لکھا جاتا ہے، بے شک اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔اور جو وہ تھوڑا یا بہت خرچ کرتے ہیں یا کوئی میدان طے کرتے ہیں تو یہ سب کچھ ان کے لیے لکھ لیا جاتا ہے تاکہ اللہ انہیں ان کے اعمال کا اچھا بدلہ دے۔"

پھر کیوں اللہ تعالی نے جو چیز ہم سے مانگی ہے؛ کوشش،مال وغیرہ اس کی ادائیگی میں ہم سستی  کا مظاہرہ کرتے ہیں؟ کیوں لوگوں سے جب ان کے ذمے  شرعی حقوق  مانگے جاتے ہیں جیسے خمس و ذکات  تو اسے ادا کرنے میں قیل وقال سے کام لیتے ہیں اور اللہ تعالی پر بھروسہ نہیں کرتے؟

اللہ تعالی کا فرمان ہے: [ثُمَّ نُنَجِّي رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُواْ كَذَلِكَ حَقّاً عَلَيْنَا نُنجِ الْمُؤْمِنِينَ] (يونس: 103)." پھر ہم بچا لیتےہیں اپنے رسولوں کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لاتے ہیں، اسی طرح ہمارا ذمہ ہے کہ ایمان والوں کو بچا لیں۔"

اور ان میں سے کچھ آیات سورہ مبارکہ محمد میں سے ہیں، اور اگر آپ اپنی روح ، فکر اور دل کو بنی نوع انسان کی زندگی کے اس خوشگوار وقت کی طرف منتقل کرسکیں اور یہ تصور کرسکیں کہ آپ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور انکے آس پاس کی اس مومن جماعت میں شامل ہیں جو اس رسالت کے آغاز سے ہی  اس مشکل وقت میں  ان  کے ساتھ تھے اور جب  قریش کے مقابلے میں ان کی تعداد کم تھی اور قریش بہت تکلیف دیتے تھےیہاں تک کہ  جنگ احزاب کے بعد مشرکین دب گئے اور مایوسی کا شکار ہوگئے اور پہل کرنے کی ڈور رسول اللہ (صلى الله عليه وآله) کے ہاتھ آگئی اور فتوحات کا سلسلہ جاری رہا،؛ فتح خیبر سے لے کر فتح  مکہ  اور طائف تک پھر یمن اور پھر پورے جزیرہ  کی فتح تک،آپ تصور کریں کہ آپ وہاں پر موجود ہیں  اور آپ پر یہ عظیم قرآنی خطاب نازل ہوتا ہے،آپ کے رب کی طرف سے جو کہ آپ کے امور کی تدبیر کرتا ہے اور زمین و آسمانوں کا خالق ہے، آپ سے براہ راست گفتگو کرتا ہے:

 [بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ] [الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّهِ أَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ، وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَآمَنُوا بِمَا نُزِّلَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَهُوَ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَأَصْلَحَ بَالَهُمْ، ذَلِكَ بِأَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَأَنَّ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِن رَّبِّهِمْ كَذَلِكَ يَضْرِبُ اللَّهُ لِلنَّاسِ أَمْثَالَهُمْ، فإذا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّى إذا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنّاً بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاء حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ذَلِكَ وَلَوْ يَشَاء اللَّهُ لانتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَكِن لِّيَبْلُوَ بَعْضَكُم بِبَعْضٍ وَالَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَلَن يُضِلَّ أَعْمَالَهُمْ، سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ، وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ، يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ، وَالَّذِينَ كَفَرُوا فَتَعْساً لَّهُمْ وَأَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ، ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَرِهُوا مَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأَحْبَطَ أَعْمَالَهُمْ، أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ دَمَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَلِلْكَافِرِينَ أَمْثَالُهَا، ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَأَنَّ الْكَافِرِينَ لا مَوْلَى لَهُمْ([1])، إِنَّ اللَّهَ يُدْخِلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الأَنْهَارُ وَالَّذِينَ كَفَرُوا يَتَمَتَّعُونَ وَيَأْكُلُونَ كَمَا تَأْكُلُ الأَنْعَامُ وَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ، وَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ هِيَ أَشَدُّ قُوَّةً مِّن قَرْيَتِكَ الَّتِي أَخْرَجَتْكَ أَهْلَكْنَاهُمْ فَلا نَاصِرَ لَهُمْ، أَفَمَن كَانَ عَلَى بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّهِ كَمَن زُيِّنَ لَهُ سُوءُ عَمَلِهِ وَاتَّبَعُوا أَهْوَاءهُمْ] (محمد:1-14)

" وہ لوگ جو منکر ہوئے اور انہوں نے لوگوں کو بھی اللہ کے راستہ سے روکا تو اللہ نے ان کے اعمال برباد کر دیے۔اور وہ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے اور جو کچھ محمد پر نازل کیا گیا اس پر بھی ایمان لائے حالانکہ وہ ان کے رب کی طرف سے برحق بھی ہے، تو اللہ ان کی برائیوں کو مٹا دے گا اور ان کا حال درست کرے گا۔یہ اس لیے کہ جو لوگ منکر ہیں انہوں نے جھوٹ کی پیروی کی اور جو لوگ ایمان لائے انہوں نے اپنے رب کی طرف سے حق کی پیروی کی، اسی طرح اللہ لوگوں کے لیے ان کی مثالیں بیان کرتا ہے۔پس جب تم ان کے مقابل ہو جو کافر ہیں تو ان کی گردنیں مارو، یہاں تک کہ جب تم ان کو خوب مغلوب کرلو تو ان کی مشکیں کس لو، پھر یا تو اس کے بعد احسان کرو یا تاوان لے لو یہاں تک کہ لڑائی والے اپنے ہتھیار ڈال دیں، یہی (حکم) ہے، اور اگر اللہ چاہتا تو ان سے خود ہی بدلہ لے لیتا لیکن وہ تمہارا ایک دوسرے کے ساتھ امتحان کرنا چاہتا ہے، اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے ہیں اللہ ان کے اعمال برباد نہیں کرے گا۔جلدی انہیں راہ دکھائے گا اور ان کا حال درست کر دے گا۔اور انہیں بہشت میں داخل کرے گا جس کی حقیقت انہیں بتا دی ہے۔اے ایمان والو! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جمائے رکھے گا۔اور جو منکر ہیں سو ان کے لیے تباہی ہے اور وہ ان کے اعمال اکارت کر دے گا۔یہ اس لیے کہ انہیں نے ناپسند کیا جو اللہ نے اتارا ہے، سو اس نے ان کے اعمال ضائع کر دیے۔کیا انہوں نے زمین میں سیر نہیں کی کہ وہ دیکھتے ان کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے تھے، اللہ نے انہیں ہلاک کر دیا اور منکروں کے لیے ایسی ہی (سزائیں) ہیں۔یہ اس لیے کہ اللہ ان کا حامی ہے جو ایمان لائے اور کفار کا کوئی بھی حامی نہیں۔بے شک اللہ انہیں داخل کرے گا جو ایمان لائے اور نیک کام کیے بہشتوں میں جن کے نبیچے نہریں بہتی ہوں گی، اور جو کافر ہیں وہ عیش کر رہے ہیں اور اس طرح کھاتے ہیں جس طرح چار پائے کھاتے ہیں اور دوزخ ان کا ٹھکانہ ہے۔اور کتنی ہی بستیاں تھیں جو آپ کی اس بستی سے طاقت میں بڑھ کر تھیں جس کے رہنے والوں نے آپ کو نکال دیا ہے، ہم نے انہیں ہلاک کر دیا تو ان کا کوئی بھی مددگار نہ ہوا۔پس کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل پر ہو وہ اس جیسا ہو سکتا ہے جسے اس کے برے عمل اچھے کر کے دکھائے گئے ہوں اور انہوں نے اپنی ہی خواہشوں کی پیروی کی ہو۔"

[وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم فِي الأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ] (النور: 55).

"اللہ نے ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو تم میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کیے کہ انہیں ضرور ملک کی حکومت عطا کرے گا جیسا کہ ان سے پہلوں کو عطا کی تھی، اور ان کے لیے جس دین کو پسند کیا ہے اسے ضرور مستحکم کر دے گا اور البتہ ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا، بشرطیکہ میری عبادت کرتے رہیں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، اور جو اس کے بعد ناشکری کرے وہی فاسق ہوں گے۔"

اس دوران  میں ، وہ  ان منافقین کی کوششوں سے آگاہ کرتا ہے جو مومنین  کا کفار سے روبرو ہونے کا مذاق اڑاتے ہیں اور ان کے کم امکانات کا مسخرہ کرتے ہیں لیکن اس بات سے غافل ہیں کہ مومنین کی طاقت کا راز ان کا اللہ تعالی سے ارتباط ہے،اللہ تعالی فرماتا ہے: [إِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ غَرَّ هَؤُلاء دِينُهُمْ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللّهِ فإن اللّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ](الأنفال: 49). "اس وقت منافق اور جن کے دلوں میں مرض تھا کہتے تھے کہ انہیں ان کے دین نے مغلوب کر رکھا ہے، اور جو کوئی اللہ پر بھروسہ کرے تو اللہ زبردست حکمت والا ہے۔"

اور اسی  سیاق میں مندرج ہیں :کفار کے ساتھ رو برو ہونے کی فقہ- اللہ تعالی  کی مدد، غلبہ اور زمین کی وراثت کے سارے وعدے، کہ عاقبت انہی کی ہے، اور اللہ تعالی انہی کے ساتھ ہے، اور اللہ تعالی کی طرف سے سکون لے کر فرشتے ان پر نازل ہوتے ہیں، ان سے ڈر اور خوف کا رفع کرنا، ان سے معاملہ کرنا اور ان سے جنت کے بدلے ان کے نفوس کو خریدنا، اس کے ساتھ ہی خداتعالیٰ پر قرض دوگنا کرنا اور اس کے لئے خرچ کرنا۔ یہ مختصر کتاب ہے ان   تمام تفصیلات کی یہاں گنجائش نہیں۔

سب سے بڑی حقیقت جسے قرآن اس مورد میں  ثابت کرتا ہے وہ یہ ہے کہ فتح اور شکست خارجی دشمن  - کفار- کے سامنے  حقیقت میں اپنے داخلی دشمن یعنی نفس امارہ  جو کہ شیطان ہے،کی فتح اور شکست کی فرع ہے،آپ دیکھتے ہو  کہ جب مومنین سے زمین کی خلافت اور اس کی وراثت کی بات ہوتی ہے اور جو کچھ اس میں ہے، تو سب سے پہلی بات اصلاح نفس کی ہوتی ہے اور احکام الیہ کو اپنے نفس پر نافذ کرنے کی ہوتی ہے، اللہ تعالی فرماتا ہے: [وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ، وَنُمَكِّنَ لَهُمْ فِي الأَرْضِ وَنُرِي فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَجُنُودَهُمَا مِنْهُم مَّا كَانُوا يَحْذَرُونَ](القصص: 5 - 6)، "اور ہم چاہتے تھے کہ ان پر احسان کریں جو ملک میں کمزور کیے گئے تھے اور انہیں سردار بنا دیں اور انہیں وارث کریں۔اور انہیں ملک پر قابض کریں اور فرعون اور ہامان اور ان کے لشکروں کو وہ چیز دکھا دیں جس کا وہ خطرہ کرتے تھے۔"

پس پہلے ان کو آئمہ قرار دیا  یعنی ان کی ذات کو پاک کیا  اور اس بات پر زور لگایا کہ کفار پر فتح کی کوئی قیمت نہیں  جب یہ فتح شیطان پر فتح سے متصل نہ ہو اور عمل اللہ تعالی کےلیے خالص نہ ہو، چونکہ اگر عمل اللہ تعالی کی رضا کےلیے نہ ہو تو ان میں اور کفار میں کوئی فرق نہیں ، دونوں کے دونوں اہل دنیا ہیں اور آخرت میں ان کےلیے کوئی نصیب نہیں۔

مثال کے طور پر ، احد کی لڑائی میں مسلمانوں کی شکست اور ان کو جو تکلیف دہ نقصان پہنچا ، اس دوران اللہ سبحانہ  ان سے مخاطب ہوا : [إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْاْ مِنكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُواْ]( آل عمران: 155) "بے شک وہ لوگ جو تم سے پیٹھ پھیر گئے جس دن دونوں فوجیں ملیں سو شیطان نے ان کے گناہ کے سبب سے انہیں بہکا دیا تھا، "

پس ان کی شکست اور ان کا پیٹھ دکھانا یہ سب کچھ ان گناہوں کی وجہ سے تھا جن کا یہ مرتکب ہوچکے تھے،اس کے مقابلے میں اللہ تعالی فرماتا ہے: [إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ]( محمد: 7)،" اگر تم اللہ کی مدد کروگے تو اللہ بھی تمھاری مدد کرے گا٫"

اور اللہ کی مدد اس کی اطاعت کے ساتھ ہوتی ہے ورنہ وہ ہر چیز سے غنی ہے، جو آیت گزر چکی[وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ]،

یہاں پر رسول اللہ (صلى الله عليه واله وسلم) مجاہدین کے ایک گروہ سے جو کہ جنگ سے واپس آرہے تھے، مخاطب ہوئے اور فرمایا: (مرحبا بكم، قضيتم الجهاد الأصغر وبقي عليكم الجهاد الأكبر. قيل: وما هو يا رسول الله؟ قال: جهاد النفس)([2]).

" خوش آمدید ابھی تم جہاد اصغر سے لوٹ رہے ہو ابھی جہاد اکبر باقی ہے تو کہا گیا وہ کیا  ہےیا رسول اللہ ؟ فرمایا : وہ جہاد النفس ہے۔"

 



([1])یہ آیت  مومنین کے رو برو ہونےکے عمومی ڈھانچے کو بیان کرتی ہے کہ ان کا ایک  مولی ہے ان کا ایک مالک ہے جو ان کی دیکھ بھال کرتا ہے اور ان کی پرورش ، خوشی اور کامیابی کا خیال رکھتا ہے اور وہ اللہ تعالی و تبارک ہے جبکہ کفار کا کوئی سرپرست نہیں بلکہ ان کا سرپرست شیطان ہے جو کہ کمزور ہے،جب سامنا ہوتا ہے تو فرار کرجاتا ہے اور ان کو ذلیل کرتا ہے۔ اور جس وقت شیطان نے ان کے اعمال کو ان کی نظروں میں خوشنما کر دیا اور کہا کہ آج کے دن لوگوں میں سے کوئی بھی تم پر غالب نہ ہوگا اور میں تمہارا حمایتی ہوں، پھر جب دونوں فوجیں سامنے ہوئیں تو وہ اپنی ایڑیوں پر الٹا پھرا اور کہا میں تمہارے ساتھ نہیں ہوں میں ایسی چیز دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے میں اللہ سے ڈرتا ہوں، اور اللہ سخت عذاب کرنے والا ہے۔

([2]) الكافي: 5/12 ، باب: وجوه الجهاد.

طاغوت اور کفار سے روبرو ہونے کی فقہ

یہ فقہ زندگی کے ہر پہلو کو شامل ہے۔کفار  اور طاغوت سے ارتباط برقرار رکھنے کے متعلق جسے کفار سےروبرو ہونے کی فقہ کابھی نام دیا جاسکتا ہے قرآن  کہتا ہے؟ اللہ تعالی کا فرمان ہے: [وَلاَ تَهِنُواْ فِي ابْتِغَاء الْقَوْمِ إِن تَكُونُواْ تَأْلَمُونَ فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمونَ وَتَرْجُونَ مِنَ اللّهِ مَا لاَ يَرْجُونَ وَكَانَ اللّهُ عَلِيمًا حَكِيماً] (النساء: 104)، "اور ان (دشمن) لوگوں کا تعاقب کرنے سے ہمت نہ ہارو، اگر تم تکلیف اٹھاتے ہو تو وہ بھی تمہاری طرح تکلیف اٹھاتے ہیں، حالانکہ تم اللہ سے جس چیز کے امیدوار ہو وہ نہیں ہیں، اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے۔"

جہاں نقصان دونوں طرف برابر ہے تو ان کی ملاقات سے فرار کیوں؟فرق یہ ہے کہ آپ  آخرت میں اللہ کی طرف جو کچھ ملنے والا ہے اس سے پر امید ہو اور اس میں کوئی نقصان نہیں  لیکن ان کےلیے اللہ کے پاس سوائے دردناک عذاب کے کچھ نہیں جس کی وہ امید رکھیں۔

اللہ تعالی کا قول ہے: [وَظَنُّوا أَنَّهُم مَّانِعَتُهُمْ حُصُونُهُم مِّنَ اللَّهِ فَأَتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوا وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ يُخْرِبُونَ بُيُوتَهُم بِأَيْدِيهِمْ وَأَيْدِي الْمُؤْمِنِينَ فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الأَبْصَارِ] (الحشر: 2). "حالانکہ تمہیں ان کے نکلنے کا گمان بھی نہ تھا، اور وہ یہی سمجھ رہے تھے کہ ان کے قلعے انہیں اللہ سے بچا لیں گے پھر اللہ کا عذاب ان پر وہاں سے آیا کہ جہاں کا ان کو گمان بھی نہ تھا، اور ان کے دلوں میں ہیبت ڈال دی، کہ اپنے گھروں کو خود اپنے اور مسلمانوں کے ہاتھوں سے اجاڑنے لگے، پس اے آنکھوں والو عبرت حاصل کرو۔"

اللہ تعالی کا فرمان ہے: [مَا كَانَ لأَهْلِ الْمَدِينَةِ وَمَنْ حَوْلَهُم مِّنَ الأَعْرَابِ أَن يَتَخَلَّفُواْ عَن رَّسُولِ اللّهِ وَلاَ يَرْغَبُواْ بِأَنفُسِهِمْ عَن نَّفْسِهِ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ لاَ يُصِيبُهُمْ ظَمَأٌ وَلاَ نَصَبٌ وَلاَ مَخْمَصَةٌ فِي سَبِيلِ اللّهِ وَلاَ يَطَؤُونَ مَوْطِئًا يَغِيظُ الْكُفَّارَ وَلاَ يَنَالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَّيْلاً إِلاَّ كُتِبَ لَهُم بِهِ عَمَلٌ صَالِحٌ إِنَّ اللّهَ لاَ يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ، وَلاَ يُنفِقُونَ نَفَقَةً صَغِيرَةً وَلاَ كَبِيرَةً وَلاَ يَقْطَعُونَ وَادِياً إِلاَّ كُتِبَ لَهُمْ لِيَجْزِيَهُمُ اللّهُ أَحْسَنَ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ] (التوبة: 120 - 121)

"مدینہ والوں اور ان کے آس پاس دیہات کے رہنے والوں کےلیے یہ مناسب نہیں تھا کہ اللہ کے رسول سے پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ کہ اپنی جانوں کو اس کی جان سے زیادہ عزیز سمجھیں، یہ اس لیے ہے کہ انہیں اللہ کی راہ میں جو تکلیف پہنچتی ہے پیاس کی یا ماندگی کی یا بھوک کی یا وہ ایسی جگہ چلتے ہیں جو کافروں کے غصہ کو بھڑکائے اور یا کافروں سے کوئی چیز چھین لیتے ہیں ہر بات پر ان کے لیے عمل صالح لکھا جاتا ہے، بے شک اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔اور جو وہ تھوڑا یا بہت خرچ کرتے ہیں یا کوئی میدان طے کرتے ہیں تو یہ سب کچھ ان کے لیے لکھ لیا جاتا ہے تاکہ اللہ انہیں ان کے اعمال کا اچھا بدلہ دے۔"

پھر کیوں اللہ تعالی نے جو چیز ہم سے مانگی ہے؛ کوشش،مال وغیرہ اس کی ادائیگی میں ہم سستی  کا مظاہرہ کرتے ہیں؟ کیوں لوگوں سے جب ان کے ذمے  شرعی حقوق  مانگے جاتے ہیں جیسے خمس و ذکات  تو اسے ادا کرنے میں قیل وقال سے کام لیتے ہیں اور اللہ تعالی پر بھروسہ نہیں کرتے؟

اللہ تعالی کا فرمان ہے: [ثُمَّ نُنَجِّي رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُواْ كَذَلِكَ حَقّاً عَلَيْنَا نُنجِ الْمُؤْمِنِينَ] (يونس: 103)." پھر ہم بچا لیتےہیں اپنے رسولوں کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لاتے ہیں، اسی طرح ہمارا ذمہ ہے کہ ایمان والوں کو بچا لیں۔"

اور ان میں سے کچھ آیات سورہ مبارکہ محمد میں سے ہیں، اور اگر آپ اپنی روح ، فکر اور دل کو بنی نوع انسان کی زندگی کے اس خوشگوار وقت کی طرف منتقل کرسکیں اور یہ تصور کرسکیں کہ آپ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور انکے آس پاس کی اس مومن جماعت میں شامل ہیں جو اس رسالت کے آغاز سے ہی  اس مشکل وقت میں  ان  کے ساتھ تھے اور جب  قریش کے مقابلے میں ان کی تعداد کم تھی اور قریش بہت تکلیف دیتے تھےیہاں تک کہ  جنگ احزاب کے بعد مشرکین دب گئے اور مایوسی کا شکار ہوگئے اور پہل کرنے کی ڈور رسول اللہ (صلى الله عليه وآله) کے ہاتھ آگئی اور فتوحات کا سلسلہ جاری رہا،؛ فتح خیبر سے لے کر فتح  مکہ  اور طائف تک پھر یمن اور پھر پورے جزیرہ  کی فتح تک،آپ تصور کریں کہ آپ وہاں پر موجود ہیں  اور آپ پر یہ عظیم قرآنی خطاب نازل ہوتا ہے،آپ کے رب کی طرف سے جو کہ آپ کے امور کی تدبیر کرتا ہے اور زمین و آسمانوں کا خالق ہے، آپ سے براہ راست گفتگو کرتا ہے:

 [بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ] [الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّهِ أَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ، وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَآمَنُوا بِمَا نُزِّلَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَهُوَ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَأَصْلَحَ بَالَهُمْ، ذَلِكَ بِأَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَأَنَّ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِن رَّبِّهِمْ كَذَلِكَ يَضْرِبُ اللَّهُ لِلنَّاسِ أَمْثَالَهُمْ، فإذا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّى إذا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنّاً بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاء حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ذَلِكَ وَلَوْ يَشَاء اللَّهُ لانتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَكِن لِّيَبْلُوَ بَعْضَكُم بِبَعْضٍ وَالَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَلَن يُضِلَّ أَعْمَالَهُمْ، سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ، وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ، يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ، وَالَّذِينَ كَفَرُوا فَتَعْساً لَّهُمْ وَأَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ، ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَرِهُوا مَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأَحْبَطَ أَعْمَالَهُمْ، أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ دَمَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَلِلْكَافِرِينَ أَمْثَالُهَا، ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَأَنَّ الْكَافِرِينَ لا مَوْلَى لَهُمْ([1])، إِنَّ اللَّهَ يُدْخِلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الأَنْهَارُ وَالَّذِينَ كَفَرُوا يَتَمَتَّعُونَ وَيَأْكُلُونَ كَمَا تَأْكُلُ الأَنْعَامُ وَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ، وَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ هِيَ أَشَدُّ قُوَّةً مِّن قَرْيَتِكَ الَّتِي أَخْرَجَتْكَ أَهْلَكْنَاهُمْ فَلا نَاصِرَ لَهُمْ، أَفَمَن كَانَ عَلَى بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّهِ كَمَن زُيِّنَ لَهُ سُوءُ عَمَلِهِ وَاتَّبَعُوا أَهْوَاءهُمْ] (محمد:1-14)

" وہ لوگ جو منکر ہوئے اور انہوں نے لوگوں کو بھی اللہ کے راستہ سے روکا تو اللہ نے ان کے اعمال برباد کر دیے۔اور وہ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے اور جو کچھ محمد پر نازل کیا گیا اس پر بھی ایمان لائے حالانکہ وہ ان کے رب کی طرف سے برحق بھی ہے، تو اللہ ان کی برائیوں کو مٹا دے گا اور ان کا حال درست کرے گا۔یہ اس لیے کہ جو لوگ منکر ہیں انہوں نے جھوٹ کی پیروی کی اور جو لوگ ایمان لائے انہوں نے اپنے رب کی طرف سے حق کی پیروی کی، اسی طرح اللہ لوگوں کے لیے ان کی مثالیں بیان کرتا ہے۔پس جب تم ان کے مقابل ہو جو کافر ہیں تو ان کی گردنیں مارو، یہاں تک کہ جب تم ان کو خوب مغلوب کرلو تو ان کی مشکیں کس لو، پھر یا تو اس کے بعد احسان کرو یا تاوان لے لو یہاں تک کہ لڑائی والے اپنے ہتھیار ڈال دیں، یہی (حکم) ہے، اور اگر اللہ چاہتا تو ان سے خود ہی بدلہ لے لیتا لیکن وہ تمہارا ایک دوسرے کے ساتھ امتحان کرنا چاہتا ہے، اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے ہیں اللہ ان کے اعمال برباد نہیں کرے گا۔جلدی انہیں راہ دکھائے گا اور ان کا حال درست کر دے گا۔اور انہیں بہشت میں داخل کرے گا جس کی حقیقت انہیں بتا دی ہے۔اے ایمان والو! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جمائے رکھے گا۔اور جو منکر ہیں سو ان کے لیے تباہی ہے اور وہ ان کے اعمال اکارت کر دے گا۔یہ اس لیے کہ انہیں نے ناپسند کیا جو اللہ نے اتارا ہے، سو اس نے ان کے اعمال ضائع کر دیے۔کیا انہوں نے زمین میں سیر نہیں کی کہ وہ دیکھتے ان کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے تھے، اللہ نے انہیں ہلاک کر دیا اور منکروں کے لیے ایسی ہی (سزائیں) ہیں۔یہ اس لیے کہ اللہ ان کا حامی ہے جو ایمان لائے اور کفار کا کوئی بھی حامی نہیں۔بے شک اللہ انہیں داخل کرے گا جو ایمان لائے اور نیک کام کیے بہشتوں میں جن کے نبیچے نہریں بہتی ہوں گی، اور جو کافر ہیں وہ عیش کر رہے ہیں اور اس طرح کھاتے ہیں جس طرح چار پائے کھاتے ہیں اور دوزخ ان کا ٹھکانہ ہے۔اور کتنی ہی بستیاں تھیں جو آپ کی اس بستی سے طاقت میں بڑھ کر تھیں جس کے رہنے والوں نے آپ کو نکال دیا ہے، ہم نے انہیں ہلاک کر دیا تو ان کا کوئی بھی مددگار نہ ہوا۔پس کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل پر ہو وہ اس جیسا ہو سکتا ہے جسے اس کے برے عمل اچھے کر کے دکھائے گئے ہوں اور انہوں نے اپنی ہی خواہشوں کی پیروی کی ہو۔"

[وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم فِي الأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ] (النور: 55).

"اللہ نے ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو تم میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کیے کہ انہیں ضرور ملک کی حکومت عطا کرے گا جیسا کہ ان سے پہلوں کو عطا کی تھی، اور ان کے لیے جس دین کو پسند کیا ہے اسے ضرور مستحکم کر دے گا اور البتہ ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا، بشرطیکہ میری عبادت کرتے رہیں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، اور جو اس کے بعد ناشکری کرے وہی فاسق ہوں گے۔"

اس دوران  میں ، وہ  ان منافقین کی کوششوں سے آگاہ کرتا ہے جو مومنین  کا کفار سے روبرو ہونے کا مذاق اڑاتے ہیں اور ان کے کم امکانات کا مسخرہ کرتے ہیں لیکن اس بات سے غافل ہیں کہ مومنین کی طاقت کا راز ان کا اللہ تعالی سے ارتباط ہے،اللہ تعالی فرماتا ہے: [إِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ غَرَّ هَؤُلاء دِينُهُمْ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللّهِ فإن اللّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ](الأنفال: 49). "اس وقت منافق اور جن کے دلوں میں مرض تھا کہتے تھے کہ انہیں ان کے دین نے مغلوب کر رکھا ہے، اور جو کوئی اللہ پر بھروسہ کرے تو اللہ زبردست حکمت والا ہے۔"

اور اسی  سیاق میں مندرج ہیں :کفار کے ساتھ رو برو ہونے کی فقہ- اللہ تعالی  کی مدد، غلبہ اور زمین کی وراثت کے سارے وعدے، کہ عاقبت انہی کی ہے، اور اللہ تعالی انہی کے ساتھ ہے، اور اللہ تعالی کی طرف سے سکون لے کر فرشتے ان پر نازل ہوتے ہیں، ان سے ڈر اور خوف کا رفع کرنا، ان سے معاملہ کرنا اور ان سے جنت کے بدلے ان کے نفوس کو خریدنا، اس کے ساتھ ہی خداتعالیٰ پر قرض دوگنا کرنا اور اس کے لئے خرچ کرنا۔ یہ مختصر کتاب ہے ان   تمام تفصیلات کی یہاں گنجائش نہیں۔

سب سے بڑی حقیقت جسے قرآن اس مورد میں  ثابت کرتا ہے وہ یہ ہے کہ فتح اور شکست خارجی دشمن  - کفار- کے سامنے  حقیقت میں اپنے داخلی دشمن یعنی نفس امارہ  جو کہ شیطان ہے،کی فتح اور شکست کی فرع ہے،آپ دیکھتے ہو  کہ جب مومنین سے زمین کی خلافت اور اس کی وراثت کی بات ہوتی ہے اور جو کچھ اس میں ہے، تو سب سے پہلی بات اصلاح نفس کی ہوتی ہے اور احکام الیہ کو اپنے نفس پر نافذ کرنے کی ہوتی ہے، اللہ تعالی فرماتا ہے: [وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ، وَنُمَكِّنَ لَهُمْ فِي الأَرْضِ وَنُرِي فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَجُنُودَهُمَا مِنْهُم مَّا كَانُوا يَحْذَرُونَ](القصص: 5 - 6)، "اور ہم چاہتے تھے کہ ان پر احسان کریں جو ملک میں کمزور کیے گئے تھے اور انہیں سردار بنا دیں اور انہیں وارث کریں۔اور انہیں ملک پر قابض کریں اور فرعون اور ہامان اور ان کے لشکروں کو وہ چیز دکھا دیں جس کا وہ خطرہ کرتے تھے۔"

پس پہلے ان کو آئمہ قرار دیا  یعنی ان کی ذات کو پاک کیا  اور اس بات پر زور لگایا کہ کفار پر فتح کی کوئی قیمت نہیں  جب یہ فتح شیطان پر فتح سے متصل نہ ہو اور عمل اللہ تعالی کےلیے خالص نہ ہو، چونکہ اگر عمل اللہ تعالی کی رضا کےلیے نہ ہو تو ان میں اور کفار میں کوئی فرق نہیں ، دونوں کے دونوں اہل دنیا ہیں اور آخرت میں ان کےلیے کوئی نصیب نہیں۔

مثال کے طور پر ، احد کی لڑائی میں مسلمانوں کی شکست اور ان کو جو تکلیف دہ نقصان پہنچا ، اس دوران اللہ سبحانہ  ان سے مخاطب ہوا : [إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْاْ مِنكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُواْ]( آل عمران: 155) "بے شک وہ لوگ جو تم سے پیٹھ پھیر گئے جس دن دونوں فوجیں ملیں سو شیطان نے ان کے گناہ کے سبب سے انہیں بہکا دیا تھا، "

پس ان کی شکست اور ان کا پیٹھ دکھانا یہ سب کچھ ان گناہوں کی وجہ سے تھا جن کا یہ مرتکب ہوچکے تھے،اس کے مقابلے میں اللہ تعالی فرماتا ہے: [إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ]( محمد: 7)،" اگر تم اللہ کی مدد کروگے تو اللہ بھی تمھاری مدد کرے گا٫"

اور اللہ کی مدد اس کی اطاعت کے ساتھ ہوتی ہے ورنہ وہ ہر چیز سے غنی ہے، جو آیت گزر چکی[وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ]،

یہاں پر رسول اللہ (صلى الله عليه واله وسلم) مجاہدین کے ایک گروہ سے جو کہ جنگ سے واپس آرہے تھے، مخاطب ہوئے اور فرمایا: (مرحبا بكم، قضيتم الجهاد الأصغر وبقي عليكم الجهاد الأكبر. قيل: وما هو يا رسول الله؟ قال: جهاد النفس)([2]).

" خوش آمدید ابھی تم جہاد اصغر سے لوٹ رہے ہو ابھی جہاد اکبر باقی ہے تو کہا گیا وہ کیا  ہےیا رسول اللہ ؟ فرمایا : وہ جہاد النفس ہے۔"

 



([1])یہ آیت  مومنین کے رو برو ہونےکے عمومی ڈھانچے کو بیان کرتی ہے کہ ان کا ایک  مولی ہے ان کا ایک مالک ہے جو ان کی دیکھ بھال کرتا ہے اور ان کی پرورش ، خوشی اور کامیابی کا خیال رکھتا ہے اور وہ اللہ تعالی و تبارک ہے جبکہ کفار کا کوئی سرپرست نہیں بلکہ ان کا سرپرست شیطان ہے جو کہ کمزور ہے،جب سامنا ہوتا ہے تو فرار کرجاتا ہے اور ان کو ذلیل کرتا ہے۔ اور جس وقت شیطان نے ان کے اعمال کو ان کی نظروں میں خوشنما کر دیا اور کہا کہ آج کے دن لوگوں میں سے کوئی بھی تم پر غالب نہ ہوگا اور میں تمہارا حمایتی ہوں، پھر جب دونوں فوجیں سامنے ہوئیں تو وہ اپنی ایڑیوں پر الٹا پھرا اور کہا میں تمہارے ساتھ نہیں ہوں میں ایسی چیز دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے میں اللہ سے ڈرتا ہوں، اور اللہ سخت عذاب کرنے والا ہے۔

([2]) الكافي: 5/12 ، باب: وجوه الجهاد.

طاغوت اور کفار سے روبرو ہونے کی فقہ

یہ فقہ زندگی کے ہر پہلو کو شامل ہے۔کفار  اور طاغوت سے ارتباط برقرار رکھنے کے متعلق جسے کفار سےروبرو ہونے کی فقہ کابھی نام دیا جاسکتا ہے قرآن  کہتا ہے؟ اللہ تعالی کا فرمان ہے: [وَلاَ تَهِنُواْ فِي ابْتِغَاء الْقَوْمِ إِن تَكُونُواْ تَأْلَمُونَ فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمونَ وَتَرْجُونَ مِنَ اللّهِ مَا لاَ يَرْجُونَ وَكَانَ اللّهُ عَلِيمًا حَكِيماً] (النساء: 104)، "اور ان (دشمن) لوگوں کا تعاقب کرنے سے ہمت نہ ہارو، اگر تم تکلیف اٹھاتے ہو تو وہ بھی تمہاری طرح تکلیف اٹھاتے ہیں، حالانکہ تم اللہ سے جس چیز کے امیدوار ہو وہ نہیں ہیں، اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے۔"

جہاں نقصان دونوں طرف برابر ہے تو ان کی ملاقات سے فرار کیوں؟فرق یہ ہے کہ آپ  آخرت میں اللہ کی طرف جو کچھ ملنے والا ہے اس سے پر امید ہو اور اس میں کوئی نقصان نہیں  لیکن ان کےلیے اللہ کے پاس سوائے دردناک عذاب کے کچھ نہیں جس کی وہ امید رکھیں۔

اللہ تعالی کا قول ہے: [وَظَنُّوا أَنَّهُم مَّانِعَتُهُمْ حُصُونُهُم مِّنَ اللَّهِ فَأَتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوا وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ يُخْرِبُونَ بُيُوتَهُم بِأَيْدِيهِمْ وَأَيْدِي الْمُؤْمِنِينَ فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الأَبْصَارِ] (الحشر: 2). "حالانکہ تمہیں ان کے نکلنے کا گمان بھی نہ تھا، اور وہ یہی سمجھ رہے تھے کہ ان کے قلعے انہیں اللہ سے بچا لیں گے پھر اللہ کا عذاب ان پر وہاں سے آیا کہ جہاں کا ان کو گمان بھی نہ تھا، اور ان کے دلوں میں ہیبت ڈال دی، کہ اپنے گھروں کو خود اپنے اور مسلمانوں کے ہاتھوں سے اجاڑنے لگے، پس اے آنکھوں والو عبرت حاصل کرو۔"

اللہ تعالی کا فرمان ہے: [مَا كَانَ لأَهْلِ الْمَدِينَةِ وَمَنْ حَوْلَهُم مِّنَ الأَعْرَابِ أَن يَتَخَلَّفُواْ عَن رَّسُولِ اللّهِ وَلاَ يَرْغَبُواْ بِأَنفُسِهِمْ عَن نَّفْسِهِ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ لاَ يُصِيبُهُمْ ظَمَأٌ وَلاَ نَصَبٌ وَلاَ مَخْمَصَةٌ فِي سَبِيلِ اللّهِ وَلاَ يَطَؤُونَ مَوْطِئًا يَغِيظُ الْكُفَّارَ وَلاَ يَنَالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَّيْلاً إِلاَّ كُتِبَ لَهُم بِهِ عَمَلٌ صَالِحٌ إِنَّ اللّهَ لاَ يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ، وَلاَ يُنفِقُونَ نَفَقَةً صَغِيرَةً وَلاَ كَبِيرَةً وَلاَ يَقْطَعُونَ وَادِياً إِلاَّ كُتِبَ لَهُمْ لِيَجْزِيَهُمُ اللّهُ أَحْسَنَ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ] (التوبة: 120 - 121)

"مدینہ والوں اور ان کے آس پاس دیہات کے رہنے والوں کےلیے یہ مناسب نہیں تھا کہ اللہ کے رسول سے پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ کہ اپنی جانوں کو اس کی جان سے زیادہ عزیز سمجھیں، یہ اس لیے ہے کہ انہیں اللہ کی راہ میں جو تکلیف پہنچتی ہے پیاس کی یا ماندگی کی یا بھوک کی یا وہ ایسی جگہ چلتے ہیں جو کافروں کے غصہ کو بھڑکائے اور یا کافروں سے کوئی چیز چھین لیتے ہیں ہر بات پر ان کے لیے عمل صالح لکھا جاتا ہے، بے شک اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔اور جو وہ تھوڑا یا بہت خرچ کرتے ہیں یا کوئی میدان طے کرتے ہیں تو یہ سب کچھ ان کے لیے لکھ لیا جاتا ہے تاکہ اللہ انہیں ان کے اعمال کا اچھا بدلہ دے۔"

پھر کیوں اللہ تعالی نے جو چیز ہم سے مانگی ہے؛ کوشش،مال وغیرہ اس کی ادائیگی میں ہم سستی  کا مظاہرہ کرتے ہیں؟ کیوں لوگوں سے جب ان کے ذمے  شرعی حقوق  مانگے جاتے ہیں جیسے خمس و ذکات  تو اسے ادا کرنے میں قیل وقال سے کام لیتے ہیں اور اللہ تعالی پر بھروسہ نہیں کرتے؟

اللہ تعالی کا فرمان ہے: [ثُمَّ نُنَجِّي رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُواْ كَذَلِكَ حَقّاً عَلَيْنَا نُنجِ الْمُؤْمِنِينَ] (يونس: 103)." پھر ہم بچا لیتےہیں اپنے رسولوں کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لاتے ہیں، اسی طرح ہمارا ذمہ ہے کہ ایمان والوں کو بچا لیں۔"

اور ان میں سے کچھ آیات سورہ مبارکہ محمد میں سے ہیں، اور اگر آپ اپنی روح ، فکر اور دل کو بنی نوع انسان کی زندگی کے اس خوشگوار وقت کی طرف منتقل کرسکیں اور یہ تصور کرسکیں کہ آپ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور انکے آس پاس کی اس مومن جماعت میں شامل ہیں جو اس رسالت کے آغاز سے ہی  اس مشکل وقت میں  ان  کے ساتھ تھے اور جب  قریش کے مقابلے میں ان کی تعداد کم تھی اور قریش بہت تکلیف دیتے تھےیہاں تک کہ  جنگ احزاب کے بعد مشرکین دب گئے اور مایوسی کا شکار ہوگئے اور پہل کرنے کی ڈور رسول اللہ (صلى الله عليه وآله) کے ہاتھ آگئی اور فتوحات کا سلسلہ جاری رہا،؛ فتح خیبر سے لے کر فتح  مکہ  اور طائف تک پھر یمن اور پھر پورے جزیرہ  کی فتح تک،آپ تصور کریں کہ آپ وہاں پر موجود ہیں  اور آپ پر یہ عظیم قرآنی خطاب نازل ہوتا ہے،آپ کے رب کی طرف سے جو کہ آپ کے امور کی تدبیر کرتا ہے اور زمین و آسمانوں کا خالق ہے، آپ سے براہ راست گفتگو کرتا ہے:

 [بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ] [الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّهِ أَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ، وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَآمَنُوا بِمَا نُزِّلَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَهُوَ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَأَصْلَحَ بَالَهُمْ، ذَلِكَ بِأَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَأَنَّ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِن رَّبِّهِمْ كَذَلِكَ يَضْرِبُ اللَّهُ لِلنَّاسِ أَمْثَالَهُمْ، فإذا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّى إذا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنّاً بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاء حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ذَلِكَ وَلَوْ يَشَاء اللَّهُ لانتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَكِن لِّيَبْلُوَ بَعْضَكُم بِبَعْضٍ وَالَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَلَن يُضِلَّ أَعْمَالَهُمْ، سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ، وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ، يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ، وَالَّذِينَ كَفَرُوا فَتَعْساً لَّهُمْ وَأَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ، ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَرِهُوا مَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأَحْبَطَ أَعْمَالَهُمْ، أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ دَمَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَلِلْكَافِرِينَ أَمْثَالُهَا، ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَأَنَّ الْكَافِرِينَ لا مَوْلَى لَهُمْ([1])، إِنَّ اللَّهَ يُدْخِلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الأَنْهَارُ وَالَّذِينَ كَفَرُوا يَتَمَتَّعُونَ وَيَأْكُلُونَ كَمَا تَأْكُلُ الأَنْعَامُ وَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ، وَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ هِيَ أَشَدُّ قُوَّةً مِّن قَرْيَتِكَ الَّتِي أَخْرَجَتْكَ أَهْلَكْنَاهُمْ فَلا نَاصِرَ لَهُمْ، أَفَمَن كَانَ عَلَى بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّهِ كَمَن زُيِّنَ لَهُ سُوءُ عَمَلِهِ وَاتَّبَعُوا أَهْوَاءهُمْ] (محمد:1-14)

" وہ لوگ جو منکر ہوئے اور انہوں نے لوگوں کو بھی اللہ کے راستہ سے روکا تو اللہ نے ان کے اعمال برباد کر دیے۔اور وہ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے اور جو کچھ محمد پر نازل کیا گیا اس پر بھی ایمان لائے حالانکہ وہ ان کے رب کی طرف سے برحق بھی ہے، تو اللہ ان کی برائیوں کو مٹا دے گا اور ان کا حال درست کرے گا۔یہ اس لیے کہ جو لوگ منکر ہیں انہوں نے جھوٹ کی پیروی کی اور جو لوگ ایمان لائے انہوں نے اپنے رب کی طرف سے حق کی پیروی کی، اسی طرح اللہ لوگوں کے لیے ان کی مثالیں بیان کرتا ہے۔پس جب تم ان کے مقابل ہو جو کافر ہیں تو ان کی گردنیں مارو، یہاں تک کہ جب تم ان کو خوب مغلوب کرلو تو ان کی مشکیں کس لو، پھر یا تو اس کے بعد احسان کرو یا تاوان لے لو یہاں تک کہ لڑائی والے اپنے ہتھیار ڈال دیں، یہی (حکم) ہے، اور اگر اللہ چاہتا تو ان سے خود ہی بدلہ لے لیتا لیکن وہ تمہارا ایک دوسرے کے ساتھ امتحان کرنا چاہتا ہے، اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے ہیں اللہ ان کے اعمال برباد نہیں کرے گا۔جلدی انہیں راہ دکھائے گا اور ان کا حال درست کر دے گا۔اور انہیں بہشت میں داخل کرے گا جس کی حقیقت انہیں بتا دی ہے۔اے ایمان والو! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جمائے رکھے گا۔اور جو منکر ہیں سو ان کے لیے تباہی ہے اور وہ ان کے اعمال اکارت کر دے گا۔یہ اس لیے کہ انہیں نے ناپسند کیا جو اللہ نے اتارا ہے، سو اس نے ان کے اعمال ضائع کر دیے۔کیا انہوں نے زمین میں سیر نہیں کی کہ وہ دیکھتے ان کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے تھے، اللہ نے انہیں ہلاک کر دیا اور منکروں کے لیے ایسی ہی (سزائیں) ہیں۔یہ اس لیے کہ اللہ ان کا حامی ہے جو ایمان لائے اور کفار کا کوئی بھی حامی نہیں۔بے شک اللہ انہیں داخل کرے گا جو ایمان لائے اور نیک کام کیے بہشتوں میں جن کے نبیچے نہریں بہتی ہوں گی، اور جو کافر ہیں وہ عیش کر رہے ہیں اور اس طرح کھاتے ہیں جس طرح چار پائے کھاتے ہیں اور دوزخ ان کا ٹھکانہ ہے۔اور کتنی ہی بستیاں تھیں جو آپ کی اس بستی سے طاقت میں بڑھ کر تھیں جس کے رہنے والوں نے آپ کو نکال دیا ہے، ہم نے انہیں ہلاک کر دیا تو ان کا کوئی بھی مددگار نہ ہوا۔پس کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل پر ہو وہ اس جیسا ہو سکتا ہے جسے اس کے برے عمل اچھے کر کے دکھائے گئے ہوں اور انہوں نے اپنی ہی خواہشوں کی پیروی کی ہو۔"

[وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم فِي الأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ] (النور: 55).

"اللہ نے ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو تم میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کیے کہ انہیں ضرور ملک کی حکومت عطا کرے گا جیسا کہ ان سے پہلوں کو عطا کی تھی، اور ان کے لیے جس دین کو پسند کیا ہے اسے ضرور مستحکم کر دے گا اور البتہ ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا، بشرطیکہ میری عبادت کرتے رہیں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، اور جو اس کے بعد ناشکری کرے وہی فاسق ہوں گے۔"

اس دوران  میں ، وہ  ان منافقین کی کوششوں سے آگاہ کرتا ہے جو مومنین  کا کفار سے روبرو ہونے کا مذاق اڑاتے ہیں اور ان کے کم امکانات کا مسخرہ کرتے ہیں لیکن اس بات سے غافل ہیں کہ مومنین کی طاقت کا راز ان کا اللہ تعالی سے ارتباط ہے،اللہ تعالی فرماتا ہے: [إِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ غَرَّ هَؤُلاء دِينُهُمْ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللّهِ فإن اللّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ](الأنفال: 49). "اس وقت منافق اور جن کے دلوں میں مرض تھا کہتے تھے کہ انہیں ان کے دین نے مغلوب کر رکھا ہے، اور جو کوئی اللہ پر بھروسہ کرے تو اللہ زبردست حکمت والا ہے۔"

اور اسی  سیاق میں مندرج ہیں :کفار کے ساتھ رو برو ہونے کی فقہ- اللہ تعالی  کی مدد، غلبہ اور زمین کی وراثت کے سارے وعدے، کہ عاقبت انہی کی ہے، اور اللہ تعالی انہی کے ساتھ ہے، اور اللہ تعالی کی طرف سے سکون لے کر فرشتے ان پر نازل ہوتے ہیں، ان سے ڈر اور خوف کا رفع کرنا، ان سے معاملہ کرنا اور ان سے جنت کے بدلے ان کے نفوس کو خریدنا، اس کے ساتھ ہی خداتعالیٰ پر قرض دوگنا کرنا اور اس کے لئے خرچ کرنا۔ یہ مختصر کتاب ہے ان   تمام تفصیلات کی یہاں گنجائش نہیں۔

سب سے بڑی حقیقت جسے قرآن اس مورد میں  ثابت کرتا ہے وہ یہ ہے کہ فتح اور شکست خارجی دشمن  - کفار- کے سامنے  حقیقت میں اپنے داخلی دشمن یعنی نفس امارہ  جو کہ شیطان ہے،کی فتح اور شکست کی فرع ہے،آپ دیکھتے ہو  کہ جب مومنین سے زمین کی خلافت اور اس کی وراثت کی بات ہوتی ہے اور جو کچھ اس میں ہے، تو سب سے پہلی بات اصلاح نفس کی ہوتی ہے اور احکام الیہ کو اپنے نفس پر نافذ کرنے کی ہوتی ہے، اللہ تعالی فرماتا ہے: [وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ، وَنُمَكِّنَ لَهُمْ فِي الأَرْضِ وَنُرِي فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَجُنُودَهُمَا مِنْهُم مَّا كَانُوا يَحْذَرُونَ](القصص: 5 - 6)، "اور ہم چاہتے تھے کہ ان پر احسان کریں جو ملک میں کمزور کیے گئے تھے اور انہیں سردار بنا دیں اور انہیں وارث کریں۔اور انہیں ملک پر قابض کریں اور فرعون اور ہامان اور ان کے لشکروں کو وہ چیز دکھا دیں جس کا وہ خطرہ کرتے تھے۔"

پس پہلے ان کو آئمہ قرار دیا  یعنی ان کی ذات کو پاک کیا  اور اس بات پر زور لگایا کہ کفار پر فتح کی کوئی قیمت نہیں  جب یہ فتح شیطان پر فتح سے متصل نہ ہو اور عمل اللہ تعالی کےلیے خالص نہ ہو، چونکہ اگر عمل اللہ تعالی کی رضا کےلیے نہ ہو تو ان میں اور کفار میں کوئی فرق نہیں ، دونوں کے دونوں اہل دنیا ہیں اور آخرت میں ان کےلیے کوئی نصیب نہیں۔

مثال کے طور پر ، احد کی لڑائی میں مسلمانوں کی شکست اور ان کو جو تکلیف دہ نقصان پہنچا ، اس دوران اللہ سبحانہ  ان سے مخاطب ہوا : [إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْاْ مِنكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُواْ]( آل عمران: 155) "بے شک وہ لوگ جو تم سے پیٹھ پھیر گئے جس دن دونوں فوجیں ملیں سو شیطان نے ان کے گناہ کے سبب سے انہیں بہکا دیا تھا، "

پس ان کی شکست اور ان کا پیٹھ دکھانا یہ سب کچھ ان گناہوں کی وجہ سے تھا جن کا یہ مرتکب ہوچکے تھے،اس کے مقابلے میں اللہ تعالی فرماتا ہے: [إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ]( محمد: 7)،" اگر تم اللہ کی مدد کروگے تو اللہ بھی تمھاری مدد کرے گا٫"

اور اللہ کی مدد اس کی اطاعت کے ساتھ ہوتی ہے ورنہ وہ ہر چیز سے غنی ہے، جو آیت گزر چکی[وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ]،

یہاں پر رسول اللہ (صلى الله عليه واله وسلم) مجاہدین کے ایک گروہ سے جو کہ جنگ سے واپس آرہے تھے، مخاطب ہوئے اور فرمایا: (مرحبا بكم، قضيتم الجهاد الأصغر وبقي عليكم الجهاد الأكبر. قيل: وما هو يا رسول الله؟ قال: جهاد النفس)([2]).

" خوش آمدید ابھی تم جہاد اصغر سے لوٹ رہے ہو ابھی جہاد اکبر باقی ہے تو کہا گیا وہ کیا  ہےیا رسول اللہ ؟ فرمایا : وہ جہاد النفس ہے۔"

 



([1])یہ آیت  مومنین کے رو برو ہونےکے عمومی ڈھانچے کو بیان کرتی ہے کہ ان کا ایک  مولی ہے ان کا ایک مالک ہے جو ان کی دیکھ بھال کرتا ہے اور ان کی پرورش ، خوشی اور کامیابی کا خیال رکھتا ہے اور وہ اللہ تعالی و تبارک ہے جبکہ کفار کا کوئی سرپرست نہیں بلکہ ان کا سرپرست شیطان ہے جو کہ کمزور ہے،جب سامنا ہوتا ہے تو فرار کرجاتا ہے اور ان کو ذلیل کرتا ہے۔ اور جس وقت شیطان نے ان کے اعمال کو ان کی نظروں میں خوشنما کر دیا اور کہا کہ آج کے دن لوگوں میں سے کوئی بھی تم پر غالب نہ ہوگا اور میں تمہارا حمایتی ہوں، پھر جب دونوں فوجیں سامنے ہوئیں تو وہ اپنی ایڑیوں پر الٹا پھرا اور کہا میں تمہارے ساتھ نہیں ہوں میں ایسی چیز دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے میں اللہ سے ڈرتا ہوں، اور اللہ سخت عذاب کرنے والا ہے۔

([2]) الكافي: 5/12 ، باب: وجوه الجهاد.

طاغوت اور کفار سے روبرو ہونے کی فقہ

یہ فقہ زندگی کے ہر پہلو کو شامل ہے۔کفار  اور طاغوت سے ارتباط برقرار رکھنے کے متعلق جسے کفار سےروبرو ہونے کی فقہ کابھی نام دیا جاسکتا ہے قرآن  کہتا ہے؟ اللہ تعالی کا فرمان ہے: [وَلاَ تَهِنُواْ فِي ابْتِغَاء الْقَوْمِ إِن تَكُونُواْ تَأْلَمُونَ فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمونَ وَتَرْجُونَ مِنَ اللّهِ مَا لاَ يَرْجُونَ وَكَانَ اللّهُ عَلِيمًا حَكِيماً] (النساء: 104)، "اور ان (دشمن) لوگوں کا تعاقب کرنے سے ہمت نہ ہارو، اگر تم تکلیف اٹھاتے ہو تو وہ بھی تمہاری طرح تکلیف اٹھاتے ہیں، حالانکہ تم اللہ سے جس چیز کے امیدوار ہو وہ نہیں ہیں، اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے۔"

جہاں نقصان دونوں طرف برابر ہے تو ان کی ملاقات سے فرار کیوں؟فرق یہ ہے کہ آپ  آخرت میں اللہ کی طرف جو کچھ ملنے والا ہے اس سے پر امید ہو اور اس میں کوئی نقصان نہیں  لیکن ان کےلیے اللہ کے پاس سوائے دردناک عذاب کے کچھ نہیں جس کی وہ امید رکھیں۔

اللہ تعالی کا قول ہے: [وَظَنُّوا أَنَّهُم مَّانِعَتُهُمْ حُصُونُهُم مِّنَ اللَّهِ فَأَتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوا وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ يُخْرِبُونَ بُيُوتَهُم بِأَيْدِيهِمْ وَأَيْدِي الْمُؤْمِنِينَ فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الأَبْصَارِ] (الحشر: 2). "حالانکہ تمہیں ان کے نکلنے کا گمان بھی نہ تھا، اور وہ یہی سمجھ رہے تھے کہ ان کے قلعے انہیں اللہ سے بچا لیں گے پھر اللہ کا عذاب ان پر وہاں سے آیا کہ جہاں کا ان کو گمان بھی نہ تھا، اور ان کے دلوں میں ہیبت ڈال دی، کہ اپنے گھروں کو خود اپنے اور مسلمانوں کے ہاتھوں سے اجاڑنے لگے، پس اے آنکھوں والو عبرت حاصل کرو۔"

اللہ تعالی کا فرمان ہے: [مَا كَانَ لأَهْلِ الْمَدِينَةِ وَمَنْ حَوْلَهُم مِّنَ الأَعْرَابِ أَن يَتَخَلَّفُواْ عَن رَّسُولِ اللّهِ وَلاَ يَرْغَبُواْ بِأَنفُسِهِمْ عَن نَّفْسِهِ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ لاَ يُصِيبُهُمْ ظَمَأٌ وَلاَ نَصَبٌ وَلاَ مَخْمَصَةٌ فِي سَبِيلِ اللّهِ وَلاَ يَطَؤُونَ مَوْطِئًا يَغِيظُ الْكُفَّارَ وَلاَ يَنَالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَّيْلاً إِلاَّ كُتِبَ لَهُم بِهِ عَمَلٌ صَالِحٌ إِنَّ اللّهَ لاَ يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ، وَلاَ يُنفِقُونَ نَفَقَةً صَغِيرَةً وَلاَ كَبِيرَةً وَلاَ يَقْطَعُونَ وَادِياً إِلاَّ كُتِبَ لَهُمْ لِيَجْزِيَهُمُ اللّهُ أَحْسَنَ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ] (التوبة: 120 - 121)

"مدینہ والوں اور ان کے آس پاس دیہات کے رہنے والوں کےلیے یہ مناسب نہیں تھا کہ اللہ کے رسول سے پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ کہ اپنی جانوں کو اس کی جان سے زیادہ عزیز سمجھیں، یہ اس لیے ہے کہ انہیں اللہ کی راہ میں جو تکلیف پہنچتی ہے پیاس کی یا ماندگی کی یا بھوک کی یا وہ ایسی جگہ چلتے ہیں جو کافروں کے غصہ کو بھڑکائے اور یا کافروں سے کوئی چیز چھین لیتے ہیں ہر بات پر ان کے لیے عمل صالح لکھا جاتا ہے، بے شک اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔اور جو وہ تھوڑا یا بہت خرچ کرتے ہیں یا کوئی میدان طے کرتے ہیں تو یہ سب کچھ ان کے لیے لکھ لیا جاتا ہے تاکہ اللہ انہیں ان کے اعمال کا اچھا بدلہ دے۔"

پھر کیوں اللہ تعالی نے جو چیز ہم سے مانگی ہے؛ کوشش،مال وغیرہ اس کی ادائیگی میں ہم سستی  کا مظاہرہ کرتے ہیں؟ کیوں لوگوں سے جب ان کے ذمے  شرعی حقوق  مانگے جاتے ہیں جیسے خمس و ذکات  تو اسے ادا کرنے میں قیل وقال سے کام لیتے ہیں اور اللہ تعالی پر بھروسہ نہیں کرتے؟

اللہ تعالی کا فرمان ہے: [ثُمَّ نُنَجِّي رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُواْ كَذَلِكَ حَقّاً عَلَيْنَا نُنجِ الْمُؤْمِنِينَ] (يونس: 103)." پھر ہم بچا لیتےہیں اپنے رسولوں کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لاتے ہیں، اسی طرح ہمارا ذمہ ہے کہ ایمان والوں کو بچا لیں۔"

اور ان میں سے کچھ آیات سورہ مبارکہ محمد میں سے ہیں، اور اگر آپ اپنی روح ، فکر اور دل کو بنی نوع انسان کی زندگی کے اس خوشگوار وقت کی طرف منتقل کرسکیں اور یہ تصور کرسکیں کہ آپ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور انکے آس پاس کی اس مومن جماعت میں شامل ہیں جو اس رسالت کے آغاز سے ہی  اس مشکل وقت میں  ان  کے ساتھ تھے اور جب  قریش کے مقابلے میں ان کی تعداد کم تھی اور قریش بہت تکلیف دیتے تھےیہاں تک کہ  جنگ احزاب کے بعد مشرکین دب گئے اور مایوسی کا شکار ہوگئے اور پہل کرنے کی ڈور رسول اللہ (صلى الله عليه وآله) کے ہاتھ آگئی اور فتوحات کا سلسلہ جاری رہا،؛ فتح خیبر سے لے کر فتح  مکہ  اور طائف تک پھر یمن اور پھر پورے جزیرہ  کی فتح تک،آپ تصور کریں کہ آپ وہاں پر موجود ہیں  اور آپ پر یہ عظیم قرآنی خطاب نازل ہوتا ہے،آپ کے رب کی طرف سے جو کہ آپ کے امور کی تدبیر کرتا ہے اور زمین و آسمانوں کا خالق ہے، آپ سے براہ راست گفتگو کرتا ہے:

 [بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ] [الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّهِ أَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ، وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَآمَنُوا بِمَا نُزِّلَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَهُوَ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَأَصْلَحَ بَالَهُمْ، ذَلِكَ بِأَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَأَنَّ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِن رَّبِّهِمْ كَذَلِكَ يَضْرِبُ اللَّهُ لِلنَّاسِ أَمْثَالَهُمْ، فإذا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّى إذا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنّاً بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاء حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ذَلِكَ وَلَوْ يَشَاء اللَّهُ لانتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَكِن لِّيَبْلُوَ بَعْضَكُم بِبَعْضٍ وَالَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَلَن يُضِلَّ أَعْمَالَهُمْ، سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ، وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ، يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ، وَالَّذِينَ كَفَرُوا فَتَعْساً لَّهُمْ وَأَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ، ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَرِهُوا مَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأَحْبَطَ أَعْمَالَهُمْ، أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ دَمَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَلِلْكَافِرِينَ أَمْثَالُهَا، ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَأَنَّ الْكَافِرِينَ لا مَوْلَى لَهُمْ([1])، إِنَّ اللَّهَ يُدْخِلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الأَنْهَارُ وَالَّذِينَ كَفَرُوا يَتَمَتَّعُونَ وَيَأْكُلُونَ كَمَا تَأْكُلُ الأَنْعَامُ وَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ، وَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ هِيَ أَشَدُّ قُوَّةً مِّن قَرْيَتِكَ الَّتِي أَخْرَجَتْكَ أَهْلَكْنَاهُمْ فَلا نَاصِرَ لَهُمْ، أَفَمَن كَانَ عَلَى بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّهِ كَمَن زُيِّنَ لَهُ سُوءُ عَمَلِهِ وَاتَّبَعُوا أَهْوَاءهُمْ] (محمد:1-14)

" وہ لوگ جو منکر ہوئے اور انہوں نے لوگوں کو بھی اللہ کے راستہ سے روکا تو اللہ نے ان کے اعمال برباد کر دیے۔اور وہ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے اور جو کچھ محمد پر نازل کیا گیا اس پر بھی ایمان لائے حالانکہ وہ ان کے رب کی طرف سے برحق بھی ہے، تو اللہ ان کی برائیوں کو مٹا دے گا اور ان کا حال درست کرے گا۔یہ اس لیے کہ جو لوگ منکر ہیں انہوں نے جھوٹ کی پیروی کی اور جو لوگ ایمان لائے انہوں نے اپنے رب کی طرف سے حق کی پیروی کی، اسی طرح اللہ لوگوں کے لیے ان کی مثالیں بیان کرتا ہے۔پس جب تم ان کے مقابل ہو جو کافر ہیں تو ان کی گردنیں مارو، یہاں تک کہ جب تم ان کو خوب مغلوب کرلو تو ان کی مشکیں کس لو، پھر یا تو اس کے بعد احسان کرو یا تاوان لے لو یہاں تک کہ لڑائی والے اپنے ہتھیار ڈال دیں، یہی (حکم) ہے، اور اگر اللہ چاہتا تو ان سے خود ہی بدلہ لے لیتا لیکن وہ تمہارا ایک دوسرے کے ساتھ امتحان کرنا چاہتا ہے، اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے ہیں اللہ ان کے اعمال برباد نہیں کرے گا۔جلدی انہیں راہ دکھائے گا اور ان کا حال درست کر دے گا۔اور انہیں بہشت میں داخل کرے گا جس کی حقیقت انہیں بتا دی ہے۔اے ایمان والو! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جمائے رکھے گا۔اور جو منکر ہیں سو ان کے لیے تباہی ہے اور وہ ان کے اعمال اکارت کر دے گا۔یہ اس لیے کہ انہیں نے ناپسند کیا جو اللہ نے اتارا ہے، سو اس نے ان کے اعمال ضائع کر دیے۔کیا انہوں نے زمین میں سیر نہیں کی کہ وہ دیکھتے ان کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے تھے، اللہ نے انہیں ہلاک کر دیا اور منکروں کے لیے ایسی ہی (سزائیں) ہیں۔یہ اس لیے کہ اللہ ان کا حامی ہے جو ایمان لائے اور کفار کا کوئی بھی حامی نہیں۔بے شک اللہ انہیں داخل کرے گا جو ایمان لائے اور نیک کام کیے بہشتوں میں جن کے نبیچے نہریں بہتی ہوں گی، اور جو کافر ہیں وہ عیش کر رہے ہیں اور اس طرح کھاتے ہیں جس طرح چار پائے کھاتے ہیں اور دوزخ ان کا ٹھکانہ ہے۔اور کتنی ہی بستیاں تھیں جو آپ کی اس بستی سے طاقت میں بڑھ کر تھیں جس کے رہنے والوں نے آپ کو نکال دیا ہے، ہم نے انہیں ہلاک کر دیا تو ان کا کوئی بھی مددگار نہ ہوا۔پس کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل پر ہو وہ اس جیسا ہو سکتا ہے جسے اس کے برے عمل اچھے کر کے دکھائے گئے ہوں اور انہوں نے اپنی ہی خواہشوں کی پیروی کی ہو۔"

[وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم فِي الأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ] (النور: 55).

"اللہ نے ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو تم میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کیے کہ انہیں ضرور ملک کی حکومت عطا کرے گا جیسا کہ ان سے پہلوں کو عطا کی تھی، اور ان کے لیے جس دین کو پسند کیا ہے اسے ضرور مستحکم کر دے گا اور البتہ ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا، بشرطیکہ میری عبادت کرتے رہیں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، اور جو اس کے بعد ناشکری کرے وہی فاسق ہوں گے۔"

اس دوران  میں ، وہ  ان منافقین کی کوششوں سے آگاہ کرتا ہے جو مومنین  کا کفار سے روبرو ہونے کا مذاق اڑاتے ہیں اور ان کے کم امکانات کا مسخرہ کرتے ہیں لیکن اس بات سے غافل ہیں کہ مومنین کی طاقت کا راز ان کا اللہ تعالی سے ارتباط ہے،اللہ تعالی فرماتا ہے: [إِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ غَرَّ هَؤُلاء دِينُهُمْ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللّهِ فإن اللّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ](الأنفال: 49). "اس وقت منافق اور جن کے دلوں میں مرض تھا کہتے تھے کہ انہیں ان کے دین نے مغلوب کر رکھا ہے، اور جو کوئی اللہ پر بھروسہ کرے تو اللہ زبردست حکمت والا ہے۔"

اور اسی  سیاق میں مندرج ہیں :کفار کے ساتھ رو برو ہونے کی فقہ- اللہ تعالی  کی مدد، غلبہ اور زمین کی وراثت کے سارے وعدے، کہ عاقبت انہی کی ہے، اور اللہ تعالی انہی کے ساتھ ہے، اور اللہ تعالی کی طرف سے سکون لے کر فرشتے ان پر نازل ہوتے ہیں، ان سے ڈر اور خوف کا رفع کرنا، ان سے معاملہ کرنا اور ان سے جنت کے بدلے ان کے نفوس کو خریدنا، اس کے ساتھ ہی خداتعالیٰ پر قرض دوگنا کرنا اور اس کے لئے خرچ کرنا۔ یہ مختصر کتاب ہے ان   تمام تفصیلات کی یہاں گنجائش نہیں۔

سب سے بڑی حقیقت جسے قرآن اس مورد میں  ثابت کرتا ہے وہ یہ ہے کہ فتح اور شکست خارجی دشمن  - کفار- کے سامنے  حقیقت میں اپنے داخلی دشمن یعنی نفس امارہ  جو کہ شیطان ہے،کی فتح اور شکست کی فرع ہے،آپ دیکھتے ہو  کہ جب مومنین سے زمین کی خلافت اور اس کی وراثت کی بات ہوتی ہے اور جو کچھ اس میں ہے، تو سب سے پہلی بات اصلاح نفس کی ہوتی ہے اور احکام الیہ کو اپنے نفس پر نافذ کرنے کی ہوتی ہے، اللہ تعالی فرماتا ہے: [وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ، وَنُمَكِّنَ لَهُمْ فِي الأَرْضِ وَنُرِي فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَجُنُودَهُمَا مِنْهُم مَّا كَانُوا يَحْذَرُونَ](القصص: 5 - 6)، "اور ہم چاہتے تھے کہ ان پر احسان کریں جو ملک میں کمزور کیے گئے تھے اور انہیں سردار بنا دیں اور انہیں وارث کریں۔اور انہیں ملک پر قابض کریں اور فرعون اور ہامان اور ان کے لشکروں کو وہ چیز دکھا دیں جس کا وہ خطرہ کرتے تھے۔"

پس پہلے ان کو آئمہ قرار دیا  یعنی ان کی ذات کو پاک کیا  اور اس بات پر زور لگایا کہ کفار پر فتح کی کوئی قیمت نہیں  جب یہ فتح شیطان پر فتح سے متصل نہ ہو اور عمل اللہ تعالی کےلیے خالص نہ ہو، چونکہ اگر عمل اللہ تعالی کی رضا کےلیے نہ ہو تو ان میں اور کفار میں کوئی فرق نہیں ، دونوں کے دونوں اہل دنیا ہیں اور آخرت میں ان کےلیے کوئی نصیب نہیں۔

مثال کے طور پر ، احد کی لڑائی میں مسلمانوں کی شکست اور ان کو جو تکلیف دہ نقصان پہنچا ، اس دوران اللہ سبحانہ  ان سے مخاطب ہوا : [إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْاْ مِنكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُواْ]( آل عمران: 155) "بے شک وہ لوگ جو تم سے پیٹھ پھیر گئے جس دن دونوں فوجیں ملیں سو شیطان نے ان کے گناہ کے سبب سے انہیں بہکا دیا تھا، "

پس ان کی شکست اور ان کا پیٹھ دکھانا یہ سب کچھ ان گناہوں کی وجہ سے تھا جن کا یہ مرتکب ہوچکے تھے،اس کے مقابلے میں اللہ تعالی فرماتا ہے: [إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ]( محمد: 7)،" اگر تم اللہ کی مدد کروگے تو اللہ بھی تمھاری مدد کرے گا٫"

اور اللہ کی مدد اس کی اطاعت کے ساتھ ہوتی ہے ورنہ وہ ہر چیز سے غنی ہے، جو آیت گزر چکی[وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ]،

یہاں پر رسول اللہ (صلى الله عليه واله وسلم) مجاہدین کے ایک گروہ سے جو کہ جنگ سے واپس آرہے تھے، مخاطب ہوئے اور فرمایا: (مرحبا بكم، قضيتم الجهاد الأصغر وبقي عليكم الجهاد الأكبر. قيل: وما هو يا رسول الله؟ قال: جهاد النفس)([2]).

" خوش آمدید ابھی تم جہاد اصغر سے لوٹ رہے ہو ابھی جہاد اکبر باقی ہے تو کہا گیا وہ کیا  ہےیا رسول اللہ ؟ فرمایا : وہ جہاد النفس ہے۔"

 



([1])یہ آیت  مومنین کے رو برو ہونےکے عمومی ڈھانچے کو بیان کرتی ہے کہ ان کا ایک  مولی ہے ان کا ایک مالک ہے جو ان کی دیکھ بھال کرتا ہے اور ان کی پرورش ، خوشی اور کامیابی کا خیال رکھتا ہے اور وہ اللہ تعالی و تبارک ہے جبکہ کفار کا کوئی سرپرست نہیں بلکہ ان کا سرپرست شیطان ہے جو کہ کمزور ہے،جب سامنا ہوتا ہے تو فرار کرجاتا ہے اور ان کو ذلیل کرتا ہے۔ اور جس وقت شیطان نے ان کے اعمال کو ان کی نظروں میں خوشنما کر دیا اور کہا کہ آج کے دن لوگوں میں سے کوئی بھی تم پر غالب نہ ہوگا اور میں تمہارا حمایتی ہوں، پھر جب دونوں فوجیں سامنے ہوئیں تو وہ اپنی ایڑیوں پر الٹا پھرا اور کہا میں تمہارے ساتھ نہیں ہوں میں ایسی چیز دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے میں اللہ سے ڈرتا ہوں، اور اللہ سخت عذاب کرنے والا ہے۔

([2]) الكافي: 5/12 ، باب: وجوه الجهاد.

طاغوت اور کفار سے روبرو ہونے کی فقہ

یہ فقہ زندگی کے ہر پہلو کو شامل ہے۔کفار  اور طاغوت سے ارتباط برقرار رکھنے کے متعلق جسے کفار سےروبرو ہونے کی فقہ کابھی نام دیا جاسکتا ہے قرآن  کہتا ہے؟ اللہ تعالی کا فرمان ہے: [وَلاَ تَهِنُواْ فِي ابْتِغَاء الْقَوْمِ إِن تَكُونُواْ تَأْلَمُونَ فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمونَ وَتَرْجُونَ مِنَ اللّهِ مَا لاَ يَرْجُونَ وَكَانَ اللّهُ عَلِيمًا حَكِيماً] (النساء: 104)، "اور ان (دشمن) لوگوں کا تعاقب کرنے سے ہمت نہ ہارو، اگر تم تکلیف اٹھاتے ہو تو وہ بھی تمہاری طرح تکلیف اٹھاتے ہیں، حالانکہ تم اللہ سے جس چیز کے امیدوار ہو وہ نہیں ہیں، اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے۔"

جہاں نقصان دونوں طرف برابر ہے تو ان کی ملاقات سے فرار کیوں؟فرق یہ ہے کہ آپ  آخرت میں اللہ کی طرف جو کچھ ملنے والا ہے اس سے پر امید ہو اور اس میں کوئی نقصان نہیں  لیکن ان کےلیے اللہ کے پاس سوائے دردناک عذاب کے کچھ نہیں جس کی وہ امید رکھیں۔

اللہ تعالی کا قول ہے: [وَظَنُّوا أَنَّهُم مَّانِعَتُهُمْ حُصُونُهُم مِّنَ اللَّهِ فَأَتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوا وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ يُخْرِبُونَ بُيُوتَهُم بِأَيْدِيهِمْ وَأَيْدِي الْمُؤْمِنِينَ فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الأَبْصَارِ] (الحشر: 2). "حالانکہ تمہیں ان کے نکلنے کا گمان بھی نہ تھا، اور وہ یہی سمجھ رہے تھے کہ ان کے قلعے انہیں اللہ سے بچا لیں گے پھر اللہ کا عذاب ان پر وہاں سے آیا کہ جہاں کا ان کو گمان بھی نہ تھا، اور ان کے دلوں میں ہیبت ڈال دی، کہ اپنے گھروں کو خود اپنے اور مسلمانوں کے ہاتھوں سے اجاڑنے لگے، پس اے آنکھوں والو عبرت حاصل کرو۔"

اللہ تعالی کا فرمان ہے: [مَا كَانَ لأَهْلِ الْمَدِينَةِ وَمَنْ حَوْلَهُم مِّنَ الأَعْرَابِ أَن يَتَخَلَّفُواْ عَن رَّسُولِ اللّهِ وَلاَ يَرْغَبُواْ بِأَنفُسِهِمْ عَن نَّفْسِهِ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ لاَ يُصِيبُهُمْ ظَمَأٌ وَلاَ نَصَبٌ وَلاَ مَخْمَصَةٌ فِي سَبِيلِ اللّهِ وَلاَ يَطَؤُونَ مَوْطِئًا يَغِيظُ الْكُفَّارَ وَلاَ يَنَالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَّيْلاً إِلاَّ كُتِبَ لَهُم بِهِ عَمَلٌ صَالِحٌ إِنَّ اللّهَ لاَ يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ، وَلاَ يُنفِقُونَ نَفَقَةً صَغِيرَةً وَلاَ كَبِيرَةً وَلاَ يَقْطَعُونَ وَادِياً إِلاَّ كُتِبَ لَهُمْ لِيَجْزِيَهُمُ اللّهُ أَحْسَنَ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ] (التوبة: 120 - 121)

"مدینہ والوں اور ان کے آس پاس دیہات کے رہنے والوں کےلیے یہ مناسب نہیں تھا کہ اللہ کے رسول سے پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ کہ اپنی جانوں کو اس کی جان سے زیادہ عزیز سمجھیں، یہ اس لیے ہے کہ انہیں اللہ کی راہ میں جو تکلیف پہنچتی ہے پیاس کی یا ماندگی کی یا بھوک کی یا وہ ایسی جگہ چلتے ہیں جو کافروں کے غصہ کو بھڑکائے اور یا کافروں سے کوئی چیز چھین لیتے ہیں ہر بات پر ان کے لیے عمل صالح لکھا جاتا ہے، بے شک اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔اور جو وہ تھوڑا یا بہت خرچ کرتے ہیں یا کوئی میدان طے کرتے ہیں تو یہ سب کچھ ان کے لیے لکھ لیا جاتا ہے تاکہ اللہ انہیں ان کے اعمال کا اچھا بدلہ دے۔"

پھر کیوں اللہ تعالی نے جو چیز ہم سے مانگی ہے؛ کوشش،مال وغیرہ اس کی ادائیگی میں ہم سستی  کا مظاہرہ کرتے ہیں؟ کیوں لوگوں سے جب ان کے ذمے  شرعی حقوق  مانگے جاتے ہیں جیسے خمس و ذکات  تو اسے ادا کرنے میں قیل وقال سے کام لیتے ہیں اور اللہ تعالی پر بھروسہ نہیں کرتے؟

اللہ تعالی کا فرمان ہے: [ثُمَّ نُنَجِّي رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُواْ كَذَلِكَ حَقّاً عَلَيْنَا نُنجِ الْمُؤْمِنِينَ] (يونس: 103)." پھر ہم بچا لیتےہیں اپنے رسولوں کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لاتے ہیں، اسی طرح ہمارا ذمہ ہے کہ ایمان والوں کو بچا لیں۔"

اور ان میں سے کچھ آیات سورہ مبارکہ محمد میں سے ہیں، اور اگر آپ اپنی روح ، فکر اور دل کو بنی نوع انسان کی زندگی کے اس خوشگوار وقت کی طرف منتقل کرسکیں اور یہ تصور کرسکیں کہ آپ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور انکے آس پاس کی اس مومن جماعت میں شامل ہیں جو اس رسالت کے آغاز سے ہی  اس مشکل وقت میں  ان  کے ساتھ تھے اور جب  قریش کے مقابلے میں ان کی تعداد کم تھی اور قریش بہت تکلیف دیتے تھےیہاں تک کہ  جنگ احزاب کے بعد مشرکین دب گئے اور مایوسی کا شکار ہوگئے اور پہل کرنے کی ڈور رسول اللہ (صلى الله عليه وآله) کے ہاتھ آگئی اور فتوحات کا سلسلہ جاری رہا،؛ فتح خیبر سے لے کر فتح  مکہ  اور طائف تک پھر یمن اور پھر پورے جزیرہ  کی فتح تک،آپ تصور کریں کہ آپ وہاں پر موجود ہیں  اور آپ پر یہ عظیم قرآنی خطاب نازل ہوتا ہے،آپ کے رب کی طرف سے جو کہ آپ کے امور کی تدبیر کرتا ہے اور زمین و آسمانوں کا خالق ہے، آپ سے براہ راست گفتگو کرتا ہے:

 [بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ] [الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّهِ أَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ، وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَآمَنُوا بِمَا نُزِّلَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَهُوَ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَأَصْلَحَ بَالَهُمْ، ذَلِكَ بِأَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَأَنَّ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِن رَّبِّهِمْ كَذَلِكَ يَضْرِبُ اللَّهُ لِلنَّاسِ أَمْثَالَهُمْ، فإذا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّى إذا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنّاً بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاء حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ذَلِكَ وَلَوْ يَشَاء اللَّهُ لانتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَكِن لِّيَبْلُوَ بَعْضَكُم بِبَعْضٍ وَالَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَلَن يُضِلَّ أَعْمَالَهُمْ، سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ، وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ، يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ، وَالَّذِينَ كَفَرُوا فَتَعْساً لَّهُمْ وَأَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ، ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَرِهُوا مَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأَحْبَطَ أَعْمَالَهُمْ، أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ دَمَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَلِلْكَافِرِينَ أَمْثَالُهَا، ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَأَنَّ الْكَافِرِينَ لا مَوْلَى لَهُمْ([1])، إِنَّ اللَّهَ يُدْخِلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الأَنْهَارُ وَالَّذِينَ كَفَرُوا يَتَمَتَّعُونَ وَيَأْكُلُونَ كَمَا تَأْكُلُ الأَنْعَامُ وَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ، وَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ هِيَ أَشَدُّ قُوَّةً مِّن قَرْيَتِكَ الَّتِي أَخْرَجَتْكَ أَهْلَكْنَاهُمْ فَلا نَاصِرَ لَهُمْ، أَفَمَن كَانَ عَلَى بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّهِ كَمَن زُيِّنَ لَهُ سُوءُ عَمَلِهِ وَاتَّبَعُوا أَهْوَاءهُمْ] (محمد:1-14)

" وہ لوگ جو منکر ہوئے اور انہوں نے لوگوں کو بھی اللہ کے راستہ سے روکا تو اللہ نے ان کے اعمال برباد کر دیے۔اور وہ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے اور جو کچھ محمد پر نازل کیا گیا اس پر بھی ایمان لائے حالانکہ وہ ان کے رب کی طرف سے برحق بھی ہے، تو اللہ ان کی برائیوں کو مٹا دے گا اور ان کا حال درست کرے گا۔یہ اس لیے کہ جو لوگ منکر ہیں انہوں نے جھوٹ کی پیروی کی اور جو لوگ ایمان لائے انہوں نے اپنے رب کی طرف سے حق کی پیروی کی، اسی طرح اللہ لوگوں کے لیے ان کی مثالیں بیان کرتا ہے۔پس جب تم ان کے مقابل ہو جو کافر ہیں تو ان کی گردنیں مارو، یہاں تک کہ جب تم ان کو خوب مغلوب کرلو تو ان کی مشکیں کس لو، پھر یا تو اس کے بعد احسان کرو یا تاوان لے لو یہاں تک کہ لڑائی والے اپنے ہتھیار ڈال دیں، یہی (حکم) ہے، اور اگر اللہ چاہتا تو ان سے خود ہی بدلہ لے لیتا لیکن وہ تمہارا ایک دوسرے کے ساتھ امتحان کرنا چاہتا ہے، اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے ہیں اللہ ان کے اعمال برباد نہیں کرے گا۔جلدی انہیں راہ دکھائے گا اور ان کا حال درست کر دے گا۔اور انہیں بہشت میں داخل کرے گا جس کی حقیقت انہیں بتا دی ہے۔اے ایمان والو! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جمائے رکھے گا۔اور جو منکر ہیں سو ان کے لیے تباہی ہے اور وہ ان کے اعمال اکارت کر دے گا۔یہ اس لیے کہ انہیں نے ناپسند کیا جو اللہ نے اتارا ہے، سو اس نے ان کے اعمال ضائع کر دیے۔کیا انہوں نے زمین میں سیر نہیں کی کہ وہ دیکھتے ان کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے تھے، اللہ نے انہیں ہلاک کر دیا اور منکروں کے لیے ایسی ہی (سزائیں) ہیں۔یہ اس لیے کہ اللہ ان کا حامی ہے جو ایمان لائے اور کفار کا کوئی بھی حامی نہیں۔بے شک اللہ انہیں داخل کرے گا جو ایمان لائے اور نیک کام کیے بہشتوں میں جن کے نبیچے نہریں بہتی ہوں گی، اور جو کافر ہیں وہ عیش کر رہے ہیں اور اس طرح کھاتے ہیں جس طرح چار پائے کھاتے ہیں اور دوزخ ان کا ٹھکانہ ہے۔اور کتنی ہی بستیاں تھیں جو آپ کی اس بستی سے طاقت میں بڑھ کر تھیں جس کے رہنے والوں نے آپ کو نکال دیا ہے، ہم نے انہیں ہلاک کر دیا تو ان کا کوئی بھی مددگار نہ ہوا۔پس کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل پر ہو وہ اس جیسا ہو سکتا ہے جسے اس کے برے عمل اچھے کر کے دکھائے گئے ہوں اور انہوں نے اپنی ہی خواہشوں کی پیروی کی ہو۔"

[وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم فِي الأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ] (النور: 55).

"اللہ نے ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو تم میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کیے کہ انہیں ضرور ملک کی حکومت عطا کرے گا جیسا کہ ان سے پہلوں کو عطا کی تھی، اور ان کے لیے جس دین کو پسند کیا ہے اسے ضرور مستحکم کر دے گا اور البتہ ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا، بشرطیکہ میری عبادت کرتے رہیں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، اور جو اس کے بعد ناشکری کرے وہی فاسق ہوں گے۔"

اس دوران  میں ، وہ  ان منافقین کی کوششوں سے آگاہ کرتا ہے جو مومنین  کا کفار سے روبرو ہونے کا مذاق اڑاتے ہیں اور ان کے کم امکانات کا مسخرہ کرتے ہیں لیکن اس بات سے غافل ہیں کہ مومنین کی طاقت کا راز ان کا اللہ تعالی سے ارتباط ہے،اللہ تعالی فرماتا ہے: [إِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ غَرَّ هَؤُلاء دِينُهُمْ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللّهِ فإن اللّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ](الأنفال: 49). "اس وقت منافق اور جن کے دلوں میں مرض تھا کہتے تھے کہ انہیں ان کے دین نے مغلوب کر رکھا ہے، اور جو کوئی اللہ پر بھروسہ کرے تو اللہ زبردست حکمت والا ہے۔"

اور اسی  سیاق میں مندرج ہیں :کفار کے ساتھ رو برو ہونے کی فقہ- اللہ تعالی  کی مدد، غلبہ اور زمین کی وراثت کے سارے وعدے، کہ عاقبت انہی کی ہے، اور اللہ تعالی انہی کے ساتھ ہے، اور اللہ تعالی کی طرف سے سکون لے کر فرشتے ان پر نازل ہوتے ہیں، ان سے ڈر اور خوف کا رفع کرنا، ان سے معاملہ کرنا اور ان سے جنت کے بدلے ان کے نفوس کو خریدنا، اس کے ساتھ ہی خداتعالیٰ پر قرض دوگنا کرنا اور اس کے لئے خرچ کرنا۔ یہ مختصر کتاب ہے ان   تمام تفصیلات کی یہاں گنجائش نہیں۔

سب سے بڑی حقیقت جسے قرآن اس مورد میں  ثابت کرتا ہے وہ یہ ہے کہ فتح اور شکست خارجی دشمن  - کفار- کے سامنے  حقیقت میں اپنے داخلی دشمن یعنی نفس امارہ  جو کہ شیطان ہے،کی فتح اور شکست کی فرع ہے،آپ دیکھتے ہو  کہ جب مومنین سے زمین کی خلافت اور اس کی وراثت کی بات ہوتی ہے اور جو کچھ اس میں ہے، تو سب سے پہلی بات اصلاح نفس کی ہوتی ہے اور احکام الیہ کو اپنے نفس پر نافذ کرنے کی ہوتی ہے، اللہ تعالی فرماتا ہے: [وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ، وَنُمَكِّنَ لَهُمْ فِي الأَرْضِ وَنُرِي فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَجُنُودَهُمَا مِنْهُم مَّا كَانُوا يَحْذَرُونَ](القصص: 5 - 6)، "اور ہم چاہتے تھے کہ ان پر احسان کریں جو ملک میں کمزور کیے گئے تھے اور انہیں سردار بنا دیں اور انہیں وارث کریں۔اور انہیں ملک پر قابض کریں اور فرعون اور ہامان اور ان کے لشکروں کو وہ چیز دکھا دیں جس کا وہ خطرہ کرتے تھے۔"

پس پہلے ان کو آئمہ قرار دیا  یعنی ان کی ذات کو پاک کیا  اور اس بات پر زور لگایا کہ کفار پر فتح کی کوئی قیمت نہیں  جب یہ فتح شیطان پر فتح سے متصل نہ ہو اور عمل اللہ تعالی کےلیے خالص نہ ہو، چونکہ اگر عمل اللہ تعالی کی رضا کےلیے نہ ہو تو ان میں اور کفار میں کوئی فرق نہیں ، دونوں کے دونوں اہل دنیا ہیں اور آخرت میں ان کےلیے کوئی نصیب نہیں۔

مثال کے طور پر ، احد کی لڑائی میں مسلمانوں کی شکست اور ان کو جو تکلیف دہ نقصان پہنچا ، اس دوران اللہ سبحانہ  ان سے مخاطب ہوا : [إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْاْ مِنكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُواْ]( آل عمران: 155) "بے شک وہ لوگ جو تم سے پیٹھ پھیر گئے جس دن دونوں فوجیں ملیں سو شیطان نے ان کے گناہ کے سبب سے انہیں بہکا دیا تھا، "

پس ان کی شکست اور ان کا پیٹھ دکھانا یہ سب کچھ ان گناہوں کی وجہ سے تھا جن کا یہ مرتکب ہوچکے تھے،اس کے مقابلے میں اللہ تعالی فرماتا ہے: [إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ]( محمد: 7)،" اگر تم اللہ کی مدد کروگے تو اللہ بھی تمھاری مدد کرے گا٫"

اور اللہ کی مدد اس کی اطاعت کے ساتھ ہوتی ہے ورنہ وہ ہر چیز سے غنی ہے، جو آیت گزر چکی[وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ]،

یہاں پر رسول اللہ (صلى الله عليه واله وسلم) مجاہدین کے ایک گروہ سے جو کہ جنگ سے واپس آرہے تھے، مخاطب ہوئے اور فرمایا: (مرحبا بكم، قضيتم الجهاد الأصغر وبقي عليكم الجهاد الأكبر. قيل: وما هو يا رسول الله؟ قال: جهاد النفس)([2]).

" خوش آمدید ابھی تم جہاد اصغر سے لوٹ رہے ہو ابھی جہاد اکبر باقی ہے تو کہا گیا وہ کیا  ہےیا رسول اللہ ؟ فرمایا : وہ جہاد النفس ہے۔"

 



([1])یہ آیت  مومنین کے رو برو ہونےکے عمومی ڈھانچے کو بیان کرتی ہے کہ ان کا ایک  مولی ہے ان کا ایک مالک ہے جو ان کی دیکھ بھال کرتا ہے اور ان کی پرورش ، خوشی اور کامیابی کا خیال رکھتا ہے اور وہ اللہ تعالی و تبارک ہے جبکہ کفار کا کوئی سرپرست نہیں بلکہ ان کا سرپرست شیطان ہے جو کہ کمزور ہے،جب سامنا ہوتا ہے تو فرار کرجاتا ہے اور ان کو ذلیل کرتا ہے۔ اور جس وقت شیطان نے ان کے اعمال کو ان کی نظروں میں خوشنما کر دیا اور کہا کہ آج کے دن لوگوں میں سے کوئی بھی تم پر غالب نہ ہوگا اور میں تمہارا حمایتی ہوں، پھر جب دونوں فوجیں سامنے ہوئیں تو وہ اپنی ایڑیوں پر الٹا پھرا اور کہا میں تمہارے ساتھ نہیں ہوں میں ایسی چیز دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے میں اللہ سے ڈرتا ہوں، اور اللہ سخت عذاب کرنے والا ہے۔

([2]) الكافي: 5/12 ، باب: وجوه الجهاد.

طاغوت اور کفار سے روبرو ہونے کی فقہ

یہ فقہ زندگی کے ہر پہلو کو شامل ہے۔کفار  اور طاغوت سے ارتباط برقرار رکھنے کے متعلق جسے کفار سےروبرو ہونے کی فقہ کابھی نام دیا جاسکتا ہے قرآن  کہتا ہے؟ اللہ تعالی کا فرمان ہے: [وَلاَ تَهِنُواْ فِي ابْتِغَاء الْقَوْمِ إِن تَكُونُواْ تَأْلَمُونَ فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمونَ وَتَرْجُونَ مِنَ اللّهِ مَا لاَ يَرْجُونَ وَكَانَ اللّهُ عَلِيمًا حَكِيماً] (النساء: 104)، "اور ان (دشمن) لوگوں کا تعاقب کرنے سے ہمت نہ ہارو، اگر تم تکلیف اٹھاتے ہو تو وہ بھی تمہاری طرح تکلیف اٹھاتے ہیں، حالانکہ تم اللہ سے جس چیز کے امیدوار ہو وہ نہیں ہیں، اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے۔"

جہاں نقصان دونوں طرف برابر ہے تو ان کی ملاقات سے فرار کیوں؟فرق یہ ہے کہ آپ  آخرت میں اللہ کی طرف جو کچھ ملنے والا ہے اس سے پر امید ہو اور اس میں کوئی نقصان نہیں  لیکن ان کےلیے اللہ کے پاس سوائے دردناک عذاب کے کچھ نہیں جس کی وہ امید رکھیں۔

اللہ تعالی کا قول ہے: [وَظَنُّوا أَنَّهُم مَّانِعَتُهُمْ حُصُونُهُم مِّنَ اللَّهِ فَأَتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوا وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ يُخْرِبُونَ بُيُوتَهُم بِأَيْدِيهِمْ وَأَيْدِي الْمُؤْمِنِينَ فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الأَبْصَارِ] (الحشر: 2). "حالانکہ تمہیں ان کے نکلنے کا گمان بھی نہ تھا، اور وہ یہی سمجھ رہے تھے کہ ان کے قلعے انہیں اللہ سے بچا لیں گے پھر اللہ کا عذاب ان پر وہاں سے آیا کہ جہاں کا ان کو گمان بھی نہ تھا، اور ان کے دلوں میں ہیبت ڈال دی، کہ اپنے گھروں کو خود اپنے اور مسلمانوں کے ہاتھوں سے اجاڑنے لگے، پس اے آنکھوں والو عبرت حاصل کرو۔"

اللہ تعالی کا فرمان ہے: [مَا كَانَ لأَهْلِ الْمَدِينَةِ وَمَنْ حَوْلَهُم مِّنَ الأَعْرَابِ أَن يَتَخَلَّفُواْ عَن رَّسُولِ اللّهِ وَلاَ يَرْغَبُواْ بِأَنفُسِهِمْ عَن نَّفْسِهِ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ لاَ يُصِيبُهُمْ ظَمَأٌ وَلاَ نَصَبٌ وَلاَ مَخْمَصَةٌ فِي سَبِيلِ اللّهِ وَلاَ يَطَؤُونَ مَوْطِئًا يَغِيظُ الْكُفَّارَ وَلاَ يَنَالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَّيْلاً إِلاَّ كُتِبَ لَهُم بِهِ عَمَلٌ صَالِحٌ إِنَّ اللّهَ لاَ يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ، وَلاَ يُنفِقُونَ نَفَقَةً صَغِيرَةً وَلاَ كَبِيرَةً وَلاَ يَقْطَعُونَ وَادِياً إِلاَّ كُتِبَ لَهُمْ لِيَجْزِيَهُمُ اللّهُ أَحْسَنَ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ] (التوبة: 120 - 121)

"مدینہ والوں اور ان کے آس پاس دیہات کے رہنے والوں کےلیے یہ مناسب نہیں تھا کہ اللہ کے رسول سے پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ کہ اپنی جانوں کو اس کی جان سے زیادہ عزیز سمجھیں، یہ اس لیے ہے کہ انہیں اللہ کی راہ میں جو تکلیف پہنچتی ہے پیاس کی یا ماندگی کی یا بھوک کی یا وہ ایسی جگہ چلتے ہیں جو کافروں کے غصہ کو بھڑکائے اور یا کافروں سے کوئی چیز چھین لیتے ہیں ہر بات پر ان کے لیے عمل صالح لکھا جاتا ہے، بے شک اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔اور جو وہ تھوڑا یا بہت خرچ کرتے ہیں یا کوئی میدان طے کرتے ہیں تو یہ سب کچھ ان کے لیے لکھ لیا جاتا ہے تاکہ اللہ انہیں ان کے اعمال کا اچھا بدلہ دے۔"

پھر کیوں اللہ تعالی نے جو چیز ہم سے مانگی ہے؛ کوشش،مال وغیرہ اس کی ادائیگی میں ہم سستی  کا مظاہرہ کرتے ہیں؟ کیوں لوگوں سے جب ان کے ذمے  شرعی حقوق  مانگے جاتے ہیں جیسے خمس و ذکات  تو اسے ادا کرنے میں قیل وقال سے کام لیتے ہیں اور اللہ تعالی پر بھروسہ نہیں کرتے؟

اللہ تعالی کا فرمان ہے: [ثُمَّ نُنَجِّي رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُواْ كَذَلِكَ حَقّاً عَلَيْنَا نُنجِ الْمُؤْمِنِينَ] (يونس: 103)." پھر ہم بچا لیتےہیں اپنے رسولوں کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لاتے ہیں، اسی طرح ہمارا ذمہ ہے کہ ایمان والوں کو بچا لیں۔"

اور ان میں سے کچھ آیات سورہ مبارکہ محمد میں سے ہیں، اور اگر آپ اپنی روح ، فکر اور دل کو بنی نوع انسان کی زندگی کے اس خوشگوار وقت کی طرف منتقل کرسکیں اور یہ تصور کرسکیں کہ آپ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور انکے آس پاس کی اس مومن جماعت میں شامل ہیں جو اس رسالت کے آغاز سے ہی  اس مشکل وقت میں  ان  کے ساتھ تھے اور جب  قریش کے مقابلے میں ان کی تعداد کم تھی اور قریش بہت تکلیف دیتے تھےیہاں تک کہ  جنگ احزاب کے بعد مشرکین دب گئے اور مایوسی کا شکار ہوگئے اور پہل کرنے کی ڈور رسول اللہ (صلى الله عليه وآله) کے ہاتھ آگئی اور فتوحات کا سلسلہ جاری رہا،؛ فتح خیبر سے لے کر فتح  مکہ  اور طائف تک پھر یمن اور پھر پورے جزیرہ  کی فتح تک،آپ تصور کریں کہ آپ وہاں پر موجود ہیں  اور آپ پر یہ عظیم قرآنی خطاب نازل ہوتا ہے،آپ کے رب کی طرف سے جو کہ آپ کے امور کی تدبیر کرتا ہے اور زمین و آسمانوں کا خالق ہے، آپ سے براہ راست گفتگو کرتا ہے:

 [بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ] [الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّهِ أَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ، وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَآمَنُوا بِمَا نُزِّلَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَهُوَ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَأَصْلَحَ بَالَهُمْ، ذَلِكَ بِأَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَأَنَّ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِن رَّبِّهِمْ كَذَلِكَ يَضْرِبُ اللَّهُ لِلنَّاسِ أَمْثَالَهُمْ، فإذا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّى إذا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنّاً بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاء حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ذَلِكَ وَلَوْ يَشَاء اللَّهُ لانتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَكِن لِّيَبْلُوَ بَعْضَكُم بِبَعْضٍ وَالَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَلَن يُضِلَّ أَعْمَالَهُمْ، سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ، وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ، يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ، وَالَّذِينَ كَفَرُوا فَتَعْساً لَّهُمْ وَأَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ، ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَرِهُوا مَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأَحْبَطَ أَعْمَالَهُمْ، أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ دَمَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَلِلْكَافِرِينَ أَمْثَالُهَا، ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَأَنَّ الْكَافِرِينَ لا مَوْلَى لَهُمْ([1])، إِنَّ اللَّهَ يُدْخِلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الأَنْهَارُ وَالَّذِينَ كَفَرُوا يَتَمَتَّعُونَ وَيَأْكُلُونَ كَمَا تَأْكُلُ الأَنْعَامُ وَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ، وَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ هِيَ أَشَدُّ قُوَّةً مِّن قَرْيَتِكَ الَّتِي أَخْرَجَتْكَ أَهْلَكْنَاهُمْ فَلا نَاصِرَ لَهُمْ، أَفَمَن كَانَ عَلَى بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّهِ كَمَن زُيِّنَ لَهُ سُوءُ عَمَلِهِ وَاتَّبَعُوا أَهْوَاءهُمْ] (محمد:1-14)

" وہ لوگ جو منکر ہوئے اور انہوں نے لوگوں کو بھی اللہ کے راستہ سے روکا تو اللہ نے ان کے اعمال برباد کر دیے۔اور وہ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے اور جو کچھ محمد پر نازل کیا گیا اس پر بھی ایمان لائے حالانکہ وہ ان کے رب کی طرف سے برحق بھی ہے، تو اللہ ان کی برائیوں کو مٹا دے گا اور ان کا حال درست کرے گا۔یہ اس لیے کہ جو لوگ منکر ہیں انہوں نے جھوٹ کی پیروی کی اور جو لوگ ایمان لائے انہوں نے اپنے رب کی طرف سے حق کی پیروی کی، اسی طرح اللہ لوگوں کے لیے ان کی مثالیں بیان کرتا ہے۔پس جب تم ان کے مقابل ہو جو کافر ہیں تو ان کی گردنیں مارو، یہاں تک کہ جب تم ان کو خوب مغلوب کرلو تو ان کی مشکیں کس لو، پھر یا تو اس کے بعد احسان کرو یا تاوان لے لو یہاں تک کہ لڑائی والے اپنے ہتھیار ڈال دیں، یہی (حکم) ہے، اور اگر اللہ چاہتا تو ان سے خود ہی بدلہ لے لیتا لیکن وہ تمہارا ایک دوسرے کے ساتھ امتحان کرنا چاہتا ہے، اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے ہیں اللہ ان کے اعمال برباد نہیں کرے گا۔جلدی انہیں راہ دکھائے گا اور ان کا حال درست کر دے گا۔اور انہیں بہشت میں داخل کرے گا جس کی حقیقت انہیں بتا دی ہے۔اے ایمان والو! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جمائے رکھے گا۔اور جو منکر ہیں سو ان کے لیے تباہی ہے اور وہ ان کے اعمال اکارت کر دے گا۔یہ اس لیے کہ انہیں نے ناپسند کیا جو اللہ نے اتارا ہے، سو اس نے ان کے اعمال ضائع کر دیے۔کیا انہوں نے زمین میں سیر نہیں کی کہ وہ دیکھتے ان کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے تھے، اللہ نے انہیں ہلاک کر دیا اور منکروں کے لیے ایسی ہی (سزائیں) ہیں۔یہ اس لیے کہ اللہ ان کا حامی ہے جو ایمان لائے اور کفار کا کوئی بھی حامی نہیں۔بے شک اللہ انہیں داخل کرے گا جو ایمان لائے اور نیک کام کیے بہشتوں میں جن کے نبیچے نہریں بہتی ہوں گی، اور جو کافر ہیں وہ عیش کر رہے ہیں اور اس طرح کھاتے ہیں جس طرح چار پائے کھاتے ہیں اور دوزخ ان کا ٹھکانہ ہے۔اور کتنی ہی بستیاں تھیں جو آپ کی اس بستی سے طاقت میں بڑھ کر تھیں جس کے رہنے والوں نے آپ کو نکال دیا ہے، ہم نے انہیں ہلاک کر دیا تو ان کا کوئی بھی مددگار نہ ہوا۔پس کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل پر ہو وہ اس جیسا ہو سکتا ہے جسے اس کے برے عمل اچھے کر کے دکھائے گئے ہوں اور انہوں نے اپنی ہی خواہشوں کی پیروی کی ہو۔"

[وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم فِي الأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ] (النور: 55).

"اللہ نے ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو تم میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کیے کہ انہیں ضرور ملک کی حکومت عطا کرے گا جیسا کہ ان سے پہلوں کو عطا کی تھی، اور ان کے لیے جس دین کو پسند کیا ہے اسے ضرور مستحکم کر دے گا اور البتہ ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا، بشرطیکہ میری عبادت کرتے رہیں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، اور جو اس کے بعد ناشکری کرے وہی فاسق ہوں گے۔"

اس دوران  میں ، وہ  ان منافقین کی کوششوں سے آگاہ کرتا ہے جو مومنین  کا کفار سے روبرو ہونے کا مذاق اڑاتے ہیں اور ان کے کم امکانات کا مسخرہ کرتے ہیں لیکن اس بات سے غافل ہیں کہ مومنین کی طاقت کا راز ان کا اللہ تعالی سے ارتباط ہے،اللہ تعالی فرماتا ہے: [إِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ غَرَّ هَؤُلاء دِينُهُمْ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللّهِ فإن اللّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ](الأنفال: 49). "اس وقت منافق اور جن کے دلوں میں مرض تھا کہتے تھے کہ انہیں ان کے دین نے مغلوب کر رکھا ہے، اور جو کوئی اللہ پر بھروسہ کرے تو اللہ زبردست حکمت والا ہے۔"

اور اسی  سیاق میں مندرج ہیں :کفار کے ساتھ رو برو ہونے کی فقہ- اللہ تعالی  کی مدد، غلبہ اور زمین کی وراثت کے سارے وعدے، کہ عاقبت انہی کی ہے، اور اللہ تعالی انہی کے ساتھ ہے، اور اللہ تعالی کی طرف سے سکون لے کر فرشتے ان پر نازل ہوتے ہیں، ان سے ڈر اور خوف کا رفع کرنا، ان سے معاملہ کرنا اور ان سے جنت کے بدلے ان کے نفوس کو خریدنا، اس کے ساتھ ہی خداتعالیٰ پر قرض دوگنا کرنا اور اس کے لئے خرچ کرنا۔ یہ مختصر کتاب ہے ان   تمام تفصیلات کی یہاں گنجائش نہیں۔

سب سے بڑی حقیقت جسے قرآن اس مورد میں  ثابت کرتا ہے وہ یہ ہے کہ فتح اور شکست خارجی دشمن  - کفار- کے سامنے  حقیقت میں اپنے داخلی دشمن یعنی نفس امارہ  جو کہ شیطان ہے،کی فتح اور شکست کی فرع ہے،آپ دیکھتے ہو  کہ جب مومنین سے زمین کی خلافت اور اس کی وراثت کی بات ہوتی ہے اور جو کچھ اس میں ہے، تو سب سے پہلی بات اصلاح نفس کی ہوتی ہے اور احکام الیہ کو اپنے نفس پر نافذ کرنے کی ہوتی ہے، اللہ تعالی فرماتا ہے: [وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ، وَنُمَكِّنَ لَهُمْ فِي الأَرْضِ وَنُرِي فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَجُنُودَهُمَا مِنْهُم مَّا كَانُوا يَحْذَرُونَ](القصص: 5 - 6)، "اور ہم چاہتے تھے کہ ان پر احسان کریں جو ملک میں کمزور کیے گئے تھے اور انہیں سردار بنا دیں اور انہیں وارث کریں۔اور انہیں ملک پر قابض کریں اور فرعون اور ہامان اور ان کے لشکروں کو وہ چیز دکھا دیں جس کا وہ خطرہ کرتے تھے۔"

پس پہلے ان کو آئمہ قرار دیا  یعنی ان کی ذات کو پاک کیا  اور اس بات پر زور لگایا کہ کفار پر فتح کی کوئی قیمت نہیں  جب یہ فتح شیطان پر فتح سے متصل نہ ہو اور عمل اللہ تعالی کےلیے خالص نہ ہو، چونکہ اگر عمل اللہ تعالی کی رضا کےلیے نہ ہو تو ان میں اور کفار میں کوئی فرق نہیں ، دونوں کے دونوں اہل دنیا ہیں اور آخرت میں ان کےلیے کوئی نصیب نہیں۔

مثال کے طور پر ، احد کی لڑائی میں مسلمانوں کی شکست اور ان کو جو تکلیف دہ نقصان پہنچا ، اس دوران اللہ سبحانہ  ان سے مخاطب ہوا : [إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْاْ مِنكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُواْ]( آل عمران: 155) "بے شک وہ لوگ جو تم سے پیٹھ پھیر گئے جس دن دونوں فوجیں ملیں سو شیطان نے ان کے گناہ کے سبب سے انہیں بہکا دیا تھا، "

پس ان کی شکست اور ان کا پیٹھ دکھانا یہ سب کچھ ان گناہوں کی وجہ سے تھا جن کا یہ مرتکب ہوچکے تھے،اس کے مقابلے میں اللہ تعالی فرماتا ہے: [إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ]( محمد: 7)،" اگر تم اللہ کی مدد کروگے تو اللہ بھی تمھاری مدد کرے گا٫"

اور اللہ کی مدد اس کی اطاعت کے ساتھ ہوتی ہے ورنہ وہ ہر چیز سے غنی ہے، جو آیت گزر چکی[وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ]،

یہاں پر رسول اللہ (صلى الله عليه واله وسلم) مجاہدین کے ایک گروہ سے جو کہ جنگ سے واپس آرہے تھے، مخاطب ہوئے اور فرمایا: (مرحبا بكم، قضيتم الجهاد الأصغر وبقي عليكم الجهاد الأكبر. قيل: وما هو يا رسول الله؟ قال: جهاد النفس)([2]).

" خوش آمدید ابھی تم جہاد اصغر سے لوٹ رہے ہو ابھی جہاد اکبر باقی ہے تو کہا گیا وہ کیا  ہےیا رسول اللہ ؟ فرمایا : وہ جہاد النفس ہے۔"

 



([1])یہ آیت  مومنین کے رو برو ہونےکے عمومی ڈھانچے کو بیان کرتی ہے کہ ان کا ایک  مولی ہے ان کا ایک مالک ہے جو ان کی دیکھ بھال کرتا ہے اور ان کی پرورش ، خوشی اور کامیابی کا خیال رکھتا ہے اور وہ اللہ تعالی و تبارک ہے جبکہ کفار کا کوئی سرپرست نہیں بلکہ ان کا سرپرست شیطان ہے جو کہ کمزور ہے،جب سامنا ہوتا ہے تو فرار کرجاتا ہے اور ان کو ذلیل کرتا ہے۔ اور جس وقت شیطان نے ان کے اعمال کو ان کی نظروں میں خوشنما کر دیا اور کہا کہ آج کے دن لوگوں میں سے کوئی بھی تم پر غالب نہ ہوگا اور میں تمہارا حمایتی ہوں، پھر جب دونوں فوجیں سامنے ہوئیں تو وہ اپنی ایڑیوں پر الٹا پھرا اور کہا میں تمہارے ساتھ نہیں ہوں میں ایسی چیز دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے میں اللہ سے ڈرتا ہوں، اور اللہ سخت عذاب کرنے والا ہے۔

([2]) الكافي: 5/12 ، باب: وجوه الجهاد.

طاغوت اور کفار سے روبرو ہونے کی فقہ

یہ فقہ زندگی کے ہر پہلو کو شامل ہے۔کفار  اور طاغوت سے ارتباط برقرار رکھنے کے متعلق جسے کفار سےروبرو ہونے کی فقہ کابھی نام دیا جاسکتا ہے قرآن  کہتا ہے؟ اللہ تعالی کا فرمان ہے: [وَلاَ تَهِنُواْ فِي ابْتِغَاء الْقَوْمِ إِن تَكُونُواْ تَأْلَمُونَ فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمونَ وَتَرْجُونَ مِنَ اللّهِ مَا لاَ يَرْجُونَ وَكَانَ اللّهُ عَلِيمًا حَكِيماً] (النساء: 104)، "اور ان (دشمن) لوگوں کا تعاقب کرنے سے ہمت نہ ہارو، اگر تم تکلیف اٹھاتے ہو تو وہ بھی تمہاری طرح تکلیف اٹھاتے ہیں، حالانکہ تم اللہ سے جس چیز کے امیدوار ہو وہ نہیں ہیں، اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے۔"

جہاں نقصان دونوں طرف برابر ہے تو ان کی ملاقات سے فرار کیوں؟فرق یہ ہے کہ آپ  آخرت میں اللہ کی طرف جو کچھ ملنے والا ہے اس سے پر امید ہو اور اس میں کوئی نقصان نہیں  لیکن ان کےلیے اللہ کے پاس سوائے دردناک عذاب کے کچھ نہیں جس کی وہ امید رکھیں۔

اللہ تعالی کا قول ہے: [وَظَنُّوا أَنَّهُم مَّانِعَتُهُمْ حُصُونُهُم مِّنَ اللَّهِ فَأَتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوا وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ يُخْرِبُونَ بُيُوتَهُم بِأَيْدِيهِمْ وَأَيْدِي الْمُؤْمِنِينَ فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الأَبْصَارِ] (الحشر: 2). "حالانکہ تمہیں ان کے نکلنے کا گمان بھی نہ تھا، اور وہ یہی سمجھ رہے تھے کہ ان کے قلعے انہیں اللہ سے بچا لیں گے پھر اللہ کا عذاب ان پر وہاں سے آیا کہ جہاں کا ان کو گمان بھی نہ تھا، اور ان کے دلوں میں ہیبت ڈال دی، کہ اپنے گھروں کو خود اپنے اور مسلمانوں کے ہاتھوں سے اجاڑنے لگے، پس اے آنکھوں والو عبرت حاصل کرو۔"

اللہ تعالی کا فرمان ہے: [مَا كَانَ لأَهْلِ الْمَدِينَةِ وَمَنْ حَوْلَهُم مِّنَ الأَعْرَابِ أَن يَتَخَلَّفُواْ عَن رَّسُولِ اللّهِ وَلاَ يَرْغَبُواْ بِأَنفُسِهِمْ عَن نَّفْسِهِ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ لاَ يُصِيبُهُمْ ظَمَأٌ وَلاَ نَصَبٌ وَلاَ مَخْمَصَةٌ فِي سَبِيلِ اللّهِ وَلاَ يَطَؤُونَ مَوْطِئًا يَغِيظُ الْكُفَّارَ وَلاَ يَنَالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَّيْلاً إِلاَّ كُتِبَ لَهُم بِهِ عَمَلٌ صَالِحٌ إِنَّ اللّهَ لاَ يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ، وَلاَ يُنفِقُونَ نَفَقَةً صَغِيرَةً وَلاَ كَبِيرَةً وَلاَ يَقْطَعُونَ وَادِياً إِلاَّ كُتِبَ لَهُمْ لِيَجْزِيَهُمُ اللّهُ أَحْسَنَ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ] (التوبة: 120 - 121)

"مدینہ والوں اور ان کے آس پاس دیہات کے رہنے والوں کےلیے یہ مناسب نہیں تھا کہ اللہ کے رسول سے پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ کہ اپنی جانوں کو اس کی جان سے زیادہ عزیز سمجھیں، یہ اس لیے ہے کہ انہیں اللہ کی راہ میں جو تکلیف پہنچتی ہے پیاس کی یا ماندگی کی یا بھوک کی یا وہ ایسی جگہ چلتے ہیں جو کافروں کے غصہ کو بھڑکائے اور یا کافروں سے کوئی چیز چھین لیتے ہیں ہر بات پر ان کے لیے عمل صالح لکھا جاتا ہے، بے شک اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔اور جو وہ تھوڑا یا بہت خرچ کرتے ہیں یا کوئی میدان طے کرتے ہیں تو یہ سب کچھ ان کے لیے لکھ لیا جاتا ہے تاکہ اللہ انہیں ان کے اعمال کا اچھا بدلہ دے۔"

پھر کیوں اللہ تعالی نے جو چیز ہم سے مانگی ہے؛ کوشش،مال وغیرہ اس کی ادائیگی میں ہم سستی  کا مظاہرہ کرتے ہیں؟ کیوں لوگوں سے جب ان کے ذمے  شرعی حقوق  مانگے جاتے ہیں جیسے خمس و ذکات  تو اسے ادا کرنے میں قیل وقال سے کام لیتے ہیں اور اللہ تعالی پر بھروسہ نہیں کرتے؟

اللہ تعالی کا فرمان ہے: [ثُمَّ نُنَجِّي رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُواْ كَذَلِكَ حَقّاً عَلَيْنَا نُنجِ الْمُؤْمِنِينَ] (يونس: 103)." پھر ہم بچا لیتےہیں اپنے رسولوں کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لاتے ہیں، اسی طرح ہمارا ذمہ ہے کہ ایمان والوں کو بچا لیں۔"

اور ان میں سے کچھ آیات سورہ مبارکہ محمد میں سے ہیں، اور اگر آپ اپنی روح ، فکر اور دل کو بنی نوع انسان کی زندگی کے اس خوشگوار وقت کی طرف منتقل کرسکیں اور یہ تصور کرسکیں کہ آپ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور انکے آس پاس کی اس مومن جماعت میں شامل ہیں جو اس رسالت کے آغاز سے ہی  اس مشکل وقت میں  ان  کے ساتھ تھے اور جب  قریش کے مقابلے میں ان کی تعداد کم تھی اور قریش بہت تکلیف دیتے تھےیہاں تک کہ  جنگ احزاب کے بعد مشرکین دب گئے اور مایوسی کا شکار ہوگئے اور پہل کرنے کی ڈور رسول اللہ (صلى الله عليه وآله) کے ہاتھ آگئی اور فتوحات کا سلسلہ جاری رہا،؛ فتح خیبر سے لے کر فتح  مکہ  اور طائف تک پھر یمن اور پھر پورے جزیرہ  کی فتح تک،آپ تصور کریں کہ آپ وہاں پر موجود ہیں  اور آپ پر یہ عظیم قرآنی خطاب نازل ہوتا ہے،آپ کے رب کی طرف سے جو کہ آپ کے امور کی تدبیر کرتا ہے اور زمین و آسمانوں کا خالق ہے، آپ سے براہ راست گفتگو کرتا ہے:

 [بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ] [الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّهِ أَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ، وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَآمَنُوا بِمَا نُزِّلَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَهُوَ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَأَصْلَحَ بَالَهُمْ، ذَلِكَ بِأَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَأَنَّ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِن رَّبِّهِمْ كَذَلِكَ يَضْرِبُ اللَّهُ لِلنَّاسِ أَمْثَالَهُمْ، فإذا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّى إذا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنّاً بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاء حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ذَلِكَ وَلَوْ يَشَاء اللَّهُ لانتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَكِن لِّيَبْلُوَ بَعْضَكُم بِبَعْضٍ وَالَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَلَن يُضِلَّ أَعْمَالَهُمْ، سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ، وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ، يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ، وَالَّذِينَ كَفَرُوا فَتَعْساً لَّهُمْ وَأَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ، ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَرِهُوا مَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأَحْبَطَ أَعْمَالَهُمْ، أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ دَمَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَلِلْكَافِرِينَ أَمْثَالُهَا، ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَأَنَّ الْكَافِرِينَ لا مَوْلَى لَهُمْ([1])، إِنَّ اللَّهَ يُدْخِلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الأَنْهَارُ وَالَّذِينَ كَفَرُوا يَتَمَتَّعُونَ وَيَأْكُلُونَ كَمَا تَأْكُلُ الأَنْعَامُ وَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ، وَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ هِيَ أَشَدُّ قُوَّةً مِّن قَرْيَتِكَ الَّتِي أَخْرَجَتْكَ أَهْلَكْنَاهُمْ فَلا نَاصِرَ لَهُمْ، أَفَمَن كَانَ عَلَى بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّهِ كَمَن زُيِّنَ لَهُ سُوءُ عَمَلِهِ وَاتَّبَعُوا أَهْوَاءهُمْ] (محمد:1-14)

" وہ لوگ جو منکر ہوئے اور انہوں نے لوگوں کو بھی اللہ کے راستہ سے روکا تو اللہ نے ان کے اعمال برباد کر دیے۔اور وہ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے اور جو کچھ محمد پر نازل کیا گیا اس پر بھی ایمان لائے حالانکہ وہ ان کے رب کی طرف سے برحق بھی ہے، تو اللہ ان کی برائیوں کو مٹا دے گا اور ان کا حال درست کرے گا۔یہ اس لیے کہ جو لوگ منکر ہیں انہوں نے جھوٹ کی پیروی کی اور جو لوگ ایمان لائے انہوں نے اپنے رب کی طرف سے حق کی پیروی کی، اسی طرح اللہ لوگوں کے لیے ان کی مثالیں بیان کرتا ہے۔پس جب تم ان کے مقابل ہو جو کافر ہیں تو ان کی گردنیں مارو، یہاں تک کہ جب تم ان کو خوب مغلوب کرلو تو ان کی مشکیں کس لو، پھر یا تو اس کے بعد احسان کرو یا تاوان لے لو یہاں تک کہ لڑائی والے اپنے ہتھیار ڈال دیں، یہی (حکم) ہے، اور اگر اللہ چاہتا تو ان سے خود ہی بدلہ لے لیتا لیکن وہ تمہارا ایک دوسرے کے ساتھ امتحان کرنا چاہتا ہے، اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے ہیں اللہ ان کے اعمال برباد نہیں کرے گا۔جلدی انہیں راہ دکھائے گا اور ان کا حال درست کر دے گا۔اور انہیں بہشت میں داخل کرے گا جس کی حقیقت انہیں بتا دی ہے۔اے ایمان والو! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جمائے رکھے گا۔اور جو منکر ہیں سو ان کے لیے تباہی ہے اور وہ ان کے اعمال اکارت کر دے گا۔یہ اس لیے کہ انہیں نے ناپسند کیا جو اللہ نے اتارا ہے، سو اس نے ان کے اعمال ضائع کر دیے۔کیا انہوں نے زمین میں سیر نہیں کی کہ وہ دیکھتے ان کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے تھے، اللہ نے انہیں ہلاک کر دیا اور منکروں کے لیے ایسی ہی (سزائیں) ہیں۔یہ اس لیے کہ اللہ ان کا حامی ہے جو ایمان لائے اور کفار کا کوئی بھی حامی نہیں۔بے شک اللہ انہیں داخل کرے گا جو ایمان لائے اور نیک کام کیے بہشتوں میں جن کے نبیچے نہریں بہتی ہوں گی، اور جو کافر ہیں وہ عیش کر رہے ہیں اور اس طرح کھاتے ہیں جس طرح چار پائے کھاتے ہیں اور دوزخ ان کا ٹھکانہ ہے۔اور کتنی ہی بستیاں تھیں جو آپ کی اس بستی سے طاقت میں بڑھ کر تھیں جس کے رہنے والوں نے آپ کو نکال دیا ہے، ہم نے انہیں ہلاک کر دیا تو ان کا کوئی بھی مددگار نہ ہوا۔پس کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل پر ہو وہ اس جیسا ہو سکتا ہے جسے اس کے برے عمل اچھے کر کے دکھائے گئے ہوں اور انہوں نے اپنی ہی خواہشوں کی پیروی کی ہو۔"

[وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم فِي الأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ] (النور: 55).

"اللہ نے ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو تم میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کیے کہ انہیں ضرور ملک کی حکومت عطا کرے گا جیسا کہ ان سے پہلوں کو عطا کی تھی، اور ان کے لیے جس دین کو پسند کیا ہے اسے ضرور مستحکم کر دے گا اور البتہ ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا، بشرطیکہ میری عبادت کرتے رہیں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، اور جو اس کے بعد ناشکری کرے وہی فاسق ہوں گے۔"

اس دوران  میں ، وہ  ان منافقین کی کوششوں سے آگاہ کرتا ہے جو مومنین  کا کفار سے روبرو ہونے کا مذاق اڑاتے ہیں اور ان کے کم امکانات کا مسخرہ کرتے ہیں لیکن اس بات سے غافل ہیں کہ مومنین کی طاقت کا راز ان کا اللہ تعالی سے ارتباط ہے،اللہ تعالی فرماتا ہے: [إِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ غَرَّ هَؤُلاء دِينُهُمْ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللّهِ فإن اللّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ](الأنفال: 49). "اس وقت منافق اور جن کے دلوں میں مرض تھا کہتے تھے کہ انہیں ان کے دین نے مغلوب کر رکھا ہے، اور جو کوئی اللہ پر بھروسہ کرے تو اللہ زبردست حکمت والا ہے۔"

اور اسی  سیاق میں مندرج ہیں :کفار کے ساتھ رو برو ہونے کی فقہ- اللہ تعالی  کی مدد، غلبہ اور زمین کی وراثت کے سارے وعدے، کہ عاقبت انہی کی ہے، اور اللہ تعالی انہی کے ساتھ ہے، اور اللہ تعالی کی طرف سے سکون لے کر فرشتے ان پر نازل ہوتے ہیں، ان سے ڈر اور خوف کا رفع کرنا، ان سے معاملہ کرنا اور ان سے جنت کے بدلے ان کے نفوس کو خریدنا، اس کے ساتھ ہی خداتعالیٰ پر قرض دوگنا کرنا اور اس کے لئے خرچ کرنا۔ یہ مختصر کتاب ہے ان   تمام تفصیلات کی یہاں گنجائش نہیں۔

سب سے بڑی حقیقت جسے قرآن اس مورد میں  ثابت کرتا ہے وہ یہ ہے کہ فتح اور شکست خارجی دشمن  - کفار- کے سامنے  حقیقت میں اپنے داخلی دشمن یعنی نفس امارہ  جو کہ شیطان ہے،کی فتح اور شکست کی فرع ہے،آپ دیکھتے ہو  کہ جب مومنین سے زمین کی خلافت اور اس کی وراثت کی بات ہوتی ہے اور جو کچھ اس میں ہے، تو سب سے پہلی بات اصلاح نفس کی ہوتی ہے اور احکام الیہ کو اپنے نفس پر نافذ کرنے کی ہوتی ہے، اللہ تعالی فرماتا ہے: [وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ، وَنُمَكِّنَ لَهُمْ فِي الأَرْضِ وَنُرِي فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَجُنُودَهُمَا مِنْهُم مَّا كَانُوا يَحْذَرُونَ](القصص: 5 - 6)، "اور ہم چاہتے تھے کہ ان پر احسان کریں جو ملک میں کمزور کیے گئے تھے اور انہیں سردار بنا دیں اور انہیں وارث کریں۔اور انہیں ملک پر قابض کریں اور فرعون اور ہامان اور ان کے لشکروں کو وہ چیز دکھا دیں جس کا وہ خطرہ کرتے تھے۔"

پس پہلے ان کو آئمہ قرار دیا  یعنی ان کی ذات کو پاک کیا  اور اس بات پر زور لگایا کہ کفار پر فتح کی کوئی قیمت نہیں  جب یہ فتح شیطان پر فتح سے متصل نہ ہو اور عمل اللہ تعالی کےلیے خالص نہ ہو، چونکہ اگر عمل اللہ تعالی کی رضا کےلیے نہ ہو تو ان میں اور کفار میں کوئی فرق نہیں ، دونوں کے دونوں اہل دنیا ہیں اور آخرت میں ان کےلیے کوئی نصیب نہیں۔

مثال کے طور پر ، احد کی لڑائی میں مسلمانوں کی شکست اور ان کو جو تکلیف دہ نقصان پہنچا ، اس دوران اللہ سبحانہ  ان سے مخاطب ہوا : [إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْاْ مِنكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُواْ]( آل عمران: 155) "بے شک وہ لوگ جو تم سے پیٹھ پھیر گئے جس دن دونوں فوجیں ملیں سو شیطان نے ان کے گناہ کے سبب سے انہیں بہکا دیا تھا، "

پس ان کی شکست اور ان کا پیٹھ دکھانا یہ سب کچھ ان گناہوں کی وجہ سے تھا جن کا یہ مرتکب ہوچکے تھے،اس کے مقابلے میں اللہ تعالی فرماتا ہے: [إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ]( محمد: 7)،" اگر تم اللہ کی مدد کروگے تو اللہ بھی تمھاری مدد کرے گا٫"

اور اللہ کی مدد اس کی اطاعت کے ساتھ ہوتی ہے ورنہ وہ ہر چیز سے غنی ہے، جو آیت گزر چکی[وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ]،

یہاں پر رسول اللہ (صلى الله عليه واله وسلم) مجاہدین کے ایک گروہ سے جو کہ جنگ سے واپس آرہے تھے، مخاطب ہوئے اور فرمایا: (مرحبا بكم، قضيتم الجهاد الأصغر وبقي عليكم الجهاد الأكبر. قيل: وما هو يا رسول الله؟ قال: جهاد النفس)([2]).

" خوش آمدید ابھی تم جہاد اصغر سے لوٹ رہے ہو ابھی جہاد اکبر باقی ہے تو کہا گیا وہ کیا  ہےیا رسول اللہ ؟ فرمایا : وہ جہاد النفس ہے۔"

 



([1])یہ آیت  مومنین کے رو برو ہونےکے عمومی ڈھانچے کو بیان کرتی ہے کہ ان کا ایک  مولی ہے ان کا ایک مالک ہے جو ان کی دیکھ بھال کرتا ہے اور ان کی پرورش ، خوشی اور کامیابی کا خیال رکھتا ہے اور وہ اللہ تعالی و تبارک ہے جبکہ کفار کا کوئی سرپرست نہیں بلکہ ان کا سرپرست شیطان ہے جو کہ کمزور ہے،جب سامنا ہوتا ہے تو فرار کرجاتا ہے اور ان کو ذلیل کرتا ہے۔ اور جس وقت شیطان نے ان کے اعمال کو ان کی نظروں میں خوشنما کر دیا اور کہا کہ آج کے دن لوگوں میں سے کوئی بھی تم پر غالب نہ ہوگا اور میں تمہارا حمایتی ہوں، پھر جب دونوں فوجیں سامنے ہوئیں تو وہ اپنی ایڑیوں پر الٹا پھرا اور کہا میں تمہارے ساتھ نہیں ہوں میں ایسی چیز دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے میں اللہ سے ڈرتا ہوں، اور اللہ سخت عذاب کرنے والا ہے۔

([2]) الكافي: 5/12 ، باب: وجوه الجهاد.

طاغوت اور کفار سے روبرو ہونے کی فقہ

یہ فقہ زندگی کے ہر پہلو کو شامل ہے۔کفار  اور طاغوت سے ارتباط برقرار رکھنے کے متعلق جسے کفار سےروبرو ہونے کی فقہ کابھی نام دیا جاسکتا ہے قرآن  کہتا ہے؟ اللہ تعالی کا فرمان ہے: [وَلاَ تَهِنُواْ فِي ابْتِغَاء الْقَوْمِ إِن تَكُونُواْ تَأْلَمُونَ فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمونَ وَتَرْجُونَ مِنَ اللّهِ مَا لاَ يَرْجُونَ وَكَانَ اللّهُ عَلِيمًا حَكِيماً] (النساء: 104)، "اور ان (دشمن) لوگوں کا تعاقب کرنے سے ہمت نہ ہارو، اگر تم تکلیف اٹھاتے ہو تو وہ بھی تمہاری طرح تکلیف اٹھاتے ہیں، حالانکہ تم اللہ سے جس چیز کے امیدوار ہو وہ نہیں ہیں، اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے۔"

جہاں نقصان دونوں طرف برابر ہے تو ان کی ملاقات سے فرار کیوں؟فرق یہ ہے کہ آپ  آخرت میں اللہ کی طرف جو کچھ ملنے والا ہے اس سے پر امید ہو اور اس میں کوئی نقصان نہیں  لیکن ان کےلیے اللہ کے پاس سوائے دردناک عذاب کے کچھ نہیں جس کی وہ امید رکھیں۔

اللہ تعالی کا قول ہے: [وَظَنُّوا أَنَّهُم مَّانِعَتُهُمْ حُصُونُهُم مِّنَ اللَّهِ فَأَتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوا وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ يُخْرِبُونَ بُيُوتَهُم بِأَيْدِيهِمْ وَأَيْدِي الْمُؤْمِنِينَ فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الأَبْصَارِ] (الحشر: 2). "حالانکہ تمہیں ان کے نکلنے کا گمان بھی نہ تھا، اور وہ یہی سمجھ رہے تھے کہ ان کے قلعے انہیں اللہ سے بچا لیں گے پھر اللہ کا عذاب ان پر وہاں سے آیا کہ جہاں کا ان کو گمان بھی نہ تھا، اور ان کے دلوں میں ہیبت ڈال دی، کہ اپنے گھروں کو خود اپنے اور مسلمانوں کے ہاتھوں سے اجاڑنے لگے، پس اے آنکھوں والو عبرت حاصل کرو۔"

اللہ تعالی کا فرمان ہے: [مَا كَانَ لأَهْلِ الْمَدِينَةِ وَمَنْ حَوْلَهُم مِّنَ الأَعْرَابِ أَن يَتَخَلَّفُواْ عَن رَّسُولِ اللّهِ وَلاَ يَرْغَبُواْ بِأَنفُسِهِمْ عَن نَّفْسِهِ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ لاَ يُصِيبُهُمْ ظَمَأٌ وَلاَ نَصَبٌ وَلاَ مَخْمَصَةٌ فِي سَبِيلِ اللّهِ وَلاَ يَطَؤُونَ مَوْطِئًا يَغِيظُ الْكُفَّارَ وَلاَ يَنَالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَّيْلاً إِلاَّ كُتِبَ لَهُم بِهِ عَمَلٌ صَالِحٌ إِنَّ اللّهَ لاَ يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ، وَلاَ يُنفِقُونَ نَفَقَةً صَغِيرَةً وَلاَ كَبِيرَةً وَلاَ يَقْطَعُونَ وَادِياً إِلاَّ كُتِبَ لَهُمْ لِيَجْزِيَهُمُ اللّهُ أَحْسَنَ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ] (التوبة: 120 - 121)

"مدینہ والوں اور ان کے آس پاس دیہات کے رہنے والوں کےلیے یہ مناسب نہیں تھا کہ اللہ کے رسول سے پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ کہ اپنی جانوں کو اس کی جان سے زیادہ عزیز سمجھیں، یہ اس لیے ہے کہ انہیں اللہ کی راہ میں جو تکلیف پہنچتی ہے پیاس کی یا ماندگی کی یا بھوک کی یا وہ ایسی جگہ چلتے ہیں جو کافروں کے غصہ کو بھڑکائے اور یا کافروں سے کوئی چیز چھین لیتے ہیں ہر بات پر ان کے لیے عمل صالح لکھا جاتا ہے، بے شک اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔اور جو وہ تھوڑا یا بہت خرچ کرتے ہیں یا کوئی میدان طے کرتے ہیں تو یہ سب کچھ ان کے لیے لکھ لیا جاتا ہے تاکہ اللہ انہیں ان کے اعمال کا اچھا بدلہ دے۔"

پھر کیوں اللہ تعالی نے جو چیز ہم سے مانگی ہے؛ کوشش،مال وغیرہ اس کی ادائیگی میں ہم سستی  کا مظاہرہ کرتے ہیں؟ کیوں لوگوں سے جب ان کے ذمے  شرعی حقوق  مانگے جاتے ہیں جیسے خمس و ذکات  تو اسے ادا کرنے میں قیل وقال سے کام لیتے ہیں اور اللہ تعالی پر بھروسہ نہیں کرتے؟

اللہ تعالی کا فرمان ہے: [ثُمَّ نُنَجِّي رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُواْ كَذَلِكَ حَقّاً عَلَيْنَا نُنجِ الْمُؤْمِنِينَ] (يونس: 103)." پھر ہم بچا لیتےہیں اپنے رسولوں کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لاتے ہیں، اسی طرح ہمارا ذمہ ہے کہ ایمان والوں کو بچا لیں۔"

اور ان میں سے کچھ آیات سورہ مبارکہ محمد میں سے ہیں، اور اگر آپ اپنی روح ، فکر اور دل کو بنی نوع انسان کی زندگی کے اس خوشگوار وقت کی طرف منتقل کرسکیں اور یہ تصور کرسکیں کہ آپ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور انکے آس پاس کی اس مومن جماعت میں شامل ہیں جو اس رسالت کے آغاز سے ہی  اس مشکل وقت میں  ان  کے ساتھ تھے اور جب  قریش کے مقابلے میں ان کی تعداد کم تھی اور قریش بہت تکلیف دیتے تھےیہاں تک کہ  جنگ احزاب کے بعد مشرکین دب گئے اور مایوسی کا شکار ہوگئے اور پہل کرنے کی ڈور رسول اللہ (صلى الله عليه وآله) کے ہاتھ آگئی اور فتوحات کا سلسلہ جاری رہا،؛ فتح خیبر سے لے کر فتح  مکہ  اور طائف تک پھر یمن اور پھر پورے جزیرہ  کی فتح تک،آپ تصور کریں کہ آپ وہاں پر موجود ہیں  اور آپ پر یہ عظیم قرآنی خطاب نازل ہوتا ہے،آپ کے رب کی طرف سے جو کہ آپ کے امور کی تدبیر کرتا ہے اور زمین و آسمانوں کا خالق ہے، آپ سے براہ راست گفتگو کرتا ہے:

 [بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ] [الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّهِ أَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ، وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَآمَنُوا بِمَا نُزِّلَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَهُوَ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَأَصْلَحَ بَالَهُمْ، ذَلِكَ بِأَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَأَنَّ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِن رَّبِّهِمْ كَذَلِكَ يَضْرِبُ اللَّهُ لِلنَّاسِ أَمْثَالَهُمْ، فإذا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّى إذا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنّاً بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاء حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ذَلِكَ وَلَوْ يَشَاء اللَّهُ لانتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَكِن لِّيَبْلُوَ بَعْضَكُم بِبَعْضٍ وَالَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَلَن يُضِلَّ أَعْمَالَهُمْ، سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ، وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ، يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ، وَالَّذِينَ كَفَرُوا فَتَعْساً لَّهُمْ وَأَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ، ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَرِهُوا مَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأَحْبَطَ أَعْمَالَهُمْ، أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ دَمَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَلِلْكَافِرِينَ أَمْثَالُهَا، ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَأَنَّ الْكَافِرِينَ لا مَوْلَى لَهُمْ([1])، إِنَّ اللَّهَ يُدْخِلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الأَنْهَارُ وَالَّذِينَ كَفَرُوا يَتَمَتَّعُونَ وَيَأْكُلُونَ كَمَا تَأْكُلُ الأَنْعَامُ وَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ، وَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ هِيَ أَشَدُّ قُوَّةً مِّن قَرْيَتِكَ الَّتِي أَخْرَجَتْكَ أَهْلَكْنَاهُمْ فَلا نَاصِرَ لَهُمْ، أَفَمَن كَانَ عَلَى بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّهِ كَمَن زُيِّنَ لَهُ سُوءُ عَمَلِهِ وَاتَّبَعُوا أَهْوَاءهُمْ] (محمد:1-14)

" وہ لوگ جو منکر ہوئے اور انہوں نے لوگوں کو بھی اللہ کے راستہ سے روکا تو اللہ نے ان کے اعمال برباد کر دیے۔اور وہ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے اور جو کچھ محمد پر نازل کیا گیا اس پر بھی ایمان لائے حالانکہ وہ ان کے رب کی طرف سے برحق بھی ہے، تو اللہ ان کی برائیوں کو مٹا دے گا اور ان کا حال درست کرے گا۔یہ اس لیے کہ جو لوگ منکر ہیں انہوں نے جھوٹ کی پیروی کی اور جو لوگ ایمان لائے انہوں نے اپنے رب کی طرف سے حق کی پیروی کی، اسی طرح اللہ لوگوں کے لیے ان کی مثالیں بیان کرتا ہے۔پس جب تم ان کے مقابل ہو جو کافر ہیں تو ان کی گردنیں مارو، یہاں تک کہ جب تم ان کو خوب مغلوب کرلو تو ان کی مشکیں کس لو، پھر یا تو اس کے بعد احسان کرو یا تاوان لے لو یہاں تک کہ لڑائی والے اپنے ہتھیار ڈال دیں، یہی (حکم) ہے، اور اگر اللہ چاہتا تو ان سے خود ہی بدلہ لے لیتا لیکن وہ تمہارا ایک دوسرے کے ساتھ امتحان کرنا چاہتا ہے، اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے ہیں اللہ ان کے اعمال برباد نہیں کرے گا۔جلدی انہیں راہ دکھائے گا اور ان کا حال درست کر دے گا۔اور انہیں بہشت میں داخل کرے گا جس کی حقیقت انہیں بتا دی ہے۔اے ایمان والو! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جمائے رکھے گا۔اور جو منکر ہیں سو ان کے لیے تباہی ہے اور وہ ان کے اعمال اکارت کر دے گا۔یہ اس لیے کہ انہیں نے ناپسند کیا جو اللہ نے اتارا ہے، سو اس نے ان کے اعمال ضائع کر دیے۔کیا انہوں نے زمین میں سیر نہیں کی کہ وہ دیکھتے ان کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے تھے، اللہ نے انہیں ہلاک کر دیا اور منکروں کے لیے ایسی ہی (سزائیں) ہیں۔یہ اس لیے کہ اللہ ان کا حامی ہے جو ایمان لائے اور کفار کا کوئی بھی حامی نہیں۔بے شک اللہ انہیں داخل کرے گا جو ایمان لائے اور نیک کام کیے بہشتوں میں جن کے نبیچے نہریں بہتی ہوں گی، اور جو کافر ہیں وہ عیش کر رہے ہیں اور اس طرح کھاتے ہیں جس طرح چار پائے کھاتے ہیں اور دوزخ ان کا ٹھکانہ ہے۔اور کتنی ہی بستیاں تھیں جو آپ کی اس بستی سے طاقت میں بڑھ کر تھیں جس کے رہنے والوں نے آپ کو نکال دیا ہے، ہم نے انہیں ہلاک کر دیا تو ان کا کوئی بھی مددگار نہ ہوا۔پس کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل پر ہو وہ اس جیسا ہو سکتا ہے جسے اس کے برے عمل اچھے کر کے دکھائے گئے ہوں اور انہوں نے اپنی ہی خواہشوں کی پیروی کی ہو۔"

[وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم فِي الأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ] (النور: 55).

"اللہ نے ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو تم میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کیے کہ انہیں ضرور ملک کی حکومت عطا کرے گا جیسا کہ ان سے پہلوں کو عطا کی تھی، اور ان کے لیے جس دین کو پسند کیا ہے اسے ضرور مستحکم کر دے گا اور البتہ ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا، بشرطیکہ میری عبادت کرتے رہیں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، اور جو اس کے بعد ناشکری کرے وہی فاسق ہوں گے۔"

اس دوران  میں ، وہ  ان منافقین کی کوششوں سے آگاہ کرتا ہے جو مومنین  کا کفار سے روبرو ہونے کا مذاق اڑاتے ہیں اور ان کے کم امکانات کا مسخرہ کرتے ہیں لیکن اس بات سے غافل ہیں کہ مومنین کی طاقت کا راز ان کا اللہ تعالی سے ارتباط ہے،اللہ تعالی فرماتا ہے: [إِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ غَرَّ هَؤُلاء دِينُهُمْ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللّهِ فإن اللّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ](الأنفال: 49). "اس وقت منافق اور جن کے دلوں میں مرض تھا کہتے تھے کہ انہیں ان کے دین نے مغلوب کر رکھا ہے، اور جو کوئی اللہ پر بھروسہ کرے تو اللہ زبردست حکمت والا ہے۔"

اور اسی  سیاق میں مندرج ہیں :کفار کے ساتھ رو برو ہونے کی فقہ- اللہ تعالی  کی مدد، غلبہ اور زمین کی وراثت کے سارے وعدے، کہ عاقبت انہی کی ہے، اور اللہ تعالی انہی کے ساتھ ہے، اور اللہ تعالی کی طرف سے سکون لے کر فرشتے ان پر نازل ہوتے ہیں، ان سے ڈر اور خوف کا رفع کرنا، ان سے معاملہ کرنا اور ان سے جنت کے بدلے ان کے نفوس کو خریدنا، اس کے ساتھ ہی خداتعالیٰ پر قرض دوگنا کرنا اور اس کے لئے خرچ کرنا۔ یہ مختصر کتاب ہے ان   تمام تفصیلات کی یہاں گنجائش نہیں۔

سب سے بڑی حقیقت جسے قرآن اس مورد میں  ثابت کرتا ہے وہ یہ ہے کہ فتح اور شکست خارجی دشمن  - کفار- کے سامنے  حقیقت میں اپنے داخلی دشمن یعنی نفس امارہ  جو کہ شیطان ہے،کی فتح اور شکست کی فرع ہے،آپ دیکھتے ہو  کہ جب مومنین سے زمین کی خلافت اور اس کی وراثت کی بات ہوتی ہے اور جو کچھ اس میں ہے، تو سب سے پہلی بات اصلاح نفس کی ہوتی ہے اور احکام الیہ کو اپنے نفس پر نافذ کرنے کی ہوتی ہے، اللہ تعالی فرماتا ہے: [وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ، وَنُمَكِّنَ لَهُمْ فِي الأَرْضِ وَنُرِي فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَجُنُودَهُمَا مِنْهُم مَّا كَانُوا يَحْذَرُونَ](القصص: 5 - 6)، "اور ہم چاہتے تھے کہ ان پر احسان کریں جو ملک میں کمزور کیے گئے تھے اور انہیں سردار بنا دیں اور انہیں وارث کریں۔اور انہیں ملک پر قابض کریں اور فرعون اور ہامان اور ان کے لشکروں کو وہ چیز دکھا دیں جس کا وہ خطرہ کرتے تھے۔"

پس پہلے ان کو آئمہ قرار دیا  یعنی ان کی ذات کو پاک کیا  اور اس بات پر زور لگایا کہ کفار پر فتح کی کوئی قیمت نہیں  جب یہ فتح شیطان پر فتح سے متصل نہ ہو اور عمل اللہ تعالی کےلیے خالص نہ ہو، چونکہ اگر عمل اللہ تعالی کی رضا کےلیے نہ ہو تو ان میں اور کفار میں کوئی فرق نہیں ، دونوں کے دونوں اہل دنیا ہیں اور آخرت میں ان کےلیے کوئی نصیب نہیں۔

مثال کے طور پر ، احد کی لڑائی میں مسلمانوں کی شکست اور ان کو جو تکلیف دہ نقصان پہنچا ، اس دوران اللہ سبحانہ  ان سے مخاطب ہوا : [إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْاْ مِنكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُواْ]( آل عمران: 155) "بے شک وہ لوگ جو تم سے پیٹھ پھیر گئے جس دن دونوں فوجیں ملیں سو شیطان نے ان کے گناہ کے سبب سے انہیں بہکا دیا تھا، "

پس ان کی شکست اور ان کا پیٹھ دکھانا یہ سب کچھ ان گناہوں کی وجہ سے تھا جن کا یہ مرتکب ہوچکے تھے،اس کے مقابلے میں اللہ تعالی فرماتا ہے: [إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ]( محمد: 7)،" اگر تم اللہ کی مدد کروگے تو اللہ بھی تمھاری مدد کرے گا٫"

اور اللہ کی مدد اس کی اطاعت کے ساتھ ہوتی ہے ورنہ وہ ہر چیز سے غنی ہے، جو آیت گزر چکی[وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ]،

یہاں پر رسول اللہ (صلى الله عليه واله وسلم) مجاہدین کے ایک گروہ سے جو کہ جنگ سے واپس آرہے تھے، مخاطب ہوئے اور فرمایا: (مرحبا بكم، قضيتم الجهاد الأصغر وبقي عليكم الجهاد الأكبر. قيل: وما هو يا رسول الله؟ قال: جهاد النفس)([2]).

" خوش آمدید ابھی تم جہاد اصغر سے لوٹ رہے ہو ابھی جہاد اکبر باقی ہے تو کہا گیا وہ کیا  ہےیا رسول اللہ ؟ فرمایا : وہ جہاد النفس ہے۔"

 



([1])یہ آیت  مومنین کے رو برو ہونےکے عمومی ڈھانچے کو بیان کرتی ہے کہ ان کا ایک  مولی ہے ان کا ایک مالک ہے جو ان کی دیکھ بھال کرتا ہے اور ان کی پرورش ، خوشی اور کامیابی کا خیال رکھتا ہے اور وہ اللہ تعالی و تبارک ہے جبکہ کفار کا کوئی سرپرست نہیں بلکہ ان کا سرپرست شیطان ہے جو کہ کمزور ہے،جب سامنا ہوتا ہے تو فرار کرجاتا ہے اور ان کو ذلیل کرتا ہے۔ اور جس وقت شیطان نے ان کے اعمال کو ان کی نظروں میں خوشنما کر دیا اور کہا کہ آج کے دن لوگوں میں سے کوئی بھی تم پر غالب نہ ہوگا اور میں تمہارا حمایتی ہوں، پھر جب دونوں فوجیں سامنے ہوئیں تو وہ اپنی ایڑیوں پر الٹا پھرا اور کہا میں تمہارے ساتھ نہیں ہوں میں ایسی چیز دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے میں اللہ سے ڈرتا ہوں، اور اللہ سخت عذاب کرنے والا ہے۔

([2]) الكافي: 5/12 ، باب: وجوه الجهاد.

طاغوت اور کفار سے روبرو ہونے کی فقہ

یہ فقہ زندگی کے ہر پہلو کو شامل ہے۔کفار  اور طاغوت سے ارتباط برقرار رکھنے کے متعلق جسے کفار سےروبرو ہونے کی فقہ کابھی نام دیا جاسکتا ہے قرآن  کہتا ہے؟ اللہ تعالی کا فرمان ہے: [وَلاَ تَهِنُواْ فِي ابْتِغَاء الْقَوْمِ إِن تَكُونُواْ تَأْلَمُونَ فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمونَ وَتَرْجُونَ مِنَ اللّهِ مَا لاَ يَرْجُونَ وَكَانَ اللّهُ عَلِيمًا حَكِيماً] (النساء: 104)، "اور ان (دشمن) لوگوں کا تعاقب کرنے سے ہمت نہ ہارو، اگر تم تکلیف اٹھاتے ہو تو وہ بھی تمہاری طرح تکلیف اٹھاتے ہیں، حالانکہ تم اللہ سے جس چیز کے امیدوار ہو وہ نہیں ہیں، اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے۔"

جہاں نقصان دونوں طرف برابر ہے تو ان کی ملاقات سے فرار کیوں؟فرق یہ ہے کہ آپ  آخرت میں اللہ کی طرف جو کچھ ملنے والا ہے اس سے پر امید ہو اور اس میں کوئی نقصان نہیں  لیکن ان کےلیے اللہ کے پاس سوائے دردناک عذاب کے کچھ نہیں جس کی وہ امید رکھیں۔

اللہ تعالی کا قول ہے: [وَظَنُّوا أَنَّهُم مَّانِعَتُهُمْ حُصُونُهُم مِّنَ اللَّهِ فَأَتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوا وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ يُخْرِبُونَ بُيُوتَهُم بِأَيْدِيهِمْ وَأَيْدِي الْمُؤْمِنِينَ فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الأَبْصَارِ] (الحشر: 2). "حالانکہ تمہیں ان کے نکلنے کا گمان بھی نہ تھا، اور وہ یہی سمجھ رہے تھے کہ ان کے قلعے انہیں اللہ سے بچا لیں گے پھر اللہ کا عذاب ان پر وہاں سے آیا کہ جہاں کا ان کو گمان بھی نہ تھا، اور ان کے دلوں میں ہیبت ڈال دی، کہ اپنے گھروں کو خود اپنے اور مسلمانوں کے ہاتھوں سے اجاڑنے لگے، پس اے آنکھوں والو عبرت حاصل کرو۔"

اللہ تعالی کا فرمان ہے: [مَا كَانَ لأَهْلِ الْمَدِينَةِ وَمَنْ حَوْلَهُم مِّنَ الأَعْرَابِ أَن يَتَخَلَّفُواْ عَن رَّسُولِ اللّهِ وَلاَ يَرْغَبُواْ بِأَنفُسِهِمْ عَن نَّفْسِهِ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ لاَ يُصِيبُهُمْ ظَمَأٌ وَلاَ نَصَبٌ وَلاَ مَخْمَصَةٌ فِي سَبِيلِ اللّهِ وَلاَ يَطَؤُونَ مَوْطِئًا يَغِيظُ الْكُفَّارَ وَلاَ يَنَالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَّيْلاً إِلاَّ كُتِبَ لَهُم بِهِ عَمَلٌ صَالِحٌ إِنَّ اللّهَ لاَ يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ، وَلاَ يُنفِقُونَ نَفَقَةً صَغِيرَةً وَلاَ كَبِيرَةً وَلاَ يَقْطَعُونَ وَادِياً إِلاَّ كُتِبَ لَهُمْ لِيَجْزِيَهُمُ اللّهُ أَحْسَنَ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ] (التوبة: 120 - 121)

"مدینہ والوں اور ان کے آس پاس دیہات کے رہنے والوں کےلیے یہ مناسب نہیں تھا کہ اللہ کے رسول سے پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ کہ اپنی جانوں کو اس کی جان سے زیادہ عزیز سمجھیں، یہ اس لیے ہے کہ انہیں اللہ کی راہ میں جو تکلیف پہنچتی ہے پیاس کی یا ماندگی کی یا بھوک کی یا وہ ایسی جگہ چلتے ہیں جو کافروں کے غصہ کو بھڑکائے اور یا کافروں سے کوئی چیز چھین لیتے ہیں ہر بات پر ان کے لیے عمل صالح لکھا جاتا ہے، بے شک اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔اور جو وہ تھوڑا یا بہت خرچ کرتے ہیں یا کوئی میدان طے کرتے ہیں تو یہ سب کچھ ان کے لیے لکھ لیا جاتا ہے تاکہ اللہ انہیں ان کے اعمال کا اچھا بدلہ دے۔"

پھر کیوں اللہ تعالی نے جو چیز ہم سے مانگی ہے؛ کوشش،مال وغیرہ اس کی ادائیگی میں ہم سستی  کا مظاہرہ کرتے ہیں؟ کیوں لوگوں سے جب ان کے ذمے  شرعی حقوق  مانگے جاتے ہیں جیسے خمس و ذکات  تو اسے ادا کرنے میں قیل وقال سے کام لیتے ہیں اور اللہ تعالی پر بھروسہ نہیں کرتے؟

اللہ تعالی کا فرمان ہے: [ثُمَّ نُنَجِّي رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُواْ كَذَلِكَ حَقّاً عَلَيْنَا نُنجِ الْمُؤْمِنِينَ] (يونس: 103)." پھر ہم بچا لیتےہیں اپنے رسولوں کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لاتے ہیں، اسی طرح ہمارا ذمہ ہے کہ ایمان والوں کو بچا لیں۔"

اور ان میں سے کچھ آیات سورہ مبارکہ محمد میں سے ہیں، اور اگر آپ اپنی روح ، فکر اور دل کو بنی نوع انسان کی زندگی کے اس خوشگوار وقت کی طرف منتقل کرسکیں اور یہ تصور کرسکیں کہ آپ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور انکے آس پاس کی اس مومن جماعت میں شامل ہیں جو اس رسالت کے آغاز سے ہی  اس مشکل وقت میں  ان  کے ساتھ تھے اور جب  قریش کے مقابلے میں ان کی تعداد کم تھی اور قریش بہت تکلیف دیتے تھےیہاں تک کہ  جنگ احزاب کے بعد مشرکین دب گئے اور مایوسی کا شکار ہوگئے اور پہل کرنے کی ڈور رسول اللہ (صلى الله عليه وآله) کے ہاتھ آگئی اور فتوحات کا سلسلہ جاری رہا،؛ فتح خیبر سے لے کر فتح  مکہ  اور طائف تک پھر یمن اور پھر پورے جزیرہ  کی فتح تک،آپ تصور کریں کہ آپ وہاں پر موجود ہیں  اور آپ پر یہ عظیم قرآنی خطاب نازل ہوتا ہے،آپ کے رب کی طرف سے جو کہ آپ کے امور کی تدبیر کرتا ہے اور زمین و آسمانوں کا خالق ہے، آپ سے براہ راست گفتگو کرتا ہے:

 [بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ] [الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّهِ أَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ، وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَآمَنُوا بِمَا نُزِّلَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَهُوَ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَأَصْلَحَ بَالَهُمْ، ذَلِكَ بِأَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَأَنَّ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِن رَّبِّهِمْ كَذَلِكَ يَضْرِبُ اللَّهُ لِلنَّاسِ أَمْثَالَهُمْ، فإذا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّى إذا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنّاً بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاء حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ذَلِكَ وَلَوْ يَشَاء اللَّهُ لانتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَكِن لِّيَبْلُوَ بَعْضَكُم بِبَعْضٍ وَالَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَلَن يُضِلَّ أَعْمَالَهُمْ، سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ، وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ، يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ، وَالَّذِينَ كَفَرُوا فَتَعْساً لَّهُمْ وَأَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ، ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَرِهُوا مَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأَحْبَطَ أَعْمَالَهُمْ، أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ دَمَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَلِلْكَافِرِينَ أَمْثَالُهَا، ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَأَنَّ الْكَافِرِينَ لا مَوْلَى لَهُمْ([1])، إِنَّ اللَّهَ يُدْخِلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الأَنْهَارُ وَالَّذِينَ كَفَرُوا يَتَمَتَّعُونَ وَيَأْكُلُونَ كَمَا تَأْكُلُ الأَنْعَامُ وَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ، وَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ هِيَ أَشَدُّ قُوَّةً مِّن قَرْيَتِكَ الَّتِي أَخْرَجَتْكَ أَهْلَكْنَاهُمْ فَلا نَاصِرَ لَهُمْ، أَفَمَن كَانَ عَلَى بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّهِ كَمَن زُيِّنَ لَهُ سُوءُ عَمَلِهِ وَاتَّبَعُوا أَهْوَاءهُمْ] (محمد:1-14)

" وہ لوگ جو منکر ہوئے اور انہوں نے لوگوں کو بھی اللہ کے راستہ سے روکا تو اللہ نے ان کے اعمال برباد کر دیے۔اور وہ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے اور جو کچھ محمد پر نازل کیا گیا اس پر بھی ایمان لائے حالانکہ وہ ان کے رب کی طرف سے برحق بھی ہے، تو اللہ ان کی برائیوں کو مٹا دے گا اور ان کا حال درست کرے گا۔یہ اس لیے کہ جو لوگ منکر ہیں انہوں نے جھوٹ کی پیروی کی اور جو لوگ ایمان لائے انہوں نے اپنے رب کی طرف سے حق کی پیروی کی، اسی طرح اللہ لوگوں کے لیے ان کی مثالیں بیان کرتا ہے۔پس جب تم ان کے مقابل ہو جو کافر ہیں تو ان کی گردنیں مارو، یہاں تک کہ جب تم ان کو خوب مغلوب کرلو تو ان کی مشکیں کس لو، پھر یا تو اس کے بعد احسان کرو یا تاوان لے لو یہاں تک کہ لڑائی والے اپنے ہتھیار ڈال دیں، یہی (حکم) ہے، اور اگر اللہ چاہتا تو ان سے خود ہی بدلہ لے لیتا لیکن وہ تمہارا ایک دوسرے کے ساتھ امتحان کرنا چاہتا ہے، اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے ہیں اللہ ان کے اعمال برباد نہیں کرے گا۔جلدی انہیں راہ دکھائے گا اور ان کا حال درست کر دے گا۔اور انہیں بہشت میں داخل کرے گا جس کی حقیقت انہیں بتا دی ہے۔اے ایمان والو! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جمائے رکھے گا۔اور جو منکر ہیں سو ان کے لیے تباہی ہے اور وہ ان کے اعمال اکارت کر دے گا۔یہ اس لیے کہ انہیں نے ناپسند کیا جو اللہ نے اتارا ہے، سو اس نے ان کے اعمال ضائع کر دیے۔کیا انہوں نے زمین میں سیر نہیں کی کہ وہ دیکھتے ان کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے تھے، اللہ نے انہیں ہلاک کر دیا اور منکروں کے لیے ایسی ہی (سزائیں) ہیں۔یہ اس لیے کہ اللہ ان کا حامی ہے جو ایمان لائے اور کفار کا کوئی بھی حامی نہیں۔بے شک اللہ انہیں داخل کرے گا جو ایمان لائے اور نیک کام کیے بہشتوں میں جن کے نبیچے نہریں بہتی ہوں گی، اور جو کافر ہیں وہ عیش کر رہے ہیں اور اس طرح کھاتے ہیں جس طرح چار پائے کھاتے ہیں اور دوزخ ان کا ٹھکانہ ہے۔اور کتنی ہی بستیاں تھیں جو آپ کی اس بستی سے طاقت میں بڑھ کر تھیں جس کے رہنے والوں نے آپ کو نکال دیا ہے، ہم نے انہیں ہلاک کر دیا تو ان کا کوئی بھی مددگار نہ ہوا۔پس کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل پر ہو وہ اس جیسا ہو سکتا ہے جسے اس کے برے عمل اچھے کر کے دکھائے گئے ہوں اور انہوں نے اپنی ہی خواہشوں کی پیروی کی ہو۔"

[وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم فِي الأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ] (النور: 55).

"اللہ نے ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو تم میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کیے کہ انہیں ضرور ملک کی حکومت عطا کرے گا جیسا کہ ان سے پہلوں کو عطا کی تھی، اور ان کے لیے جس دین کو پسند کیا ہے اسے ضرور مستحکم کر دے گا اور البتہ ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا، بشرطیکہ میری عبادت کرتے رہیں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، اور جو اس کے بعد ناشکری کرے وہی فاسق ہوں گے۔"

اس دوران  میں ، وہ  ان منافقین کی کوششوں سے آگاہ کرتا ہے جو مومنین  کا کفار سے روبرو ہونے کا مذاق اڑاتے ہیں اور ان کے کم امکانات کا مسخرہ کرتے ہیں لیکن اس بات سے غافل ہیں کہ مومنین کی طاقت کا راز ان کا اللہ تعالی سے ارتباط ہے،اللہ تعالی فرماتا ہے: [إِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ غَرَّ هَؤُلاء دِينُهُمْ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللّهِ فإن اللّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ](الأنفال: 49). "اس وقت منافق اور جن کے دلوں میں مرض تھا کہتے تھے کہ انہیں ان کے دین نے مغلوب کر رکھا ہے، اور جو کوئی اللہ پر بھروسہ کرے تو اللہ زبردست حکمت والا ہے۔"

اور اسی  سیاق میں مندرج ہیں :کفار کے ساتھ رو برو ہونے کی فقہ- اللہ تعالی  کی مدد، غلبہ اور زمین کی وراثت کے سارے وعدے، کہ عاقبت انہی کی ہے، اور اللہ تعالی انہی کے ساتھ ہے، اور اللہ تعالی کی طرف سے سکون لے کر فرشتے ان پر نازل ہوتے ہیں، ان سے ڈر اور خوف کا رفع کرنا، ان سے معاملہ کرنا اور ان سے جنت کے بدلے ان کے نفوس کو خریدنا، اس کے ساتھ ہی خداتعالیٰ پر قرض دوگنا کرنا اور اس کے لئے خرچ کرنا۔ یہ مختصر کتاب ہے ان   تمام تفصیلات کی یہاں گنجائش نہیں۔

سب سے بڑی حقیقت جسے قرآن اس مورد میں  ثابت کرتا ہے وہ یہ ہے کہ فتح اور شکست خارجی دشمن  - کفار- کے سامنے  حقیقت میں اپنے داخلی دشمن یعنی نفس امارہ  جو کہ شیطان ہے،کی فتح اور شکست کی فرع ہے،آپ دیکھتے ہو  کہ جب مومنین سے زمین کی خلافت اور اس کی وراثت کی بات ہوتی ہے اور جو کچھ اس میں ہے، تو سب سے پہلی بات اصلاح نفس کی ہوتی ہے اور احکام الیہ کو اپنے نفس پر نافذ کرنے کی ہوتی ہے، اللہ تعالی فرماتا ہے: [وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ، وَنُمَكِّنَ لَهُمْ فِي الأَرْضِ وَنُرِي فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَجُنُودَهُمَا مِنْهُم مَّا كَانُوا يَحْذَرُونَ](القصص: 5 - 6)، "اور ہم چاہتے تھے کہ ان پر احسان کریں جو ملک میں کمزور کیے گئے تھے اور انہیں سردار بنا دیں اور انہیں وارث کریں۔اور انہیں ملک پر قابض کریں اور فرعون اور ہامان اور ان کے لشکروں کو وہ چیز دکھا دیں جس کا وہ خطرہ کرتے تھے۔"

پس پہلے ان کو آئمہ قرار دیا  یعنی ان کی ذات کو پاک کیا  اور اس بات پر زور لگایا کہ کفار پر فتح کی کوئی قیمت نہیں  جب یہ فتح شیطان پر فتح سے متصل نہ ہو اور عمل اللہ تعالی کےلیے خالص نہ ہو، چونکہ اگر عمل اللہ تعالی کی رضا کےلیے نہ ہو تو ان میں اور کفار میں کوئی فرق نہیں ، دونوں کے دونوں اہل دنیا ہیں اور آخرت میں ان کےلیے کوئی نصیب نہیں۔

مثال کے طور پر ، احد کی لڑائی میں مسلمانوں کی شکست اور ان کو جو تکلیف دہ نقصان پہنچا ، اس دوران اللہ سبحانہ  ان سے مخاطب ہوا : [إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْاْ مِنكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُواْ]( آل عمران: 155) "بے شک وہ لوگ جو تم سے پیٹھ پھیر گئے جس دن دونوں فوجیں ملیں سو شیطان نے ان کے گناہ کے سبب سے انہیں بہکا دیا تھا، "

پس ان کی شکست اور ان کا پیٹھ دکھانا یہ سب کچھ ان گناہوں کی وجہ سے تھا جن کا یہ مرتکب ہوچکے تھے،اس کے مقابلے میں اللہ تعالی فرماتا ہے: [إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ]( محمد: 7)،" اگر تم اللہ کی مدد کروگے تو اللہ بھی تمھاری مدد کرے گا٫"

اور اللہ کی مدد اس کی اطاعت کے ساتھ ہوتی ہے ورنہ وہ ہر چیز سے غنی ہے، جو آیت گزر چکی[وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ]،

یہاں پر رسول اللہ (صلى الله عليه واله وسلم) مجاہدین کے ایک گروہ سے جو کہ جنگ سے واپس آرہے تھے، مخاطب ہوئے اور فرمایا: (مرحبا بكم، قضيتم الجهاد الأصغر وبقي عليكم الجهاد الأكبر. قيل: وما هو يا رسول الله؟ قال: جهاد النفس)([2]).

" خوش آمدید ابھی تم جہاد اصغر سے لوٹ رہے ہو ابھی جہاد اکبر باقی ہے تو کہا گیا وہ کیا  ہےیا رسول اللہ ؟ فرمایا : وہ جہاد النفس ہے۔"

 



([1])یہ آیت  مومنین کے رو برو ہونےکے عمومی ڈھانچے کو بیان کرتی ہے کہ ان کا ایک  مولی ہے ان کا ایک مالک ہے جو ان کی دیکھ بھال کرتا ہے اور ان کی پرورش ، خوشی اور کامیابی کا خیال رکھتا ہے اور وہ اللہ تعالی و تبارک ہے جبکہ کفار کا کوئی سرپرست نہیں بلکہ ان کا سرپرست شیطان ہے جو کہ کمزور ہے،جب سامنا ہوتا ہے تو فرار کرجاتا ہے اور ان کو ذلیل کرتا ہے۔ اور جس وقت شیطان نے ان کے اعمال کو ان کی نظروں میں خوشنما کر دیا اور کہا کہ آج کے دن لوگوں میں سے کوئی بھی تم پر غالب نہ ہوگا اور میں تمہارا حمایتی ہوں، پھر جب دونوں فوجیں سامنے ہوئیں تو وہ اپنی ایڑیوں پر الٹا پھرا اور کہا میں تمہارے ساتھ نہیں ہوں میں ایسی چیز دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے میں اللہ سے ڈرتا ہوں، اور اللہ سخت عذاب کرنے والا ہے۔

([2]) الكافي: 5/12 ، باب: وجوه الجهاد.

طاغوت اور کفار سے روبرو ہونے کی فقہ

یہ فقہ زندگی کے ہر پہلو کو شامل ہے۔کفار  اور طاغوت سے ارتباط برقرار رکھنے کے متعلق جسے کفار سےروبرو ہونے کی فقہ کابھی نام دیا جاسکتا ہے قرآن  کہتا ہے؟ اللہ تعالی کا فرمان ہے: [وَلاَ تَهِنُواْ فِي ابْتِغَاء الْقَوْمِ إِن تَكُونُواْ تَأْلَمُونَ فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمونَ وَتَرْجُونَ مِنَ اللّهِ مَا لاَ يَرْجُونَ وَكَانَ اللّهُ عَلِيمًا حَكِيماً] (النساء: 104)، "اور ان (دشمن) لوگوں کا تعاقب کرنے سے ہمت نہ ہارو، اگر تم تکلیف اٹھاتے ہو تو وہ بھی تمہاری طرح تکلیف اٹھاتے ہیں، حالانکہ تم اللہ سے جس چیز کے امیدوار ہو وہ نہیں ہیں، اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے۔"

جہاں نقصان دونوں طرف برابر ہے تو ان کی ملاقات سے فرار کیوں؟فرق یہ ہے کہ آپ  آخرت میں اللہ کی طرف جو کچھ ملنے والا ہے اس سے پر امید ہو اور اس میں کوئی نقصان نہیں  لیکن ان کےلیے اللہ کے پاس سوائے دردناک عذاب کے کچھ نہیں جس کی وہ امید رکھیں۔

اللہ تعالی کا قول ہے: [وَظَنُّوا أَنَّهُم مَّانِعَتُهُمْ حُصُونُهُم مِّنَ اللَّهِ فَأَتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوا وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ يُخْرِبُونَ بُيُوتَهُم بِأَيْدِيهِمْ وَأَيْدِي الْمُؤْمِنِينَ فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الأَبْصَارِ] (الحشر: 2). "حالانکہ تمہیں ان کے نکلنے کا گمان بھی نہ تھا، اور وہ یہی سمجھ رہے تھے کہ ان کے قلعے انہیں اللہ سے بچا لیں گے پھر اللہ کا عذاب ان پر وہاں سے آیا کہ جہاں کا ان کو گمان بھی نہ تھا، اور ان کے دلوں میں ہیبت ڈال دی، کہ اپنے گھروں کو خود اپنے اور مسلمانوں کے ہاتھوں سے اجاڑنے لگے، پس اے آنکھوں والو عبرت حاصل کرو۔"

اللہ تعالی کا فرمان ہے: [مَا كَانَ لأَهْلِ الْمَدِينَةِ وَمَنْ حَوْلَهُم مِّنَ الأَعْرَابِ أَن يَتَخَلَّفُواْ عَن رَّسُولِ اللّهِ وَلاَ يَرْغَبُواْ بِأَنفُسِهِمْ عَن نَّفْسِهِ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ لاَ يُصِيبُهُمْ ظَمَأٌ وَلاَ نَصَبٌ وَلاَ مَخْمَصَةٌ فِي سَبِيلِ اللّهِ وَلاَ يَطَؤُونَ مَوْطِئًا يَغِيظُ الْكُفَّارَ وَلاَ يَنَالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَّيْلاً إِلاَّ كُتِبَ لَهُم بِهِ عَمَلٌ صَالِحٌ إِنَّ اللّهَ لاَ يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ، وَلاَ يُنفِقُونَ نَفَقَةً صَغِيرَةً وَلاَ كَبِيرَةً وَلاَ يَقْطَعُونَ وَادِياً إِلاَّ كُتِبَ لَهُمْ لِيَجْزِيَهُمُ اللّهُ أَحْسَنَ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ] (التوبة: 120 - 121)

"مدینہ والوں اور ان کے آس پاس دیہات کے رہنے والوں کےلیے یہ مناسب نہیں تھا کہ اللہ کے رسول سے پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ کہ اپنی جانوں کو اس کی جان سے زیادہ عزیز سمجھیں، یہ اس لیے ہے کہ انہیں اللہ کی راہ میں جو تکلیف پہنچتی ہے پیاس کی یا ماندگی کی یا بھوک کی یا وہ ایسی جگہ چلتے ہیں جو کافروں کے غصہ کو بھڑکائے اور یا کافروں سے کوئی چیز چھین لیتے ہیں ہر بات پر ان کے لیے عمل صالح لکھا جاتا ہے، بے شک اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔اور جو وہ تھوڑا یا بہت خرچ کرتے ہیں یا کوئی میدان طے کرتے ہیں تو یہ سب کچھ ان کے لیے لکھ لیا جاتا ہے تاکہ اللہ انہیں ان کے اعمال کا اچھا بدلہ دے۔"

پھر کیوں اللہ تعالی نے جو چیز ہم سے مانگی ہے؛ کوشش،مال وغیرہ اس کی ادائیگی میں ہم سستی  کا مظاہرہ کرتے ہیں؟ کیوں لوگوں سے جب ان کے ذمے  شرعی حقوق  مانگے جاتے ہیں جیسے خمس و ذکات  تو اسے ادا کرنے میں قیل وقال سے کام لیتے ہیں اور اللہ تعالی پر بھروسہ نہیں کرتے؟

اللہ تعالی کا فرمان ہے: [ثُمَّ نُنَجِّي رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُواْ كَذَلِكَ حَقّاً عَلَيْنَا نُنجِ الْمُؤْمِنِينَ] (يونس: 103)." پھر ہم بچا لیتےہیں اپنے رسولوں کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لاتے ہیں، اسی طرح ہمارا ذمہ ہے کہ ایمان والوں کو بچا لیں۔"

اور ان میں سے کچھ آیات سورہ مبارکہ محمد میں سے ہیں، اور اگر آپ اپنی روح ، فکر اور دل کو بنی نوع انسان کی زندگی کے اس خوشگوار وقت کی طرف منتقل کرسکیں اور یہ تصور کرسکیں کہ آپ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور انکے آس پاس کی اس مومن جماعت میں شامل ہیں جو اس رسالت کے آغاز سے ہی  اس مشکل وقت میں  ان  کے ساتھ تھے اور جب  قریش کے مقابلے میں ان کی تعداد کم تھی اور قریش بہت تکلیف دیتے تھےیہاں تک کہ  جنگ احزاب کے بعد مشرکین دب گئے اور مایوسی کا شکار ہوگئے اور پہل کرنے کی ڈور رسول اللہ (صلى الله عليه وآله) کے ہاتھ آگئی اور فتوحات کا سلسلہ جاری رہا،؛ فتح خیبر سے لے کر فتح  مکہ  اور طائف تک پھر یمن اور پھر پورے جزیرہ  کی فتح تک،آپ تصور کریں کہ آپ وہاں پر موجود ہیں  اور آپ پر یہ عظیم قرآنی خطاب نازل ہوتا ہے،آپ کے رب کی طرف سے جو کہ آپ کے امور کی تدبیر کرتا ہے اور زمین و آسمانوں کا خالق ہے، آپ سے براہ راست گفتگو کرتا ہے:

 [بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ] [الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّهِ أَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ، وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَآمَنُوا بِمَا نُزِّلَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَهُوَ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَأَصْلَحَ بَالَهُمْ، ذَلِكَ بِأَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَأَنَّ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِن رَّبِّهِمْ كَذَلِكَ يَضْرِبُ اللَّهُ لِلنَّاسِ أَمْثَالَهُمْ، فإذا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّى إذا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنّاً بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاء حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ذَلِكَ وَلَوْ يَشَاء اللَّهُ لانتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَكِن لِّيَبْلُوَ بَعْضَكُم بِبَعْضٍ وَالَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَلَن يُضِلَّ أَعْمَالَهُمْ، سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ، وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ، يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ، وَالَّذِينَ كَفَرُوا فَتَعْساً لَّهُمْ وَأَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ، ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَرِهُوا مَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأَحْبَطَ أَعْمَالَهُمْ، أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ دَمَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَلِلْكَافِرِينَ أَمْثَالُهَا، ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَأَنَّ الْكَافِرِينَ لا مَوْلَى لَهُمْ([1])، إِنَّ اللَّهَ يُدْخِلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الأَنْهَارُ وَالَّذِينَ كَفَرُوا يَتَمَتَّعُونَ وَيَأْكُلُونَ كَمَا تَأْكُلُ الأَنْعَامُ وَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ، وَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ هِيَ أَشَدُّ قُوَّةً مِّن قَرْيَتِكَ الَّتِي أَخْرَجَتْكَ أَهْلَكْنَاهُمْ فَلا نَاصِرَ لَهُمْ، أَفَمَن كَانَ عَلَى بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّهِ كَمَن زُيِّنَ لَهُ سُوءُ عَمَلِهِ وَاتَّبَعُوا أَهْوَاءهُمْ] (محمد:1-14)

" وہ لوگ جو منکر ہوئے اور انہوں نے لوگوں کو بھی اللہ کے راستہ سے روکا تو اللہ نے ان کے اعمال برباد کر دیے۔اور وہ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے اور جو کچھ محمد پر نازل کیا گیا اس پر بھی ایمان لائے حالانکہ وہ ان کے رب کی طرف سے برحق بھی ہے، تو اللہ ان کی برائیوں کو مٹا دے گا اور ان کا حال درست کرے گا۔یہ اس لیے کہ جو لوگ منکر ہیں انہوں نے جھوٹ کی پیروی کی اور جو لوگ ایمان لائے انہوں نے اپنے رب کی طرف سے حق کی پیروی کی، اسی طرح اللہ لوگوں کے لیے ان کی مثالیں بیان کرتا ہے۔پس جب تم ان کے مقابل ہو جو کافر ہیں تو ان کی گردنیں مارو، یہاں تک کہ جب تم ان کو خوب مغلوب کرلو تو ان کی مشکیں کس لو، پھر یا تو اس کے بعد احسان کرو یا تاوان لے لو یہاں تک کہ لڑائی والے اپنے ہتھیار ڈال دیں، یہی (حکم) ہے، اور اگر اللہ چاہتا تو ان سے خود ہی بدلہ لے لیتا لیکن وہ تمہارا ایک دوسرے کے ساتھ امتحان کرنا چاہتا ہے، اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے ہیں اللہ ان کے اعمال برباد نہیں کرے گا۔جلدی انہیں راہ دکھائے گا اور ان کا حال درست کر دے گا۔اور انہیں بہشت میں داخل کرے گا جس کی حقیقت انہیں بتا دی ہے۔اے ایمان والو! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جمائے رکھے گا۔اور جو منکر ہیں سو ان کے لیے تباہی ہے اور وہ ان کے اعمال اکارت کر دے گا۔یہ اس لیے کہ انہیں نے ناپسند کیا جو اللہ نے اتارا ہے، سو اس نے ان کے اعمال ضائع کر دیے۔کیا انہوں نے زمین میں سیر نہیں کی کہ وہ دیکھتے ان کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے تھے، اللہ نے انہیں ہلاک کر دیا اور منکروں کے لیے ایسی ہی (سزائیں) ہیں۔یہ اس لیے کہ اللہ ان کا حامی ہے جو ایمان لائے اور کفار کا کوئی بھی حامی نہیں۔بے شک اللہ انہیں داخل کرے گا جو ایمان لائے اور نیک کام کیے بہشتوں میں جن کے نبیچے نہریں بہتی ہوں گی، اور جو کافر ہیں وہ عیش کر رہے ہیں اور اس طرح کھاتے ہیں جس طرح چار پائے کھاتے ہیں اور دوزخ ان کا ٹھکانہ ہے۔اور کتنی ہی بستیاں تھیں جو آپ کی اس بستی سے طاقت میں بڑھ کر تھیں جس کے رہنے والوں نے آپ کو نکال دیا ہے، ہم نے انہیں ہلاک کر دیا تو ان کا کوئی بھی مددگار نہ ہوا۔پس کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل پر ہو وہ اس جیسا ہو سکتا ہے جسے اس کے برے عمل اچھے کر کے دکھائے گئے ہوں اور انہوں نے اپنی ہی خواہشوں کی پیروی کی ہو۔"

[وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم فِي الأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ] (النور: 55).

"اللہ نے ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو تم میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کیے کہ انہیں ضرور ملک کی حکومت عطا کرے گا جیسا کہ ان سے پہلوں کو عطا کی تھی، اور ان کے لیے جس دین کو پسند کیا ہے اسے ضرور مستحکم کر دے گا اور البتہ ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا، بشرطیکہ میری عبادت کرتے رہیں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، اور جو اس کے بعد ناشکری کرے وہی فاسق ہوں گے۔"

اس دوران  میں ، وہ  ان منافقین کی کوششوں سے آگاہ کرتا ہے جو مومنین  کا کفار سے روبرو ہونے کا مذاق اڑاتے ہیں اور ان کے کم امکانات کا مسخرہ کرتے ہیں لیکن اس بات سے غافل ہیں کہ مومنین کی طاقت کا راز ان کا اللہ تعالی سے ارتباط ہے،اللہ تعالی فرماتا ہے: [إِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ غَرَّ هَؤُلاء دِينُهُمْ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللّهِ فإن اللّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ](الأنفال: 49). "اس وقت منافق اور جن کے دلوں میں مرض تھا کہتے تھے کہ انہیں ان کے دین نے مغلوب کر رکھا ہے، اور جو کوئی اللہ پر بھروسہ کرے تو اللہ زبردست حکمت والا ہے۔"

اور اسی  سیاق میں مندرج ہیں :کفار کے ساتھ رو برو ہونے کی فقہ- اللہ تعالی  کی مدد، غلبہ اور زمین کی وراثت کے سارے وعدے، کہ عاقبت انہی کی ہے، اور اللہ تعالی انہی کے ساتھ ہے، اور اللہ تعالی کی طرف سے سکون لے کر فرشتے ان پر نازل ہوتے ہیں، ان سے ڈر اور خوف کا رفع کرنا، ان سے معاملہ کرنا اور ان سے جنت کے بدلے ان کے نفوس کو خریدنا، اس کے ساتھ ہی خداتعالیٰ پر قرض دوگنا کرنا اور اس کے لئے خرچ کرنا۔ یہ مختصر کتاب ہے ان   تمام تفصیلات کی یہاں گنجائش نہیں۔

سب سے بڑی حقیقت جسے قرآن اس مورد میں  ثابت کرتا ہے وہ یہ ہے کہ فتح اور شکست خارجی دشمن  - کفار- کے سامنے  حقیقت میں اپنے داخلی دشمن یعنی نفس امارہ  جو کہ شیطان ہے،کی فتح اور شکست کی فرع ہے،آپ دیکھتے ہو  کہ جب مومنین سے زمین کی خلافت اور اس کی وراثت کی بات ہوتی ہے اور جو کچھ اس میں ہے، تو سب سے پہلی بات اصلاح نفس کی ہوتی ہے اور احکام الیہ کو اپنے نفس پر نافذ کرنے کی ہوتی ہے، اللہ تعالی فرماتا ہے: [وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ، وَنُمَكِّنَ لَهُمْ فِي الأَرْضِ وَنُرِي فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَجُنُودَهُمَا مِنْهُم مَّا كَانُوا يَحْذَرُونَ](القصص: 5 - 6)، "اور ہم چاہتے تھے کہ ان پر احسان کریں جو ملک میں کمزور کیے گئے تھے اور انہیں سردار بنا دیں اور انہیں وارث کریں۔اور انہیں ملک پر قابض کریں اور فرعون اور ہامان اور ان کے لشکروں کو وہ چیز دکھا دیں جس کا وہ خطرہ کرتے تھے۔"

پس پہلے ان کو آئمہ قرار دیا  یعنی ان کی ذات کو پاک کیا  اور اس بات پر زور لگایا کہ کفار پر فتح کی کوئی قیمت نہیں  جب یہ فتح شیطان پر فتح سے متصل نہ ہو اور عمل اللہ تعالی کےلیے خالص نہ ہو، چونکہ اگر عمل اللہ تعالی کی رضا کےلیے نہ ہو تو ان میں اور کفار میں کوئی فرق نہیں ، دونوں کے دونوں اہل دنیا ہیں اور آخرت میں ان کےلیے کوئی نصیب نہیں۔

مثال کے طور پر ، احد کی لڑائی میں مسلمانوں کی شکست اور ان کو جو تکلیف دہ نقصان پہنچا ، اس دوران اللہ سبحانہ  ان سے مخاطب ہوا : [إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْاْ مِنكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُواْ]( آل عمران: 155) "بے شک وہ لوگ جو تم سے پیٹھ پھیر گئے جس دن دونوں فوجیں ملیں سو شیطان نے ان کے گناہ کے سبب سے انہیں بہکا دیا تھا، "

پس ان کی شکست اور ان کا پیٹھ دکھانا یہ سب کچھ ان گناہوں کی وجہ سے تھا جن کا یہ مرتکب ہوچکے تھے،اس کے مقابلے میں اللہ تعالی فرماتا ہے: [إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ]( محمد: 7)،" اگر تم اللہ کی مدد کروگے تو اللہ بھی تمھاری مدد کرے گا٫"

اور اللہ کی مدد اس کی اطاعت کے ساتھ ہوتی ہے ورنہ وہ ہر چیز سے غنی ہے، جو آیت گزر چکی[وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ]،

یہاں پر رسول اللہ (صلى الله عليه واله وسلم) مجاہدین کے ایک گروہ سے جو کہ جنگ سے واپس آرہے تھے، مخاطب ہوئے اور فرمایا: (مرحبا بكم، قضيتم الجهاد الأصغر وبقي عليكم الجهاد الأكبر. قيل: وما هو يا رسول الله؟ قال: جهاد النفس)([2]).

" خوش آمدید ابھی تم جہاد اصغر سے لوٹ رہے ہو ابھی جہاد اکبر باقی ہے تو کہا گیا وہ کیا  ہےیا رسول اللہ ؟ فرمایا : وہ جہاد النفس ہے۔"

 



([1])یہ آیت  مومنین کے رو برو ہونےکے عمومی ڈھانچے کو بیان کرتی ہے کہ ان کا ایک  مولی ہے ان کا ایک مالک ہے جو ان کی دیکھ بھال کرتا ہے اور ان کی پرورش ، خوشی اور کامیابی کا خیال رکھتا ہے اور وہ اللہ تعالی و تبارک ہے جبکہ کفار کا کوئی سرپرست نہیں بلکہ ان کا سرپرست شیطان ہے جو کہ کمزور ہے،جب سامنا ہوتا ہے تو فرار کرجاتا ہے اور ان کو ذلیل کرتا ہے۔ اور جس وقت شیطان نے ان کے اعمال کو ان کی نظروں میں خوشنما کر دیا اور کہا کہ آج کے دن لوگوں میں سے کوئی بھی تم پر غالب نہ ہوگا اور میں تمہارا حمایتی ہوں، پھر جب دونوں فوجیں سامنے ہوئیں تو وہ اپنی ایڑیوں پر الٹا پھرا اور کہا میں تمہارے ساتھ نہیں ہوں میں ایسی چیز دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے میں اللہ سے ڈرتا ہوں، اور اللہ سخت عذاب کرنے والا ہے۔

([2]) الكافي: 5/12 ، باب: وجوه الجهاد.

طاغوت اور کفار سے روبرو ہونے کی فقہ

یہ فقہ زندگی کے ہر پہلو کو شامل ہے۔کفار  اور طاغوت سے ارتباط برقرار رکھنے کے متعلق جسے کفار سےروبرو ہونے کی فقہ کابھی نام دیا جاسکتا ہے قرآن  کہتا ہے؟ اللہ تعالی کا فرمان ہے: [وَلاَ تَهِنُواْ فِي ابْتِغَاء الْقَوْمِ إِن تَكُونُواْ تَأْلَمُونَ فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمونَ وَتَرْجُونَ مِنَ اللّهِ مَا لاَ يَرْجُونَ وَكَانَ اللّهُ عَلِيمًا حَكِيماً] (النساء: 104)، "اور ان (دشمن) لوگوں کا تعاقب کرنے سے ہمت نہ ہارو، اگر تم تکلیف اٹھاتے ہو تو وہ بھی تمہاری طرح تکلیف اٹھاتے ہیں، حالانکہ تم اللہ سے جس چیز کے امیدوار ہو وہ نہیں ہیں، اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے۔"

جہاں نقصان دونوں طرف برابر ہے تو ان کی ملاقات سے فرار کیوں؟فرق یہ ہے کہ آپ  آخرت میں اللہ کی طرف جو کچھ ملنے والا ہے اس سے پر امید ہو اور اس میں کوئی نقصان نہیں  لیکن ان کےلیے اللہ کے پاس سوائے دردناک عذاب کے کچھ نہیں جس کی وہ امید رکھیں۔

اللہ تعالی کا قول ہے: [وَظَنُّوا أَنَّهُم مَّانِعَتُهُمْ حُصُونُهُم مِّنَ اللَّهِ فَأَتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوا وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ يُخْرِبُونَ بُيُوتَهُم بِأَيْدِيهِمْ وَأَيْدِي الْمُؤْمِنِينَ فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الأَبْصَارِ] (الحشر: 2). "حالانکہ تمہیں ان کے نکلنے کا گمان بھی نہ تھا، اور وہ یہی سمجھ رہے تھے کہ ان کے قلعے انہیں اللہ سے بچا لیں گے پھر اللہ کا عذاب ان پر وہاں سے آیا کہ جہاں کا ان کو گمان بھی نہ تھا، اور ان کے دلوں میں ہیبت ڈال دی، کہ اپنے گھروں کو خود اپنے اور مسلمانوں کے ہاتھوں سے اجاڑنے لگے، پس اے آنکھوں والو عبرت حاصل کرو۔"

اللہ تعالی کا فرمان ہے: [مَا كَانَ لأَهْلِ الْمَدِينَةِ وَمَنْ حَوْلَهُم مِّنَ الأَعْرَابِ أَن يَتَخَلَّفُواْ عَن رَّسُولِ اللّهِ وَلاَ يَرْغَبُواْ بِأَنفُسِهِمْ عَن نَّفْسِهِ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ لاَ يُصِيبُهُمْ ظَمَأٌ وَلاَ نَصَبٌ وَلاَ مَخْمَصَةٌ فِي سَبِيلِ اللّهِ وَلاَ يَطَؤُونَ مَوْطِئًا يَغِيظُ الْكُفَّارَ وَلاَ يَنَالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَّيْلاً إِلاَّ كُتِبَ لَهُم بِهِ عَمَلٌ صَالِحٌ إِنَّ اللّهَ لاَ يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ، وَلاَ يُنفِقُونَ نَفَقَةً صَغِيرَةً وَلاَ كَبِيرَةً وَلاَ يَقْطَعُونَ وَادِياً إِلاَّ كُتِبَ لَهُمْ لِيَجْزِيَهُمُ اللّهُ أَحْسَنَ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ] (التوبة: 120 - 121)

"مدینہ والوں اور ان کے آس پاس دیہات کے رہنے والوں کےلیے یہ مناسب نہیں تھا کہ اللہ کے رسول سے پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ کہ اپنی جانوں کو اس کی جان سے زیادہ عزیز سمجھیں، یہ اس لیے ہے کہ انہیں اللہ کی راہ میں جو تکلیف پہنچتی ہے پیاس کی یا ماندگی کی یا بھوک کی یا وہ ایسی جگہ چلتے ہیں جو کافروں کے غصہ کو بھڑکائے اور یا کافروں سے کوئی چیز چھین لیتے ہیں ہر بات پر ان کے لیے عمل صالح لکھا جاتا ہے، بے شک اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔اور جو وہ تھوڑا یا بہت خرچ کرتے ہیں یا کوئی میدان طے کرتے ہیں تو یہ سب کچھ ان کے لیے لکھ لیا جاتا ہے تاکہ اللہ انہیں ان کے اعمال کا اچھا بدلہ دے۔"

پھر کیوں اللہ تعالی نے جو چیز ہم سے مانگی ہے؛ کوشش،مال وغیرہ اس کی ادائیگی میں ہم سستی  کا مظاہرہ کرتے ہیں؟ کیوں لوگوں سے جب ان کے ذمے  شرعی حقوق  مانگے جاتے ہیں جیسے خمس و ذکات  تو اسے ادا کرنے میں قیل وقال سے کام لیتے ہیں اور اللہ تعالی پر بھروسہ نہیں کرتے؟

اللہ تعالی کا فرمان ہے: [ثُمَّ نُنَجِّي رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُواْ كَذَلِكَ حَقّاً عَلَيْنَا نُنجِ الْمُؤْمِنِينَ] (يونس: 103)." پھر ہم بچا لیتےہیں اپنے رسولوں کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لاتے ہیں، اسی طرح ہمارا ذمہ ہے کہ ایمان والوں کو بچا لیں۔"

اور ان میں سے کچھ آیات سورہ مبارکہ محمد میں سے ہیں، اور اگر آپ اپنی روح ، فکر اور دل کو بنی نوع انسان کی زندگی کے اس خوشگوار وقت کی طرف منتقل کرسکیں اور یہ تصور کرسکیں کہ آپ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور انکے آس پاس کی اس مومن جماعت میں شامل ہیں جو اس رسالت کے آغاز سے ہی  اس مشکل وقت میں  ان  کے ساتھ تھے اور جب  قریش کے مقابلے میں ان کی تعداد کم تھی اور قریش بہت تکلیف دیتے تھےیہاں تک کہ  جنگ احزاب کے بعد مشرکین دب گئے اور مایوسی کا شکار ہوگئے اور پہل کرنے کی ڈور رسول اللہ (صلى الله عليه وآله) کے ہاتھ آگئی اور فتوحات کا سلسلہ جاری رہا،؛ فتح خیبر سے لے کر فتح  مکہ  اور طائف تک پھر یمن اور پھر پورے جزیرہ  کی فتح تک،آپ تصور کریں کہ آپ وہاں پر موجود ہیں  اور آپ پر یہ عظیم قرآنی خطاب نازل ہوتا ہے،آپ کے رب کی طرف سے جو کہ آپ کے امور کی تدبیر کرتا ہے اور زمین و آسمانوں کا خالق ہے، آپ سے براہ راست گفتگو کرتا ہے:

 [بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ] [الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّهِ أَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ، وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَآمَنُوا بِمَا نُزِّلَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَهُوَ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَأَصْلَحَ بَالَهُمْ، ذَلِكَ بِأَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَأَنَّ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِن رَّبِّهِمْ كَذَلِكَ يَضْرِبُ اللَّهُ لِلنَّاسِ أَمْثَالَهُمْ، فإذا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّى إذا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنّاً بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاء حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ذَلِكَ وَلَوْ يَشَاء اللَّهُ لانتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَكِن لِّيَبْلُوَ بَعْضَكُم بِبَعْضٍ وَالَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَلَن يُضِلَّ أَعْمَالَهُمْ، سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ، وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ، يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ، وَالَّذِينَ كَفَرُوا فَتَعْساً لَّهُمْ وَأَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ، ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَرِهُوا مَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأَحْبَطَ أَعْمَالَهُمْ، أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ دَمَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَلِلْكَافِرِينَ أَمْثَالُهَا، ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَأَنَّ الْكَافِرِينَ لا مَوْلَى لَهُمْ([1])، إِنَّ اللَّهَ يُدْخِلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الأَنْهَارُ وَالَّذِينَ كَفَرُوا يَتَمَتَّعُونَ وَيَأْكُلُونَ كَمَا تَأْكُلُ الأَنْعَامُ وَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ، وَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ هِيَ أَشَدُّ قُوَّةً مِّن قَرْيَتِكَ الَّتِي أَخْرَجَتْكَ أَهْلَكْنَاهُمْ فَلا نَاصِرَ لَهُمْ، أَفَمَن كَانَ عَلَى بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّهِ كَمَن زُيِّنَ لَهُ سُوءُ عَمَلِهِ وَاتَّبَعُوا أَهْوَاءهُمْ] (محمد:1-14)

" وہ لوگ جو منکر ہوئے اور انہوں نے لوگوں کو بھی اللہ کے راستہ سے روکا تو اللہ نے ان کے اعمال برباد کر دیے۔اور وہ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے اور جو کچھ محمد پر نازل کیا گیا اس پر بھی ایمان لائے حالانکہ وہ ان کے رب کی طرف سے برحق بھی ہے، تو اللہ ان کی برائیوں کو مٹا دے گا اور ان کا حال درست کرے گا۔یہ اس لیے کہ جو لوگ منکر ہیں انہوں نے جھوٹ کی پیروی کی اور جو لوگ ایمان لائے انہوں نے اپنے رب کی طرف سے حق کی پیروی کی، اسی طرح اللہ لوگوں کے لیے ان کی مثالیں بیان کرتا ہے۔پس جب تم ان کے مقابل ہو جو کافر ہیں تو ان کی گردنیں مارو، یہاں تک کہ جب تم ان کو خوب مغلوب کرلو تو ان کی مشکیں کس لو، پھر یا تو اس کے بعد احسان کرو یا تاوان لے لو یہاں تک کہ لڑائی والے اپنے ہتھیار ڈال دیں، یہی (حکم) ہے، اور اگر اللہ چاہتا تو ان سے خود ہی بدلہ لے لیتا لیکن وہ تمہارا ایک دوسرے کے ساتھ امتحان کرنا چاہتا ہے، اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے ہیں اللہ ان کے اعمال برباد نہیں کرے گا۔جلدی انہیں راہ دکھائے گا اور ان کا حال درست کر دے گا۔اور انہیں بہشت میں داخل کرے گا جس کی حقیقت انہیں بتا دی ہے۔اے ایمان والو! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جمائے رکھے گا۔اور جو منکر ہیں سو ان کے لیے تباہی ہے اور وہ ان کے اعمال اکارت کر دے گا۔یہ اس لیے کہ انہیں نے ناپسند کیا جو اللہ نے اتارا ہے، سو اس نے ان کے اعمال ضائع کر دیے۔کیا انہوں نے زمین میں سیر نہیں کی کہ وہ دیکھتے ان کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے تھے، اللہ نے انہیں ہلاک کر دیا اور منکروں کے لیے ایسی ہی (سزائیں) ہیں۔یہ اس لیے کہ اللہ ان کا حامی ہے جو ایمان لائے اور کفار کا کوئی بھی حامی نہیں۔بے شک اللہ انہیں داخل کرے گا جو ایمان لائے اور نیک کام کیے بہشتوں میں جن کے نبیچے نہریں بہتی ہوں گی، اور جو کافر ہیں وہ عیش کر رہے ہیں اور اس طرح کھاتے ہیں جس طرح چار پائے کھاتے ہیں اور دوزخ ان کا ٹھکانہ ہے۔اور کتنی ہی بستیاں تھیں جو آپ کی اس بستی سے طاقت میں بڑھ کر تھیں جس کے رہنے والوں نے آپ کو نکال دیا ہے، ہم نے انہیں ہلاک کر دیا تو ان کا کوئی بھی مددگار نہ ہوا۔پس کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل پر ہو وہ اس جیسا ہو سکتا ہے جسے اس کے برے عمل اچھے کر کے دکھائے گئے ہوں اور انہوں نے اپنی ہی خواہشوں کی پیروی کی ہو۔"

[وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم فِي الأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ] (النور: 55).

"اللہ نے ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو تم میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کیے کہ انہیں ضرور ملک کی حکومت عطا کرے گا جیسا کہ ان سے پہلوں کو عطا کی تھی، اور ان کے لیے جس دین کو پسند کیا ہے اسے ضرور مستحکم کر دے گا اور البتہ ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا، بشرطیکہ میری عبادت کرتے رہیں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، اور جو اس کے بعد ناشکری کرے وہی فاسق ہوں گے۔"

اس دوران  میں ، وہ  ان منافقین کی کوششوں سے آگاہ کرتا ہے جو مومنین  کا کفار سے روبرو ہونے کا مذاق اڑاتے ہیں اور ان کے کم امکانات کا مسخرہ کرتے ہیں لیکن اس بات سے غافل ہیں کہ مومنین کی طاقت کا راز ان کا اللہ تعالی سے ارتباط ہے،اللہ تعالی فرماتا ہے: [إِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ غَرَّ هَؤُلاء دِينُهُمْ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللّهِ فإن اللّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ](الأنفال: 49). "اس وقت منافق اور جن کے دلوں میں مرض تھا کہتے تھے کہ انہیں ان کے دین نے مغلوب کر رکھا ہے، اور جو کوئی اللہ پر بھروسہ کرے تو اللہ زبردست حکمت والا ہے۔"

اور اسی  سیاق میں مندرج ہیں :کفار کے ساتھ رو برو ہونے کی فقہ- اللہ تعالی  کی مدد، غلبہ اور زمین کی وراثت کے سارے وعدے، کہ عاقبت انہی کی ہے، اور اللہ تعالی انہی کے ساتھ ہے، اور اللہ تعالی کی طرف سے سکون لے کر فرشتے ان پر نازل ہوتے ہیں، ان سے ڈر اور خوف کا رفع کرنا، ان سے معاملہ کرنا اور ان سے جنت کے بدلے ان کے نفوس کو خریدنا، اس کے ساتھ ہی خداتعالیٰ پر قرض دوگنا کرنا اور اس کے لئے خرچ کرنا۔ یہ مختصر کتاب ہے ان   تمام تفصیلات کی یہاں گنجائش نہیں۔

سب سے بڑی حقیقت جسے قرآن اس مورد میں  ثابت کرتا ہے وہ یہ ہے کہ فتح اور شکست خارجی دشمن  - کفار- کے سامنے  حقیقت میں اپنے داخلی دشمن یعنی نفس امارہ  جو کہ شیطان ہے،کی فتح اور شکست کی فرع ہے،آپ دیکھتے ہو  کہ جب مومنین سے زمین کی خلافت اور اس کی وراثت کی بات ہوتی ہے اور جو کچھ اس میں ہے، تو سب سے پہلی بات اصلاح نفس کی ہوتی ہے اور احکام الیہ کو اپنے نفس پر نافذ کرنے کی ہوتی ہے، اللہ تعالی فرماتا ہے: [وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ، وَنُمَكِّنَ لَهُمْ فِي الأَرْضِ وَنُرِي فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَجُنُودَهُمَا مِنْهُم مَّا كَانُوا يَحْذَرُونَ](القصص: 5 - 6)، "اور ہم چاہتے تھے کہ ان پر احسان کریں جو ملک میں کمزور کیے گئے تھے اور انہیں سردار بنا دیں اور انہیں وارث کریں۔اور انہیں ملک پر قابض کریں اور فرعون اور ہامان اور ان کے لشکروں کو وہ چیز دکھا دیں جس کا وہ خطرہ کرتے تھے۔"

پس پہلے ان کو آئمہ قرار دیا  یعنی ان کی ذات کو پاک کیا  اور اس بات پر زور لگایا کہ کفار پر فتح کی کوئی قیمت نہیں  جب یہ فتح شیطان پر فتح سے متصل نہ ہو اور عمل اللہ تعالی کےلیے خالص نہ ہو، چونکہ اگر عمل اللہ تعالی کی رضا کےلیے نہ ہو تو ان میں اور کفار میں کوئی فرق نہیں ، دونوں کے دونوں اہل دنیا ہیں اور آخرت میں ان کےلیے کوئی نصیب نہیں۔

مثال کے طور پر ، احد کی لڑائی میں مسلمانوں کی شکست اور ان کو جو تکلیف دہ نقصان پہنچا ، اس دوران اللہ سبحانہ  ان سے مخاطب ہوا : [إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْاْ مِنكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُواْ]( آل عمران: 155) "بے شک وہ لوگ جو تم سے پیٹھ پھیر گئے جس دن دونوں فوجیں ملیں سو شیطان نے ان کے گناہ کے سبب سے انہیں بہکا دیا تھا، "

پس ان کی شکست اور ان کا پیٹھ دکھانا یہ سب کچھ ان گناہوں کی وجہ سے تھا جن کا یہ مرتکب ہوچکے تھے،اس کے مقابلے میں اللہ تعالی فرماتا ہے: [إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ]( محمد: 7)،" اگر تم اللہ کی مدد کروگے تو اللہ بھی تمھاری مدد کرے گا٫"

اور اللہ کی مدد اس کی اطاعت کے ساتھ ہوتی ہے ورنہ وہ ہر چیز سے غنی ہے، جو آیت گزر چکی[وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ]،

یہاں پر رسول اللہ (صلى الله عليه واله وسلم) مجاہدین کے ایک گروہ سے جو کہ جنگ سے واپس آرہے تھے، مخاطب ہوئے اور فرمایا: (مرحبا بكم، قضيتم الجهاد الأصغر وبقي عليكم الجهاد الأكبر. قيل: وما هو يا رسول الله؟ قال: جهاد النفس)([2]).

" خوش آمدید ابھی تم جہاد اصغر سے لوٹ رہے ہو ابھی جہاد اکبر باقی ہے تو کہا گیا وہ کیا  ہےیا رسول اللہ ؟ فرمایا : وہ جہاد النفس ہے۔"

 



([1])یہ آیت  مومنین کے رو برو ہونےکے عمومی ڈھانچے کو بیان کرتی ہے کہ ان کا ایک  مولی ہے ان کا ایک مالک ہے جو ان کی دیکھ بھال کرتا ہے اور ان کی پرورش ، خوشی اور کامیابی کا خیال رکھتا ہے اور وہ اللہ تعالی و تبارک ہے جبکہ کفار کا کوئی سرپرست نہیں بلکہ ان کا سرپرست شیطان ہے جو کہ کمزور ہے،جب سامنا ہوتا ہے تو فرار کرجاتا ہے اور ان کو ذلیل کرتا ہے۔ اور جس وقت شیطان نے ان کے اعمال کو ان کی نظروں میں خوشنما کر دیا اور کہا کہ آج کے دن لوگوں میں سے کوئی بھی تم پر غالب نہ ہوگا اور میں تمہارا حمایتی ہوں، پھر جب دونوں فوجیں سامنے ہوئیں تو وہ اپنی ایڑیوں پر الٹا پھرا اور کہا میں تمہارے ساتھ نہیں ہوں میں ایسی چیز دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے میں اللہ سے ڈرتا ہوں، اور اللہ سخت عذاب کرنے والا ہے۔

([2]) الكافي: 5/12 ، باب: وجوه الجهاد.

طاغوت اور کفار سے روبرو ہونے کی فقہ

یہ فقہ زندگی کے ہر پہلو کو شامل ہے۔کفار  اور طاغوت سے ارتباط برقرار رکھنے کے متعلق جسے کفار سےروبرو ہونے کی فقہ کابھی نام دیا جاسکتا ہے قرآن  کہتا ہے؟ اللہ تعالی کا فرمان ہے: [وَلاَ تَهِنُواْ فِي ابْتِغَاء الْقَوْمِ إِن تَكُونُواْ تَأْلَمُونَ فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمونَ وَتَرْجُونَ مِنَ اللّهِ مَا لاَ يَرْجُونَ وَكَانَ اللّهُ عَلِيمًا حَكِيماً] (النساء: 104)، "اور ان (دشمن) لوگوں کا تعاقب کرنے سے ہمت نہ ہارو، اگر تم تکلیف اٹھاتے ہو تو وہ بھی تمہاری طرح تکلیف اٹھاتے ہیں، حالانکہ تم اللہ سے جس چیز کے امیدوار ہو وہ نہیں ہیں، اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے۔"

جہاں نقصان دونوں طرف برابر ہے تو ان کی ملاقات سے فرار کیوں؟فرق یہ ہے کہ آپ  آخرت میں اللہ کی طرف جو کچھ ملنے والا ہے اس سے پر امید ہو اور اس میں کوئی نقصان نہیں  لیکن ان کےلیے اللہ کے پاس سوائے دردناک عذاب کے کچھ نہیں جس کی وہ امید رکھیں۔

اللہ تعالی کا قول ہے: [وَظَنُّوا أَنَّهُم مَّانِعَتُهُمْ حُصُونُهُم مِّنَ اللَّهِ فَأَتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوا وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ يُخْرِبُونَ بُيُوتَهُم بِأَيْدِيهِمْ وَأَيْدِي الْمُؤْمِنِينَ فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الأَبْصَارِ] (الحشر: 2). "حالانکہ تمہیں ان کے نکلنے کا گمان بھی نہ تھا، اور وہ یہی سمجھ رہے تھے کہ ان کے قلعے انہیں اللہ سے بچا لیں گے پھر اللہ کا عذاب ان پر وہاں سے آیا کہ جہاں کا ان کو گمان بھی نہ تھا، اور ان کے دلوں میں ہیبت ڈال دی، کہ اپنے گھروں کو خود اپنے اور مسلمانوں کے ہاتھوں سے اجاڑنے لگے، پس اے آنکھوں والو عبرت حاصل کرو۔"

اللہ تعالی کا فرمان ہے: [مَا كَانَ لأَهْلِ الْمَدِينَةِ وَمَنْ حَوْلَهُم مِّنَ الأَعْرَابِ أَن يَتَخَلَّفُواْ عَن رَّسُولِ اللّهِ وَلاَ يَرْغَبُواْ بِأَنفُسِهِمْ عَن نَّفْسِهِ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ لاَ يُصِيبُهُمْ ظَمَأٌ وَلاَ نَصَبٌ وَلاَ مَخْمَصَةٌ فِي سَبِيلِ اللّهِ وَلاَ يَطَؤُونَ مَوْطِئًا يَغِيظُ الْكُفَّارَ وَلاَ يَنَالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَّيْلاً إِلاَّ كُتِبَ لَهُم بِهِ عَمَلٌ صَالِحٌ إِنَّ اللّهَ لاَ يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ، وَلاَ يُنفِقُونَ نَفَقَةً صَغِيرَةً وَلاَ كَبِيرَةً وَلاَ يَقْطَعُونَ وَادِياً إِلاَّ كُتِبَ لَهُمْ لِيَجْزِيَهُمُ اللّهُ أَحْسَنَ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ] (التوبة: 120 - 121)

"مدینہ والوں اور ان کے آس پاس دیہات کے رہنے والوں کےلیے یہ مناسب نہیں تھا کہ اللہ کے رسول سے پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ کہ اپنی جانوں کو اس کی جان سے زیادہ عزیز سمجھیں، یہ اس لیے ہے کہ انہیں اللہ کی راہ میں جو تکلیف پہنچتی ہے پیاس کی یا ماندگی کی یا بھوک کی یا وہ ایسی جگہ چلتے ہیں جو کافروں کے غصہ کو بھڑکائے اور یا کافروں سے کوئی چیز چھین لیتے ہیں ہر بات پر ان کے لیے عمل صالح لکھا جاتا ہے، بے شک اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔اور جو وہ تھوڑا یا بہت خرچ کرتے ہیں یا کوئی میدان طے کرتے ہیں تو یہ سب کچھ ان کے لیے لکھ لیا جاتا ہے تاکہ اللہ انہیں ان کے اعمال کا اچھا بدلہ دے۔"

پھر کیوں اللہ تعالی نے جو چیز ہم سے مانگی ہے؛ کوشش،مال وغیرہ اس کی ادائیگی میں ہم سستی  کا مظاہرہ کرتے ہیں؟ کیوں لوگوں سے جب ان کے ذمے  شرعی حقوق  مانگے جاتے ہیں جیسے خمس و ذکات  تو اسے ادا کرنے میں قیل وقال سے کام لیتے ہیں اور اللہ تعالی پر بھروسہ نہیں کرتے؟

اللہ تعالی کا فرمان ہے: [ثُمَّ نُنَجِّي رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُواْ كَذَلِكَ حَقّاً عَلَيْنَا نُنجِ الْمُؤْمِنِينَ] (يونس: 103)." پھر ہم بچا لیتےہیں اپنے رسولوں کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لاتے ہیں، اسی طرح ہمارا ذمہ ہے کہ ایمان والوں کو بچا لیں۔"

اور ان میں سے کچھ آیات سورہ مبارکہ محمد میں سے ہیں، اور اگر آپ اپنی روح ، فکر اور دل کو بنی نوع انسان کی زندگی کے اس خوشگوار وقت کی طرف منتقل کرسکیں اور یہ تصور کرسکیں کہ آپ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور انکے آس پاس کی اس مومن جماعت میں شامل ہیں جو اس رسالت کے آغاز سے ہی  اس مشکل وقت میں  ان  کے ساتھ تھے اور جب  قریش کے مقابلے میں ان کی تعداد کم تھی اور قریش بہت تکلیف دیتے تھےیہاں تک کہ  جنگ احزاب کے بعد مشرکین دب گئے اور مایوسی کا شکار ہوگئے اور پہل کرنے کی ڈور رسول اللہ (صلى الله عليه وآله) کے ہاتھ آگئی اور فتوحات کا سلسلہ جاری رہا،؛ فتح خیبر سے لے کر فتح  مکہ  اور طائف تک پھر یمن اور پھر پورے جزیرہ  کی فتح تک،آپ تصور کریں کہ آپ وہاں پر موجود ہیں  اور آپ پر یہ عظیم قرآنی خطاب نازل ہوتا ہے،آپ کے رب کی طرف سے جو کہ آپ کے امور کی تدبیر کرتا ہے اور زمین و آسمانوں کا خالق ہے، آپ سے براہ راست گفتگو کرتا ہے:

 [بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ] [الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّهِ أَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ، وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَآمَنُوا بِمَا نُزِّلَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَهُوَ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَأَصْلَحَ بَالَهُمْ، ذَلِكَ بِأَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَأَنَّ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِن رَّبِّهِمْ كَذَلِكَ يَضْرِبُ اللَّهُ لِلنَّاسِ أَمْثَالَهُمْ، فإذا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّى إذا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنّاً بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاء حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ذَلِكَ وَلَوْ يَشَاء اللَّهُ لانتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَكِن لِّيَبْلُوَ بَعْضَكُم بِبَعْضٍ وَالَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَلَن يُضِلَّ أَعْمَالَهُمْ، سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ، وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ، يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ، وَالَّذِينَ كَفَرُوا فَتَعْساً لَّهُمْ وَأَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ، ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَرِهُوا مَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأَحْبَطَ أَعْمَالَهُمْ، أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ دَمَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَلِلْكَافِرِينَ أَمْثَالُهَا، ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَأَنَّ الْكَافِرِينَ لا مَوْلَى لَهُمْ([1])، إِنَّ اللَّهَ يُدْخِلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الأَنْهَارُ وَالَّذِينَ كَفَرُوا يَتَمَتَّعُونَ وَيَأْكُلُونَ كَمَا تَأْكُلُ الأَنْعَامُ وَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ، وَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ هِيَ أَشَدُّ قُوَّةً مِّن قَرْيَتِكَ الَّتِي أَخْرَجَتْكَ أَهْلَكْنَاهُمْ فَلا نَاصِرَ لَهُمْ، أَفَمَن كَانَ عَلَى بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّهِ كَمَن زُيِّنَ لَهُ سُوءُ عَمَلِهِ وَاتَّبَعُوا أَهْوَاءهُمْ] (محمد:1-14)

" وہ لوگ جو منکر ہوئے اور انہوں نے لوگوں کو بھی اللہ کے راستہ سے روکا تو اللہ نے ان کے اعمال برباد کر دیے۔اور وہ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے اور جو کچھ محمد پر نازل کیا گیا اس پر بھی ایمان لائے حالانکہ وہ ان کے رب کی طرف سے برحق بھی ہے، تو اللہ ان کی برائیوں کو مٹا دے گا اور ان کا حال درست کرے گا۔یہ اس لیے کہ جو لوگ منکر ہیں انہوں نے جھوٹ کی پیروی کی اور جو لوگ ایمان لائے انہوں نے اپنے رب کی طرف سے حق کی پیروی کی، اسی طرح اللہ لوگوں کے لیے ان کی مثالیں بیان کرتا ہے۔پس جب تم ان کے مقابل ہو جو کافر ہیں تو ان کی گردنیں مارو، یہاں تک کہ جب تم ان کو خوب مغلوب کرلو تو ان کی مشکیں کس لو، پھر یا تو اس کے بعد احسان کرو یا تاوان لے لو یہاں تک کہ لڑائی والے اپنے ہتھیار ڈال دیں، یہی (حکم) ہے، اور اگر اللہ چاہتا تو ان سے خود ہی بدلہ لے لیتا لیکن وہ تمہارا ایک دوسرے کے ساتھ امتحان کرنا چاہتا ہے، اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے ہیں اللہ ان کے اعمال برباد نہیں کرے گا۔جلدی انہیں راہ دکھائے گا اور ان کا حال درست کر دے گا۔اور انہیں بہشت میں داخل کرے گا جس کی حقیقت انہیں بتا دی ہے۔اے ایمان والو! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جمائے رکھے گا۔اور جو منکر ہیں سو ان کے لیے تباہی ہے اور وہ ان کے اعمال اکارت کر دے گا۔یہ اس لیے کہ انہیں نے ناپسند کیا جو اللہ نے اتارا ہے، سو اس نے ان کے اعمال ضائع کر دیے۔کیا انہوں نے زمین میں سیر نہیں کی کہ وہ دیکھتے ان کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے تھے، اللہ نے انہیں ہلاک کر دیا اور منکروں کے لیے ایسی ہی (سزائیں) ہیں۔یہ اس لیے کہ اللہ ان کا حامی ہے جو ایمان لائے اور کفار کا کوئی بھی حامی نہیں۔بے شک اللہ انہیں داخل کرے گا جو ایمان لائے اور نیک کام کیے بہشتوں میں جن کے نبیچے نہریں بہتی ہوں گی، اور جو کافر ہیں وہ عیش کر رہے ہیں اور اس طرح کھاتے ہیں جس طرح چار پائے کھاتے ہیں اور دوزخ ان کا ٹھکانہ ہے۔اور کتنی ہی بستیاں تھیں جو آپ کی اس بستی سے طاقت میں بڑھ کر تھیں جس کے رہنے والوں نے آپ کو نکال دیا ہے، ہم نے انہیں ہلاک کر دیا تو ان کا کوئی بھی مددگار نہ ہوا۔پس کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل پر ہو وہ اس جیسا ہو سکتا ہے جسے اس کے برے عمل اچھے کر کے دکھائے گئے ہوں اور انہوں نے اپنی ہی خواہشوں کی پیروی کی ہو۔"

[وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم فِي الأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ] (النور: 55).

"اللہ نے ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو تم میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کیے کہ انہیں ضرور ملک کی حکومت عطا کرے گا جیسا کہ ان سے پہلوں کو عطا کی تھی، اور ان کے لیے جس دین کو پسند کیا ہے اسے ضرور مستحکم کر دے گا اور البتہ ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا، بشرطیکہ میری عبادت کرتے رہیں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، اور جو اس کے بعد ناشکری کرے وہی فاسق ہوں گے۔"

اس دوران  میں ، وہ  ان منافقین کی کوششوں سے آگاہ کرتا ہے جو مومنین  کا کفار سے روبرو ہونے کا مذاق اڑاتے ہیں اور ان کے کم امکانات کا مسخرہ کرتے ہیں لیکن اس بات سے غافل ہیں کہ مومنین کی طاقت کا راز ان کا اللہ تعالی سے ارتباط ہے،اللہ تعالی فرماتا ہے: [إِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ غَرَّ هَؤُلاء دِينُهُمْ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللّهِ فإن اللّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ](الأنفال: 49). "اس وقت منافق اور جن کے دلوں میں مرض تھا کہتے تھے کہ انہیں ان کے دین نے مغلوب کر رکھا ہے، اور جو کوئی اللہ پر بھروسہ کرے تو اللہ زبردست حکمت والا ہے۔"

اور اسی  سیاق میں مندرج ہیں :کفار کے ساتھ رو برو ہونے کی فقہ- اللہ تعالی  کی مدد، غلبہ اور زمین کی وراثت کے سارے وعدے، کہ عاقبت انہی کی ہے، اور اللہ تعالی انہی کے ساتھ ہے، اور اللہ تعالی کی طرف سے سکون لے کر فرشتے ان پر نازل ہوتے ہیں، ان سے ڈر اور خوف کا رفع کرنا، ان سے معاملہ کرنا اور ان سے جنت کے بدلے ان کے نفوس کو خریدنا، اس کے ساتھ ہی خداتعالیٰ پر قرض دوگنا کرنا اور اس کے لئے خرچ کرنا۔ یہ مختصر کتاب ہے ان   تمام تفصیلات کی یہاں گنجائش نہیں۔

سب سے بڑی حقیقت جسے قرآن اس مورد میں  ثابت کرتا ہے وہ یہ ہے کہ فتح اور شکست خارجی دشمن  - کفار- کے سامنے  حقیقت میں اپنے داخلی دشمن یعنی نفس امارہ  جو کہ شیطان ہے،کی فتح اور شکست کی فرع ہے،آپ دیکھتے ہو  کہ جب مومنین سے زمین کی خلافت اور اس کی وراثت کی بات ہوتی ہے اور جو کچھ اس میں ہے، تو سب سے پہلی بات اصلاح نفس کی ہوتی ہے اور احکام الیہ کو اپنے نفس پر نافذ کرنے کی ہوتی ہے، اللہ تعالی فرماتا ہے: [وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ، وَنُمَكِّنَ لَهُمْ فِي الأَرْضِ وَنُرِي فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَجُنُودَهُمَا مِنْهُم مَّا كَانُوا يَحْذَرُونَ](القصص: 5 - 6)، "اور ہم چاہتے تھے کہ ان پر احسان کریں جو ملک میں کمزور کیے گئے تھے اور انہیں سردار بنا دیں اور انہیں وارث کریں۔اور انہیں ملک پر قابض کریں اور فرعون اور ہامان اور ان کے لشکروں کو وہ چیز دکھا دیں جس کا وہ خطرہ کرتے تھے۔"

پس پہلے ان کو آئمہ قرار دیا  یعنی ان کی ذات کو پاک کیا  اور اس بات پر زور لگایا کہ کفار پر فتح کی کوئی قیمت نہیں  جب یہ فتح شیطان پر فتح سے متصل نہ ہو اور عمل اللہ تعالی کےلیے خالص نہ ہو، چونکہ اگر عمل اللہ تعالی کی رضا کےلیے نہ ہو تو ان میں اور کفار میں کوئی فرق نہیں ، دونوں کے دونوں اہل دنیا ہیں اور آخرت میں ان کےلیے کوئی نصیب نہیں۔

مثال کے طور پر ، احد کی لڑائی میں مسلمانوں کی شکست اور ان کو جو تکلیف دہ نقصان پہنچا ، اس دوران اللہ سبحانہ  ان سے مخاطب ہوا : [إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْاْ مِنكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُواْ]( آل عمران: 155) "بے شک وہ لوگ جو تم سے پیٹھ پھیر گئے جس دن دونوں فوجیں ملیں سو شیطان نے ان کے گناہ کے سبب سے انہیں بہکا دیا تھا، "

پس ان کی شکست اور ان کا پیٹھ دکھانا یہ سب کچھ ان گناہوں کی وجہ سے تھا جن کا یہ مرتکب ہوچکے تھے،اس کے مقابلے میں اللہ تعالی فرماتا ہے: [إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ]( محمد: 7)،" اگر تم اللہ کی مدد کروگے تو اللہ بھی تمھاری مدد کرے گا٫"

اور اللہ کی مدد اس کی اطاعت کے ساتھ ہوتی ہے ورنہ وہ ہر چیز سے غنی ہے، جو آیت گزر چکی[وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ]،

یہاں پر رسول اللہ (صلى الله عليه واله وسلم) مجاہدین کے ایک گروہ سے جو کہ جنگ سے واپس آرہے تھے، مخاطب ہوئے اور فرمایا: (مرحبا بكم، قضيتم الجهاد الأصغر وبقي عليكم الجهاد الأكبر. قيل: وما هو يا رسول الله؟ قال: جهاد النفس)([2]).

" خوش آمدید ابھی تم جہاد اصغر سے لوٹ رہے ہو ابھی جہاد اکبر باقی ہے تو کہا گیا وہ کیا  ہےیا رسول اللہ ؟ فرمایا : وہ جہاد النفس ہے۔"

 



([1])یہ آیت  مومنین کے رو برو ہونےکے عمومی ڈھانچے کو بیان کرتی ہے کہ ان کا ایک  مولی ہے ان کا ایک مالک ہے جو ان کی دیکھ بھال کرتا ہے اور ان کی پرورش ، خوشی اور کامیابی کا خیال رکھتا ہے اور وہ اللہ تعالی و تبارک ہے جبکہ کفار کا کوئی سرپرست نہیں بلکہ ان کا سرپرست شیطان ہے جو کہ کمزور ہے،جب سامنا ہوتا ہے تو فرار کرجاتا ہے اور ان کو ذلیل کرتا ہے۔ اور جس وقت شیطان نے ان کے اعمال کو ان کی نظروں میں خوشنما کر دیا اور کہا کہ آج کے دن لوگوں میں سے کوئی بھی تم پر غالب نہ ہوگا اور میں تمہارا حمایتی ہوں، پھر جب دونوں فوجیں سامنے ہوئیں تو وہ اپنی ایڑیوں پر الٹا پھرا اور کہا میں تمہارے ساتھ نہیں ہوں میں ایسی چیز دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے میں اللہ سے ڈرتا ہوں، اور اللہ سخت عذاب کرنے والا ہے۔

([2]) الكافي: 5/12 ، باب: وجوه الجهاد.

طاغوت اور کفار سے روبرو ہونے کی فقہ

یہ فقہ زندگی کے ہر پہلو کو شامل ہے۔کفار  اور طاغوت سے ارتباط برقرار رکھنے کے متعلق جسے کفار سےروبرو ہونے کی فقہ کابھی نام دیا جاسکتا ہے قرآن  کہتا ہے؟ اللہ تعالی کا فرمان ہے: [وَلاَ تَهِنُواْ فِي ابْتِغَاء الْقَوْمِ إِن تَكُونُواْ تَأْلَمُونَ فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمونَ وَتَرْجُونَ مِنَ اللّهِ مَا لاَ يَرْجُونَ وَكَانَ اللّهُ عَلِيمًا حَكِيماً] (النساء: 104)، "اور ان (دشمن) لوگوں کا تعاقب کرنے سے ہمت نہ ہارو، اگر تم تکلیف اٹھاتے ہو تو وہ بھی تمہاری طرح تکلیف اٹھاتے ہیں، حالانکہ تم اللہ سے جس چیز کے امیدوار ہو وہ نہیں ہیں، اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے۔"

جہاں نقصان دونوں طرف برابر ہے تو ان کی ملاقات سے فرار کیوں؟فرق یہ ہے کہ آپ  آخرت میں اللہ کی طرف جو کچھ ملنے والا ہے اس سے پر امید ہو اور اس میں کوئی نقصان نہیں  لیکن ان کےلیے اللہ کے پاس سوائے دردناک عذاب کے کچھ نہیں جس کی وہ امید رکھیں۔

اللہ تعالی کا قول ہے: [وَظَنُّوا أَنَّهُم مَّانِعَتُهُمْ حُصُونُهُم مِّنَ اللَّهِ فَأَتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوا وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ يُخْرِبُونَ بُيُوتَهُم بِأَيْدِيهِمْ وَأَيْدِي الْمُؤْمِنِينَ فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الأَبْصَارِ] (الحشر: 2). "حالانکہ تمہیں ان کے نکلنے کا گمان بھی نہ تھا، اور وہ یہی سمجھ رہے تھے کہ ان کے قلعے انہیں اللہ سے بچا لیں گے پھر اللہ کا عذاب ان پر وہاں سے آیا کہ جہاں کا ان کو گمان بھی نہ تھا، اور ان کے دلوں میں ہیبت ڈال دی، کہ اپنے گھروں کو خود اپنے اور مسلمانوں کے ہاتھوں سے اجاڑنے لگے، پس اے آنکھوں والو عبرت حاصل کرو۔"

اللہ تعالی کا فرمان ہے: [مَا كَانَ لأَهْلِ الْمَدِينَةِ وَمَنْ حَوْلَهُم مِّنَ الأَعْرَابِ أَن يَتَخَلَّفُواْ عَن رَّسُولِ اللّهِ وَلاَ يَرْغَبُواْ بِأَنفُسِهِمْ عَن نَّفْسِهِ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ لاَ يُصِيبُهُمْ ظَمَأٌ وَلاَ نَصَبٌ وَلاَ مَخْمَصَةٌ فِي سَبِيلِ اللّهِ وَلاَ يَطَؤُونَ مَوْطِئًا يَغِيظُ الْكُفَّارَ وَلاَ يَنَالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَّيْلاً إِلاَّ كُتِبَ لَهُم بِهِ عَمَلٌ صَالِحٌ إِنَّ اللّهَ لاَ يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ، وَلاَ يُنفِقُونَ نَفَقَةً صَغِيرَةً وَلاَ كَبِيرَةً وَلاَ يَقْطَعُونَ وَادِياً إِلاَّ كُتِبَ لَهُمْ لِيَجْزِيَهُمُ اللّهُ أَحْسَنَ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ] (التوبة: 120 - 121)

"مدینہ والوں اور ان کے آس پاس دیہات کے رہنے والوں کےلیے یہ مناسب نہیں تھا کہ اللہ کے رسول سے پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ کہ اپنی جانوں کو اس کی جان سے زیادہ عزیز سمجھیں، یہ اس لیے ہے کہ انہیں اللہ کی راہ میں جو تکلیف پہنچتی ہے پیاس کی یا ماندگی کی یا بھوک کی یا وہ ایسی جگہ چلتے ہیں جو کافروں کے غصہ کو بھڑکائے اور یا کافروں سے کوئی چیز چھین لیتے ہیں ہر بات پر ان کے لیے عمل صالح لکھا جاتا ہے، بے شک اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔اور جو وہ تھوڑا یا بہت خرچ کرتے ہیں یا کوئی میدان طے کرتے ہیں تو یہ سب کچھ ان کے لیے لکھ لیا جاتا ہے تاکہ اللہ انہیں ان کے اعمال کا اچھا بدلہ دے۔"

پھر کیوں اللہ تعالی نے جو چیز ہم سے مانگی ہے؛ کوشش،مال وغیرہ اس کی ادائیگی میں ہم سستی  کا مظاہرہ کرتے ہیں؟ کیوں لوگوں سے جب ان کے ذمے  شرعی حقوق  مانگے جاتے ہیں جیسے خمس و ذکات  تو اسے ادا کرنے میں قیل وقال سے کام لیتے ہیں اور اللہ تعالی پر بھروسہ نہیں کرتے؟

اللہ تعالی کا فرمان ہے: [ثُمَّ نُنَجِّي رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُواْ كَذَلِكَ حَقّاً عَلَيْنَا نُنجِ الْمُؤْمِنِينَ] (يونس: 103)." پھر ہم بچا لیتےہیں اپنے رسولوں کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لاتے ہیں، اسی طرح ہمارا ذمہ ہے کہ ایمان والوں کو بچا لیں۔"

اور ان میں سے کچھ آیات سورہ مبارکہ محمد میں سے ہیں، اور اگر آپ اپنی روح ، فکر اور دل کو بنی نوع انسان کی زندگی کے اس خوشگوار وقت کی طرف منتقل کرسکیں اور یہ تصور کرسکیں کہ آپ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور انکے آس پاس کی اس مومن جماعت میں شامل ہیں جو اس رسالت کے آغاز سے ہی  اس مشکل وقت میں  ان  کے ساتھ تھے اور جب  قریش کے مقابلے میں ان کی تعداد کم تھی اور قریش بہت تکلیف دیتے تھےیہاں تک کہ  جنگ احزاب کے بعد مشرکین دب گئے اور مایوسی کا شکار ہوگئے اور پہل کرنے کی ڈور رسول اللہ (صلى الله عليه وآله) کے ہاتھ آگئی اور فتوحات کا سلسلہ جاری رہا،؛ فتح خیبر سے لے کر فتح  مکہ  اور طائف تک پھر یمن اور پھر پورے جزیرہ  کی فتح تک،آپ تصور کریں کہ آپ وہاں پر موجود ہیں  اور آپ پر یہ عظیم قرآنی خطاب نازل ہوتا ہے،آپ کے رب کی طرف سے جو کہ آپ کے امور کی تدبیر کرتا ہے اور زمین و آسمانوں کا خالق ہے، آپ سے براہ راست گفتگو کرتا ہے:

 [بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ] [الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّهِ أَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ، وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَآمَنُوا بِمَا نُزِّلَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَهُوَ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَأَصْلَحَ بَالَهُمْ، ذَلِكَ بِأَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَأَنَّ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِن رَّبِّهِمْ كَذَلِكَ يَضْرِبُ اللَّهُ لِلنَّاسِ أَمْثَالَهُمْ، فإذا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّى إذا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنّاً بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاء حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ذَلِكَ وَلَوْ يَشَاء اللَّهُ لانتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَكِن لِّيَبْلُوَ بَعْضَكُم بِبَعْضٍ وَالَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَلَن يُضِلَّ أَعْمَالَهُمْ، سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ، وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ، يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ، وَالَّذِينَ كَفَرُوا فَتَعْساً لَّهُمْ وَأَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ، ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَرِهُوا مَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأَحْبَطَ أَعْمَالَهُمْ، أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ دَمَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَلِلْكَافِرِينَ أَمْثَالُهَا، ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَأَنَّ الْكَافِرِينَ لا مَوْلَى لَهُمْ([1])، إِنَّ اللَّهَ يُدْخِلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الأَنْهَارُ وَالَّذِينَ كَفَرُوا يَتَمَتَّعُونَ وَيَأْكُلُونَ كَمَا تَأْكُلُ الأَنْعَامُ وَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ، وَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ هِيَ أَشَدُّ قُوَّةً مِّن قَرْيَتِكَ الَّتِي أَخْرَجَتْكَ أَهْلَكْنَاهُمْ فَلا نَاصِرَ لَهُمْ، أَفَمَن كَانَ عَلَى بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّهِ كَمَن زُيِّنَ لَهُ سُوءُ عَمَلِهِ وَاتَّبَعُوا أَهْوَاءهُمْ] (محمد:1-14)

" وہ لوگ جو منکر ہوئے اور انہوں نے لوگوں کو بھی اللہ کے راستہ سے روکا تو اللہ نے ان کے اعمال برباد کر دیے۔اور وہ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے اور جو کچھ محمد پر نازل کیا گیا اس پر بھی ایمان لائے حالانکہ وہ ان کے رب کی طرف سے برحق بھی ہے، تو اللہ ان کی برائیوں کو مٹا دے گا اور ان کا حال درست کرے گا۔یہ اس لیے کہ جو لوگ منکر ہیں انہوں نے جھوٹ کی پیروی کی اور جو لوگ ایمان لائے انہوں نے اپنے رب کی طرف سے حق کی پیروی کی، اسی طرح اللہ لوگوں کے لیے ان کی مثالیں بیان کرتا ہے۔پس جب تم ان کے مقابل ہو جو کافر ہیں تو ان کی گردنیں مارو، یہاں تک کہ جب تم ان کو خوب مغلوب کرلو تو ان کی مشکیں کس لو، پھر یا تو اس کے بعد احسان کرو یا تاوان لے لو یہاں تک کہ لڑائی والے اپنے ہتھیار ڈال دیں، یہی (حکم) ہے، اور اگر اللہ چاہتا تو ان سے خود ہی بدلہ لے لیتا لیکن وہ تمہارا ایک دوسرے کے ساتھ امتحان کرنا چاہتا ہے، اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے ہیں اللہ ان کے اعمال برباد نہیں کرے گا۔جلدی انہیں راہ دکھائے گا اور ان کا حال درست کر دے گا۔اور انہیں بہشت میں داخل کرے گا جس کی حقیقت انہیں بتا دی ہے۔اے ایمان والو! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جمائے رکھے گا۔اور جو منکر ہیں سو ان کے لیے تباہی ہے اور وہ ان کے اعمال اکارت کر دے گا۔یہ اس لیے کہ انہیں نے ناپسند کیا جو اللہ نے اتارا ہے، سو اس نے ان کے اعمال ضائع کر دیے۔کیا انہوں نے زمین میں سیر نہیں کی کہ وہ دیکھتے ان کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے تھے، اللہ نے انہیں ہلاک کر دیا اور منکروں کے لیے ایسی ہی (سزائیں) ہیں۔یہ اس لیے کہ اللہ ان کا حامی ہے جو ایمان لائے اور کفار کا کوئی بھی حامی نہیں۔بے شک اللہ انہیں داخل کرے گا جو ایمان لائے اور نیک کام کیے بہشتوں میں جن کے نبیچے نہریں بہتی ہوں گی، اور جو کافر ہیں وہ عیش کر رہے ہیں اور اس طرح کھاتے ہیں جس طرح چار پائے کھاتے ہیں اور دوزخ ان کا ٹھکانہ ہے۔اور کتنی ہی بستیاں تھیں جو آپ کی اس بستی سے طاقت میں بڑھ کر تھیں جس کے رہنے والوں نے آپ کو نکال دیا ہے، ہم نے انہیں ہلاک کر دیا تو ان کا کوئی بھی مددگار نہ ہوا۔پس کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل پر ہو وہ اس جیسا ہو سکتا ہے جسے اس کے برے عمل اچھے کر کے دکھائے گئے ہوں اور انہوں نے اپنی ہی خواہشوں کی پیروی کی ہو۔"

[وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم فِي الأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ] (النور: 55).

"اللہ نے ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو تم میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کیے کہ انہیں ضرور ملک کی حکومت عطا کرے گا جیسا کہ ان سے پہلوں کو عطا کی تھی، اور ان کے لیے جس دین کو پسند کیا ہے اسے ضرور مستحکم کر دے گا اور البتہ ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا، بشرطیکہ میری عبادت کرتے رہیں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، اور جو اس کے بعد ناشکری کرے وہی فاسق ہوں گے۔"

اس دوران  میں ، وہ  ان منافقین کی کوششوں سے آگاہ کرتا ہے جو مومنین  کا کفار سے روبرو ہونے کا مذاق اڑاتے ہیں اور ان کے کم امکانات کا مسخرہ کرتے ہیں لیکن اس بات سے غافل ہیں کہ مومنین کی طاقت کا راز ان کا اللہ تعالی سے ارتباط ہے،اللہ تعالی فرماتا ہے: [إِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ غَرَّ هَؤُلاء دِينُهُمْ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللّهِ فإن اللّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ](الأنفال: 49). "اس وقت منافق اور جن کے دلوں میں مرض تھا کہتے تھے کہ انہیں ان کے دین نے مغلوب کر رکھا ہے، اور جو کوئی اللہ پر بھروسہ کرے تو اللہ زبردست حکمت والا ہے۔"

اور اسی  سیاق میں مندرج ہیں :کفار کے ساتھ رو برو ہونے کی فقہ- اللہ تعالی  کی مدد، غلبہ اور زمین کی وراثت کے سارے وعدے، کہ عاقبت انہی کی ہے، اور اللہ تعالی انہی کے ساتھ ہے، اور اللہ تعالی کی طرف سے سکون لے کر فرشتے ان پر نازل ہوتے ہیں، ان سے ڈر اور خوف کا رفع کرنا، ان سے معاملہ کرنا اور ان سے جنت کے بدلے ان کے نفوس کو خریدنا، اس کے ساتھ ہی خداتعالیٰ پر قرض دوگنا کرنا اور اس کے لئے خرچ کرنا۔ یہ مختصر کتاب ہے ان   تمام تفصیلات کی یہاں گنجائش نہیں۔

سب سے بڑی حقیقت جسے قرآن اس مورد میں  ثابت کرتا ہے وہ یہ ہے کہ فتح اور شکست خارجی دشمن  - کفار- کے سامنے  حقیقت میں اپنے داخلی دشمن یعنی نفس امارہ  جو کہ شیطان ہے،کی فتح اور شکست کی فرع ہے،آپ دیکھتے ہو  کہ جب مومنین سے زمین کی خلافت اور اس کی وراثت کی بات ہوتی ہے اور جو کچھ اس میں ہے، تو سب سے پہلی بات اصلاح نفس کی ہوتی ہے اور احکام الیہ کو اپنے نفس پر نافذ کرنے کی ہوتی ہے، اللہ تعالی فرماتا ہے: [وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ، وَنُمَكِّنَ لَهُمْ فِي الأَرْضِ وَنُرِي فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَجُنُودَهُمَا مِنْهُم مَّا كَانُوا يَحْذَرُونَ](القصص: 5 - 6)، "اور ہم چاہتے تھے کہ ان پر احسان کریں جو ملک میں کمزور کیے گئے تھے اور انہیں سردار بنا دیں اور انہیں وارث کریں۔اور انہیں ملک پر قابض کریں اور فرعون اور ہامان اور ان کے لشکروں کو وہ چیز دکھا دیں جس کا وہ خطرہ کرتے تھے۔"

پس پہلے ان کو آئمہ قرار دیا  یعنی ان کی ذات کو پاک کیا  اور اس بات پر زور لگایا کہ کفار پر فتح کی کوئی قیمت نہیں  جب یہ فتح شیطان پر فتح سے متصل نہ ہو اور عمل اللہ تعالی کےلیے خالص نہ ہو، چونکہ اگر عمل اللہ تعالی کی رضا کےلیے نہ ہو تو ان میں اور کفار میں کوئی فرق نہیں ، دونوں کے دونوں اہل دنیا ہیں اور آخرت میں ان کےلیے کوئی نصیب نہیں۔

مثال کے طور پر ، احد کی لڑائی میں مسلمانوں کی شکست اور ان کو جو تکلیف دہ نقصان پہنچا ، اس دوران اللہ سبحانہ  ان سے مخاطب ہوا : [إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْاْ مِنكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُواْ]( آل عمران: 155) "بے شک وہ لوگ جو تم سے پیٹھ پھیر گئے جس دن دونوں فوجیں ملیں سو شیطان نے ان کے گناہ کے سبب سے انہیں بہکا دیا تھا، "

پس ان کی شکست اور ان کا پیٹھ دکھانا یہ سب کچھ ان گناہوں کی وجہ سے تھا جن کا یہ مرتکب ہوچکے تھے،اس کے مقابلے میں اللہ تعالی فرماتا ہے: [إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ]( محمد: 7)،" اگر تم اللہ کی مدد کروگے تو اللہ بھی تمھاری مدد کرے گا٫"

اور اللہ کی مدد اس کی اطاعت کے ساتھ ہوتی ہے ورنہ وہ ہر چیز سے غنی ہے، جو آیت گزر چکی[وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ]،

یہاں پر رسول اللہ (صلى الله عليه واله وسلم) مجاہدین کے ایک گروہ سے جو کہ جنگ سے واپس آرہے تھے، مخاطب ہوئے اور فرمایا: (مرحبا بكم، قضيتم الجهاد الأصغر وبقي عليكم الجهاد الأكبر. قيل: وما هو يا رسول الله؟ قال: جهاد النفس)([2]).

" خوش آمدید ابھی تم جہاد اصغر سے لوٹ رہے ہو ابھی جہاد اکبر باقی ہے تو کہا گیا وہ کیا  ہےیا رسول اللہ ؟ فرمایا : وہ جہاد النفس ہے۔"

 



([1])یہ آیت  مومنین کے رو برو ہونےکے عمومی ڈھانچے کو بیان کرتی ہے کہ ان کا ایک  مولی ہے ان کا ایک مالک ہے جو ان کی دیکھ بھال کرتا ہے اور ان کی پرورش ، خوشی اور کامیابی کا خیال رکھتا ہے اور وہ اللہ تعالی و تبارک ہے جبکہ کفار کا کوئی سرپرست نہیں بلکہ ان کا سرپرست شیطان ہے جو کہ کمزور ہے،جب سامنا ہوتا ہے تو فرار کرجاتا ہے اور ان کو ذلیل کرتا ہے۔ اور جس وقت شیطان نے ان کے اعمال کو ان کی نظروں میں خوشنما کر دیا اور کہا کہ آج کے دن لوگوں میں سے کوئی بھی تم پر غالب نہ ہوگا اور میں تمہارا حمایتی ہوں، پھر جب دونوں فوجیں سامنے ہوئیں تو وہ اپنی ایڑیوں پر الٹا پھرا اور کہا میں تمہارے ساتھ نہیں ہوں میں ایسی چیز دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے میں اللہ سے ڈرتا ہوں، اور اللہ سخت عذاب کرنے والا ہے۔

([2]) الكافي: 5/12 ، باب: وجوه الجهاد.

طاغوت اور کفار سے روبرو ہونے کی فقہ

یہ فقہ زندگی کے ہر پہلو کو شامل ہے۔کفار  اور طاغوت سے ارتباط برقرار رکھنے کے متعلق جسے کفار سےروبرو ہونے کی فقہ کابھی نام دیا جاسکتا ہے قرآن  کہتا ہے؟ اللہ تعالی کا فرمان ہے: [وَلاَ تَهِنُواْ فِي ابْتِغَاء الْقَوْمِ إِن تَكُونُواْ تَأْلَمُونَ فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمونَ وَتَرْجُونَ مِنَ اللّهِ مَا لاَ يَرْجُونَ وَكَانَ اللّهُ عَلِيمًا حَكِيماً] (النساء: 104)، "اور ان (دشمن) لوگوں کا تعاقب کرنے سے ہمت نہ ہارو، اگر تم تکلیف اٹھاتے ہو تو وہ بھی تمہاری طرح تکلیف اٹھاتے ہیں، حالانکہ تم اللہ سے جس چیز کے امیدوار ہو وہ نہیں ہیں، اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے۔"

جہاں نقصان دونوں طرف برابر ہے تو ان کی ملاقات سے فرار کیوں؟فرق یہ ہے کہ آپ  آخرت میں اللہ کی طرف جو کچھ ملنے والا ہے اس سے پر امید ہو اور اس میں کوئی نقصان نہیں  لیکن ان کےلیے اللہ کے پاس سوائے دردناک عذاب کے کچھ نہیں جس کی وہ امید رکھیں۔

اللہ تعالی کا قول ہے: [وَظَنُّوا أَنَّهُم مَّانِعَتُهُمْ حُصُونُهُم مِّنَ اللَّهِ فَأَتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوا وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ يُخْرِبُونَ بُيُوتَهُم بِأَيْدِيهِمْ وَأَيْدِي الْمُؤْمِنِينَ فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الأَبْصَارِ] (الحشر: 2). "حالانکہ تمہیں ان کے نکلنے کا گمان بھی نہ تھا، اور وہ یہی سمجھ رہے تھے کہ ان کے قلعے انہیں اللہ سے بچا لیں گے پھر اللہ کا عذاب ان پر وہاں سے آیا کہ جہاں کا ان کو گمان بھی نہ تھا، اور ان کے دلوں میں ہیبت ڈال دی، کہ اپنے گھروں کو خود اپنے اور مسلمانوں کے ہاتھوں سے اجاڑنے لگے، پس اے آنکھوں والو عبرت حاصل کرو۔"

اللہ تعالی کا فرمان ہے: [مَا كَانَ لأَهْلِ الْمَدِينَةِ وَمَنْ حَوْلَهُم مِّنَ الأَعْرَابِ أَن يَتَخَلَّفُواْ عَن رَّسُولِ اللّهِ وَلاَ يَرْغَبُواْ بِأَنفُسِهِمْ عَن نَّفْسِهِ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ لاَ يُصِيبُهُمْ ظَمَأٌ وَلاَ نَصَبٌ وَلاَ مَخْمَصَةٌ فِي سَبِيلِ اللّهِ وَلاَ يَطَؤُونَ مَوْطِئًا يَغِيظُ الْكُفَّارَ وَلاَ يَنَالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَّيْلاً إِلاَّ كُتِبَ لَهُم بِهِ عَمَلٌ صَالِحٌ إِنَّ اللّهَ لاَ يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ، وَلاَ يُنفِقُونَ نَفَقَةً صَغِيرَةً وَلاَ كَبِيرَةً وَلاَ يَقْطَعُونَ وَادِياً إِلاَّ كُتِبَ لَهُمْ لِيَجْزِيَهُمُ اللّهُ أَحْسَنَ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ] (التوبة: 120 - 121)

"مدینہ والوں اور ان کے آس پاس دیہات کے رہنے والوں کےلیے یہ مناسب نہیں تھا کہ اللہ کے رسول سے پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ کہ اپنی جانوں کو اس کی جان سے زیادہ عزیز سمجھیں، یہ اس لیے ہے کہ انہیں اللہ کی راہ میں جو تکلیف پہنچتی ہے پیاس کی یا ماندگی کی یا بھوک کی یا وہ ایسی جگہ چلتے ہیں جو کافروں کے غصہ کو بھڑکائے اور یا کافروں سے کوئی چیز چھین لیتے ہیں ہر بات پر ان کے لیے عمل صالح لکھا جاتا ہے، بے شک اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔اور جو وہ تھوڑا یا بہت خرچ کرتے ہیں یا کوئی میدان طے کرتے ہیں تو یہ سب کچھ ان کے لیے لکھ لیا جاتا ہے تاکہ اللہ انہیں ان کے اعمال کا اچھا بدلہ دے۔"

پھر کیوں اللہ تعالی نے جو چیز ہم سے مانگی ہے؛ کوشش،مال وغیرہ اس کی ادائیگی میں ہم سستی  کا مظاہرہ کرتے ہیں؟ کیوں لوگوں سے جب ان کے ذمے  شرعی حقوق  مانگے جاتے ہیں جیسے خمس و ذکات  تو اسے ادا کرنے میں قیل وقال سے کام لیتے ہیں اور اللہ تعالی پر بھروسہ نہیں کرتے؟

اللہ تعالی کا فرمان ہے: [ثُمَّ نُنَجِّي رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُواْ كَذَلِكَ حَقّاً عَلَيْنَا نُنجِ الْمُؤْمِنِينَ] (يونس: 103)." پھر ہم بچا لیتےہیں اپنے رسولوں کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لاتے ہیں، اسی طرح ہمارا ذمہ ہے کہ ایمان والوں کو بچا لیں۔"

اور ان میں سے کچھ آیات سورہ مبارکہ محمد میں سے ہیں، اور اگر آپ اپنی روح ، فکر اور دل کو بنی نوع انسان کی زندگی کے اس خوشگوار وقت کی طرف منتقل کرسکیں اور یہ تصور کرسکیں کہ آپ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور انکے آس پاس کی اس مومن جماعت میں شامل ہیں جو اس رسالت کے آغاز سے ہی  اس مشکل وقت میں  ان  کے ساتھ تھے اور جب  قریش کے مقابلے میں ان کی تعداد کم تھی اور قریش بہت تکلیف دیتے تھےیہاں تک کہ  جنگ احزاب کے بعد مشرکین دب گئے اور مایوسی کا شکار ہوگئے اور پہل کرنے کی ڈور رسول اللہ (صلى الله عليه وآله) کے ہاتھ آگئی اور فتوحات کا سلسلہ جاری رہا،؛ فتح خیبر سے لے کر فتح  مکہ  اور طائف تک پھر یمن اور پھر پورے جزیرہ  کی فتح تک،آپ تصور کریں کہ آپ وہاں پر موجود ہیں  اور آپ پر یہ عظیم قرآنی خطاب نازل ہوتا ہے،آپ کے رب کی طرف سے جو کہ آپ کے امور کی تدبیر کرتا ہے اور زمین و آسمانوں کا خالق ہے، آپ سے براہ راست گفتگو کرتا ہے:

 [بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ] [الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّهِ أَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ، وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَآمَنُوا بِمَا نُزِّلَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَهُوَ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَأَصْلَحَ بَالَهُمْ، ذَلِكَ بِأَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَأَنَّ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِن رَّبِّهِمْ كَذَلِكَ يَضْرِبُ اللَّهُ لِلنَّاسِ أَمْثَالَهُمْ، فإذا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّى إذا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنّاً بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاء حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ذَلِكَ وَلَوْ يَشَاء اللَّهُ لانتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَكِن لِّيَبْلُوَ بَعْضَكُم بِبَعْضٍ وَالَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَلَن يُضِلَّ أَعْمَالَهُمْ، سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ، وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ، يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ، وَالَّذِينَ كَفَرُوا فَتَعْساً لَّهُمْ وَأَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ، ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَرِهُوا مَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأَحْبَطَ أَعْمَالَهُمْ، أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ دَمَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَلِلْكَافِرِينَ أَمْثَالُهَا، ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَأَنَّ الْكَافِرِينَ لا مَوْلَى لَهُمْ([1])، إِنَّ اللَّهَ يُدْخِلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الأَنْهَارُ وَالَّذِينَ كَفَرُوا يَتَمَتَّعُونَ وَيَأْكُلُونَ كَمَا تَأْكُلُ الأَنْعَامُ وَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ، وَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ هِيَ أَشَدُّ قُوَّةً مِّن قَرْيَتِكَ الَّتِي أَخْرَجَتْكَ أَهْلَكْنَاهُمْ فَلا نَاصِرَ لَهُمْ، أَفَمَن كَانَ عَلَى بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّهِ كَمَن زُيِّنَ لَهُ سُوءُ عَمَلِهِ وَاتَّبَعُوا أَهْوَاءهُمْ] (محمد:1-14)

" وہ لوگ جو منکر ہوئے اور انہوں نے لوگوں کو بھی اللہ کے راستہ سے روکا تو اللہ نے ان کے اعمال برباد کر دیے۔اور وہ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے اور جو کچھ محمد پر نازل کیا گیا اس پر بھی ایمان لائے حالانکہ وہ ان کے رب کی طرف سے برحق بھی ہے، تو اللہ ان کی برائیوں کو مٹا دے گا اور ان کا حال درست کرے گا۔یہ اس لیے کہ جو لوگ منکر ہیں انہوں نے جھوٹ کی پیروی کی اور جو لوگ ایمان لائے انہوں نے اپنے رب کی طرف سے حق کی پیروی کی، اسی طرح اللہ لوگوں کے لیے ان کی مثالیں بیان کرتا ہے۔پس جب تم ان کے مقابل ہو جو کافر ہیں تو ان کی گردنیں مارو، یہاں تک کہ جب تم ان کو خوب مغلوب کرلو تو ان کی مشکیں کس لو، پھر یا تو اس کے بعد احسان کرو یا تاوان لے لو یہاں تک کہ لڑائی والے اپنے ہتھیار ڈال دیں، یہی (حکم) ہے، اور اگر اللہ چاہتا تو ان سے خود ہی بدلہ لے لیتا لیکن وہ تمہارا ایک دوسرے کے ساتھ امتحان کرنا چاہتا ہے، اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے ہیں اللہ ان کے اعمال برباد نہیں کرے گا۔جلدی انہیں راہ دکھائے گا اور ان کا حال درست کر دے گا۔اور انہیں بہشت میں داخل کرے گا جس کی حقیقت انہیں بتا دی ہے۔اے ایمان والو! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جمائے رکھے گا۔اور جو منکر ہیں سو ان کے لیے تباہی ہے اور وہ ان کے اعمال اکارت کر دے گا۔یہ اس لیے کہ انہیں نے ناپسند کیا جو اللہ نے اتارا ہے، سو اس نے ان کے اعمال ضائع کر دیے۔کیا انہوں نے زمین میں سیر نہیں کی کہ وہ دیکھتے ان کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے تھے، اللہ نے انہیں ہلاک کر دیا اور منکروں کے لیے ایسی ہی (سزائیں) ہیں۔یہ اس لیے کہ اللہ ان کا حامی ہے جو ایمان لائے اور کفار کا کوئی بھی حامی نہیں۔بے شک اللہ انہیں داخل کرے گا جو ایمان لائے اور نیک کام کیے بہشتوں میں جن کے نبیچے نہریں بہتی ہوں گی، اور جو کافر ہیں وہ عیش کر رہے ہیں اور اس طرح کھاتے ہیں جس طرح چار پائے کھاتے ہیں اور دوزخ ان کا ٹھکانہ ہے۔اور کتنی ہی بستیاں تھیں جو آپ کی اس بستی سے طاقت میں بڑھ کر تھیں جس کے رہنے والوں نے آپ کو نکال دیا ہے، ہم نے انہیں ہلاک کر دیا تو ان کا کوئی بھی مددگار نہ ہوا۔پس کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل پر ہو وہ اس جیسا ہو سکتا ہے جسے اس کے برے عمل اچھے کر کے دکھائے گئے ہوں اور انہوں نے اپنی ہی خواہشوں کی پیروی کی ہو۔"

[وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم فِي الأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ] (النور: 55).

"اللہ نے ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو تم میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کیے کہ انہیں ضرور ملک کی حکومت عطا کرے گا جیسا کہ ان سے پہلوں کو عطا کی تھی، اور ان کے لیے جس دین کو پسند کیا ہے اسے ضرور مستحکم کر دے گا اور البتہ ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا، بشرطیکہ میری عبادت کرتے رہیں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، اور جو اس کے بعد ناشکری کرے وہی فاسق ہوں گے۔"

اس دوران  میں ، وہ  ان منافقین کی کوششوں سے آگاہ کرتا ہے جو مومنین  کا کفار سے روبرو ہونے کا مذاق اڑاتے ہیں اور ان کے کم امکانات کا مسخرہ کرتے ہیں لیکن اس بات سے غافل ہیں کہ مومنین کی طاقت کا راز ان کا اللہ تعالی سے ارتباط ہے،اللہ تعالی فرماتا ہے: [إِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ غَرَّ هَؤُلاء دِينُهُمْ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللّهِ فإن اللّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ](الأنفال: 49). "اس وقت منافق اور جن کے دلوں میں مرض تھا کہتے تھے کہ انہیں ان کے دین نے مغلوب کر رکھا ہے، اور جو کوئی اللہ پر بھروسہ کرے تو اللہ زبردست حکمت والا ہے۔"

اور اسی  سیاق میں مندرج ہیں :کفار کے ساتھ رو برو ہونے کی فقہ- اللہ تعالی  کی مدد، غلبہ اور زمین کی وراثت کے سارے وعدے، کہ عاقبت انہی کی ہے، اور اللہ تعالی انہی کے ساتھ ہے، اور اللہ تعالی کی طرف سے سکون لے کر فرشتے ان پر نازل ہوتے ہیں، ان سے ڈر اور خوف کا رفع کرنا، ان سے معاملہ کرنا اور ان سے جنت کے بدلے ان کے نفوس کو خریدنا، اس کے ساتھ ہی خداتعالیٰ پر قرض دوگنا کرنا اور اس کے لئے خرچ کرنا۔ یہ مختصر کتاب ہے ان   تمام تفصیلات کی یہاں گنجائش نہیں۔

سب سے بڑی حقیقت جسے قرآن اس مورد میں  ثابت کرتا ہے وہ یہ ہے کہ فتح اور شکست خارجی دشمن  - کفار- کے سامنے  حقیقت میں اپنے داخلی دشمن یعنی نفس امارہ  جو کہ شیطان ہے،کی فتح اور شکست کی فرع ہے،آپ دیکھتے ہو  کہ جب مومنین سے زمین کی خلافت اور اس کی وراثت کی بات ہوتی ہے اور جو کچھ اس میں ہے، تو سب سے پہلی بات اصلاح نفس کی ہوتی ہے اور احکام الیہ کو اپنے نفس پر نافذ کرنے کی ہوتی ہے، اللہ تعالی فرماتا ہے: [وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ، وَنُمَكِّنَ لَهُمْ فِي الأَرْضِ وَنُرِي فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَجُنُودَهُمَا مِنْهُم مَّا كَانُوا يَحْذَرُونَ](القصص: 5 - 6)، "اور ہم چاہتے تھے کہ ان پر احسان کریں جو ملک میں کمزور کیے گئے تھے اور انہیں سردار بنا دیں اور انہیں وارث کریں۔اور انہیں ملک پر قابض کریں اور فرعون اور ہامان اور ان کے لشکروں کو وہ چیز دکھا دیں جس کا وہ خطرہ کرتے تھے۔"

پس پہلے ان کو آئمہ قرار دیا  یعنی ان کی ذات کو پاک کیا  اور اس بات پر زور لگایا کہ کفار پر فتح کی کوئی قیمت نہیں  جب یہ فتح شیطان پر فتح سے متصل نہ ہو اور عمل اللہ تعالی کےلیے خالص نہ ہو، چونکہ اگر عمل اللہ تعالی کی رضا کےلیے نہ ہو تو ان میں اور کفار میں کوئی فرق نہیں ، دونوں کے دونوں اہل دنیا ہیں اور آخرت میں ان کےلیے کوئی نصیب نہیں۔

مثال کے طور پر ، احد کی لڑائی میں مسلمانوں کی شکست اور ان کو جو تکلیف دہ نقصان پہنچا ، اس دوران اللہ سبحانہ  ان سے مخاطب ہوا : [إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْاْ مِنكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُواْ]( آل عمران: 155) "بے شک وہ لوگ جو تم سے پیٹھ پھیر گئے جس دن دونوں فوجیں ملیں سو شیطان نے ان کے گناہ کے سبب سے انہیں بہکا دیا تھا، "

پس ان کی شکست اور ان کا پیٹھ دکھانا یہ سب کچھ ان گناہوں کی وجہ سے تھا جن کا یہ مرتکب ہوچکے تھے،اس کے مقابلے میں اللہ تعالی فرماتا ہے: [إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ]( محمد: 7)،" اگر تم اللہ کی مدد کروگے تو اللہ بھی تمھاری مدد کرے گا٫"

اور اللہ کی مدد اس کی اطاعت کے ساتھ ہوتی ہے ورنہ وہ ہر چیز سے غنی ہے، جو آیت گزر چکی[وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ]،

یہاں پر رسول اللہ (صلى الله عليه واله وسلم) مجاہدین کے ایک گروہ سے جو کہ جنگ سے واپس آرہے تھے، مخاطب ہوئے اور فرمایا: (مرحبا بكم، قضيتم الجهاد الأصغر وبقي عليكم الجهاد الأكبر. قيل: وما هو يا رسول الله؟ قال: جهاد النفس)([2]).

" خوش آمدید ابھی تم جہاد اصغر سے لوٹ رہے ہو ابھی جہاد اکبر باقی ہے تو کہا گیا وہ کیا  ہےیا رسول اللہ ؟ فرمایا : وہ جہاد النفس ہے۔"

 



([1])یہ آیت  مومنین کے رو برو ہونےکے عمومی ڈھانچے کو بیان کرتی ہے کہ ان کا ایک  مولی ہے ان کا ایک مالک ہے جو ان کی دیکھ بھال کرتا ہے اور ان کی پرورش ، خوشی اور کامیابی کا خیال رکھتا ہے اور وہ اللہ تعالی و تبارک ہے جبکہ کفار کا کوئی سرپرست نہیں بلکہ ان کا سرپرست شیطان ہے جو کہ کمزور ہے،جب سامنا ہوتا ہے تو فرار کرجاتا ہے اور ان کو ذلیل کرتا ہے۔ اور جس وقت شیطان نے ان کے اعمال کو ان کی نظروں میں خوشنما کر دیا اور کہا کہ آج کے دن لوگوں میں سے کوئی بھی تم پر غالب نہ ہوگا اور میں تمہارا حمایتی ہوں، پھر جب دونوں فوجیں سامنے ہوئیں تو وہ اپنی ایڑیوں پر الٹا پھرا اور کہا میں تمہارے ساتھ نہیں ہوں میں ایسی چیز دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے میں اللہ سے ڈرتا ہوں، اور اللہ سخت عذاب کرنے والا ہے۔

([2]) الكافي: 5/12 ، باب: وجوه الجهاد.

طاغوت اور کفار سے روبرو ہونے کی فقہ

یہ فقہ زندگی کے ہر پہلو کو شامل ہے۔کفار  اور طاغوت سے ارتباط برقرار رکھنے کے متعلق جسے کفار سےروبرو ہونے کی فقہ کابھی نام دیا جاسکتا ہے قرآن  کہتا ہے؟ اللہ تعالی کا فرمان ہے: [وَلاَ تَهِنُواْ فِي ابْتِغَاء الْقَوْمِ إِن تَكُونُواْ تَأْلَمُونَ فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمونَ وَتَرْجُونَ مِنَ اللّهِ مَا لاَ يَرْجُونَ وَكَانَ اللّهُ عَلِيمًا حَكِيماً] (النساء: 104)، "اور ان (دشمن) لوگوں کا تعاقب کرنے سے ہمت نہ ہارو، اگر تم تکلیف اٹھاتے ہو تو وہ بھی تمہاری طرح تکلیف اٹھاتے ہیں، حالانکہ تم اللہ سے جس چیز کے امیدوار ہو وہ نہیں ہیں، اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے۔"

جہاں نقصان دونوں طرف برابر ہے تو ان کی ملاقات سے فرار کیوں؟فرق یہ ہے کہ آپ  آخرت میں اللہ کی طرف جو کچھ ملنے والا ہے اس سے پر امید ہو اور اس میں کوئی نقصان نہیں  لیکن ان کےلیے اللہ کے پاس سوائے دردناک عذاب کے کچھ نہیں جس کی وہ امید رکھیں۔

اللہ تعالی کا قول ہے: [وَظَنُّوا أَنَّهُم مَّانِعَتُهُمْ حُصُونُهُم مِّنَ اللَّهِ فَأَتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوا وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ يُخْرِبُونَ بُيُوتَهُم بِأَيْدِيهِمْ وَأَيْدِي الْمُؤْمِنِينَ فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الأَبْصَارِ] (الحشر: 2). "حالانکہ تمہیں ان کے نکلنے کا گمان بھی نہ تھا، اور وہ یہی سمجھ رہے تھے کہ ان کے قلعے انہیں اللہ سے بچا لیں گے پھر اللہ کا عذاب ان پر وہاں سے آیا کہ جہاں کا ان کو گمان بھی نہ تھا، اور ان کے دلوں میں ہیبت ڈال دی، کہ اپنے گھروں کو خود اپنے اور مسلمانوں کے ہاتھوں سے اجاڑنے لگے، پس اے آنکھوں والو عبرت حاصل کرو۔"

اللہ تعالی کا فرمان ہے: [مَا كَانَ لأَهْلِ الْمَدِينَةِ وَمَنْ حَوْلَهُم مِّنَ الأَعْرَابِ أَن يَتَخَلَّفُواْ عَن رَّسُولِ اللّهِ وَلاَ يَرْغَبُواْ بِأَنفُسِهِمْ عَن نَّفْسِهِ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ لاَ يُصِيبُهُمْ ظَمَأٌ وَلاَ نَصَبٌ وَلاَ مَخْمَصَةٌ فِي سَبِيلِ اللّهِ وَلاَ يَطَؤُونَ مَوْطِئًا يَغِيظُ الْكُفَّارَ وَلاَ يَنَالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَّيْلاً إِلاَّ كُتِبَ لَهُم بِهِ عَمَلٌ صَالِحٌ إِنَّ اللّهَ لاَ يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ، وَلاَ يُنفِقُونَ نَفَقَةً صَغِيرَةً وَلاَ كَبِيرَةً وَلاَ يَقْطَعُونَ وَادِياً إِلاَّ كُتِبَ لَهُمْ لِيَجْزِيَهُمُ اللّهُ أَحْسَنَ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ] (التوبة: 120 - 121)

"مدینہ والوں اور ان کے آس پاس دیہات کے رہنے والوں کےلیے یہ مناسب نہیں تھا کہ اللہ کے رسول سے پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ کہ اپنی جانوں کو اس کی جان سے زیادہ عزیز سمجھیں، یہ اس لیے ہے کہ انہیں اللہ کی راہ میں جو تکلیف پہنچتی ہے پیاس کی یا ماندگی کی یا بھوک کی یا وہ ایسی جگہ چلتے ہیں جو کافروں کے غصہ کو بھڑکائے اور یا کافروں سے کوئی چیز چھین لیتے ہیں ہر بات پر ان کے لیے عمل صالح لکھا جاتا ہے، بے شک اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔اور جو وہ تھوڑا یا بہت خرچ کرتے ہیں یا کوئی میدان طے کرتے ہیں تو یہ سب کچھ ان کے لیے لکھ لیا جاتا ہے تاکہ اللہ انہیں ان کے اعمال کا اچھا بدلہ دے۔"

پھر کیوں اللہ تعالی نے جو چیز ہم سے مانگی ہے؛ کوشش،مال وغیرہ اس کی ادائیگی میں ہم سستی  کا مظاہرہ کرتے ہیں؟ کیوں لوگوں سے جب ان کے ذمے  شرعی حقوق  مانگے جاتے ہیں جیسے خمس و ذکات  تو اسے ادا کرنے میں قیل وقال سے کام لیتے ہیں اور اللہ تعالی پر بھروسہ نہیں کرتے؟

اللہ تعالی کا فرمان ہے: [ثُمَّ نُنَجِّي رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُواْ كَذَلِكَ حَقّاً عَلَيْنَا نُنجِ الْمُؤْمِنِينَ] (يونس: 103)." پھر ہم بچا لیتےہیں اپنے رسولوں کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لاتے ہیں، اسی طرح ہمارا ذمہ ہے کہ ایمان والوں کو بچا لیں۔"

اور ان میں سے کچھ آیات سورہ مبارکہ محمد میں سے ہیں، اور اگر آپ اپنی روح ، فکر اور دل کو بنی نوع انسان کی زندگی کے اس خوشگوار وقت کی طرف منتقل کرسکیں اور یہ تصور کرسکیں کہ آپ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور انکے آس پاس کی اس مومن جماعت میں شامل ہیں جو اس رسالت کے آغاز سے ہی  اس مشکل وقت میں  ان  کے ساتھ تھے اور جب  قریش کے مقابلے میں ان کی تعداد کم تھی اور قریش بہت تکلیف دیتے تھےیہاں تک کہ  جنگ احزاب کے بعد مشرکین دب گئے اور مایوسی کا شکار ہوگئے اور پہل کرنے کی ڈور رسول اللہ (صلى الله عليه وآله) کے ہاتھ آگئی اور فتوحات کا سلسلہ جاری رہا،؛ فتح خیبر سے لے کر فتح  مکہ  اور طائف تک پھر یمن اور پھر پورے جزیرہ  کی فتح تک،آپ تصور کریں کہ آپ وہاں پر موجود ہیں  اور آپ پر یہ عظیم قرآنی خطاب نازل ہوتا ہے،آپ کے رب کی طرف سے جو کہ آپ کے امور کی تدبیر کرتا ہے اور زمین و آسمانوں کا خالق ہے، آپ سے براہ راست گفتگو کرتا ہے:

 [بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ] [الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّهِ أَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ، وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَآمَنُوا بِمَا نُزِّلَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَهُوَ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَأَصْلَحَ بَالَهُمْ، ذَلِكَ بِأَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَأَنَّ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِن رَّبِّهِمْ كَذَلِكَ يَضْرِبُ اللَّهُ لِلنَّاسِ أَمْثَالَهُمْ، فإذا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّى إذا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنّاً بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاء حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ذَلِكَ وَلَوْ يَشَاء اللَّهُ لانتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَكِن لِّيَبْلُوَ بَعْضَكُم بِبَعْضٍ وَالَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَلَن يُضِلَّ أَعْمَالَهُمْ، سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ، وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ، يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ، وَالَّذِينَ كَفَرُوا فَتَعْساً لَّهُمْ وَأَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ، ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَرِهُوا مَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأَحْبَطَ أَعْمَالَهُمْ، أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ دَمَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَلِلْكَافِرِينَ أَمْثَالُهَا، ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَأَنَّ الْكَافِرِينَ لا مَوْلَى لَهُمْ([1])، إِنَّ اللَّهَ يُدْخِلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الأَنْهَارُ وَالَّذِينَ كَفَرُوا يَتَمَتَّعُونَ وَيَأْكُلُونَ كَمَا تَأْكُلُ الأَنْعَامُ وَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ، وَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ هِيَ أَشَدُّ قُوَّةً مِّن قَرْيَتِكَ الَّتِي أَخْرَجَتْكَ أَهْلَكْنَاهُمْ فَلا نَاصِرَ لَهُمْ، أَفَمَن كَانَ عَلَى بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّهِ كَمَن زُيِّنَ لَهُ سُوءُ عَمَلِهِ وَاتَّبَعُوا أَهْوَاءهُمْ] (محمد:1-14)

" وہ لوگ جو منکر ہوئے اور انہوں نے لوگوں کو بھی اللہ کے راستہ سے روکا تو اللہ نے ان کے اعمال برباد کر دیے۔اور وہ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے اور جو کچھ محمد پر نازل کیا گیا اس پر بھی ایمان لائے حالانکہ وہ ان کے رب کی طرف سے برحق بھی ہے، تو اللہ ان کی برائیوں کو مٹا دے گا اور ان کا حال درست کرے گا۔یہ اس لیے کہ جو لوگ منکر ہیں انہوں نے جھوٹ کی پیروی کی اور جو لوگ ایمان لائے انہوں نے اپنے رب کی طرف سے حق کی پیروی کی، اسی طرح اللہ لوگوں کے لیے ان کی مثالیں بیان کرتا ہے۔پس جب تم ان کے مقابل ہو جو کافر ہیں تو ان کی گردنیں مارو، یہاں تک کہ جب تم ان کو خوب مغلوب کرلو تو ان کی مشکیں کس لو، پھر یا تو اس کے بعد احسان کرو یا تاوان لے لو یہاں تک کہ لڑائی والے اپنے ہتھیار ڈال دیں، یہی (حکم) ہے، اور اگر اللہ چاہتا تو ان سے خود ہی بدلہ لے لیتا لیکن وہ تمہارا ایک دوسرے کے ساتھ امتحان کرنا چاہتا ہے، اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے ہیں اللہ ان کے اعمال برباد نہیں کرے گا۔جلدی انہیں راہ دکھائے گا اور ان کا حال درست کر دے گا۔اور انہیں بہشت میں داخل کرے گا جس کی حقیقت انہیں بتا دی ہے۔اے ایمان والو! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جمائے رکھے گا۔اور جو منکر ہیں سو ان کے لیے تباہی ہے اور وہ ان کے اعمال اکارت کر دے گا۔یہ اس لیے کہ انہیں نے ناپسند کیا جو اللہ نے اتارا ہے، سو اس نے ان کے اعمال ضائع کر دیے۔کیا انہوں نے زمین میں سیر نہیں کی کہ وہ دیکھتے ان کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے تھے، اللہ نے انہیں ہلاک کر دیا اور منکروں کے لیے ایسی ہی (سزائیں) ہیں۔یہ اس لیے کہ اللہ ان کا حامی ہے جو ایمان لائے اور کفار کا کوئی بھی حامی نہیں۔بے شک اللہ انہیں داخل کرے گا جو ایمان لائے اور نیک کام کیے بہشتوں میں جن کے نبیچے نہریں بہتی ہوں گی، اور جو کافر ہیں وہ عیش کر رہے ہیں اور اس طرح کھاتے ہیں جس طرح چار پائے کھاتے ہیں اور دوزخ ان کا ٹھکانہ ہے۔اور کتنی ہی بستیاں تھیں جو آپ کی اس بستی سے طاقت میں بڑھ کر تھیں جس کے رہنے والوں نے آپ کو نکال دیا ہے، ہم نے انہیں ہلاک کر دیا تو ان کا کوئی بھی مددگار نہ ہوا۔پس کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل پر ہو وہ اس جیسا ہو سکتا ہے جسے اس کے برے عمل اچھے کر کے دکھائے گئے ہوں اور انہوں نے اپنی ہی خواہشوں کی پیروی کی ہو۔"

[وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم فِي الأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ] (النور: 55).

"اللہ نے ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو تم میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کیے کہ انہیں ضرور ملک کی حکومت عطا کرے گا جیسا کہ ان سے پہلوں کو عطا کی تھی، اور ان کے لیے جس دین کو پسند کیا ہے اسے ضرور مستحکم کر دے گا اور البتہ ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا، بشرطیکہ میری عبادت کرتے رہیں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، اور جو اس کے بعد ناشکری کرے وہی فاسق ہوں گے۔"

اس دوران  میں ، وہ  ان منافقین کی کوششوں سے آگاہ کرتا ہے جو مومنین  کا کفار سے روبرو ہونے کا مذاق اڑاتے ہیں اور ان کے کم امکانات کا مسخرہ کرتے ہیں لیکن اس بات سے غافل ہیں کہ مومنین کی طاقت کا راز ان کا اللہ تعالی سے ارتباط ہے،اللہ تعالی فرماتا ہے: [إِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ غَرَّ هَؤُلاء دِينُهُمْ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللّهِ فإن اللّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ](الأنفال: 49). "اس وقت منافق اور جن کے دلوں میں مرض تھا کہتے تھے کہ انہیں ان کے دین نے مغلوب کر رکھا ہے، اور جو کوئی اللہ پر بھروسہ کرے تو اللہ زبردست حکمت والا ہے۔"

اور اسی  سیاق میں مندرج ہیں :کفار کے ساتھ رو برو ہونے کی فقہ- اللہ تعالی  کی مدد، غلبہ اور زمین کی وراثت کے سارے وعدے، کہ عاقبت انہی کی ہے، اور اللہ تعالی انہی کے ساتھ ہے، اور اللہ تعالی کی طرف سے سکون لے کر فرشتے ان پر نازل ہوتے ہیں، ان سے ڈر اور خوف کا رفع کرنا، ان سے معاملہ کرنا اور ان سے جنت کے بدلے ان کے نفوس کو خریدنا، اس کے ساتھ ہی خداتعالیٰ پر قرض دوگنا کرنا اور اس کے لئے خرچ کرنا۔ یہ مختصر کتاب ہے ان   تمام تفصیلات کی یہاں گنجائش نہیں۔

سب سے بڑی حقیقت جسے قرآن اس مورد میں  ثابت کرتا ہے وہ یہ ہے کہ فتح اور شکست خارجی دشمن  - کفار- کے سامنے  حقیقت میں اپنے داخلی دشمن یعنی نفس امارہ  جو کہ شیطان ہے،کی فتح اور شکست کی فرع ہے،آپ دیکھتے ہو  کہ جب مومنین سے زمین کی خلافت اور اس کی وراثت کی بات ہوتی ہے اور جو کچھ اس میں ہے، تو سب سے پہلی بات اصلاح نفس کی ہوتی ہے اور احکام الیہ کو اپنے نفس پر نافذ کرنے کی ہوتی ہے، اللہ تعالی فرماتا ہے: [وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ، وَنُمَكِّنَ لَهُمْ فِي الأَرْضِ وَنُرِي فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَجُنُودَهُمَا مِنْهُم مَّا كَانُوا يَحْذَرُونَ](القصص: 5 - 6)، "اور ہم چاہتے تھے کہ ان پر احسان کریں جو ملک میں کمزور کیے گئے تھے اور انہیں سردار بنا دیں اور انہیں وارث کریں۔اور انہیں ملک پر قابض کریں اور فرعون اور ہامان اور ان کے لشکروں کو وہ چیز دکھا دیں جس کا وہ خطرہ کرتے تھے۔"

پس پہلے ان کو آئمہ قرار دیا  یعنی ان کی ذات کو پاک کیا  اور اس بات پر زور لگایا کہ کفار پر فتح کی کوئی قیمت نہیں  جب یہ فتح شیطان پر فتح سے متصل نہ ہو اور عمل اللہ تعالی کےلیے خالص نہ ہو، چونکہ اگر عمل اللہ تعالی کی رضا کےلیے نہ ہو تو ان میں اور کفار میں کوئی فرق نہیں ، دونوں کے دونوں اہل دنیا ہیں اور آخرت میں ان کےلیے کوئی نصیب نہیں۔

مثال کے طور پر ، احد کی لڑائی میں مسلمانوں کی شکست اور ان کو جو تکلیف دہ نقصان پہنچا ، اس دوران اللہ سبحانہ  ان سے مخاطب ہوا : [إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْاْ مِنكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُواْ]( آل عمران: 155) "بے شک وہ لوگ جو تم سے پیٹھ پھیر گئے جس دن دونوں فوجیں ملیں سو شیطان نے ان کے گناہ کے سبب سے انہیں بہکا دیا تھا، "

پس ان کی شکست اور ان کا پیٹھ دکھانا یہ سب کچھ ان گناہوں کی وجہ سے تھا جن کا یہ مرتکب ہوچکے تھے،اس کے مقابلے میں اللہ تعالی فرماتا ہے: [إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ]( محمد: 7)،" اگر تم اللہ کی مدد کروگے تو اللہ بھی تمھاری مدد کرے گا٫"

اور اللہ کی مدد اس کی اطاعت کے ساتھ ہوتی ہے ورنہ وہ ہر چیز سے غنی ہے، جو آیت گزر چکی[وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ]،

یہاں پر رسول اللہ (صلى الله عليه واله وسلم) مجاہدین کے ایک گروہ سے جو کہ جنگ سے واپس آرہے تھے، مخاطب ہوئے اور فرمایا: (مرحبا بكم، قضيتم الجهاد الأصغر وبقي عليكم الجهاد الأكبر. قيل: وما هو يا رسول الله؟ قال: جهاد النفس)([2]).

" خوش آمدید ابھی تم جہاد اصغر سے لوٹ رہے ہو ابھی جہاد اکبر باقی ہے تو کہا گیا وہ کیا  ہےیا رسول اللہ ؟ فرمایا : وہ جہاد النفس ہے۔"

 



([1])یہ آیت  مومنین کے رو برو ہونےکے عمومی ڈھانچے کو بیان کرتی ہے کہ ان کا ایک  مولی ہے ان کا ایک مالک ہے جو ان کی دیکھ بھال کرتا ہے اور ان کی پرورش ، خوشی اور کامیابی کا خیال رکھتا ہے اور وہ اللہ تعالی و تبارک ہے جبکہ کفار کا کوئی سرپرست نہیں بلکہ ان کا سرپرست شیطان ہے جو کہ کمزور ہے،جب سامنا ہوتا ہے تو فرار کرجاتا ہے اور ان کو ذلیل کرتا ہے۔ اور جس وقت شیطان نے ان کے اعمال کو ان کی نظروں میں خوشنما کر دیا اور کہا کہ آج کے دن لوگوں میں سے کوئی بھی تم پر غالب نہ ہوگا اور میں تمہارا حمایتی ہوں، پھر جب دونوں فوجیں سامنے ہوئیں تو وہ اپنی ایڑیوں پر الٹا پھرا اور کہا میں تمہارے ساتھ نہیں ہوں میں ایسی چیز دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے میں اللہ سے ڈرتا ہوں، اور اللہ سخت عذاب کرنے والا ہے۔

([2]) الكافي: 5/12 ، باب: وجوه الجهاد.

طاغوت اور کفار سے روبرو ہونے کی فقہ

یہ فقہ زندگی کے ہر پہلو کو شامل ہے۔کفار  اور طاغوت سے ارتباط برقرار رکھنے کے متعلق جسے کفار سےروبرو ہونے کی فقہ کابھی نام دیا جاسکتا ہے قرآن  کہتا ہے؟ اللہ تعالی کا فرمان ہے: [وَلاَ تَهِنُواْ فِي ابْتِغَاء الْقَوْمِ إِن تَكُونُواْ تَأْلَمُونَ فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمونَ وَتَرْجُونَ مِنَ اللّهِ مَا لاَ يَرْجُونَ وَكَانَ اللّهُ عَلِيمًا حَكِيماً] (النساء: 104)، "اور ان (دشمن) لوگوں کا تعاقب کرنے سے ہمت نہ ہارو، اگر تم تکلیف اٹھاتے ہو تو وہ بھی تمہاری طرح تکلیف اٹھاتے ہیں، حالانکہ تم اللہ سے جس چیز کے امیدوار ہو وہ نہیں ہیں، اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے۔"

جہاں نقصان دونوں طرف برابر ہے تو ان کی ملاقات سے فرار کیوں؟فرق یہ ہے کہ آپ  آخرت میں اللہ کی طرف جو کچھ ملنے والا ہے اس سے پر امید ہو اور اس میں کوئی نقصان نہیں  لیکن ان کےلیے اللہ کے پاس سوائے دردناک عذاب کے کچھ نہیں جس کی وہ امید رکھیں۔

اللہ تعالی کا قول ہے: [وَظَنُّوا أَنَّهُم مَّانِعَتُهُمْ حُصُونُهُم مِّنَ اللَّهِ فَأَتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوا وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ يُخْرِبُونَ بُيُوتَهُم بِأَيْدِيهِمْ وَأَيْدِي الْمُؤْمِنِينَ فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الأَبْصَارِ] (الحشر: 2). "حالانکہ تمہیں ان کے نکلنے کا گمان بھی نہ تھا، اور وہ یہی سمجھ رہے تھے کہ ان کے قلعے انہیں اللہ سے بچا لیں گے پھر اللہ کا عذاب ان پر وہاں سے آیا کہ جہاں کا ان کو گمان بھی نہ تھا، اور ان کے دلوں میں ہیبت ڈال دی، کہ اپنے گھروں کو خود اپنے اور مسلمانوں کے ہاتھوں سے اجاڑنے لگے، پس اے آنکھوں والو عبرت حاصل کرو۔"

اللہ تعالی کا فرمان ہے: [مَا كَانَ لأَهْلِ الْمَدِينَةِ وَمَنْ حَوْلَهُم مِّنَ الأَعْرَابِ أَن يَتَخَلَّفُواْ عَن رَّسُولِ اللّهِ وَلاَ يَرْغَبُواْ بِأَنفُسِهِمْ عَن نَّفْسِهِ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ لاَ يُصِيبُهُمْ ظَمَأٌ وَلاَ نَصَبٌ وَلاَ مَخْمَصَةٌ فِي سَبِيلِ اللّهِ وَلاَ يَطَؤُونَ مَوْطِئًا يَغِيظُ الْكُفَّارَ وَلاَ يَنَالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَّيْلاً إِلاَّ كُتِبَ لَهُم بِهِ عَمَلٌ صَالِحٌ إِنَّ اللّهَ لاَ يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ، وَلاَ يُنفِقُونَ نَفَقَةً صَغِيرَةً وَلاَ كَبِيرَةً وَلاَ يَقْطَعُونَ وَادِياً إِلاَّ كُتِبَ لَهُمْ لِيَجْزِيَهُمُ اللّهُ أَحْسَنَ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ] (التوبة: 120 - 121)

"مدینہ والوں اور ان کے آس پاس دیہات کے رہنے والوں کےلیے یہ مناسب نہیں تھا کہ اللہ کے رسول سے پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ کہ اپنی جانوں کو اس کی جان سے زیادہ عزیز سمجھیں، یہ اس لیے ہے کہ انہیں اللہ کی راہ میں جو تکلیف پہنچتی ہے پیاس کی یا ماندگی کی یا بھوک کی یا وہ ایسی جگہ چلتے ہیں جو کافروں کے غصہ کو بھڑکائے اور یا کافروں سے کوئی چیز چھین لیتے ہیں ہر بات پر ان کے لیے عمل صالح لکھا جاتا ہے، بے شک اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔اور جو وہ تھوڑا یا بہت خرچ کرتے ہیں یا کوئی میدان طے کرتے ہیں تو یہ سب کچھ ان کے لیے لکھ لیا جاتا ہے تاکہ اللہ انہیں ان کے اعمال کا اچھا بدلہ دے۔"

پھر کیوں اللہ تعالی نے جو چیز ہم سے مانگی ہے؛ کوشش،مال وغیرہ اس کی ادائیگی میں ہم سستی  کا مظاہرہ کرتے ہیں؟ کیوں لوگوں سے جب ان کے ذمے  شرعی حقوق  مانگے جاتے ہیں جیسے خمس و ذکات  تو اسے ادا کرنے میں قیل وقال سے کام لیتے ہیں اور اللہ تعالی پر بھروسہ نہیں کرتے؟

اللہ تعالی کا فرمان ہے: [ثُمَّ نُنَجِّي رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُواْ كَذَلِكَ حَقّاً عَلَيْنَا نُنجِ الْمُؤْمِنِينَ] (يونس: 103)." پھر ہم بچا لیتےہیں اپنے رسولوں کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لاتے ہیں، اسی طرح ہمارا ذمہ ہے کہ ایمان والوں کو بچا لیں۔"

اور ان میں سے کچھ آیات سورہ مبارکہ محمد میں سے ہیں، اور اگر آپ اپنی روح ، فکر اور دل کو بنی نوع انسان کی زندگی کے اس خوشگوار وقت کی طرف منتقل کرسکیں اور یہ تصور کرسکیں کہ آپ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور انکے آس پاس کی اس مومن جماعت میں شامل ہیں جو اس رسالت کے آغاز سے ہی  اس مشکل وقت میں  ان  کے ساتھ تھے اور جب  قریش کے مقابلے میں ان کی تعداد کم تھی اور قریش بہت تکلیف دیتے تھےیہاں تک کہ  جنگ احزاب کے بعد مشرکین دب گئے اور مایوسی کا شکار ہوگئے اور پہل کرنے کی ڈور رسول اللہ (صلى الله عليه وآله) کے ہاتھ آگئی اور فتوحات کا سلسلہ جاری رہا،؛ فتح خیبر سے لے کر فتح  مکہ  اور طائف تک پھر یمن اور پھر پورے جزیرہ  کی فتح تک،آپ تصور کریں کہ آپ وہاں پر موجود ہیں  اور آپ پر یہ عظیم قرآنی خطاب نازل ہوتا ہے،آپ کے رب کی طرف سے جو کہ آپ کے امور کی تدبیر کرتا ہے اور زمین و آسمانوں کا خالق ہے، آپ سے براہ راست گفتگو کرتا ہے:

 [بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ] [الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّهِ أَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ، وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَآمَنُوا بِمَا نُزِّلَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَهُوَ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَأَصْلَحَ بَالَهُمْ، ذَلِكَ بِأَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَأَنَّ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِن رَّبِّهِمْ كَذَلِكَ يَضْرِبُ اللَّهُ لِلنَّاسِ أَمْثَالَهُمْ، فإذا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّى إذا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنّاً بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاء حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ذَلِكَ وَلَوْ يَشَاء اللَّهُ لانتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَكِن لِّيَبْلُوَ بَعْضَكُم بِبَعْضٍ وَالَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَلَن يُضِلَّ أَعْمَالَهُمْ، سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ، وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ، يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ، وَالَّذِينَ كَفَرُوا فَتَعْساً لَّهُمْ وَأَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ، ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَرِهُوا مَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأَحْبَطَ أَعْمَالَهُمْ، أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ دَمَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَلِلْكَافِرِينَ أَمْثَالُهَا، ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَأَنَّ الْكَافِرِينَ لا مَوْلَى لَهُمْ([1])، إِنَّ اللَّهَ يُدْخِلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الأَنْهَارُ وَالَّذِينَ كَفَرُوا يَتَمَتَّعُونَ وَيَأْكُلُونَ كَمَا تَأْكُلُ الأَنْعَامُ وَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ، وَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ هِيَ أَشَدُّ قُوَّةً مِّن قَرْيَتِكَ الَّتِي أَخْرَجَتْكَ أَهْلَكْنَاهُمْ فَلا نَاصِرَ لَهُمْ، أَفَمَن كَانَ عَلَى بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّهِ كَمَن زُيِّنَ لَهُ سُوءُ عَمَلِهِ وَاتَّبَعُوا أَهْوَاءهُمْ] (محمد:1-14)

" وہ لوگ جو منکر ہوئے اور انہوں نے لوگوں کو بھی اللہ کے راستہ سے روکا تو اللہ نے ان کے اعمال برباد کر دیے۔اور وہ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے اور جو کچھ محمد پر نازل کیا گیا اس پر بھی ایمان لائے حالانکہ وہ ان کے رب کی طرف سے برحق بھی ہے، تو اللہ ان کی برائیوں کو مٹا دے گا اور ان کا حال درست کرے گا۔یہ اس لیے کہ جو لوگ منکر ہیں انہوں نے جھوٹ کی پیروی کی اور جو لوگ ایمان لائے انہوں نے اپنے رب کی طرف سے حق کی پیروی کی، اسی طرح اللہ لوگوں کے لیے ان کی مثالیں بیان کرتا ہے۔پس جب تم ان کے مقابل ہو جو کافر ہیں تو ان کی گردنیں مارو، یہاں تک کہ جب تم ان کو خوب مغلوب کرلو تو ان کی مشکیں کس لو، پھر یا تو اس کے بعد احسان کرو یا تاوان لے لو یہاں تک کہ لڑائی والے اپنے ہتھیار ڈال دیں، یہی (حکم) ہے، اور اگر اللہ چاہتا تو ان سے خود ہی بدلہ لے لیتا لیکن وہ تمہارا ایک دوسرے کے ساتھ امتحان کرنا چاہتا ہے، اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے ہیں اللہ ان کے اعمال برباد نہیں کرے گا۔جلدی انہیں راہ دکھائے گا اور ان کا حال درست کر دے گا۔اور انہیں بہشت میں داخل کرے گا جس کی حقیقت انہیں بتا دی ہے۔اے ایمان والو! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جمائے رکھے گا۔اور جو منکر ہیں سو ان کے لیے تباہی ہے اور وہ ان کے اعمال اکارت کر دے گا۔یہ اس لیے کہ انہیں نے ناپسند کیا جو اللہ نے اتارا ہے، سو اس نے ان کے اعمال ضائع کر دیے۔کیا انہوں نے زمین میں سیر نہیں کی کہ وہ دیکھتے ان کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے تھے، اللہ نے انہیں ہلاک کر دیا اور منکروں کے لیے ایسی ہی (سزائیں) ہیں۔یہ اس لیے کہ اللہ ان کا حامی ہے جو ایمان لائے اور کفار کا کوئی بھی حامی نہیں۔بے شک اللہ انہیں داخل کرے گا جو ایمان لائے اور نیک کام کیے بہشتوں میں جن کے نبیچے نہریں بہتی ہوں گی، اور جو کافر ہیں وہ عیش کر رہے ہیں اور اس طرح کھاتے ہیں جس طرح چار پائے کھاتے ہیں اور دوزخ ان کا ٹھکانہ ہے۔اور کتنی ہی بستیاں تھیں جو آپ کی اس بستی سے طاقت میں بڑھ کر تھیں جس کے رہنے والوں نے آپ کو نکال دیا ہے، ہم نے انہیں ہلاک کر دیا تو ان کا کوئی بھی مددگار نہ ہوا۔پس کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل پر ہو وہ اس جیسا ہو سکتا ہے جسے اس کے برے عمل اچھے کر کے دکھائے گئے ہوں اور انہوں نے اپنی ہی خواہشوں کی پیروی کی ہو۔"

[وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم فِي الأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ] (النور: 55).

"اللہ نے ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو تم میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کیے کہ انہیں ضرور ملک کی حکومت عطا کرے گا جیسا کہ ان سے پہلوں کو عطا کی تھی، اور ان کے لیے جس دین کو پسند کیا ہے اسے ضرور مستحکم کر دے گا اور البتہ ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا، بشرطیکہ میری عبادت کرتے رہیں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، اور جو اس کے بعد ناشکری کرے وہی فاسق ہوں گے۔"

اس دوران  میں ، وہ  ان منافقین کی کوششوں سے آگاہ کرتا ہے جو مومنین  کا کفار سے روبرو ہونے کا مذاق اڑاتے ہیں اور ان کے کم امکانات کا مسخرہ کرتے ہیں لیکن اس بات سے غافل ہیں کہ مومنین کی طاقت کا راز ان کا اللہ تعالی سے ارتباط ہے،اللہ تعالی فرماتا ہے: [إِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ غَرَّ هَؤُلاء دِينُهُمْ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللّهِ فإن اللّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ](الأنفال: 49). "اس وقت منافق اور جن کے دلوں میں مرض تھا کہتے تھے کہ انہیں ان کے دین نے مغلوب کر رکھا ہے، اور جو کوئی اللہ پر بھروسہ کرے تو اللہ زبردست حکمت والا ہے۔"

اور اسی  سیاق میں مندرج ہیں :کفار کے ساتھ رو برو ہونے کی فقہ- اللہ تعالی  کی مدد، غلبہ اور زمین کی وراثت کے سارے وعدے، کہ عاقبت انہی کی ہے، اور اللہ تعالی انہی کے ساتھ ہے، اور اللہ تعالی کی طرف سے سکون لے کر فرشتے ان پر نازل ہوتے ہیں، ان سے ڈر اور خوف کا رفع کرنا، ان سے معاملہ کرنا اور ان سے جنت کے بدلے ان کے نفوس کو خریدنا، اس کے ساتھ ہی خداتعالیٰ پر قرض دوگنا کرنا اور اس کے لئے خرچ کرنا۔ یہ مختصر کتاب ہے ان   تمام تفصیلات کی یہاں گنجائش نہیں۔

سب سے بڑی حقیقت جسے قرآن اس مورد میں  ثابت کرتا ہے وہ یہ ہے کہ فتح اور شکست خارجی دشمن  - کفار- کے سامنے  حقیقت میں اپنے داخلی دشمن یعنی نفس امارہ  جو کہ شیطان ہے،کی فتح اور شکست کی فرع ہے،آپ دیکھتے ہو  کہ جب مومنین سے زمین کی خلافت اور اس کی وراثت کی بات ہوتی ہے اور جو کچھ اس میں ہے، تو سب سے پہلی بات اصلاح نفس کی ہوتی ہے اور احکام الیہ کو اپنے نفس پر نافذ کرنے کی ہوتی ہے، اللہ تعالی فرماتا ہے: [وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ، وَنُمَكِّنَ لَهُمْ فِي الأَرْضِ وَنُرِي فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَجُنُودَهُمَا مِنْهُم مَّا كَانُوا يَحْذَرُونَ](القصص: 5 - 6)، "اور ہم چاہتے تھے کہ ان پر احسان کریں جو ملک میں کمزور کیے گئے تھے اور انہیں سردار بنا دیں اور انہیں وارث کریں۔اور انہیں ملک پر قابض کریں اور فرعون اور ہامان اور ان کے لشکروں کو وہ چیز دکھا دیں جس کا وہ خطرہ کرتے تھے۔"

پس پہلے ان کو آئمہ قرار دیا  یعنی ان کی ذات کو پاک کیا  اور اس بات پر زور لگایا کہ کفار پر فتح کی کوئی قیمت نہیں  جب یہ فتح شیطان پر فتح سے متصل نہ ہو اور عمل اللہ تعالی کےلیے خالص نہ ہو، چونکہ اگر عمل اللہ تعالی کی رضا کےلیے نہ ہو تو ان میں اور کفار میں کوئی فرق نہیں ، دونوں کے دونوں اہل دنیا ہیں اور آخرت میں ان کےلیے کوئی نصیب نہیں۔

مثال کے طور پر ، احد کی لڑائی میں مسلمانوں کی شکست اور ان کو جو تکلیف دہ نقصان پہنچا ، اس دوران اللہ سبحانہ  ان سے مخاطب ہوا : [إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْاْ مِنكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُواْ]( آل عمران: 155) "بے شک وہ لوگ جو تم سے پیٹھ پھیر گئے جس دن دونوں فوجیں ملیں سو شیطان نے ان کے گناہ کے سبب سے انہیں بہکا دیا تھا، "

پس ان کی شکست اور ان کا پیٹھ دکھانا یہ سب کچھ ان گناہوں کی وجہ سے تھا جن کا یہ مرتکب ہوچکے تھے،اس کے مقابلے میں اللہ تعالی فرماتا ہے: [إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ]( محمد: 7)،" اگر تم اللہ کی مدد کروگے تو اللہ بھی تمھاری مدد کرے گا٫"

اور اللہ کی مدد اس کی اطاعت کے ساتھ ہوتی ہے ورنہ وہ ہر چیز سے غنی ہے، جو آیت گزر چکی[وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ]،

یہاں پر رسول اللہ (صلى الله عليه واله وسلم) مجاہدین کے ایک گروہ سے جو کہ جنگ سے واپس آرہے تھے، مخاطب ہوئے اور فرمایا: (مرحبا بكم، قضيتم الجهاد الأصغر وبقي عليكم الجهاد الأكبر. قيل: وما هو يا رسول الله؟ قال: جهاد النفس)([2]).

" خوش آمدید ابھی تم جہاد اصغر سے لوٹ رہے ہو ابھی جہاد اکبر باقی ہے تو کہا گیا وہ کیا  ہےیا رسول اللہ ؟ فرمایا : وہ جہاد النفس ہے۔"

 



([1])یہ آیت  مومنین کے رو برو ہونےکے عمومی ڈھانچے کو بیان کرتی ہے کہ ان کا ایک  مولی ہے ان کا ایک مالک ہے جو ان کی دیکھ بھال کرتا ہے اور ان کی پرورش ، خوشی اور کامیابی کا خیال رکھتا ہے اور وہ اللہ تعالی و تبارک ہے جبکہ کفار کا کوئی سرپرست نہیں بلکہ ان کا سرپرست شیطان ہے جو کہ کمزور ہے،جب سامنا ہوتا ہے تو فرار کرجاتا ہے اور ان کو ذلیل کرتا ہے۔ اور جس وقت شیطان نے ان کے اعمال کو ان کی نظروں میں خوشنما کر دیا اور کہا کہ آج کے دن لوگوں میں سے کوئی بھی تم پر غالب نہ ہوگا اور میں تمہارا حمایتی ہوں، پھر جب دونوں فوجیں سامنے ہوئیں تو وہ اپنی ایڑیوں پر الٹا پھرا اور کہا میں تمہارے ساتھ نہیں ہوں میں ایسی چیز دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے میں اللہ سے ڈرتا ہوں، اور اللہ سخت عذاب کرنے والا ہے۔

([2]) الكافي: 5/12 ، باب: وجوه الجهاد.

طاغوت اور کفار سے روبرو ہونے کی فقہ

یہ فقہ زندگی کے ہر پہلو کو شامل ہے۔کفار  اور طاغوت سے ارتباط برقرار رکھنے کے متعلق جسے کفار سےروبرو ہونے کی فقہ کابھی نام دیا جاسکتا ہے قرآن  کہتا ہے؟ اللہ تعالی کا فرمان ہے: [وَلاَ تَهِنُواْ فِي ابْتِغَاء الْقَوْمِ إِن تَكُونُواْ تَأْلَمُونَ فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمونَ وَتَرْجُونَ مِنَ اللّهِ مَا لاَ يَرْجُونَ وَكَانَ اللّهُ عَلِيمًا حَكِيماً] (النساء: 104)، "اور ان (دشمن) لوگوں کا تعاقب کرنے سے ہمت نہ ہارو، اگر تم تکلیف اٹھاتے ہو تو وہ بھی تمہاری طرح تکلیف اٹھاتے ہیں، حالانکہ تم اللہ سے جس چیز کے امیدوار ہو وہ نہیں ہیں، اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے۔"

جہاں نقصان دونوں طرف برابر ہے تو ان کی ملاقات سے فرار کیوں؟فرق یہ ہے کہ آپ  آخرت میں اللہ کی طرف جو کچھ ملنے والا ہے اس سے پر امید ہو اور اس میں کوئی نقصان نہیں  لیکن ان کےلیے اللہ کے پاس سوائے دردناک عذاب کے کچھ نہیں جس کی وہ امید رکھیں۔

اللہ تعالی کا قول ہے: [وَظَنُّوا أَنَّهُم مَّانِعَتُهُمْ حُصُونُهُم مِّنَ اللَّهِ فَأَتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوا وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ يُخْرِبُونَ بُيُوتَهُم بِأَيْدِيهِمْ وَأَيْدِي الْمُؤْمِنِينَ فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الأَبْصَارِ] (الحشر: 2). "حالانکہ تمہیں ان کے نکلنے کا گمان بھی نہ تھا، اور وہ یہی سمجھ رہے تھے کہ ان کے قلعے انہیں اللہ سے بچا لیں گے پھر اللہ کا عذاب ان پر وہاں سے آیا کہ جہاں کا ان کو گمان بھی نہ تھا، اور ان کے دلوں میں ہیبت ڈال دی، کہ اپنے گھروں کو خود اپنے اور مسلمانوں کے ہاتھوں سے اجاڑنے لگے، پس اے آنکھوں والو عبرت حاصل کرو۔"

اللہ تعالی کا فرمان ہے: [مَا كَانَ لأَهْلِ الْمَدِينَةِ وَمَنْ حَوْلَهُم مِّنَ الأَعْرَابِ أَن يَتَخَلَّفُواْ عَن رَّسُولِ اللّهِ وَلاَ يَرْغَبُواْ بِأَنفُسِهِمْ عَن نَّفْسِهِ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ لاَ يُصِيبُهُمْ ظَمَأٌ وَلاَ نَصَبٌ وَلاَ مَخْمَصَةٌ فِي سَبِيلِ اللّهِ وَلاَ يَطَؤُونَ مَوْطِئًا يَغِيظُ الْكُفَّارَ وَلاَ يَنَالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَّيْلاً إِلاَّ كُتِبَ لَهُم بِهِ عَمَلٌ صَالِحٌ إِنَّ اللّهَ لاَ يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ، وَلاَ يُنفِقُونَ نَفَقَةً صَغِيرَةً وَلاَ كَبِيرَةً وَلاَ يَقْطَعُونَ وَادِياً إِلاَّ كُتِبَ لَهُمْ لِيَجْزِيَهُمُ اللّهُ أَحْسَنَ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ] (التوبة: 120 - 121)

"مدینہ والوں اور ان کے آس پاس دیہات کے رہنے والوں کےلیے یہ مناسب نہیں تھا کہ اللہ کے رسول سے پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ کہ اپنی جانوں کو اس کی جان سے زیادہ عزیز سمجھیں، یہ اس لیے ہے کہ انہیں اللہ کی راہ میں جو تکلیف پہنچتی ہے پیاس کی یا ماندگی کی یا بھوک کی یا وہ ایسی جگہ چلتے ہیں جو کافروں کے غصہ کو بھڑکائے اور یا کافروں سے کوئی چیز چھین لیتے ہیں ہر بات پر ان کے لیے عمل صالح لکھا جاتا ہے، بے شک اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔اور جو وہ تھوڑا یا بہت خرچ کرتے ہیں یا کوئی میدان طے کرتے ہیں تو یہ سب کچھ ان کے لیے لکھ لیا جاتا ہے تاکہ اللہ انہیں ان کے اعمال کا اچھا بدلہ دے۔"

پھر کیوں اللہ تعالی نے جو چیز ہم سے مانگی ہے؛ کوشش،مال وغیرہ اس کی ادائیگی میں ہم سستی  کا مظاہرہ کرتے ہیں؟ کیوں لوگوں سے جب ان کے ذمے  شرعی حقوق  مانگے جاتے ہیں جیسے خمس و ذکات  تو اسے ادا کرنے میں قیل وقال سے کام لیتے ہیں اور اللہ تعالی پر بھروسہ نہیں کرتے؟

اللہ تعالی کا فرمان ہے: [ثُمَّ نُنَجِّي رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُواْ كَذَلِكَ حَقّاً عَلَيْنَا نُنجِ الْمُؤْمِنِينَ] (يونس: 103)." پھر ہم بچا لیتےہیں اپنے رسولوں کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لاتے ہیں، اسی طرح ہمارا ذمہ ہے کہ ایمان والوں کو بچا لیں۔"

اور ان میں سے کچھ آیات سورہ مبارکہ محمد میں سے ہیں، اور اگر آپ اپنی روح ، فکر اور دل کو بنی نوع انسان کی زندگی کے اس خوشگوار وقت کی طرف منتقل کرسکیں اور یہ تصور کرسکیں کہ آپ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور انکے آس پاس کی اس مومن جماعت میں شامل ہیں جو اس رسالت کے آغاز سے ہی  اس مشکل وقت میں  ان  کے ساتھ تھے اور جب  قریش کے مقابلے میں ان کی تعداد کم تھی اور قریش بہت تکلیف دیتے تھےیہاں تک کہ  جنگ احزاب کے بعد مشرکین دب گئے اور مایوسی کا شکار ہوگئے اور پہل کرنے کی ڈور رسول اللہ (صلى الله عليه وآله) کے ہاتھ آگئی اور فتوحات کا سلسلہ جاری رہا،؛ فتح خیبر سے لے کر فتح  مکہ  اور طائف تک پھر یمن اور پھر پورے جزیرہ  کی فتح تک،آپ تصور کریں کہ آپ وہاں پر موجود ہیں  اور آپ پر یہ عظیم قرآنی خطاب نازل ہوتا ہے،آپ کے رب کی طرف سے جو کہ آپ کے امور کی تدبیر کرتا ہے اور زمین و آسمانوں کا خالق ہے، آپ سے براہ راست گفتگو کرتا ہے:

 [بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ] [الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّهِ أَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ، وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَآمَنُوا بِمَا نُزِّلَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَهُوَ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَأَصْلَحَ بَالَهُمْ، ذَلِكَ بِأَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَأَنَّ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِن رَّبِّهِمْ كَذَلِكَ يَضْرِبُ اللَّهُ لِلنَّاسِ أَمْثَالَهُمْ، فإذا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّى إذا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنّاً بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاء حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ذَلِكَ وَلَوْ يَشَاء اللَّهُ لانتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَكِن لِّيَبْلُوَ بَعْضَكُم بِبَعْضٍ وَالَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَلَن يُضِلَّ أَعْمَالَهُمْ، سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ، وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ، يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ، وَالَّذِينَ كَفَرُوا فَتَعْساً لَّهُمْ وَأَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ، ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَرِهُوا مَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأَحْبَطَ أَعْمَالَهُمْ، أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ دَمَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَلِلْكَافِرِينَ أَمْثَالُهَا، ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَأَنَّ الْكَافِرِينَ لا مَوْلَى لَهُمْ([1])، إِنَّ اللَّهَ يُدْخِلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الأَنْهَارُ وَالَّذِينَ كَفَرُوا يَتَمَتَّعُونَ وَيَأْكُلُونَ كَمَا تَأْكُلُ الأَنْعَامُ وَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ، وَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ هِيَ أَشَدُّ قُوَّةً مِّن قَرْيَتِكَ الَّتِي أَخْرَجَتْكَ أَهْلَكْنَاهُمْ فَلا نَاصِرَ لَهُمْ، أَفَمَن كَانَ عَلَى بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّهِ كَمَن زُيِّنَ لَهُ سُوءُ عَمَلِهِ وَاتَّبَعُوا أَهْوَاءهُمْ] (محمد:1-14)

" وہ لوگ جو منکر ہوئے اور انہوں نے لوگوں کو بھی اللہ کے راستہ سے روکا تو اللہ نے ان کے اعمال برباد کر دیے۔اور وہ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے اور جو کچھ محمد پر نازل کیا گیا اس پر بھی ایمان لائے حالانکہ وہ ان کے رب کی طرف سے برحق بھی ہے، تو اللہ ان کی برائیوں کو مٹا دے گا اور ان کا حال درست کرے گا۔یہ اس لیے کہ جو لوگ منکر ہیں انہوں نے جھوٹ کی پیروی کی اور جو لوگ ایمان لائے انہوں نے اپنے رب کی طرف سے حق کی پیروی کی، اسی طرح اللہ لوگوں کے لیے ان کی مثالیں بیان کرتا ہے۔پس جب تم ان کے مقابل ہو جو کافر ہیں تو ان کی گردنیں مارو، یہاں تک کہ جب تم ان کو خوب مغلوب کرلو تو ان کی مشکیں کس لو، پھر یا تو اس کے بعد احسان کرو یا تاوان لے لو یہاں تک کہ لڑائی والے اپنے ہتھیار ڈال دیں، یہی (حکم) ہے، اور اگر اللہ چاہتا تو ان سے خود ہی بدلہ لے لیتا لیکن وہ تمہارا ایک دوسرے کے ساتھ امتحان کرنا چاہتا ہے، اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے ہیں اللہ ان کے اعمال برباد نہیں کرے گا۔جلدی انہیں راہ دکھائے گا اور ان کا حال درست کر دے گا۔اور انہیں بہشت میں داخل کرے گا جس کی حقیقت انہیں بتا دی ہے۔اے ایمان والو! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جمائے رکھے گا۔اور جو منکر ہیں سو ان کے لیے تباہی ہے اور وہ ان کے اعمال اکارت کر دے گا۔یہ اس لیے کہ انہیں نے ناپسند کیا جو اللہ نے اتارا ہے، سو اس نے ان کے اعمال ضائع کر دیے۔کیا انہوں نے زمین میں سیر نہیں کی کہ وہ دیکھتے ان کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے تھے، اللہ نے انہیں ہلاک کر دیا اور منکروں کے لیے ایسی ہی (سزائیں) ہیں۔یہ اس لیے کہ اللہ ان کا حامی ہے جو ایمان لائے اور کفار کا کوئی بھی حامی نہیں۔بے شک اللہ انہیں داخل کرے گا جو ایمان لائے اور نیک کام کیے بہشتوں میں جن کے نبیچے نہریں بہتی ہوں گی، اور جو کافر ہیں وہ عیش کر رہے ہیں اور اس طرح کھاتے ہیں جس طرح چار پائے کھاتے ہیں اور دوزخ ان کا ٹھکانہ ہے۔اور کتنی ہی بستیاں تھیں جو آپ کی اس بستی سے طاقت میں بڑھ کر تھیں جس کے رہنے والوں نے آپ کو نکال دیا ہے، ہم نے انہیں ہلاک کر دیا تو ان کا کوئی بھی مددگار نہ ہوا۔پس کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل پر ہو وہ اس جیسا ہو سکتا ہے جسے اس کے برے عمل اچھے کر کے دکھائے گئے ہوں اور انہوں نے اپنی ہی خواہشوں کی پیروی کی ہو۔"

[وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم فِي الأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ] (النور: 55).

"اللہ نے ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو تم میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کیے کہ انہیں ضرور ملک کی حکومت عطا کرے گا جیسا کہ ان سے پہلوں کو عطا کی تھی، اور ان کے لیے جس دین کو پسند کیا ہے اسے ضرور مستحکم کر دے گا اور البتہ ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا، بشرطیکہ میری عبادت کرتے رہیں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، اور جو اس کے بعد ناشکری کرے وہی فاسق ہوں گے۔"

اس دوران  میں ، وہ  ان منافقین کی کوششوں سے آگاہ کرتا ہے جو مومنین  کا کفار سے روبرو ہونے کا مذاق اڑاتے ہیں اور ان کے کم امکانات کا مسخرہ کرتے ہیں لیکن اس بات سے غافل ہیں کہ مومنین کی طاقت کا راز ان کا اللہ تعالی سے ارتباط ہے،اللہ تعالی فرماتا ہے: [إِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ غَرَّ هَؤُلاء دِينُهُمْ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللّهِ فإن اللّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ](الأنفال: 49). "اس وقت منافق اور جن کے دلوں میں مرض تھا کہتے تھے کہ انہیں ان کے دین نے مغلوب کر رکھا ہے، اور جو کوئی اللہ پر بھروسہ کرے تو اللہ زبردست حکمت والا ہے۔"

اور اسی  سیاق میں مندرج ہیں :کفار کے ساتھ رو برو ہونے کی فقہ- اللہ تعالی  کی مدد، غلبہ اور زمین کی وراثت کے سارے وعدے، کہ عاقبت انہی کی ہے، اور اللہ تعالی انہی کے ساتھ ہے، اور اللہ تعالی کی طرف سے سکون لے کر فرشتے ان پر نازل ہوتے ہیں، ان سے ڈر اور خوف کا رفع کرنا، ان سے معاملہ کرنا اور ان سے جنت کے بدلے ان کے نفوس کو خریدنا، اس کے ساتھ ہی خداتعالیٰ پر قرض دوگنا کرنا اور اس کے لئے خرچ کرنا۔ یہ مختصر کتاب ہے ان   تمام تفصیلات کی یہاں گنجائش نہیں۔

سب سے بڑی حقیقت جسے قرآن اس مورد میں  ثابت کرتا ہے وہ یہ ہے کہ فتح اور شکست خارجی دشمن  - کفار- کے سامنے  حقیقت میں اپنے داخلی دشمن یعنی نفس امارہ  جو کہ شیطان ہے،کی فتح اور شکست کی فرع ہے،آپ دیکھتے ہو  کہ جب مومنین سے زمین کی خلافت اور اس کی وراثت کی بات ہوتی ہے اور جو کچھ اس میں ہے، تو سب سے پہلی بات اصلاح نفس کی ہوتی ہے اور احکام الیہ کو اپنے نفس پر نافذ کرنے کی ہوتی ہے، اللہ تعالی فرماتا ہے: [وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ، وَنُمَكِّنَ لَهُمْ فِي الأَرْضِ وَنُرِي فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَجُنُودَهُمَا مِنْهُم مَّا كَانُوا يَحْذَرُونَ](القصص: 5 - 6)، "اور ہم چاہتے تھے کہ ان پر احسان کریں جو ملک میں کمزور کیے گئے تھے اور انہیں سردار بنا دیں اور انہیں وارث کریں۔اور انہیں ملک پر قابض کریں اور فرعون اور ہامان اور ان کے لشکروں کو وہ چیز دکھا دیں جس کا وہ خطرہ کرتے تھے۔"

پس پہلے ان کو آئمہ قرار دیا  یعنی ان کی ذات کو پاک کیا  اور اس بات پر زور لگایا کہ کفار پر فتح کی کوئی قیمت نہیں  جب یہ فتح شیطان پر فتح سے متصل نہ ہو اور عمل اللہ تعالی کےلیے خالص نہ ہو، چونکہ اگر عمل اللہ تعالی کی رضا کےلیے نہ ہو تو ان میں اور کفار میں کوئی فرق نہیں ، دونوں کے دونوں اہل دنیا ہیں اور آخرت میں ان کےلیے کوئی نصیب نہیں۔

مثال کے طور پر ، احد کی لڑائی میں مسلمانوں کی شکست اور ان کو جو تکلیف دہ نقصان پہنچا ، اس دوران اللہ سبحانہ  ان سے مخاطب ہوا : [إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْاْ مِنكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُواْ]( آل عمران: 155) "بے شک وہ لوگ جو تم سے پیٹھ پھیر گئے جس دن دونوں فوجیں ملیں سو شیطان نے ان کے گناہ کے سبب سے انہیں بہکا دیا تھا، "

پس ان کی شکست اور ان کا پیٹھ دکھانا یہ سب کچھ ان گناہوں کی وجہ سے تھا جن کا یہ مرتکب ہوچکے تھے،اس کے مقابلے میں اللہ تعالی فرماتا ہے: [إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ]( محمد: 7)،" اگر تم اللہ کی مدد کروگے تو اللہ بھی تمھاری مدد کرے گا٫"

اور اللہ کی مدد اس کی اطاعت کے ساتھ ہوتی ہے ورنہ وہ ہر چیز سے غنی ہے، جو آیت گزر چکی[وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ]،

یہاں پر رسول اللہ (صلى الله عليه واله وسلم) مجاہدین کے ایک گروہ سے جو کہ جنگ سے واپس آرہے تھے، مخاطب ہوئے اور فرمایا: (مرحبا بكم، قضيتم الجهاد الأصغر وبقي عليكم الجهاد الأكبر. قيل: وما هو يا رسول الله؟ قال: جهاد النفس)([2]).

" خوش آمدید ابھی تم جہاد اصغر سے لوٹ رہے ہو ابھی جہاد اکبر باقی ہے تو کہا گیا وہ کیا  ہےیا رسول اللہ ؟ فرمایا : وہ جہاد النفس ہے۔"

 



([1])یہ آیت  مومنین کے رو برو ہونےکے عمومی ڈھانچے کو بیان کرتی ہے کہ ان کا ایک  مولی ہے ان کا ایک مالک ہے جو ان کی دیکھ بھال کرتا ہے اور ان کی پرورش ، خوشی اور کامیابی کا خیال رکھتا ہے اور وہ اللہ تعالی و تبارک ہے جبکہ کفار کا کوئی سرپرست نہیں بلکہ ان کا سرپرست شیطان ہے جو کہ کمزور ہے،جب سامنا ہوتا ہے تو فرار کرجاتا ہے اور ان کو ذلیل کرتا ہے۔ اور جس وقت شیطان نے ان کے اعمال کو ان کی نظروں میں خوشنما کر دیا اور کہا کہ آج کے دن لوگوں میں سے کوئی بھی تم پر غالب نہ ہوگا اور میں تمہارا حمایتی ہوں، پھر جب دونوں فوجیں سامنے ہوئیں تو وہ اپنی ایڑیوں پر الٹا پھرا اور کہا میں تمہارے ساتھ نہیں ہوں میں ایسی چیز دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے میں اللہ سے ڈرتا ہوں، اور اللہ سخت عذاب کرنے والا ہے۔

([2]) الكافي: 5/12 ، باب: وجوه الجهاد.

طاغوت اور کفار سے روبرو ہونے کی فقہ

یہ فقہ زندگی کے ہر پہلو کو شامل ہے۔کفار  اور طاغوت سے ارتباط برقرار رکھنے کے متعلق جسے کفار سےروبرو ہونے کی فقہ کابھی نام دیا جاسکتا ہے قرآن  کہتا ہے؟ اللہ تعالی کا فرمان ہے: [وَلاَ تَهِنُواْ فِي ابْتِغَاء الْقَوْمِ إِن تَكُونُواْ تَأْلَمُونَ فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمونَ وَتَرْجُونَ مِنَ اللّهِ مَا لاَ يَرْجُونَ وَكَانَ اللّهُ عَلِيمًا حَكِيماً] (النساء: 104)، "اور ان (دشمن) لوگوں کا تعاقب کرنے سے ہمت نہ ہارو، اگر تم تکلیف اٹھاتے ہو تو وہ بھی تمہاری طرح تکلیف اٹھاتے ہیں، حالانکہ تم اللہ سے جس چیز کے امیدوار ہو وہ نہیں ہیں، اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے۔"

جہاں نقصان دونوں طرف برابر ہے تو ان کی ملاقات سے فرار کیوں؟فرق یہ ہے کہ آپ  آخرت میں اللہ کی طرف جو کچھ ملنے والا ہے اس سے پر امید ہو اور اس میں کوئی نقصان نہیں  لیکن ان کےلیے اللہ کے پاس سوائے دردناک عذاب کے کچھ نہیں جس کی وہ امید رکھیں۔

اللہ تعالی کا قول ہے: [وَظَنُّوا أَنَّهُم مَّانِعَتُهُمْ حُصُونُهُم مِّنَ اللَّهِ فَأَتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوا وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ يُخْرِبُونَ بُيُوتَهُم بِأَيْدِيهِمْ وَأَيْدِي الْمُؤْمِنِينَ فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الأَبْصَارِ] (الحشر: 2). "حالانکہ تمہیں ان کے نکلنے کا گمان بھی نہ تھا، اور وہ یہی سمجھ رہے تھے کہ ان کے قلعے انہیں اللہ سے بچا لیں گے پھر اللہ کا عذاب ان پر وہاں سے آیا کہ جہاں کا ان کو گمان بھی نہ تھا، اور ان کے دلوں میں ہیبت ڈال دی، کہ اپنے گھروں کو خود اپنے اور مسلمانوں کے ہاتھوں سے اجاڑنے لگے، پس اے آنکھوں والو عبرت حاصل کرو۔"

اللہ تعالی کا فرمان ہے: [مَا كَانَ لأَهْلِ الْمَدِينَةِ وَمَنْ حَوْلَهُم مِّنَ الأَعْرَابِ أَن يَتَخَلَّفُواْ عَن رَّسُولِ اللّهِ وَلاَ يَرْغَبُواْ بِأَنفُسِهِمْ عَن نَّفْسِهِ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ لاَ يُصِيبُهُمْ ظَمَأٌ وَلاَ نَصَبٌ وَلاَ مَخْمَصَةٌ فِي سَبِيلِ اللّهِ وَلاَ يَطَؤُونَ مَوْطِئًا يَغِيظُ الْكُفَّارَ وَلاَ يَنَالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَّيْلاً إِلاَّ كُتِبَ لَهُم بِهِ عَمَلٌ صَالِحٌ إِنَّ اللّهَ لاَ يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ، وَلاَ يُنفِقُونَ نَفَقَةً صَغِيرَةً وَلاَ كَبِيرَةً وَلاَ يَقْطَعُونَ وَادِياً إِلاَّ كُتِبَ لَهُمْ لِيَجْزِيَهُمُ اللّهُ أَحْسَنَ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ] (التوبة: 120 - 121)

"مدینہ والوں اور ان کے آس پاس دیہات کے رہنے والوں کےلیے یہ مناسب نہیں تھا کہ اللہ کے رسول سے پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ کہ اپنی جانوں کو اس کی جان سے زیادہ عزیز سمجھیں، یہ اس لیے ہے کہ انہیں اللہ کی راہ میں جو تکلیف پہنچتی ہے پیاس کی یا ماندگی کی یا بھوک کی یا وہ ایسی جگہ چلتے ہیں جو کافروں کے غصہ کو بھڑکائے اور یا کافروں سے کوئی چیز چھین لیتے ہیں ہر بات پر ان کے لیے عمل صالح لکھا جاتا ہے، بے شک اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔اور جو وہ تھوڑا یا بہت خرچ کرتے ہیں یا کوئی میدان طے کرتے ہیں تو یہ سب کچھ ان کے لیے لکھ لیا جاتا ہے تاکہ اللہ انہیں ان کے اعمال کا اچھا بدلہ دے۔"

پھر کیوں اللہ تعالی نے جو چیز ہم سے مانگی ہے؛ کوشش،مال وغیرہ اس کی ادائیگی میں ہم سستی  کا مظاہرہ کرتے ہیں؟ کیوں لوگوں سے جب ان کے ذمے  شرعی حقوق  مانگے جاتے ہیں جیسے خمس و ذکات  تو اسے ادا کرنے میں قیل وقال سے کام لیتے ہیں اور اللہ تعالی پر بھروسہ نہیں کرتے؟

اللہ تعالی کا فرمان ہے: [ثُمَّ نُنَجِّي رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُواْ كَذَلِكَ حَقّاً عَلَيْنَا نُنجِ الْمُؤْمِنِينَ] (يونس: 103)." پھر ہم بچا لیتےہیں اپنے رسولوں کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لاتے ہیں، اسی طرح ہمارا ذمہ ہے کہ ایمان والوں کو بچا لیں۔"

اور ان میں سے کچھ آیات سورہ مبارکہ محمد میں سے ہیں، اور اگر آپ اپنی روح ، فکر اور دل کو بنی نوع انسان کی زندگی کے اس خوشگوار وقت کی طرف منتقل کرسکیں اور یہ تصور کرسکیں کہ آپ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور انکے آس پاس کی اس مومن جماعت میں شامل ہیں جو اس رسالت کے آغاز سے ہی  اس مشکل وقت میں  ان  کے ساتھ تھے اور جب  قریش کے مقابلے میں ان کی تعداد کم تھی اور قریش بہت تکلیف دیتے تھےیہاں تک کہ  جنگ احزاب کے بعد مشرکین دب گئے اور مایوسی کا شکار ہوگئے اور پہل کرنے کی ڈور رسول اللہ (صلى الله عليه وآله) کے ہاتھ آگئی اور فتوحات کا سلسلہ جاری رہا،؛ فتح خیبر سے لے کر فتح  مکہ  اور طائف تک پھر یمن اور پھر پورے جزیرہ  کی فتح تک،آپ تصور کریں کہ آپ وہاں پر موجود ہیں  اور آپ پر یہ عظیم قرآنی خطاب نازل ہوتا ہے،آپ کے رب کی طرف سے جو کہ آپ کے امور کی تدبیر کرتا ہے اور زمین و آسمانوں کا خالق ہے، آپ سے براہ راست گفتگو کرتا ہے:

 [بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ] [الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّهِ أَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ، وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَآمَنُوا بِمَا نُزِّلَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَهُوَ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَأَصْلَحَ بَالَهُمْ، ذَلِكَ بِأَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَأَنَّ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِن رَّبِّهِمْ كَذَلِكَ يَضْرِبُ اللَّهُ لِلنَّاسِ أَمْثَالَهُمْ، فإذا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّى إذا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنّاً بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاء حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ذَلِكَ وَلَوْ يَشَاء اللَّهُ لانتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَكِن لِّيَبْلُوَ بَعْضَكُم بِبَعْضٍ وَالَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَلَن يُضِلَّ أَعْمَالَهُمْ، سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ، وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ، يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ، وَالَّذِينَ كَفَرُوا فَتَعْساً لَّهُمْ وَأَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ، ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَرِهُوا مَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأَحْبَطَ أَعْمَالَهُمْ، أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ دَمَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَلِلْكَافِرِينَ أَمْثَالُهَا، ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَأَنَّ الْكَافِرِينَ لا مَوْلَى لَهُمْ([1])، إِنَّ اللَّهَ يُدْخِلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الأَنْهَارُ وَالَّذِينَ كَفَرُوا يَتَمَتَّعُونَ وَيَأْكُلُونَ كَمَا تَأْكُلُ الأَنْعَامُ وَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ، وَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ هِيَ أَشَدُّ قُوَّةً مِّن قَرْيَتِكَ الَّتِي أَخْرَجَتْكَ أَهْلَكْنَاهُمْ فَلا نَاصِرَ لَهُمْ، أَفَمَن كَانَ عَلَى بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّهِ كَمَن زُيِّنَ لَهُ سُوءُ عَمَلِهِ وَاتَّبَعُوا أَهْوَاءهُمْ] (محمد:1-14)

" وہ لوگ جو منکر ہوئے اور انہوں نے لوگوں کو بھی اللہ کے راستہ سے روکا تو اللہ نے ان کے اعمال برباد کر دیے۔اور وہ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے اور جو کچھ محمد پر نازل کیا گیا اس پر بھی ایمان لائے حالانکہ وہ ان کے رب کی طرف سے برحق بھی ہے، تو اللہ ان کی برائیوں کو مٹا دے گا اور ان کا حال درست کرے گا۔یہ اس لیے کہ جو لوگ منکر ہیں انہوں نے جھوٹ کی پیروی کی اور جو لوگ ایمان لائے انہوں نے اپنے رب کی طرف سے حق کی پیروی کی، اسی طرح اللہ لوگوں کے لیے ان کی مثالیں بیان کرتا ہے۔پس جب تم ان کے مقابل ہو جو کافر ہیں تو ان کی گردنیں مارو، یہاں تک کہ جب تم ان کو خوب مغلوب کرلو تو ان کی مشکیں کس لو، پھر یا تو اس کے بعد احسان کرو یا تاوان لے لو یہاں تک کہ لڑائی والے اپنے ہتھیار ڈال دیں، یہی (حکم) ہے، اور اگر اللہ چاہتا تو ان سے خود ہی بدلہ لے لیتا لیکن وہ تمہارا ایک دوسرے کے ساتھ امتحان کرنا چاہتا ہے، اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے ہیں اللہ ان کے اعمال برباد نہیں کرے گا۔جلدی انہیں راہ دکھائے گا اور ان کا حال درست کر دے گا۔اور انہیں بہشت میں داخل کرے گا جس کی حقیقت انہیں بتا دی ہے۔اے ایمان والو! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جمائے رکھے گا۔اور جو منکر ہیں سو ان کے لیے تباہی ہے اور وہ ان کے اعمال اکارت کر دے گا۔یہ اس لیے کہ انہیں نے ناپسند کیا جو اللہ نے اتارا ہے، سو اس نے ان کے اعمال ضائع کر دیے۔کیا انہوں نے زمین میں سیر نہیں کی کہ وہ دیکھتے ان کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے تھے، اللہ نے انہیں ہلاک کر دیا اور منکروں کے لیے ایسی ہی (سزائیں) ہیں۔یہ اس لیے کہ اللہ ان کا حامی ہے جو ایمان لائے اور کفار کا کوئی بھی حامی نہیں۔بے شک اللہ انہیں داخل کرے گا جو ایمان لائے اور نیک کام کیے بہشتوں میں جن کے نبیچے نہریں بہتی ہوں گی، اور جو کافر ہیں وہ عیش کر رہے ہیں اور اس طرح کھاتے ہیں جس طرح چار پائے کھاتے ہیں اور دوزخ ان کا ٹھکانہ ہے۔اور کتنی ہی بستیاں تھیں جو آپ کی اس بستی سے طاقت میں بڑھ کر تھیں جس کے رہنے والوں نے آپ کو نکال دیا ہے، ہم نے انہیں ہلاک کر دیا تو ان کا کوئی بھی مددگار نہ ہوا۔پس کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل پر ہو وہ اس جیسا ہو سکتا ہے جسے اس کے برے عمل اچھے کر کے دکھائے گئے ہوں اور انہوں نے اپنی ہی خواہشوں کی پیروی کی ہو۔"

[وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم فِي الأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ] (النور: 55).

"اللہ نے ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو تم میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کیے کہ انہیں ضرور ملک کی حکومت عطا کرے گا جیسا کہ ان سے پہلوں کو عطا کی تھی، اور ان کے لیے جس دین کو پسند کیا ہے اسے ضرور مستحکم کر دے گا اور البتہ ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا، بشرطیکہ میری عبادت کرتے رہیں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، اور جو اس کے بعد ناشکری کرے وہی فاسق ہوں گے۔"

اس دوران  میں ، وہ  ان منافقین کی کوششوں سے آگاہ کرتا ہے جو مومنین  کا کفار سے روبرو ہونے کا مذاق اڑاتے ہیں اور ان کے کم امکانات کا مسخرہ کرتے ہیں لیکن اس بات سے غافل ہیں کہ مومنین کی طاقت کا راز ان کا اللہ تعالی سے ارتباط ہے،اللہ تعالی فرماتا ہے: [إِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ غَرَّ هَؤُلاء دِينُهُمْ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللّهِ فإن اللّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ](الأنفال: 49). "اس وقت منافق اور جن کے دلوں میں مرض تھا کہتے تھے کہ انہیں ان کے دین نے مغلوب کر رکھا ہے، اور جو کوئی اللہ پر بھروسہ کرے تو اللہ زبردست حکمت والا ہے۔"

اور اسی  سیاق میں مندرج ہیں :کفار کے ساتھ رو برو ہونے کی فقہ- اللہ تعالی  کی مدد، غلبہ اور زمین کی وراثت کے سارے وعدے، کہ عاقبت انہی کی ہے، اور اللہ تعالی انہی کے ساتھ ہے، اور اللہ تعالی کی طرف سے سکون لے کر فرشتے ان پر نازل ہوتے ہیں، ان سے ڈر اور خوف کا رفع کرنا، ان سے معاملہ کرنا اور ان سے جنت کے بدلے ان کے نفوس کو خریدنا، اس کے ساتھ ہی خداتعالیٰ پر قرض دوگنا کرنا اور اس کے لئے خرچ کرنا۔ یہ مختصر کتاب ہے ان   تمام تفصیلات کی یہاں گنجائش نہیں۔

سب سے بڑی حقیقت جسے قرآن اس مورد میں  ثابت کرتا ہے وہ یہ ہے کہ فتح اور شکست خارجی دشمن  - کفار- کے سامنے  حقیقت میں اپنے داخلی دشمن یعنی نفس امارہ  جو کہ شیطان ہے،کی فتح اور شکست کی فرع ہے،آپ دیکھتے ہو  کہ جب مومنین سے زمین کی خلافت اور اس کی وراثت کی بات ہوتی ہے اور جو کچھ اس میں ہے، تو سب سے پہلی بات اصلاح نفس کی ہوتی ہے اور احکام الیہ کو اپنے نفس پر نافذ کرنے کی ہوتی ہے، اللہ تعالی فرماتا ہے: [وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ، وَنُمَكِّنَ لَهُمْ فِي الأَرْضِ وَنُرِي فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَجُنُودَهُمَا مِنْهُم مَّا كَانُوا يَحْذَرُونَ](القصص: 5 - 6)، "اور ہم چاہتے تھے کہ ان پر احسان کریں جو ملک میں کمزور کیے گئے تھے اور انہیں سردار بنا دیں اور انہیں وارث کریں۔اور انہیں ملک پر قابض کریں اور فرعون اور ہامان اور ان کے لشکروں کو وہ چیز دکھا دیں جس کا وہ خطرہ کرتے تھے۔"

پس پہلے ان کو آئمہ قرار دیا  یعنی ان کی ذات کو پاک کیا  اور اس بات پر زور لگایا کہ کفار پر فتح کی کوئی قیمت نہیں  جب یہ فتح شیطان پر فتح سے متصل نہ ہو اور عمل اللہ تعالی کےلیے خالص نہ ہو، چونکہ اگر عمل اللہ تعالی کی رضا کےلیے نہ ہو تو ان میں اور کفار میں کوئی فرق نہیں ، دونوں کے دونوں اہل دنیا ہیں اور آخرت میں ان کےلیے کوئی نصیب نہیں۔

مثال کے طور پر ، احد کی لڑائی میں مسلمانوں کی شکست اور ان کو جو تکلیف دہ نقصان پہنچا ، اس دوران اللہ سبحانہ  ان سے مخاطب ہوا : [إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْاْ مِنكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُواْ]( آل عمران: 155) "بے شک وہ لوگ جو تم سے پیٹھ پھیر گئے جس دن دونوں فوجیں ملیں سو شیطان نے ان کے گناہ کے سبب سے انہیں بہکا دیا تھا، "

پس ان کی شکست اور ان کا پیٹھ دکھانا یہ سب کچھ ان گناہوں کی وجہ سے تھا جن کا یہ مرتکب ہوچکے تھے،اس کے مقابلے میں اللہ تعالی فرماتا ہے: [إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ]( محمد: 7)،" اگر تم اللہ کی مدد کروگے تو اللہ بھی تمھاری مدد کرے گا٫"

اور اللہ کی مدد اس کی اطاعت کے ساتھ ہوتی ہے ورنہ وہ ہر چیز سے غنی ہے، جو آیت گزر چکی[وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ]،

یہاں پر رسول اللہ (صلى الله عليه واله وسلم) مجاہدین کے ایک گروہ سے جو کہ جنگ سے واپس آرہے تھے، مخاطب ہوئے اور فرمایا: (مرحبا بكم، قضيتم الجهاد الأصغر وبقي عليكم الجهاد الأكبر. قيل: وما هو يا رسول الله؟ قال: جهاد النفس)([2]).

" خوش آمدید ابھی تم جہاد اصغر سے لوٹ رہے ہو ابھی جہاد اکبر باقی ہے تو کہا گیا وہ کیا  ہےیا رسول اللہ ؟ فرمایا : وہ جہاد النفس ہے۔"

 



([1])یہ آیت  مومنین کے رو برو ہونےکے عمومی ڈھانچے کو بیان کرتی ہے کہ ان کا ایک  مولی ہے ان کا ایک مالک ہے جو ان کی دیکھ بھال کرتا ہے اور ان کی پرورش ، خوشی اور کامیابی کا خیال رکھتا ہے اور وہ اللہ تعالی و تبارک ہے جبکہ کفار کا کوئی سرپرست نہیں بلکہ ان کا سرپرست شیطان ہے جو کہ کمزور ہے،جب سامنا ہوتا ہے تو فرار کرجاتا ہے اور ان کو ذلیل کرتا ہے۔ اور جس وقت شیطان نے ان کے اعمال کو ان کی نظروں میں خوشنما کر دیا اور کہا کہ آج کے دن لوگوں میں سے کوئی بھی تم پر غالب نہ ہوگا اور میں تمہارا حمایتی ہوں، پھر جب دونوں فوجیں سامنے ہوئیں تو وہ اپنی ایڑیوں پر الٹا پھرا اور کہا میں تمہارے ساتھ نہیں ہوں میں ایسی چیز دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے میں اللہ سے ڈرتا ہوں، اور اللہ سخت عذاب کرنے والا ہے۔

([2]) الكافي: 5/12 ، باب: وجوه الجهاد.

طاغوت اور کفار سے روبرو ہونے کی فقہ

یہ فقہ زندگی کے ہر پہلو کو شامل ہے۔کفار  اور طاغوت سے ارتباط برقرار رکھنے کے متعلق جسے کفار سےروبرو ہونے کی فقہ کابھی نام دیا جاسکتا ہے قرآن  کہتا ہے؟ اللہ تعالی کا فرمان ہے: [وَلاَ تَهِنُواْ فِي ابْتِغَاء الْقَوْمِ إِن تَكُونُواْ تَأْلَمُونَ فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمونَ وَتَرْجُونَ مِنَ اللّهِ مَا لاَ يَرْجُونَ وَكَانَ اللّهُ عَلِيمًا حَكِيماً] (النساء: 104)، "اور ان (دشمن) لوگوں کا تعاقب کرنے سے ہمت نہ ہارو، اگر تم تکلیف اٹھاتے ہو تو وہ بھی تمہاری طرح تکلیف اٹھاتے ہیں، حالانکہ تم اللہ سے جس چیز کے امیدوار ہو وہ نہیں ہیں، اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے۔"

جہاں نقصان دونوں طرف برابر ہے تو ان کی ملاقات سے فرار کیوں؟فرق یہ ہے کہ آپ  آخرت میں اللہ کی طرف جو کچھ ملنے والا ہے اس سے پر امید ہو اور اس میں کوئی نقصان نہیں  لیکن ان کےلیے اللہ کے پاس سوائے دردناک عذاب کے کچھ نہیں جس کی وہ امید رکھیں۔

اللہ تعالی کا قول ہے: [وَظَنُّوا أَنَّهُم مَّانِعَتُهُمْ حُصُونُهُم مِّنَ اللَّهِ فَأَتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوا وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ يُخْرِبُونَ بُيُوتَهُم بِأَيْدِيهِمْ وَأَيْدِي الْمُؤْمِنِينَ فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الأَبْصَارِ] (الحشر: 2). "حالانکہ تمہیں ان کے نکلنے کا گمان بھی نہ تھا، اور وہ یہی سمجھ رہے تھے کہ ان کے قلعے انہیں اللہ سے بچا لیں گے پھر اللہ کا عذاب ان پر وہاں سے آیا کہ جہاں کا ان کو گمان بھی نہ تھا، اور ان کے دلوں میں ہیبت ڈال دی، کہ اپنے گھروں کو خود اپنے اور مسلمانوں کے ہاتھوں سے اجاڑنے لگے، پس اے آنکھوں والو عبرت حاصل کرو۔"

اللہ تعالی کا فرمان ہے: [مَا كَانَ لأَهْلِ الْمَدِينَةِ وَمَنْ حَوْلَهُم مِّنَ الأَعْرَابِ أَن يَتَخَلَّفُواْ عَن رَّسُولِ اللّهِ وَلاَ يَرْغَبُواْ بِأَنفُسِهِمْ عَن نَّفْسِهِ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ لاَ يُصِيبُهُمْ ظَمَأٌ وَلاَ نَصَبٌ وَلاَ مَخْمَصَةٌ فِي سَبِيلِ اللّهِ وَلاَ يَطَؤُونَ مَوْطِئًا يَغِيظُ الْكُفَّارَ وَلاَ يَنَالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَّيْلاً إِلاَّ كُتِبَ لَهُم بِهِ عَمَلٌ صَالِحٌ إِنَّ اللّهَ لاَ يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ، وَلاَ يُنفِقُونَ نَفَقَةً صَغِيرَةً وَلاَ كَبِيرَةً وَلاَ يَقْطَعُونَ وَادِياً إِلاَّ كُتِبَ لَهُمْ لِيَجْزِيَهُمُ اللّهُ أَحْسَنَ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ] (التوبة: 120 - 121)

"مدینہ والوں اور ان کے آس پاس دیہات کے رہنے والوں کےلیے یہ مناسب نہیں تھا کہ اللہ کے رسول سے پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ کہ اپنی جانوں کو اس کی جان سے زیادہ عزیز سمجھیں، یہ اس لیے ہے کہ انہیں اللہ کی راہ میں جو تکلیف پہنچتی ہے پیاس کی یا ماندگی کی یا بھوک کی یا وہ ایسی جگہ چلتے ہیں جو کافروں کے غصہ کو بھڑکائے اور یا کافروں سے کوئی چیز چھین لیتے ہیں ہر بات پر ان کے لیے عمل صالح لکھا جاتا ہے، بے شک اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔اور جو وہ تھوڑا یا بہت خرچ کرتے ہیں یا کوئی میدان طے کرتے ہیں تو یہ سب کچھ ان کے لیے لکھ لیا جاتا ہے تاکہ اللہ انہیں ان کے اعمال کا اچھا بدلہ دے۔"

پھر کیوں اللہ تعالی نے جو چیز ہم سے مانگی ہے؛ کوشش،مال وغیرہ اس کی ادائیگی میں ہم سستی  کا مظاہرہ کرتے ہیں؟ کیوں لوگوں سے جب ان کے ذمے  شرعی حقوق  مانگے جاتے ہیں جیسے خمس و ذکات  تو اسے ادا کرنے میں قیل وقال سے کام لیتے ہیں اور اللہ تعالی پر بھروسہ نہیں کرتے؟

اللہ تعالی کا فرمان ہے: [ثُمَّ نُنَجِّي رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُواْ كَذَلِكَ حَقّاً عَلَيْنَا نُنجِ الْمُؤْمِنِينَ] (يونس: 103)." پھر ہم بچا لیتےہیں اپنے رسولوں کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لاتے ہیں، اسی طرح ہمارا ذمہ ہے کہ ایمان والوں کو بچا لیں۔"

اور ان میں سے کچھ آیات سورہ مبارکہ محمد میں سے ہیں، اور اگر آپ اپنی روح ، فکر اور دل کو بنی نوع انسان کی زندگی کے اس خوشگوار وقت کی طرف منتقل کرسکیں اور یہ تصور کرسکیں کہ آپ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور انکے آس پاس کی اس مومن جماعت میں شامل ہیں جو اس رسالت کے آغاز سے ہی  اس مشکل وقت میں  ان  کے ساتھ تھے اور جب  قریش کے مقابلے میں ان کی تعداد کم تھی اور قریش بہت تکلیف دیتے تھےیہاں تک کہ  جنگ احزاب کے بعد مشرکین دب گئے اور مایوسی کا شکار ہوگئے اور پہل کرنے کی ڈور رسول اللہ (صلى الله عليه وآله) کے ہاتھ آگئی اور فتوحات کا سلسلہ جاری رہا،؛ فتح خیبر سے لے کر فتح  مکہ  اور طائف تک پھر یمن اور پھر پورے جزیرہ  کی فتح تک،آپ تصور کریں کہ آپ وہاں پر موجود ہیں  اور آپ پر یہ عظیم قرآنی خطاب نازل ہوتا ہے،آپ کے رب کی طرف سے جو کہ آپ کے امور کی تدبیر کرتا ہے اور زمین و آسمانوں کا خالق ہے، آپ سے براہ راست گفتگو کرتا ہے:

 [بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ] [الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّهِ أَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ، وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَآمَنُوا بِمَا نُزِّلَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَهُوَ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَأَصْلَحَ بَالَهُمْ، ذَلِكَ بِأَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَأَنَّ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِن رَّبِّهِمْ كَذَلِكَ يَضْرِبُ اللَّهُ لِلنَّاسِ أَمْثَالَهُمْ، فإذا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّى إذا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنّاً بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاء حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ذَلِكَ وَلَوْ يَشَاء اللَّهُ لانتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَكِن لِّيَبْلُوَ بَعْضَكُم بِبَعْضٍ وَالَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَلَن يُضِلَّ أَعْمَالَهُمْ، سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ، وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ، يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ، وَالَّذِينَ كَفَرُوا فَتَعْساً لَّهُمْ وَأَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ، ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَرِهُوا مَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأَحْبَطَ أَعْمَالَهُمْ، أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ دَمَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَلِلْكَافِرِينَ أَمْثَالُهَا، ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَأَنَّ الْكَافِرِينَ لا مَوْلَى لَهُمْ([1])، إِنَّ اللَّهَ يُدْخِلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الأَنْهَارُ وَالَّذِينَ كَفَرُوا يَتَمَتَّعُونَ وَيَأْكُلُونَ كَمَا تَأْكُلُ الأَنْعَامُ وَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ، وَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ هِيَ أَشَدُّ قُوَّةً مِّن قَرْيَتِكَ الَّتِي أَخْرَجَتْكَ أَهْلَكْنَاهُمْ فَلا نَاصِرَ لَهُمْ، أَفَمَن كَانَ عَلَى بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّهِ كَمَن زُيِّنَ لَهُ سُوءُ عَمَلِهِ وَاتَّبَعُوا أَهْوَاءهُمْ] (محمد:1-14)

" وہ لوگ جو منکر ہوئے اور انہوں نے لوگوں کو بھی اللہ کے راستہ سے روکا تو اللہ نے ان کے اعمال برباد کر دیے۔اور وہ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے اور جو کچھ محمد پر نازل کیا گیا اس پر بھی ایمان لائے حالانکہ وہ ان کے رب کی طرف سے برحق بھی ہے، تو اللہ ان کی برائیوں کو مٹا دے گا اور ان کا حال درست کرے گا۔یہ اس لیے کہ جو لوگ منکر ہیں انہوں نے جھوٹ کی پیروی کی اور جو لوگ ایمان لائے انہوں نے اپنے رب کی طرف سے حق کی پیروی کی، اسی طرح اللہ لوگوں کے لیے ان کی مثالیں بیان کرتا ہے۔پس جب تم ان کے مقابل ہو جو کافر ہیں تو ان کی گردنیں مارو، یہاں تک کہ جب تم ان کو خوب مغلوب کرلو تو ان کی مشکیں کس لو، پھر یا تو اس کے بعد احسان کرو یا تاوان لے لو یہاں تک کہ لڑائی والے اپنے ہتھیار ڈال دیں، یہی (حکم) ہے، اور اگر اللہ چاہتا تو ان سے خود ہی بدلہ لے لیتا لیکن وہ تمہارا ایک دوسرے کے ساتھ امتحان کرنا چاہتا ہے، اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے ہیں اللہ ان کے اعمال برباد نہیں کرے گا۔جلدی انہیں راہ دکھائے گا اور ان کا حال درست کر دے گا۔اور انہیں بہشت میں داخل کرے گا جس کی حقیقت انہیں بتا دی ہے۔اے ایمان والو! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جمائے رکھے گا۔اور جو منکر ہیں سو ان کے لیے تباہی ہے اور وہ ان کے اعمال اکارت کر دے گا۔یہ اس لیے کہ انہیں نے ناپسند کیا جو اللہ نے اتارا ہے، سو اس نے ان کے اعمال ضائع کر دیے۔کیا انہوں نے زمین میں سیر نہیں کی کہ وہ دیکھتے ان کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے تھے، اللہ نے انہیں ہلاک کر دیا اور منکروں کے لیے ایسی ہی (سزائیں) ہیں۔یہ اس لیے کہ اللہ ان کا حامی ہے جو ایمان لائے اور کفار کا کوئی بھی حامی نہیں۔بے شک اللہ انہیں داخل کرے گا جو ایمان لائے اور نیک کام کیے بہشتوں میں جن کے نبیچے نہریں بہتی ہوں گی، اور جو کافر ہیں وہ عیش کر رہے ہیں اور اس طرح کھاتے ہیں جس طرح چار پائے کھاتے ہیں اور دوزخ ان کا ٹھکانہ ہے۔اور کتنی ہی بستیاں تھیں جو آپ کی اس بستی سے طاقت میں بڑھ کر تھیں جس کے رہنے والوں نے آپ کو نکال دیا ہے، ہم نے انہیں ہلاک کر دیا تو ان کا کوئی بھی مددگار نہ ہوا۔پس کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل پر ہو وہ اس جیسا ہو سکتا ہے جسے اس کے برے عمل اچھے کر کے دکھائے گئے ہوں اور انہوں نے اپنی ہی خواہشوں کی پیروی کی ہو۔"

[وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم فِي الأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ] (النور: 55).

"اللہ نے ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو تم میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کیے کہ انہیں ضرور ملک کی حکومت عطا کرے گا جیسا کہ ان سے پہلوں کو عطا کی تھی، اور ان کے لیے جس دین کو پسند کیا ہے اسے ضرور مستحکم کر دے گا اور البتہ ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا، بشرطیکہ میری عبادت کرتے رہیں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، اور جو اس کے بعد ناشکری کرے وہی فاسق ہوں گے۔"

اس دوران  میں ، وہ  ان منافقین کی کوششوں سے آگاہ کرتا ہے جو مومنین  کا کفار سے روبرو ہونے کا مذاق اڑاتے ہیں اور ان کے کم امکانات کا مسخرہ کرتے ہیں لیکن اس بات سے غافل ہیں کہ مومنین کی طاقت کا راز ان کا اللہ تعالی سے ارتباط ہے،اللہ تعالی فرماتا ہے: [إِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ غَرَّ هَؤُلاء دِينُهُمْ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللّهِ فإن اللّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ](الأنفال: 49). "اس وقت منافق اور جن کے دلوں میں مرض تھا کہتے تھے کہ انہیں ان کے دین نے مغلوب کر رکھا ہے، اور جو کوئی اللہ پر بھروسہ کرے تو اللہ زبردست حکمت والا ہے۔"

اور اسی  سیاق میں مندرج ہیں :کفار کے ساتھ رو برو ہونے کی فقہ- اللہ تعالی  کی مدد، غلبہ اور زمین کی وراثت کے سارے وعدے، کہ عاقبت انہی کی ہے، اور اللہ تعالی انہی کے ساتھ ہے، اور اللہ تعالی کی طرف سے سکون لے کر فرشتے ان پر نازل ہوتے ہیں، ان سے ڈر اور خوف کا رفع کرنا، ان سے معاملہ کرنا اور ان سے جنت کے بدلے ان کے نفوس کو خریدنا، اس کے ساتھ ہی خداتعالیٰ پر قرض دوگنا کرنا اور اس کے لئے خرچ کرنا۔ یہ مختصر کتاب ہے ان   تمام تفصیلات کی یہاں گنجائش نہیں۔

سب سے بڑی حقیقت جسے قرآن اس مورد میں  ثابت کرتا ہے وہ یہ ہے کہ فتح اور شکست خارجی دشمن  - کفار- کے سامنے  حقیقت میں اپنے داخلی دشمن یعنی نفس امارہ  جو کہ شیطان ہے،کی فتح اور شکست کی فرع ہے،آپ دیکھتے ہو  کہ جب مومنین سے زمین کی خلافت اور اس کی وراثت کی بات ہوتی ہے اور جو کچھ اس میں ہے، تو سب سے پہلی بات اصلاح نفس کی ہوتی ہے اور احکام الیہ کو اپنے نفس پر نافذ کرنے کی ہوتی ہے، اللہ تعالی فرماتا ہے: [وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ، وَنُمَكِّنَ لَهُمْ فِي الأَرْضِ وَنُرِي فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَجُنُودَهُمَا مِنْهُم مَّا كَانُوا يَحْذَرُونَ](القصص: 5 - 6)، "اور ہم چاہتے تھے کہ ان پر احسان کریں جو ملک میں کمزور کیے گئے تھے اور انہیں سردار بنا دیں اور انہیں وارث کریں۔اور انہیں ملک پر قابض کریں اور فرعون اور ہامان اور ان کے لشکروں کو وہ چیز دکھا دیں جس کا وہ خطرہ کرتے تھے۔"

پس پہلے ان کو آئمہ قرار دیا  یعنی ان کی ذات کو پاک کیا  اور اس بات پر زور لگایا کہ کفار پر فتح کی کوئی قیمت نہیں  جب یہ فتح شیطان پر فتح سے متصل نہ ہو اور عمل اللہ تعالی کےلیے خالص نہ ہو، چونکہ اگر عمل اللہ تعالی کی رضا کےلیے نہ ہو تو ان میں اور کفار میں کوئی فرق نہیں ، دونوں کے دونوں اہل دنیا ہیں اور آخرت میں ان کےلیے کوئی نصیب نہیں۔

مثال کے طور پر ، احد کی لڑائی میں مسلمانوں کی شکست اور ان کو جو تکلیف دہ نقصان پہنچا ، اس دوران اللہ سبحانہ  ان سے مخاطب ہوا : [إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْاْ مِنكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُواْ]( آل عمران: 155) "بے شک وہ لوگ جو تم سے پیٹھ پھیر گئے جس دن دونوں فوجیں ملیں سو شیطان نے ان کے گناہ کے سبب سے انہیں بہکا دیا تھا، "

پس ان کی شکست اور ان کا پیٹھ دکھانا یہ سب کچھ ان گناہوں کی وجہ سے تھا جن کا یہ مرتکب ہوچکے تھے،اس کے مقابلے میں اللہ تعالی فرماتا ہے: [إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ]( محمد: 7)،" اگر تم اللہ کی مدد کروگے تو اللہ بھی تمھاری مدد کرے گا٫"

اور اللہ کی مدد اس کی اطاعت کے ساتھ ہوتی ہے ورنہ وہ ہر چیز سے غنی ہے، جو آیت گزر چکی[وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ]،

یہاں پر رسول اللہ (صلى الله عليه واله وسلم) مجاہدین کے ایک گروہ سے جو کہ جنگ سے واپس آرہے تھے، مخاطب ہوئے اور فرمایا: (مرحبا بكم، قضيتم الجهاد الأصغر وبقي عليكم الجهاد الأكبر. قيل: وما هو يا رسول الله؟ قال: جهاد النفس)([2]).

" خوش آمدید ابھی تم جہاد اصغر سے لوٹ رہے ہو ابھی جہاد اکبر باقی ہے تو کہا گیا وہ کیا  ہےیا رسول اللہ ؟ فرمایا : وہ جہاد النفس ہے۔"

 



([1])یہ آیت  مومنین کے رو برو ہونےکے عمومی ڈھانچے کو بیان کرتی ہے کہ ان کا ایک  مولی ہے ان کا ایک مالک ہے جو ان کی دیکھ بھال کرتا ہے اور ان کی پرورش ، خوشی اور کامیابی کا خیال رکھتا ہے اور وہ اللہ تعالی و تبارک ہے جبکہ کفار کا کوئی سرپرست نہیں بلکہ ان کا سرپرست شیطان ہے جو کہ کمزور ہے،جب سامنا ہوتا ہے تو فرار کرجاتا ہے اور ان کو ذلیل کرتا ہے۔ اور جس وقت شیطان نے ان کے اعمال کو ان کی نظروں میں خوشنما کر دیا اور کہا کہ آج کے دن لوگوں میں سے کوئی بھی تم پر غالب نہ ہوگا اور میں تمہارا حمایتی ہوں، پھر جب دونوں فوجیں سامنے ہوئیں تو وہ اپنی ایڑیوں پر الٹا پھرا اور کہا میں تمہارے ساتھ نہیں ہوں میں ایسی چیز دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے میں اللہ سے ڈرتا ہوں، اور اللہ سخت عذاب کرنے والا ہے۔

([2]) الكافي: 5/12 ، باب: وجوه الجهاد.